Baaghi TV

Category: پشاور

  • بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5 افراد جاں بحق، 18 زخمی

    بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ، 5 افراد جاں بحق، 18 زخمی

    بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ڈومیل پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے باعث 5 افراد جاں بحق جبکہ 18 زخمی ہوگئے۔

    ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے مطابق دھماکہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا جس سے پولیس اسٹیشن کے قریب واقع مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے کی شدت کے باعث آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور کئی گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔پولیس حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں تین خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ تمام زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ شواہد اکٹھے کر رہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش نوعیت کا تھا، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • میران شاہ، شمالی وزیرستان میں فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    میران شاہ، شمالی وزیرستان میں فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    میران شاہ میں ٹل فورٹ کے قریب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے موٹر سائیکل پر سوار مشکوک افراد کی حرکت نوٹ کی۔ فورسز نے انہیں روکنے کے لیے فوری اسکواڈ بھیجا

    ذرائع کے مطابق، تلاشی کے دوران دہشتگردوں نے فائرنگ کی تاہم جوان محفوظ رہے اور کسی نقصان سے بچ گئے۔ فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں دونوں دہشتگرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید سیکیورٹی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی دہشتگردی کی واردات کو بروقت روکا جا سکے۔

  • افغان مہاجرین کو پاکستانی خاندانوں کا حصہ بنا کر جعلی شناختی کارڈز بنانے والا گروہ گرفتار

    افغان مہاجرین کو پاکستانی خاندانوں کا حصہ بنا کر جعلی شناختی کارڈز بنانے والا گروہ گرفتار

    بنوں پولیس کی کامیاب کارروائی، افغان مہاجرین کو پاکستانی خاندانوں کا حصہ بنا کر جعلی شناختی کارڈز بنانے والا گروہ گرفتار کر لیا گیا.

    کامیاب کارروائی ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کو ملنے والی مصدقہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ایس پی سٹی توحید خان اور ایس ایچ او تھانہ سٹی ریاض خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان کی شناخت اجمل ولد عبد الرزاق اور بادشاہ خان ولد لاہور خان کے نام سے ہوئی جو افغان شہری نقیب شاہ ولد زرکلام شاہ کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے،گرفتار افغانی شہری صوبہ خوست کا رہائشی ہے جس نے چمن بارڈر سے دراندازی کے بعد بنوں تک چھپتے چھپاتے سفر کیا۔گرفتار افغانی شہری نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے والد نے گروہ کے مفرور ارکان مامور سکنہ کوئٹہ اور زین اللہ سکنہ میرانشاہ سے 28 لاکھ روپے میں پاکستانی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کا سودہ کیا ۔گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں افغان باشندوں کو پاکستانی خاندانوں میں شامل کروانے کا اعتراف کیا ہے،افغان باشندے کی شمولیت پر متعلقہ خاندان کو 2 لاکھ روپے فی افغانی معاوضہ ادا کیا جاتا تھا،ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ گروپ کے دیگر مفرور ارکان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • اسلام آباد،تاجر کو قتل کرنے والے ملزمان خیبر پختونخوا سے گرفتار

    اسلام آباد،تاجر کو قتل کرنے والے ملزمان خیبر پختونخوا سے گرفتار

    اسلام آباد کے علاقے مارگلہ ٹاؤن میں معروف تاجر کو قتل کرنیوالے پانچوں ملزمان خیبرپختونخوا سے گرفتار کرلیے گئے، پولیس نے اسلام آباد منتقل کرکے تفتیش شروع کردی۔

    رپورٹ کے مطابق ملزمان کے مقتول کے گھر میں داخل ہونے کی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی۔اسلام آباد پولیس نے مارگلہ ٹاؤن میں بزنس مین کا قتل کیس حل کرلیا، بزنس مین عامر اعوان قتل کے قتل میں ملوث پانچوں ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، ملزمان کو چارسدہ اور مردان کے علاقوں سے گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان ڈکیتی کا منظم گینگ چلاتے تھے، اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ عامر اعوان کو ان کے فارم ھاوس میں بیڈ روم میں قتل کیا گیا۔ پانچ مسلح افراد گھر کے اندر داخل ہوئے۔ کلاشنکوف سے مسلح تھے،

  • خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    خیبرمیں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، دو دہشتگرد ہلاک

    باڑہ کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک وہ مرکزی ملزم بھی شامل ہے جس نے گزشتہ روز ایک جوان کا سر کاٹ دیا تھا۔

    علاوہ ازیں باڑہ اکاخیل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک 10 دہشتگردوں میں سے 4 کمانڈروں سمیت 7 دہشتگردوں، اور زخمی کی بھی شناخت ہو گئی؛ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر طارق، مقامی کمانڈر راجد، کمانڈر جاوید عرف غزنی، مقامی کمانڈر عبدالبصیر خیبری، عثمان، حمزہ اور زخمی دہشت گرد ثاقب شامل ہیں

    دوسری جانب مردان، تھانہ شیخ ملتون کی پولیس چوکی بہرام خان کلے پر دہشت گردوں نے دستی بم حملہ کیا، ڈی پی او مردان مسعود بنگش کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ،پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے سرچ آپریشن شروع کردیا۔

  • پشاور میں جائیداد کے تنازع پرگولیاں چل گئیں، 4 افراد جاں بحق

    پشاور میں جائیداد کے تنازع پرگولیاں چل گئیں، 4 افراد جاں بحق

    پشاور میں جائیداد کے تنازع نے خونی رخ اختیار کر لیا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ عزیز مارکیٹ کے قریب پیش آیا، جہاں دو فریقین کے درمیان جاری جائیداد کے تنازع پر تلخ کلامی کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ جائیداد کے تنازعات اکثر ایسے افسوسناک واقعات کا سبب بنتے ہیں، اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اپنے مسائل کو قانونی طریقے سے حل کریں۔

  • پشاور : نیشنل بینک میں ڈکیتی، ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے چوری

    پشاور : نیشنل بینک میں ڈکیتی، ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے چوری

    پشاور میں کوہاٹ روڈ پر واقع نیشنل بینک میں ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر تھانہ بانا ماڑی میں درج کر لی گئی، واقعے سے متعلق مختلف زاویوں سے تفتیش بھی جاری ہے ڈاکو بینک سے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے لے گئے ڈکیتی کے وقت بینک کی سیکیورٹی پر گارڈ موجود نہیں تھا بینک میں تین ایمرجنسی الارم تھے جو پانچ بار بجے، قومی بینک نے نہ سیکیورٹی گارڈ تعینات کیا تھا نہ ہی الارم کمپنی نے آپریشن منیجر کو آگاہ کیا۔

    نجی کمپنی کے الارم سسٹم آپریٹر کو الارم کا الرٹ ملا مگر کسی کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، الارم الرٹ پر موجود آپریٹرز نے مقامی پولیس کو اطلاع نہیں دی جبکہ الارم الرٹ پر موجود آپریٹرز کو شاملِ تفتیش کرلیا گیا ہے ڈاکو پہلے بینک کی بیک سائیڈ کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے، ڈاکو اپنے ساتھ گیس سلنڈر بھی لائے تھے ڈاکوؤں نے اندر داخل ہو کر تمام سی سی ٹی وی کیمرے بند کیے۔

    سوڈان میں ہسپتال پرحملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد جاں بحق

    ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

  • خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 4.4 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاورسمیت مختلف علاقوں میں شہریوں نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے،ریسکیو حکام نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم ٹیموں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ ریکڑ اسکیل پر زلزلے کی شدت 4۔4 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کا صوبہ بدخشاں کا پہاڑی سلسلہ ہندوکش تھا زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی زیر زمین گہرائی 95 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

    ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    ٹرمپ کا امریکی ایئرپورٹس پر امیگریشن فورسز تعینات کرنے کا اعلان

  • کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھانا،ٹی ٹی پی کا چہرہ بے نقاب،صوبائی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال

    کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھانا،ٹی ٹی پی کا چہرہ بے نقاب،صوبائی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال

    آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ملک میں کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھا کر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ساتھ اس نوعیت کی ویڈیوز دہشتگرد کسی بھی جگہ اسٹیج کر سکتے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل طور پر پھیلا کر کنٹرول کا جھوٹا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔

    یہ فوٹیج ٹی ٹی پی خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے، جو ایک ایسا دہشتگرد گروہ ہے جو عوامی حمایت کے بجائے خوف، جبر اور اسٹیج کیے گئے پروپیگنڈے پر انحصار کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی خوارج کی جانب سے بچوں کا استعمال ایک سوچا سمجھا عمل ہے، جس کے ذریعے معصوم ذہنوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے اور معصومیت کو تشدد کے آلے میں بدلا جا رہا ہے۔ بچوں کے ذریعے درخت جلانا اور ہتھیار لہرانا تباہی کی علامت ہے، جو ٹی ٹی پی کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی جان کی قدر کو رد کرتی ہے، اور خوارج کی تباہ کن ذہنیت اور عوام دشمن، استحکام مخالف اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب ٹی ٹی پی خوارج دیکھتے ہیں، ایک ایسا معاشرہ جہاں نہ تعلیم ہو، نہ حکمرانی، اور نہ ہی بنیادی انسانی اقدار۔

    خیبر پختونخوا سے سامنے آنے والے ایسے واقعات صوبائی حکومت کی رٹ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور اس ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ انتہاپسند عناصر کو کھلے عام سرگرم ہونے سے کیوں نہ روکا جا سکا۔ خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاسی قیادت کہاں ہے؟ اور جب شدت پسند بیانیہ معمول بنایا جا رہا ہے تو منتخب نمائندے خاموش کیوں ہیں؟ ٹی ٹی پی خوارج کا مقابلہ صرف سیکیورٹی فورسز پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس کے لیے مؤثر حکمرانی، قانون کا نفاذ اور ہر سطح پر ریاست کی واضح موجودگی ضروری ہے۔ اگر اس سوچ کا اجتماعی طور پر مقابلہ نہ کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور وحشی عناصر کو ریاست کی سمت متعین کرنے کا موقع دے سکتی ہے

  • خیبر میں اسلحہ اٹھائے کمسن بچوں کے ساتھ  ویڈیو، سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ پروپیگنڈا حربہ

    خیبر میں اسلحہ اٹھائے کمسن بچوں کے ساتھ ویڈیو، سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ پروپیگنڈا حربہ

    خیبر سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں کمسن بچوں کو اسلحہ تھامے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو درحقیقت ایک اسٹیجڈ میڈیا اسٹنٹ ہے جس کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے، نہ کہ زمینی حقائق کی عکاسی کرنا۔

    مختصر ویڈیو کلپ میں بچوں کو ایک محدود اور چھوٹے سے علاقے میں دکھایا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کے مناظر محض تاثر قائم کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ چند فٹ کے اسٹیج کیے گئے مناظر کی بنیاد پر کسی خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا اندازہ لگانا درست نہیں۔اس ویڈیو میں شامل کمسن بچوں کو معمولی رقم یا عیدی دے کر شامل کیا گیا۔ ایک منظر میں ایک بچے کو ہتھیار کو چومتے ہوئے دکھایا گیا، جودہشت گردی کی خطرناک تشہیر ہے، یہ اقدام نہ صرف بچوں کا استحصال ہے بلکہ شدت پسندی کو جذباتی رنگ دے کر پھیلانے کی کوشش بھی ہے۔

    اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا حکومت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔مقامی انتظامیہ کہاں ہے؟صوبائی حکومت کیوں خاموش ہے؟علاقے کے منتخب اراکین اسمبلی (ایم این ایز اور ایم پی ایز) نے اب تک کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا؟ماہرین کا کہنا ہے کہ سول اداروں کو فوری طور پر متحرک ہو کر ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر امن و امان کا مسئلہ فوج کا کام نہیں ہوتا۔مقامی حکومت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی بھی واضح ذمہ داریاں ہیں، اور سول نظام کی ناکامی کو سیکیورٹی اداروں پر منتقل کرنا مناسب نہیں۔

    شدت پسند گروہ ماضی میں بھی اسی طرح کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وسیع رقبے (آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد) میں چند فٹ کے علاقے میں ویڈیو بنا کر اسے پورے ملک میں سیکیورٹی کی ناکامی کے طور پر پیش کرنا ایک پرانا طریقہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے گروہ اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے میڈیا تھیٹرکس پر انحصار کرتے ہیں، جن میں مختصر ویڈیوز،بچوں کا استعمال،جذباتی مناظر،کنٹرول کا جھوٹا تاثر شامل ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہو سکتے ہیں۔

    بچوں کو دہشت گردی کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔یہ نہ صرف کمسن افراد کا استحصال ہے بلکہ ایک منظم نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہے، جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے، نہ کہ بغیر تحقیق کے پھیلانا۔