Baaghi TV

Category: ننکانہ

  • ننکانہ صاحب: میٹرک میں تیسری پوزیشن لینے والے فیضان رضا نے ایک دن کیلئے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا

    ننکانہ صاحب: میٹرک میں تیسری پوزیشن لینے والے فیضان رضا نے ایک دن کیلئے ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کی تاریخ میں ایک منفرد اور حوصلہ افزا قدم اٹھایا گیا، جہاں لاہور بورڈ میں میٹرک امتحانات میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے ہونہار طالبعلم فیضان رضا کو ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر کا چارج سونپا گیا۔ اس موقع پر فیضان رضا کو پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ان کے گھر سے ڈپٹی کمشنر آفس پہنچایا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر شاہکوٹ ثناء شرافت اور دیگر ضلعی افسران نے انہیں سرکاری گاڑی میں بٹھا کر ڈی سی آفس روانہ کیا۔ فیضان رضا نے اپنے دن کا آغاز گورنمنٹ ہائی اسکول شاہکوٹ نمبر 1 کے دورے سے کیا، جہاں انہوں نے اپنے اساتذہ اور طلبا سے ملاقات کی اور اس کامیابی پر اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈپٹی کمشنر آفس پہنچنے پر اصل ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو اور دیگر افسران نے اعزازی ڈپٹی کمشنر کا پرتپاک استقبال کیا۔ فیضان رضا نے شہریوں کے مسائل سنے اور ضلعی افسران سے تفصیلی بریفنگ بھی لی۔ بعدازاں انہوں نے مریم نواز سکول فار اسپیشل چلڈرن (سنٹر آف ایکسیلنس) اور گورنمنٹ گرونانک گریجویٹ کالج برائے خواتین کا بھی دورہ کیا۔

    مون سون شجرکاری مہم کے تحت انہوں نے ننکانہ سٹی کے پبلک پارکس میں پودے لگا کر ماحول دوست اقدام میں بھی حصہ لیا۔ میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے فیضان رضا نے کہا:
    "ڈپٹی کمشنر بننا میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے، میں ایک سبزی فروش کا بیٹا ہوں، زندگی میں بہت مشکلات آئیں، لیکن والدین اور اساتذہ نے ہمیشہ ساتھ دیا۔ میں یہ اعزاز اپنے والدین اور اساتذہ کے نام کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے لیے مزید محنت کروں گا۔”

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راو نے کہا کہ اگر کوئی ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا تو اسے مزید پروٹوکول ملتا۔ انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ تعلیم کو اپنا ہدف بنائیں اور والدین، اساتذہ اور ملک کا نام روشن کریں۔

    عوامی، وکلاء، اور تاجر حلقوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا اور ڈپٹی کمشنر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے نوجوانوں میں تعلیم کے لیے دلچسپی بڑھے گی اور ایک مثبت مقابلے کی فضا قائم ہو گی۔

    یہ اقدام نہ صرف ایک طالبعلم کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ محنت، خلوص اور لگن سے کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں – چاہے پس منظر کچھ بھی ہو۔

  • ننکانہ صاحب کے ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ننکانہ صاحب کے ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

    ننکانہ صاحب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک طالبعلم کو ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ لاہور بورڈ میں میٹرک امتحانات کے نتائج میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے گورنمنٹ ہائی سکول شاہکوٹ نمبر 1 کے ہونہار طالبعلم فیضان رضا کو ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ کی جانب سے یہ اعزاز دیا گیا۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق فیضان رضا نے آج اعزازی ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کا چارج سنبھالا اور پورے دن ضلعی انتظامیہ کے مختلف امور کا جائزہ لیا۔ ضلعی افسران نے انہیں ضلعی نظم و نسق، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سروسز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں فیضان رضا، ان کے والدین، اساتذہ اور ضلعی افسران نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے فیضان رضا کو لاہور بورڈ میں شاندار کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور انہیں ایک لاکھ روپے نقد انعام بھی پیش کیا۔ مزید برآں، انہوں نے اعلان کیا کہ فیضان رضا کے اساتذہ کو بھی ان کی محنت کے اعتراف میں آدھی تنخواہ بطور انعام دی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ فیضان رضا نے نہ صرف ضلع ننکانہ بلکہ اپنے والدین اور اساتذہ کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی حکومت تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلباء کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی تاکہ نوجوان نسل کو خدمتِ وطن کے لیے تیار کیا جا سکے۔

  • واربرٹن: حاجی اکرم آرائیں کی اہلیہ کی چوتھی برسی، ایصالِ ثواب کی تقریب میں علما و نعت خواں کی شرکت

    واربرٹن: حاجی اکرم آرائیں کی اہلیہ کی چوتھی برسی، ایصالِ ثواب کی تقریب میں علما و نعت خواں کی شرکت

    واربرٹن (باغی ٹی وی، عبدالغفار چوہدری)واربرٹن کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت حاجی محمد اکرم آرائیں کی اہلیہ کی چوتھی برسی کے موقع پر ایک پروقار ایصالِ ثواب و دعا کی تقریب مقامی شادی ہال میں منعقد ہوئی، جس میں علاقہ بھر سے معززین، سیاسی و سماجی شخصیات، علما کرام اور نعت خواں حضرات نے بھرپور شرکت کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خواں حضرات نے بارگاہِ رسالت میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ معروف نعت خواں ظہیر الحسن ظہور ، استاد جوجی علی خان، مدثر ہمدانی، فیصل قیوم اور ننھے نعت خواں موحد نے اپنے مخصوص انداز میں نعتیں پیش کر کے حاضرین کے دلوں کو منور کیا۔

    پروگرام میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر علامہ محب النبی طاہر نے کہا کہ "ہمیں برائیوں سے بچنے کے لیے اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق بسر کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اطہر کو ہر مقام پر مقدم رکھنا چاہیے اور ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ فضول اور لاحاصل بحثوں سے اجتناب کریں اور جن باتوں کا مکمل علم نہ ہو، ان پر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔

    تقریب میں ڈاکٹر علی ثقلین حیدر نے اشعار کی صورت میں اپنی والدہ مرحومہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جس سے فضا جذباتی اور روحانی کیفیت سے بھر گئی۔ آخر میں حاجی محمد اکرم آرائیں نے تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی شرکت نے اس روحانی محفل کو حقیقی معنوں میں ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنایا۔

    تقریب کے اختتام پر مرحومہ کے ایصالِ ثواب اور مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • ننکانہ:پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی پر اتحاد کی اپیل، صحافی برادری سے مشترکہ تقریبات منانے کا مطالبہ

    ننکانہ:پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی پر اتحاد کی اپیل، صحافی برادری سے مشترکہ تقریبات منانے کا مطالبہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے صدر شمیم شاہد اور سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ملک بھر کی صحافی برادری اور تنظیم کے مختلف دھڑوں سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی اختلافات ختم کر کے اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں، اور تاریخی تقریب کو مشترکہ طور پر منانے کے لیے متحد ہو جائیں۔

    شمیم شاہد اور راجہ ریاض نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 1950 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بنیاد رکھی گئی، جو کارکن صحافیوں کی عالمی سطح پر پہلی نمائندہ تنظیم تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم تنظیم کی تاریخ اور بانیوں کی قربانیوں کو صرف یاد رکھنا کافی نہیں بلکہ ان کے مشن کو جاری رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    دونوں راہنماؤں نے کہا کہ آج جب دنیا بھر میں صحافت کو مالی بحران، سنسرشپ اور بیروزگاری جیسے سنگین چیلنجز درپیش ہیں، تو ایسے حالات میں پی ایف یو جے کے تمام دھڑوں کو اتحاد کی طرف واپس آنا ہوگا تاکہ صحافیوں کے حقوق کی مؤثر نمائندگی ممکن ہو۔

    انہوں نے ظفر اللہ چوہدری، منہاج برنا، نثار عثمانی، احفاظ الرحمن اور دیگر بانی رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد نے پی ایف یو جے کو ایک نظریاتی تحریک کی حیثیت دی، جسے 1977 کے مارشل لاء کے بعد ریاستی مداخلت نے نقصان پہنچایا، تاہم 1989 میں مرحوم رحیم اللہ یوسفزئی کی کوششوں سے تنظیم دوبارہ فعال ہوئی، لیکن 2013 میں ایک بار پھر اختلافات کے باعث تنظیم تقسیم کا شکار ہو گئی، اور اب اس کے چھ سے زائد دھڑے بن چکے ہیں۔

    شمیم شاہد اور راجہ ریاض نے تجویز دی کہ مظہر عباس اور خورشید عباسی کی قیادت میں ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں تمام صوبوں اور دھڑوں کی نمائندگی ہو۔ یہ کمیٹی نہ صرف اتحاد کی بحالی پر کام کرے بلکہ پی ایف یو جے کی گولڈن جوبلی تقریبات کو ملک بھر میں باوقار انداز سے منظم کرے۔

    انہوں نے حکومت، جمہوری جماعتوں خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے اپیل کی کہ وہ صحافی برادری کے اتحاد کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں، آئین و قانون پر یقین رکھنے والے دانشوروں اور تمام کارکن صحافیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اس قومی جدوجہد میں شامل ہو کر پی ایف یو جے کو دوبارہ ایک متحد، مؤثر اور پرجوش آواز میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کریں۔

  • واربرٹن: ڈوبنے سے بچاؤ کے عالمی دن پر پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

    واربرٹن: ڈوبنے سے بچاؤ کے عالمی دن پر پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے آگاہی سیشنز کا انعقاد

    واربرٹن (باغی ٹی وی، رپورٹر عبدالغفار چوہدری)عالمی دن برائے ڈوبنے سے بچاؤ کے موقع پر واربرٹن پولیس اور ریسکیو 1122 کی مشترکہ کاوش سے حالیہ طوفانی بارشوں سے زیر آب آنے والے نواحی دیہات میراں پور اور ملوک میں آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے۔ یہ سیشنز ڈی پی او ننکانہ صاحب سید ندیم عباس کی خصوصی ہدایت پر منعقد ہوئے جن میں مقامی آبادی، خصوصاً بچوں اور والدین کو ڈوبنے سے بچاؤ کی اہم تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔

    ایس ایچ او تھانہ واربرٹن مجاہد عباس ملہی اور ریسکیو سیفٹی آفیسر علی عمران اعوان نے آگاہی سیشنز کی سربراہی کی اور شہریوں کو گہرے پانی، تالابوں، نہروں اور کھلے پانی کے ذخائر کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر بتائیں۔ شہریوں کو خصوصی طور پر یہ ہدایت دی گئی کہ:

    * بچوں کو کبھی بھی پانی کے قریب تنہا نہ چھوڑا جائے
    * تیرنا سیکھنا اور سکھانا ضروری ہے
    * لائف جیکٹس اور لائف رنگز کا درست استعمال سیکھا جائے
    * کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری طور پر 15 پر اطلاع دی جائے

    ریسکیو 1122 کے تربیتی عملے نے موقع پر لائف جیکٹس پہننے، لائف رنگ استعمال کرنے اور تیز پانی سے گزرنے کے محفوظ طریقے بھی سکھائے۔

    شرکاء نے پولیس اور ریسکیو اہلکاروں کی کاوش کو سراہا اور یہ عہد کیا کہ وہ خود بھی ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں گے۔

    ڈی پی او سید ندیم عباس کا کہنا تھا کہ ڈوبنے کے واقعات کو "خاموش قاتل” کہا جاتا ہے جو ہر سال ہزاروں زندگیاں نگل لیتے ہیں، جن میں بچوں کی تعداد نمایاں ہے۔ ننکانہ پولیس عوامی تحفظ کے مشن میں ہمہ وقت مستعد ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرتی رہے گی۔

  • ننکانہ: وزیراعلیٰ کا دورہ، سلگتے عوامی مسائل سے پردہ پوشی، اصلی صحافیوں کو دور رکھا گیا

    ننکانہ: وزیراعلیٰ کا دورہ، سلگتے عوامی مسائل سے پردہ پوشی، اصلی صحافیوں کو دور رکھا گیا

    ننکانہ صاحب سےباغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کی رپورٹ؛وزیراعلیٰ پنجاب کے دورے کی چمک دمک کے پیچھے چھپی بدحالی، صحافیوں کو دور رکھا گیا، عوامی مسائل پر پردہ ڈالنے کی کوشش؟

    وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے حالیہ دورۂ ننکانہ صاحب کو بظاہر ایک عوام دوست اور ترقیاتی سرگرمیوں سے بھرپور واقعہ کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس دورے کے پیچھے کئی ایسے حقائق چھپے رہے جنہوں نے نہ صرف مقامی صحافیوں کو مایوس کیا بلکہ بے بس عوام کو بھی بے چینی میں مبتلا کر دیا۔

    صحافیوں کو وزیراعلیٰ سے دور رکھا گیا، سوالات کرنے کا موقع نہ دیا گیا اور میڈیا کو سچ تک رسائی سے محروم کر کے محض سرکاری کیمروں کی آنکھ سے چمکتا چہرہ دکھایا گیا۔ ضلعی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی مکمل ناکامی نے صورتحال کو مزید مشکوک بنا دیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے گزرنے والے علاقوں کی گلیاں جنہیں چند گھنٹوں کے لیے چمکا دیا گیا، درحقیقت کئی ہفتوں سے گندے پانی، تعفن اور بلدیاتی بے حسی کا شکار ہیں۔ قائم مقام چیف آفیسر میونسپل کمیٹی راؤ انوار عوامی شکایات کا مرکز بن چکے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

    ڈی ایچ کیو ہسپتال جس کا وزیراعلیٰ نے دورہ کیا، اس دن یورپی معیار کا بنا دیا گیا۔ صفائی، اخلاق، دوائیاں، سب کچھ ایک دن کے لیے دستیاب تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب ممکن تھا تو روز کیوں نہیں؟ کیا وزیراعلیٰ کو دکھانے کے لیے سب کچھ محض ایک سرکاری اسٹیج شو تھا؟

    صحافیوں کو تمام دن مختلف مقامات پر دھکے کھانے پڑے، کبھی واربرٹن، کبھی ڈی ایچ کیو، کبھی ڈپٹی کمشنر آفس، لیکن نہ کوئی بریفنگ ملی، نہ کوئی واضح شیڈول۔ ضلعی تعلقات عامہ کا عملہ مکمل طور پر غائب رہا، کوآرڈینیشن نہ ہونے کے باعث صحافیوں کو شدید تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ سب سوالات صرف صحافیوں کے لیے نہیں، عوام کے لیے بھی ہیں۔ اگر گندگی، بدبو، سیوریج اور استحصال کی حقیقت چھپائی جا رہی ہے تو کب تک؟ کیا ننکانہ کی عوام کو حق حاصل نہیں کہ ان کے مسائل براہِ راست اعلیٰ قیادت تک پہنچیں؟ کب مسیحا آئے گا جو ننکانہ کی سسکتی عوام کو سنے گا؟ کیا صحافی صرف تصویریں کھینچنے اور تعریفی خبریں چھاپنے کے لیے ہوتے ہیں یا ان کے سوالات کا بھی کوئی وزن ہے؟

    یہ تحریر صرف رپورٹنگ نہیں، ایک احتجاج ہے – عوام کی بے بسی، صحافت کی تذلیل اور سرکاری سچائیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوششوں کے خلاف۔ ننکانہ کی عوام سوال کر رہی ہے:
    "کب مسیحا آئے گا؟”

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کا ننکانہ صاحب کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امداد، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    وزیراعلیٰ مریم نواز کا ننکانہ صاحب کا دورہ، سیلاب متاثرین میں امداد، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    واربرٹن (نامہ نگارعبدالغفار چوہدری)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ننکانہ صاحب کے سیلاب سے متاثرہ دیہی اور شہری علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا جو ڈھائی گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف سیلابی صورتحال کا جائزہ لینا تھا بلکہ مقامی عوام سے براہ راست ملاقات کر کے ان کے مسائل سننا اور فوری اقدامات کا اعلان کرنا بھی تھا۔

    وزیراعلیٰ نے واربرٹن کے نواحی علاقوں میراں پور اور ڈفر کھوکھراں میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان کی تقسیم کا آغاز کیا۔ سیلابی ریلوں سے متاثرہ گھروں اور زرعی اراضی کا خود معائنہ کیا اور اعلان کیا کہ کچے گھروں کے مکینوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جب کہ متاثرہ فصلوں اور لائیوسٹاک کے نقصان کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔

    میراں پور میں بزرگ خواتین نے وزیراعلیٰ کے مثالی گاؤں اسکیم کے اعلان پر دعا دی، جبکہ مریم نواز نے تمام خواتین سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان سے ہاتھ ملایا اور کہا: "تہانوں ملن آئی آں، تے گلاں وی کرن نیاں نے”۔ ان کا یہ جملہ عوامی محبت کا مرکز بن گیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے دھولار چوک، جنم استھان گردوارہ چوک، ڈی پی ایس چوک، بیری چوک، چونگی چوک، ریلوے روڈ، پیرا حمد شاہ روڈ اور مانانوالہ پھاٹک سمیت اہم مقامات کا دورہ کیا۔ اس دوران عوام کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا، بچے ان کے گرد جمع ہو گئے، جنہیں انہوں نے سویٹس کے تحائف بھی دیے اور شفقت کا مظاہرہ کیا۔

    وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب میں سیلابی ریلوں سے نمٹنے کے لیے دو فلڈ ڈرین بنانے کا اعلان کیا، شہر کی بیوٹی فکیشن کے لیے فنڈز کے فوری اجراء کی ہدایت دی اور دو ہفتوں میں جامع پلان طلب کیا۔ اس کے علاوہ شہر کے داخلی راستوں اور مرکزی سڑکوں کے کناروں پر شولڈر تعمیر کرنے، روڈز کی بہتری اور گرین بیلٹس کی خوبصورتی کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت دی۔

    وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب کو ماڈل سٹی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ضلع میں کلینک آن وہیلز کی تعداد بڑھانے، الیکٹرک بسوں کی فراہمی میں اضافے اور سکولوں کے سامنے زیبرا کراسنگ اور سائن بورڈز یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے روٹی کے نرخ کنٹرول میں کوتاہی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی غفلت پر متعلقہ حکام ذمہ دار ہوں گے۔

    بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیرمملکت موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب علی کھرل، چوہدری برجیس طاہر، اراکین اسمبلی، کمشنر لاہور زید بن مقصود، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر اور دیگر ضلعی افسران شریک ہوئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ:

    ندی نالوں اور نہروں کے اوورفلو سے 1525 ایکڑ رقبہ زیر آب آیا،22 دیہات متاثر ہوئے،20 ہزار سے زائد تجاوزات ختم کی گئیں،1194 خصوصی افراد کو ہمت کارڈز جاری کیے گئے،اپنی چھت اپنا گھر منصوبے کے تحت 788 قرضے جاری اور 400 گھر زیر تعمیر ہیں،سبسڈی پر 176 گرین ٹریکٹرز دیے گئے، جب کہ 20 مفت فراہم کیے گئے،267 لائیو اسٹاک، 1715 اقلیتی کارڈز اور 242 زرعی ٹیوب ویل سولر سکیم میں شامل کیے گئے،وزیراعلیٰ نے ان تمام منصوبوں کو مزید وسعت دینے اور اہلیت کی بنیاد پر مستحقین کی تعداد بڑھانے کی ہدایت دی۔

    مریم نواز نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی کنٹرول سنٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں دریائے راوی کی ممکنہ سیلابی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ ہسپتال میں ایمرجنسی، زنانہ وارڈ اور دیگر شعبہ جات کا معائنہ کیا، مریضوں اور لواحقین سے سہولیات پر بات چیت کی اور فوری مسائل کے حل کی ہدایت جاری کی۔

    مریم نواز نے کہا کہ”عوام کی خدمت میری ذمہ داری ہے، مہربانی نہیں۔ ماضی میں پنجاب کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ دیکھ کر دل کڑھتا ہے۔ میں مسائل کے حل کے لیے بے چینی محسوس کرتی ہوں، لیکن ہم سب مل کر اس صوبے کو آگے لے کر جائیں گے۔”

    دورے کے اختتام پر وزیراعلیٰ موٹروے کے ذریعے واپس لاہور روانہ ہو گئیں۔

  • ڈیوو پاک موٹرز کا تعلیمی تعاون، بابا گورو نانک یونیورسٹی کو جدید مشینیں فراہم

    ڈیوو پاک موٹرز کا تعلیمی تعاون، بابا گورو نانک یونیورسٹی کو جدید مشینیں فراہم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ڈیوو پاک موٹرز کراچی کی جانب سے بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کو 24 لاکھ روپے مالیت کے پانچ جدید ڈیجیٹل فوٹو کاپیئرز عطیہ کیے گئے۔ اس موقع پر ڈیوو پاک موٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد ایوب خان اور ڈائریکٹر سیلز طاہر جاوید نے یونیورسٹی کا دورہ کیا اور باضابطہ طور پر یہ مشینیں یونیورسٹی انتظامیہ کے سپرد کیں۔

    دورے کے دوران ڈیوو انتظامیہ نے طلباء کے لیے انٹرن شپ پروگرام، تکنیکی تربیت اور دیگر تعلیمی و صنعتی شعبوں میں اشتراک کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ یہ عطیہ یونیورسٹی کی انتظامی و تدریسی کارکردگی میں بہتری لانے اور طلباء و اساتذہ کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی کے مشن کو تقویت دے گا۔

    بابا گورو نانک یونیورسٹی کے رجسٹرار جناب مبشر طارق نے اس قیمتی عطیہ پر ڈیوو پاک موٹرز کا دلی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ تعاون تعلیم و ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے مستقبل میں دونوں اداروں کے درمیان مزید اشتراک کے امکانات کا بھی خیرمقدم کیا۔

  • ننکانہ: گلیاں دریائی نالوں میں تبدیل، عوام بےحال، بلدیہ خاموش

    ننکانہ: گلیاں دریائی نالوں میں تبدیل، عوام بےحال، بلدیہ خاموش

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب کی تنگ گلیوں میں بہتا سیوریج کا پانی عوامی خدمت کے نظام پر ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ میونسپل کمیٹی ننکانہ کی مجرمانہ غفلت اور انتظامی نااہلی نے شہریوں کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ گندے پانی کے جوہڑ نہ صرف راستوں کو ناقابل استعمال بنا چکے ہیں بلکہ بچوں، بزرگوں اور بیماروں کے لیے وبائی امراض کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

    شہریوں کے مطابق ایک ہفتے سے گلی میں مسلسل سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے، متعدد بار شکایات کے باوجود نہ کوئی کارروائی کی گئی، نہ صفائی کا بندوبست کیا گیا۔ میونسپل کمیٹی کے افسران اور عملہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، جیسے انہیں عوامی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ گندگی، تعفن اور بدبو کے باعث شہری ذہنی اذیت میں مبتلا ہو چکے ہیں، جبکہ معصوم بچے ڈینگی، ہیضہ، اسہال اور دیگر متعدی بیماریوں کے خطرے میں ہیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ میونسپل کمیٹی کے ذمہ داران صرف تصویری مہمات اور بلند و بانگ دعوؤں میں مصروف ہیں، جبکہ عملی طور پر عوام کو گندے پانی اور تعفن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ شکایات کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں ملتا، عوام کی فریادیں گویا دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں۔

    عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور وزیر بلدیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر میونسپل کمیٹی کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور گلیوں میں بہتے گندے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ آخر کب تک ننکانہ صاحب کے عوام بے بسی کی تصویر بنے رہیں گے؟
    کاش کوئی سننے والا ہو، کاش کسی کو شرم آ جائے۔

  • ننکانہ: شہر بارش میں ڈوبا، چھوٹے ملازم قربانی کا بکرا، کاغذی کارکردگی اور فوٹو گرافی کی خدمت پر شہری چیخ اٹھے

    ننکانہ: شہر بارش میں ڈوبا، چھوٹے ملازم قربانی کا بکرا، کاغذی کارکردگی اور فوٹو گرافی کی خدمت پر شہری چیخ اٹھے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)شہری انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی اور "تصویری کارکردگی” کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب مون سون کی ایک موسلا دھار بارش نے ننکانہ صاحب کو پانی پانی کر دیا۔ دعوؤں کی دیوار اس وقت گر گئی جب پورا شہر، خصوصاً نشیبی علاقے، تالابوں میں بدل گئے اور میونسپل کمیٹی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نظر آئی۔

    کہنے کو نکاسی کے لیے ٹیمیں اور مشینری تیار تھیں، لیکن حقیقت میں شہر بھر کے لیے صرف ایک سکرمشین موجود ہے، وہ بھی ڈسٹرکٹ کونسل کی اور صرف فوٹو سیشن کے لیے متحرک۔ شہری سوشل میڈیا پر چیف آفیسر راؤ انوار کی کارکردگی کی تصاویر دیکھتے رہے جبکہ پانی ان کے گھروں میں داخل ہوتا رہا۔

    چیف آفیسر راؤ انوار اور ان کی ٹیم دن بھر کیمروں کے سامنے نمودار ہوتے رہے، مگر زمینی حقائق اس کی مکمل تردید کرتے ہیں۔ مشینری فیلڈ سے غائب، بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی عملی انتظام نہ تھا اور سارا زور صرف میڈیا کوریج اور فیس بک پوسٹس پر رہا۔

    چیف آفیسر راؤ انوار کی انتظامی نااہلی کی انتہا یہ کہ اپنی ناکامی کا بوجھ نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف آفیسر خود ہی شوکاز جاری کرتے ہیں، خود ہی تفتیشی افسر بنتے ہیں اور خود ہی سزا سناتے ہیں . گویا انصاف کی تضحیک کو ادارہ جاتی اصول بنا لیا گیا ہے۔

    محنتی ملازمین کو بغیر ثبوت اور غیر جانبدار انکوائری کے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ عوامی و سماجی شخصیات نے میونسپل افسران کے غیر سنجیدہ رویے اور نااہلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری بلدیات اور ضلعی انتظامیہ سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ "کاغذی کارکردگی” اور "فوٹو گرافی پر مبنی خدمت” مزید برداشت نہیں، اب وقت ہے کہ ان افسران کا قبلہ درست کیا جائے اور ننکانہ صاحب کو ایسے نااہل آفیسران کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔