Baaghi TV

جھوٹی گواہی اور غفلت پر تفتیشی افسر کو 10 سال قید

‎پشاور کی ایک مقامی عدالت نے جھوٹی گواہی اور تفتیش میں سنگین غفلت برتنے پر تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے سزا سنانے کے ساتھ ہی متعلقہ افسر کو فوری طور پر جیل منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
‎عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے کیس میں موجود اہم ڈیجیٹل شواہد فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری نہیں بھجوائے، جس کے باعث تحقیقات کا ایک اہم پہلو نظر انداز ہو گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے شواہد کسی بھی مقدمے میں حقائق تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں نظر انداز کرنا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
‎عدالت نے مزید قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے، حالانکہ وہ مقدمے کے اہم گواہ تھے۔ فیصلے میں اس کو تفتیشی عمل میں بڑی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز عمل نے انصاف کے تقاضوں کو متاثر کیا۔
‎عدالت کے مطابق ایک تفتیشی افسر کی بنیادی ذمہ داری غیر جانبدارانہ، مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہوتی ہے۔ اگر کوئی افسر جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث اہم شواہد اور گواہوں کو نظر انداز کرے تو اس سے مقدمے کی ساکھ اور انصاف کی فراہمی دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
‎عدالت نے کیس میں مبینہ غفلت برتنے پر پراسیکیوٹر عبید الرحمٰن اور ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر جاوید علی کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ دونوں افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ مقدمے کے دوران ان کی جانب سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی تو نہیں ہوئی۔
‎قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی اہم مثال ہے کہ عدالتیں تفتیش اور استغاثہ کے عمل میں غفلت یا بددیانتی کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات اور مضبوط شواہد ہی منصفانہ عدالتی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔
‎عدالتی فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پراسیکیوشن حکام کے لیے احتساب اور ذمہ داری کا واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

More posts