Baaghi TV

Category: پشاور

  • سوات میں فائرنگ،پیپلز پارٹی رہنما قتل

    سوات میں فائرنگ،پیپلز پارٹی رہنما قتل

    اپر سوات کے علاقے مٹہ میں ہفتے کے روز نمازِ جنازہ کے دوران نامعلوم مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مقامی رہنما سمیع اللہ خان جاں بحق جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں ایک مرحوم کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی۔ اسی دوران نامعلوم حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ شروع کر دی اور مبینہ طور پر پیپلز پارٹی اپر سوات کے صدرسمیع اللہ خان کو نشانہ بنایا۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے قریب کھڑا ایک شخص شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔سمیع اللہ خان کا شمار سوات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے متحرک اور سرگرم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے تھے اور مقامی سطح پر ایک فعال سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

    اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، شواہد اکٹھے کیے گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ واقعے کے محرکات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے۔ تاحال کسی گروہ یا فرد نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

  • کالام کشتی حادثہ: خیبرپختونخوا حکومت نے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی

    کالام کشتی حادثہ: خیبرپختونخوا حکومت نے دو رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی

    پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے کالام کی جھیل سیف اللہ میں پیش آنے والے کشتی حادثے کی شفاف تحقیقات کے لیے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیشل سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کو کمیٹی کا سربراہ جبکہ اسپیشل سیکرٹری خزانہ زبیر احمد کو کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق انکوائری کمیٹی حادثے کے تمام حقائق، واقعات کی ترتیب اور اس کی بنیادی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ کمیٹی کشتی کی تکنیکی حالت، حادثے کے وقت موسم کی صورتحال، آپریشنل انتظامات اور دیگر متعلقہ عوامل کی بھی تحقیقات کرے گی۔کمیٹی اس امر کا بھی تعین کرے گی کہ کشتی آپریشن متعلقہ قوانین، اجازت ناموں اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق چلایا جا رہا تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ کشتی چلانے والے کے لائسنس، پیشہ ورانہ اہلیت اور قانونی اجازت سے متعلق تمام پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    حکومتی نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حادثے کے وقت لائف جیکٹس، ریسکیو آلات اور دیگر حفاظتی انتظامات کی دستیابی اور ان کے مؤثر استعمال کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جائے گا۔ کمیٹی انتظامی، قانونی اور ریگولیٹری خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تدارک کے لیے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی۔مزید برآں، انکوائری کمیٹی مستقبل میں سیاحتی اور تفریحی مقامات پر اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے جامع سفارشات بھی مرتب کرے گی۔صوبائی حکومت نے کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی مکمل تحقیقاتی رپورٹ سات روز کے اندر حکومت کو پیش کرے۔

    واضح رہے کہ کالام کی جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد واقعے کی وجوہات جاننے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔

  • مذاکرات صرف پیشکش تک محدود، احتجاج جاری رہے گا، بیرسٹر گوہر

    مذاکرات صرف پیشکش تک محدود، احتجاج جاری رہے گا، بیرسٹر گوہر

    ‎پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے حامی رہے ہیں، تاہم اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات عملی مرحلے میں داخل نہیں ہوئے بلکہ صرف پیشکشوں اور بیانات کی حد تک محدود ہیں۔
    ‎پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ جمہوری انداز میں اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور آئندہ بھی اپنے سیاسی حقوق کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی نے ماضی میں بھی احتجاج کیے ہیں اور مستقبل میں بھی پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بعض حلقے مختلف سیاسی ملاقاتوں اور روابط کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے مصافحہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس عمل کو پی ٹی آئی کی کمزوری یا پسپائی نہ سمجھا جائے، کیونکہ سیاسی شائستگی اور جمہوری روایات کو کمزوری سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، وہ ابھی صرف ابتدائی نوعیت کی ہیں اور ان پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اگر سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہوتے ہیں تو پارٹی اپنی پالیسی کے مطابق مناسب فیصلہ کرے گی، تاہم فی الحال صورتحال صرف اعلانات اور پیشکشوں تک محدود ہے۔
    ‎انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، جس پر تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کشمیر کے معاملے پر مصلحت، تدبر اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہییں تاکہ پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں عالمی سطح پر پیش کیا جا سکے۔
    ‎بیرسٹر گوہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن آئینی اور قانونی اقدام اٹھایا جائے گا اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔

  • ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش ، گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی

    ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش ، گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی

    ناران: مانسہرہ کے سیاحتی علاقے ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش، چار دوستوں کی گاڑی دریائے کنہار کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔

    پولیس کے مطابق چار نوجوان اپنی گاڑی کو دریائے کنہار سے گزار کر ویڈیو بنا رہے تھے کہ اچانک پانی کے شدید بہاؤ کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں بہہ گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں نوجوانوں کو بحفاظت دریا سے نکال لیا۔ڈی ایس پی صداقت خان کے مطابق خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دریا میں بہہ جانے والی گاڑی کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر خطرناک مقامات پر ویڈیوز یا تصاویر بنانے کی غرض سے اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

  • درجہ حرارت بڑھ گیا، بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری

    درجہ حرارت بڑھ گیا، بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا الرٹ جاری

    پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) کے خطرے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ دنوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔جاری کردہ الرٹ کے مطابق اپر اور لوئر چترال، سوات، اپر دیر، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حساس علاقوں میں مسلسل نگرانی یقینی بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل رکھیں۔پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے ریسکیو اداروں، بھاری مشینری اور ہنگامی عملے کو ہر وقت تیار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔اتھارٹی نے عوام، خصوصاً بالائی علاقوں کے رہائشیوں اور سیاحوں کو بھی محتاط رہنے، موسم اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔

  • بنوں،سی پیک سرکلر روڈ پر نجی ایمبولینس پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    بنوں،سی پیک سرکلر روڈ پر نجی ایمبولینس پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

    بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سی پیک سرکلر روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی نجی ایمبولینس پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ غوری والا کے علاقے میں پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے سی پیک روڈ سے گزرنے والی نجی ایمبولینس کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایمبولینس میں موجود چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مقتولین کی شناخت کا عمل جاری ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ دہشت گردی معلوم ہوتا ہے، تاہم تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے تاکہ حملے کی نوعیت اور اس کے پس پردہ عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

    حکام کے مطابق ایمبولینس کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اور قابل مذمت فعل ہے، کیونکہ ایمبولینس ایک انسانی خدمت انجام دینے والی گاڑی ہوتی ہے جو مریضوں، زخمیوں اور میتوں کی منتقلی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے حملے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ بنیادی انسانی اور اخلاقی اقدار پر بھی حملہ تصور کیے جاتے ہیں۔واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریاستی ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

  • سوات،اغوا کے بعد مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی دم توڑ گئی، دو ملزمان گرفتار

    سوات،اغوا کے بعد مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی دم توڑ گئی، دو ملزمان گرفتار

    سوات: سوات میں اغوا کے بعد مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی دورانِ علاج دم توڑ گئی، جس کے بعد علاقے میں شدید افسوس اور غم کی لہر دوڑ گئی۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد نشہ آور چیز کھلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد لڑکی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے جبکہ واقعے کے دیگر پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور شواہد کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔

  • دہشت گرد بیٹے سے والد کا لاتعلقی کا اعلان

    دہشت گرد بیٹے سے والد کا لاتعلقی کا اعلان

    سرادرگہ کے رہائشی گلاپ خان نے اپنے دہشت گرد بیٹے اسد اللہ سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیٹا گزشتہ ایک سال سے ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ وابستہ ہے اور اس نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس سے خاندان کا کوئی تعلق نہیں۔

    گلاپ خان نے بتایا کہ وہ خود اپنے بیٹے کے پاس گئے اور اسے دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کیا کہ آج کے بعد نہ وہ اس کے والد ہیں اور نہ ہی اس کی والدہ سے اس کا کوئی تعلق باقی رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے بیٹے سے صاف کہہ دیا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ تم نے راستہ اختیار کیا ہے، اب وہی تمہارے والدین ہیں۔ ہمارا تم سے ہر قسم کا تعلق ختم ہو چکا ہے۔‘‘گلاپ خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے جھانسے میں آنے سے گریز کریں اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔

    مقامی حلقوں کے مطابق گلاپ خان کے اس اعلان کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ دہشت گرد عناصر اور ان کے نظریات کو مسترد کر رہا ہے۔

  • پشاور : بڈھ بیر میں 15 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی

    پشاور : بڈھ بیر میں 15 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی

    پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 15 سالہ کمسن طالبہ کو مبینہ طور پر درندگی اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
    رپورٹ کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون حرکت میں آیا اور متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقامی تھانے میں ملزمان کے خلاف باقاعدہ طور پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کے والد کے بیان کی روشنی میں ایف آئی آر (FIR) درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ بچی کا طبی معائنہ (میڈیکل ٹیسٹ) کروانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
    مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد سے جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔

  • یومِ عاشورہ: پشاور میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات، موبائل فون سروس معطل

    یومِ عاشورہ: پشاور میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات، موبائل فون سروس معطل

    پشاور میں یومِ عاشورہ کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور صوبے بھر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق صوبے کے 8 اضلاع کو انتہائی حساس جبکہ 6 اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے محرم الحرام کے دوران صوبے کی 614 امام بارگاہوں اور 907 عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں سکیورٹی پلان کے تحت صوبہ بھر میں 43 ہزار 317 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ 12 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار فرائض انجام دیں گے۔

    حکام کے مطابق انتہائی حساس علاقوں میں موبائل فون سروس مکمل طور پر معطل رکھی جائے گی، جبکہ حساس مقامات پر جزوی طور پر موبائل سروس بند کی جا سکتی ہے سکیورٹی خدشا ت کے پیش نظر اندرون شہر متعدد تجارتی مراکز اور دکانیں بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے علاوہ ازیں پشاور بی ارٹی سروس نویں اور دسویں محرم کو مکمل طور پر معطل رہے گی .