Baaghi TV

Category: لاہور

  • سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک ارب روپے مختص

    سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک ارب روپے مختص

    سیلاب سے متاثرہ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں

    بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت 80 فیصد مستحقین میں 22 ارب 90 کروڑ روپے تقسیم کر دیئے گئے ہیں چیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرا م شازیہ مری کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین اوربچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،اب تک شناخت شدہ 80 فیصد خواتین میں امدادی رقم تقسیم کی جا چکی ہے،بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کےتحت جمعہ کو 22ہزار 604 خاندانوں میں امدادی رقم تقسیم کی گئی متاثرہ9 لاکھ 18ہزار121 خاندانوں میں 22 ارب95کروڑسے 30 لاکھ 25ہزارروپے تقسیم کئے گئے، بلوچستان میں ایک لاکھ 11ہزار680 متاثرہ خاندانوں کو 27 کروڑ 92 لاکھ روپے مل چکے ہیں،سندھ میں 5 لاکھ 45 ہزار 505 خاندانوں کو 13 ارب 63 کروڑ 76 لاکھ 25 ہزارروپےمل چکے ہیں،خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 13ہزار851 خاندانوں کو 2 ارب 84 کروڑ 62 لاکھ 75ہزار روپے موصول ہو چکے ہیں پنجاب میں ایک لاکھ 47 ہزار85 خاندانوں کو3 ارب 67 کروڑ 71لاکھ 25 ہزار روپے ملے ہیں

    سندھ میں 16 اضلاع زیادہ اور 5 اضلاع سیلاب سے کم متاثر ہیں، سندھ میں 4 ملین سے زائد بچوں کو فوری غذا کی ضرورت ہے سندھ میں 65 سال سے زائد عمر کے 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے سندھ میں 5 لاکھ 11 ہزار 467 خواتین حاملہ ہیں جو ضروری توجہ چاہتی ہیں.سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کو صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے بلوچستان میں سیلاب متاثرہ خواتین کا شکوہ ہے کہ انہیں امدادی سامان میں سینیٹری پیڈز نہیں مل رہے۔ حاملہ خواتین بھی ضروری دوائیوں سے محروم ہیں۔

    سیلاب کے بعد علاقوں میں تباہی کے مناظر ہیں، گھر تباہ ہو چکا، سامان بہہ چکا، جانور مر گئے، انسان زندہ ہیں لیکن اس امید پر کہ شاید کوئی مدد کو آ جائے، ایسے میں حاملہ خواتین سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ علاقوں میں قریبی ہسپتال نہیں، ٹرانسپورٹ میسر نہیں، سڑکیں بھی تباہ ہو چکی ہیں، اگر کسی خاتون کی ڈلیوری ہونی ہو تو ہسپتال اور طبی عملے کا نہ ہونا، یہ سب سے اذیت ناک مرحلہ ہو گا

    جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بھی سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب کے تمام سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے، سراج الحق نے کراچی میں الخدمت ریلیف کیمپ اور متاثرین سیلاب کے لیے بسائی گئی خیمہ بستی کا دورہ کیا۔ اہل کراچی نے ہمیشہ کی طرح مشکلات میں گھرے اپنے ہم وطن بھائیوں اور بہنوں کے لیے دل کے دروازے کھول دیے ہیں۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد قابل قدر اور باعث اطمینان ہے

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    اقوام متحدہ کے مطابق ساڑھے چھ لاکھ حاملہ پاکستانی خواتین کو محفوظ زچگی کے لیے فوری طبی امداد کی ضرورت ہے صرف ستمبر کے مہینے میں ہی ایسی 73 ہزار حاملہ خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش متوقع ہے

    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی غذائی ساشے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے غذائی ساشے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود غذائی قلت کی شکار حاملہ خواتین اورلاغر بچوں کو فراہم کیے جائیں گے پہلے فیز میں مخصوص اضلاع کی 4 لاکھ خواتین، اور بچوں کو طبی معائنے کے بعد غذائی ساشے فراہم ہوں گے ہر فرد کو 7 عدد غذائی ساشے فراہم کیے جائیں گے

  • سرورفاؤنڈیشن اور پی ڈی این کی جانب سے سوا ارب کے راشن پیکٹ سیلاب متاثرین تک پہنچا دیئے گئے

    سرورفاؤنڈیشن اور پی ڈی این کی جانب سے سوا ارب کے راشن پیکٹ سیلاب متاثرین تک پہنچا دیئے گئے

    لاہور:سرور فاؤنڈیشن اور پاکستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (پی ڈی این) کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی راشن کے 2 درجن سے زائد ٹرک سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کو روانہ کر دئیے گئے۔ سرور فاؤنڈیشن مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ راشن پیک متاثرہ علاقوں تک بھجوائے گا۔ ہر راشن پیک ایک فیملی کی ایک ماہ کی ضرورت کے تمام سامان پر مشتمل ہے۔ سوا ارب روپے سے زائد مالیت کے امدادی سامان کے ٹرک بانی و چئیرمین سرور فاؤنڈیشن چوہدری محمد سرور کی زیر نگرانی روانہ کئے گئے۔

    امدادی سامان کی روانگی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سرور نے سیلاب متاثرین کی بحالی تک ان کی کفالت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ اگلے چار سے 6 ماہ تک متاثرین سیلاب کی خدمت میں خود کو مصروف رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر راشن کے 20 سے 25 کنٹینر متاثرہ علاقوں میں روانہ کئے جا رہے ہیں۔ جبکہ اب تک 1 لاکھ سے زائد خاندانوں کو ایک ایک ماہ کا امدادی راشن پہنچا دیا گیا ہے۔

    چوہدری سرور نے کہا کہ ہمارا ہدف ڈیڑھ لاکھ خاندانوں کو اس راشن پیکٹ سے مستفید کرنا ہے۔ معاون اداروں کے تعاون سے ہم یہ ہدف حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشن باکس میں ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے کے علاؤہ علاقہ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پینے کا پانی بالخصوص اضافی طور پر شامل کیا گیا ہے۔ چوہدری سرور نے کہا کہ انٹرنیشل کمیونٹی کو تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آیا ہے۔ اس مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینا اور قرضے معاف کرنا انٹرنیشل کمیونٹی اور بینکنگ چینلز کا فرض ہے۔

    چوہدری سرور نے متاثرہ خاندانوں کی آباد کاری کیلئے انٹرنیشل کمیونٹی سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ خود بھی اس ضمن میں متحرک ہوں گے اور عالمی سطح پر رابطے بڑھائیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے پاک فوج سمیت ان تمام اداروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا جو فرنٹ لائن پر رہ کر سیلاب متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیلاب سے متاثرہ بے شمار لوگوں کی واحد امید ہم ہی ہیں۔ انہیں مایوسی کی دلدل میں جانے سے بچانے کیلئے مشترکہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

    چوہدری سرور نے کہا کہ سرور فاؤنڈیشن کے رضا کار ہر متاثرہ خاندان تک امدادی سامان پہنچائیں گے اور ان کی بحالی تک انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے راشن پیک تیار کرنے میں مدد کرنے پر چئیرمن اورینٹ میاں طلعت اور ایل ایچ آئی ایس سمیت پاکستان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک میں شامل تمام اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ امدادی سامان کی روانگی کے موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر اورینٹ احمد فضل، عبد الرحمن طلعت، جاوید اقبال بخاری بھی موجود تھے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ایشیا کپ سپر فور مرحلہ: سری لنکا نے پاکستان کو شکست دیدی

    ایشیا کپ سپر فور مرحلہ: سری لنکا نے پاکستان کو شکست دیدی

    لاہور: متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے کے آخری میچ میں سری لنکا نے پاکستان کو باآسانی 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    سری لنکا نے پاکستان کا 122 رنز کا ہدف 17 اووز میں 5 وکٹوں پر پورا کرلیا،پاتھم نسنکا 55 رنز بناکر نمایاں رہے۔

    دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلےگئے میچ میں سری لنکا کے کپتان داسن شانکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی۔ ایشیا کپ ٹی 20 کے سپر فور مرحلے کے آخری میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو جیت کے لئے 122 رنز کا ہدف دے دیا۔

    دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے ٹاس جیت کر قومی ٹیم کے قائد بابر اعظم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    پاکستان اننگز

    قومی ٹیم کی جانب سے کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا، محمد رضوان 14 گیندوں پر 14 رنز بناکر پرمود مدوشان کی گیند پر کوشال مینڈس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے، فخر زمان 18 گیندوں پر صرف 13 سکور بناکر چھکا مارنے کی کوشش میں باؤنڈری لائن کے قریب ہاسارنگا کو کیچ دے بیٹھے۔

    کپتان بابر اعظم ایک مرتبہ پھر لمبی اننگز نہ کھیل سکے اور 30 رنز بناکر ہاسارنگا کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے، پاکستانی بیٹرز کی جانب سے انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا، افتخار احمد 13، خوشدل شاہ 4، آصف علی اور حسن علی صفر، صفر پر آؤٹ ہوئے۔

    محمد نواز نے 26 رنز کی اننگز کھیلی اور ڈی سلوا کو کیچ دے بیٹھے جبکہ عثمان قادر 3 اور حارث رؤف ایک رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔

    سری لنکا کی جانب سے ہاسارنگا نے سب سے زیادہ 3 وکٹ حاصل کیں، تھیکشانا اور پرمود مدوشان نے 2، 2 جبکہ کرونارتنے نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    اس طرح گرین شرٹس 19 اعشاریہ 1 اوورز میں صرف 121 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی۔

     

    پاکستان پلیئنگ الیون
    سری لنکا کے خلاف میچ کے لئے قومی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں، شاداب خان اور نسیم شاہ کو آرام دیا گیا ہے جبکہ ان کی جگہ عثمان قادر اور حسن علی کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا گیا۔
    دیگر کھلاڑیوں میں کپتان بابر اعظم، وکٹ کیپر محمد رضوان، فخر زمان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علی، محمد نواز، حارث رؤف اور محمد حسنین شامل ہیں۔

    سری لنکا پلیئنگ الیون

    پاکستان کے خلاف لنکا پلیئنگ الیون میں کپتان داسن شناکا، دنوشکا گوناتھیلاکا، پاتھم نسانکا، وکٹ کیپر کوشال مینڈس، دھننجایا ڈی سلوا، بھانوکا راجاپکسا، وانندو ہاسارنگا، چیمکا کرونارتنے، مہیش تھیکشانا، پرمود مدوشان اور دلشان مدوشانکا شامل ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ایشیا کپ،سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    ایشیا کپ،سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    ایشیا کپ،سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    سی لنکن کہتان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں ،کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں،نسیم شاہ اور شاداب خان کی جگہ عثمان قادر اور حسن علی کھیلیں گے،

    سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے،ٹاس جیتنے کے بعد سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے کہا کہ ٹاس جیت کر خوشی ہے اور فائنل سے قبل پاکستان سے میچ اچھا شگون ہے

    واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا نے سپر فور مرحلے کے اپنے ابتدائی دو میچز بھارت اور افغانستان کے خلاف جیتے تھے۔پاکستان اور سری لنکا دونوں ٹورنامنٹ میں اپنے ابتدائی میچ ہار گئے لیکن ابتدائی دھچکے کے بعد ایونٹ میں ناقابل شکست رہے۔آج کا میچ اور فائنل دبئی میں کھیلا جائے گا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی
    نام نہاد ٹرانسجینڈر قانون درحقیقت ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی شرم ناک کوشش ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔

    اُنہوں نے کہا کہ مئی 2018ء میں بنایا گیا یہ بیہودہ قانون درحقیقت مغرب کے سوشل انجینئرنگ پروگرام کا حصہ ہے۔ مغرب کااپنا معاشرتی اور خاندانی نظام تو عرصہ ہوامکمل طور پر شکست و ریخت کا شکار ہو چکا ہے اب وہ مسلمان ممالک کے معاشرتی اورخاندانی نظام کو تباہ و برباد کرنے کے درپے ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں مل کر پاس کروایا۔ گذشتہ دورِ حکومت میں ریاست مدینہ کا نام لینے والی سیاسی جماعت نے بھی اس قانون کو ختم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ سراؤں کے حقیقی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے البتہ اس کی آڑ میں ہم جنس پرستی اور دیگرغیر اسلامی و غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اُنہوں نے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018ء میں ترامیم کے لیے سینٹ میں پیش کیے گئے بل کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مملکت خدادادِ پاکستان کی پارلیمان کا فرض ہے کہ اس بل میں موجود تمام غیر اسلامی شقوں کو نکال باہر کیا جائے۔ اس وقت ملک کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت بھی حکومت کا حصہ ہے لیکن بدقسمتی سے اسلامی شعائر سے بغاوت پر مبنی اس قانون کی قرآن و سنت کی روشنی میں تطہیر کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے فیڈرل شریعت کورٹ سے پرزور استدعا کی کہ ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018ء کے خلاف پٹیشن پر جلدسماعت مکمل کی جائے اور اس قانون میں موجود اسلام کے منافی تمام شقوں کا خاتمہ کیا جائے۔

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

  • لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج

    لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج

    لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج ،اطلاعات کے مطابق لاہور میں اس وقت اہم مقام پر واپڈا لاہور کے ملازمین نے احتجاج کررکھا ہے اور ان ملازمین کا کہنا ہےکہ حفاظتی سامان کی عدم فراہمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا ملازمین کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے

    اطلاعات کے مطابق لیسکو ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے میکلوروڈ آپریشن ڈویژن، ریونیو آفس ،ایم اینڈ ٹی کے تمام دفاتر میں دوسرے روز بھی کام بند ہے جس کا خمیازہ عوام الناس کو بھگتنا پڑرہا ہے ، لیسکو ملازمین کا کہنا ہے کہ ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر وہ یہ احتجاج کررہے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیسکو ملازمین کی بڑی تعداد میکلوروڈ لیسکو کمپلیکس کے باہر موجود ہے ، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین تھرڈ سرکل نے مطالبات منظور نہ ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کردیا

    واپڈا ذرائع کے مطابق لیسکو مغل پورہ اور باغبانپورہ ڈویژن میں بھی کام بند ہے اور اس علاقے میں بھی عوام الناس سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین تھرڈ سرکل کے عہدیدار احتجاج میں شریک ہیں ، واپڈا کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو انتظامیہ کی جانب سے لائن سٹاف کو معیاری حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جارہا، مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ربر گلوز،سیفٹی بوٹ،گاڑیاں، بیلٹ سمیت دیگر سامان کی شدید قلت ہے،

    لیسکو کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو سامان موجود ہے وہ بھی انتہائی غیر معیاری ہے جس سے لائن سٹاف کی حفاظت ممکن نہیں،فیلڈ میں کام کے دوران ملازمین کو شرپسند عناصر کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے پر افسران تعاون نہیں کرتے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو میں سٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ افسران کا رویہ ملازمین سے انتہائی ہتک آمیز ہے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

    سیلاب زدہ علاقوں میں سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

    حکومت پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں نقصانات کے تخمینے کا سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سروے 27 ستمبر کو مکمل ہونے کے بعد بحالی کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے تشکیل دی گئی وزارتی کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا چوتھا اجلاس چیئرمین و صوبائی وزیر پارلیمانی امور، کوآپریٹوز و تحفظ ماحول محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محسن خان لغاری، وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی اور وزیر مال نوابزادہ منصور احمد خان نے بھی شرکت کی۔ معاون خصوصی وزیراعلی پنجاب سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔ سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان نے ریلیف اور بحالی کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے تجویز دی کہ سیلابی پانی کی گزرگاہوں پر آبادیوں کو مستقل طور پر محفوظ جگہوں پر مکانات بنا کر منتقل کر دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ فلاحی تنظیموں نے بھی متاثرہ افراد کیلئے مکانات بنانے کی پیشکش کی ہے۔ اگلے ہفتے سے شروع ہونے والے سروے کے لئے ٹیموں کی تشکیل ہوچکی ہے۔ سروے مکمل ہوتے ہی امدادی رقوم کی تقسیم اور گھروں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔

    چیئرمین وزارتی کمیٹی محمد بشارت راجہ نے کہا کہ ریلیف سرگرمیوں کے بعد بحالی کے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ جنگی بنیادوں پر متاثرین سیلاب کی بحالی چاہتے ہیں۔ متاثرہ افراد کی مشکلات کا اندازہ کرتے ہوئے کوئی محکمہ سستی نہ کرے اور تمام محکمے بحالی کے لئے اپنا اپنا روڈ میپ دیں۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ کے استعمال کیلئے سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہو چکی ہے۔ اجلاس میں فلڈ فنڈ کی رقوم متاثرین تک شفاف انداز میں پہنچانے کے لئے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ چیئرمین عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی امداد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ چیئرمین کمیٹی محمد بشارت راجہ نے رود کوہیوں کے راستے میں ڈیم بنانے کی فزیبلٹی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے مختصر اور طویل المدت پالیسیوں پر عمل پیرا ہے،تاہم طویل المدت منصوبہ بندی کا مطلب غیر ضروری تاخیر نہیں۔ جن لوگوں کے گھر اپنی زمینوں پر نہیں تھے انہیں سرکاری اراضی پر آباد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کی ہدایت پر سندھ اور بلوچستان میں صوبہ پنجاب سے بھی طبی عملہ بھجوایا گیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ اپنے علاقوں کے ارکان اسمبلی سے مسلسل رابطہ رکھیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ متاثرین سیلاب کی اکثریت آبائی علاقوں کو واپس چلی گئی ہے۔ کچے کے علاقے سے زیادہ پکے کے علاقے میں نقصان ہوا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لئے حکومت مزید 25 ہزار خیمے خرید رہی ہے۔ وزیر خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں پنجاب میں 60 ہزار مکانات کو جزوی نقصان پہنچا اور ان میں سے 40 ہزار خاندانوں کو خیمے مہیا کئے جا چکے ہیں۔ حکومت 39 کروڑ روپے کا مزید سامان خریدنے کی بھی منظوری دے رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ سیلابی پانی کی گزرگاہوں پر دوبارہ آبادکاری روکے۔ وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے فصلوں کے نقصان کا تخمینہ جلد لگانے اور کاشتکاروں کے نقصانات کے ازالے پر زور دیا۔

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    ،پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز نے محصور افراد کو نکالنے کے لیے 446 پروازیں بھریں

  • خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم رکھنے کی سزا 10سال قید ہے،نبیلہ خان

    خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم رکھنے کی سزا 10سال قید ہے،نبیلہ خان

    صوبائی خاتون محتسب نبیلہ خان نے کہا ہے کہ جائیداد میں قانونی حصہ خواتین کا بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے خواتین کوجائیداد میں حصہ دلانے اورحق ملکیت کے تحفظ کیلئے پنجاب انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹ ایکٹ2021ء کا نفاذ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو جائیدادکے قانونی حق سے محروم رکھنا ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا 10سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت اور مروجہ قانون کے تحت خواتین وراثت میں حصہ دار ہیں بدقسمتی سے خواتین کو ان کا حصہ تو دے دیا جاتا ہے لیکن قبضہ نہیں دیا جاتا اورانکے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا خواتین کو جائیداد میں حصے سے محروم رکھنے کے سماجی رجحان کی مکمل حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کیونکہ اسلام تفریق نہیں کرتا۔

    انہوں نے یہ بات ڈپٹی کمشنر آفس میں پنجاب انفورسمنٹ آف وومن پراپرٹی رائٹ ایکٹ2021ء کے تحت ساہیوال، اوکاڑہ اور چیچہ وطنی کے پراپرٹی سے متعلق کیسز کے سماعت کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے بتایا کہ خاتون محتسب کو اپنے فیصلے نافذ کروانے کا اختیار حاصل ہے اور پولیس، ریونیو اور دیگر متعلقہ محکمے محتسب کے احکامات کی تعمیل میں مدد کرنے کے پابند ہیں تاکہ خواتین کے ملکیت کے حق کا تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو وراثت اور دیگر حقوق کو یقینی بنانے اور معاشرے کو ان کے جائز حقوق دینے کیلئے راضی کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساہیوال میں ڈویژنل محتسب آفس کو دو، تین ہفتوں تک فعال کر دیا جائے گا تاکہ خواتین کو درپیش پراپرٹی کے مسائل کو انکی دہلیز پر حل کیا جا سکے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

    انہوں نے بتایا کہ اوکاڑہ، ساہیوال اور چیچہ وطنی سے 80سے زائد پراپرٹی کے کیسزکی سماعت کی گئی اور تیس سے زائد کیسز پر متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے کیس جن میں مدعہ الہیان پیش نہیں ہوئے ان کے ورانٹ جاری کیے گئے ہیں۔ ثناء خان عتیق کنسلٹنٹ اور سٹاف آفیسر حافظ فاروق انوراس موقع پر موجود تھے

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب کے بعد کیمپوں میں مقیم متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ مختلف وبا اور بیماریاں پھوٹنے سے 5 افراد انتقال کر گئے ہیں، انہیں حالات کے پیش نظر سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    خیرپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں گیسٹرو کا مرض وبائی شکل اختیار کر لیا گیا، جس کے بعد خیرپور میں پیر گوٹھ بچاؤ بند ہونے پر کیمپ میں چار افراد کی زندگی بازی ہار گئی۔ متاثرین خوراک اور علاج کی حالت سے خوفزدہ ہیں، جہاں مزید لوگوں کا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدشہ ہے کہ ضلع بھر میں تاحال میڈیکل کیمپ نہیں چلا۔سکھر میں بھی گیسٹرو سے بچہ دم توڑ گیا ہے اور یہاں بھی علاج معالجے کی سہولیات نہیں ہیں

    ان علاقوں میں ٹینٹس نہیں اور لوگ دن کو کھلے آسمان تلے سخت دھوپ میں وقت گزارتے ہیں اور رات کو مچھر اور کیڑوں مکوڑوں کے حملوں‌ کا سامنا کرتے ہیں‌ ، ادھر سکھر سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سکھر بیراج کے دوسرے راستے سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد کی گئی۔سکھر بیراج پرموجود حکام کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران واقعات کی تعداد 33 واضح ہے۔ اس سے پہلے والی لاشوں میں 9 خواتین بھی شامل ہیں، تاہم کسی کی شناخت نہ ہو سکی۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے مرادی میں بارش کو تھمے ہوئے روز گزرے مگر میونسپل کمیٹی ڈی کی جانب سے شہر کے گلی محلوں سے پانی نہیں ملنے جاسکا۔ شہر کے اندر ہر طرف تالاب اور منہدم مکانات سے تباہی دل دہلا دینے کا منظرپیش کررہا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صوبے کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ چکی ہیں اور لوگوں کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں ہے

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی سندھ کی طرح حالات اچھے نہیں ہیں، کوہستان ، کالام ، سوات ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگرعلاقوں میں سیلاب کی باقیات ابھی موجود ہیں اور لوگ ایک طرف سخت دھوب میں وقت گزار رہے ہیں تو دوسری طرف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں

    سندھ میں سیلاب کے پیش نظر ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی ہوگئی ہے سندھ نے پنجاب حکوت سے ڈاکٹرز،نرسز، پیرامیڈیکس بھیجنے کی استدعا کی ہے ۔

    سندھ حکومت کی استدعا پر سب سے پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ڈاکٹرزاور نرسز پر مشتمل 10رکنی وفد لاڑکانہ روانہ کردیا ہے، اور اس وفد کے ساتھ ڈائریا، جلدی امراض، سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کا اسٹاک بھی ساتھ رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرز سندھ کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگائیں گے اورپھرسندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں متاثرہ علاقوں میں مزید طبی سہولتیں فراہم کریں گے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں، از قلم : غنی محمود قصوری

    سیلاب متاثرین کی مدد ایسے بھی کریں

    از قلم غنی محمود قصوری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان حدیث کہلاتا ہے اور رب کا فرمان قرآن مجید فرقان حمید دونوں پہ عمل کرنا لازم و ملزوم ہےجب تک قرآن و حدیث دونوں کو نا سمجھا جائے بات کی سمجھ نہیں آئے گی ،مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کمزور لوگ دنیاوی اور مدد کرنے والا اخروی فلاح پائے-

    ہمارے ہاں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ ہر سنی سنائی بات پہ عمل کیا جاتا ہے جو کہ سراسر غلط ہےاسی لئے کہا گیا ہے کہ خوب تحقیق کے بعد ہی بات آگے پہنچائی جائےاس وقت ملک پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور لوگ سیلاب متاثرین کی مدد میں لگے ہوئے جو کہ اس وقت ہم پر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی فرض عین ہے-

    لوگ کپڑوں،راشن،ادویات اور نقدی کی صورت میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں اس مدد بارے قرآن مجید فرقان حمید نے ہمیں ایسے حکم جاری کیا ہے

    لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ

    ترجمہ۔۔۔تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے-

    جبکہ حدیث رسول ہے

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے،صحیح متفق علیہ

    کچھ لوگوں کی طرف سے اس آیت و حدیث کی رو سے لوگوں کو پرانی استعمال شدہ اشیاء سیلاب زدگان کو عطیہ کرنے سے روکا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اپنی محبوب اشیاء یعنی نئی اشیاء ہی صدقہ خیرات کی جائیں اور اپنے بھائیوں کیلئے بھی وہی پسند کریں جو آپ خود پسند کرتے ہیں نیز پرانی اور استعمال شدہ اشیاء دینا درست نہیں-

    مجھے ان لوگوں کی نیت پہ شک نہیں وہ اپنی طرف سے بہت اخلاص کی بات کر رہے ہیں مگر میں ان کی خدمت میں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان پیش کرتا ہوں عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی ،الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي

    ترجمہ۔۔۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں-

    پھر انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا،جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی
    الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي
    پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی ، ( ترمذی 3560 )

    اوپر والی آیت و حدیث ہمیں اپنی محبوب ترین چیز ( نئی غیر استعمال شدہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتی ہے اور اپنی پسند اپنے بھائی کیلئے پسند کرنے کا حکم دیتی ہے جبکہ دوسری حدیث رسول ہمیں پرانی استعمال شدہ چیزیں صدقہ خیرات کی تلقین کر رہی ہے-

    اب غور کریں تو پتہ چلے گا کہ جو صاحب ثروت مالدار لوگ ہیں وہ اللہ کے فرمان کے مطابق اپنی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اعلی معیاری اور قیمتی چیز اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور وہی چیز دوسروں کیلئے پسند کریں جو خود کرتے ہیں جبکہ دوسری حدیث رسول مالی کمزوروں کو تلقین کر رہی ہے کہ اپنی استعمال شدہ چیزیں بھی صدقہ خیرات کی جائیں تاکہ ان سے بھی کم مالی حیثیت اور افت زدہ لوگ وہ چیزیں استعمال کریں،ہمیں ایسی باتوں کی سمجھ تبھی آتی ہے جب قران و حدیث دونوں کو پڑھا سمجھا جائے

    اس وقت سیلاب زدگان کو کپڑوں و بستر کی سخت ضرورت ہے ہمیں چائیے کہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ان کو نئی اشیاء بھی صدقہ کریں اگر اتنی طاقت نہیں تو ان کو اپنی استعمال شدہ پرانی چیزیں بھی صدقہ خیرات کریں تاکہ وہ مصیبت کے مارے لوگ اپنی ضرروت پوری کر سکیں

    سیلاب زدگان کی مدد اس وقت ہر صاحب ثروت پر فرض ہے کیونکہ یہ ہم سب کا قومی و اسلامی فریضہ ہےخداراہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں بہت سی مذہبی جماعتیں ان تک سامان پہنچا رہی ہیں –

    اگر ہم خود جا سکتے ہیں تو اجتماعی شکل میں خود جا کر مدد کریں بصورت دیگر ان مذہبی جماعتوں کے توسط سے لازمی مدد کیجئے
    اللہ تعالی ہم سے راضی ہو اور سیلاب زدگان کی مدد کے عیوض ہمیں اچھا صلہ عطا فرمائے آمین