پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دو انسپکٹرز کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں انہیں ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور بھاری رقم بطور بھتہ طلب کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
درخواست محمد سہیل خان کی جانب سے اپنے وکیل شاہد محمود ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وزارت داخلہ، این سی سی آئی اے، انسپکٹر احمد جان اور انسپکٹر نعمان کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق 2 جولائی کو پشاور کے ایک نجی ریسٹورنٹ سے دونوں انسپکٹرز نے بغیر کسی وارنٹ اور قانونی جواز کے انہیں حراست میں لیا اور بعد ازاں این سی سی آئی اے کے دفتر منتقل کر دیا۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دفتر میں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ افسران نے رہائی کے بدلے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔
درخواست گزار کے مطابق ان کی جیب سے 52 لاکھ روپے نقد رقم اور موبائل فون بھی مبینہ طور پر لے لیا گیا، جبکہ تشدد کے دوران ایک اقرار نامے پر زبردستی انگوٹھے کے نشانات بھی ثبت کرائے گئے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور درخواست گزار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
تاحال این سی سی آئی اے یا دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
Category: پشاور
-

این سی سی آئی اے کے دو انسپکٹرز پر غیر قانونی حراست اور بھتہ طلبی کا الزام، پشاور ہائیکورٹ سے رجوع
-

مون سون خطرات کے پیش نظر ہائی الرٹ، 11 اضلاع انتہائی حساس قرار
مون سون بارشوں کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے خدشے کے پیش نظر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت نے ہنگامی اقدامات تیز کرتے ہوئے متعلقہ تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملک کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پیشگی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
سرکاری حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریاؤں میں طغیانی، گلیشیئر جھیل پھٹنے اور شدید بارشوں کے خطرات معمول سے زیادہ ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے تمام 37 اضلاع میں مون سون ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطرات کے تفصیلی جائزے کے بعد 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے اور ضلعی ہنگامی منصوبوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کر کے صوبائی نظام کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے، جبکہ رضاکاروں کی تربیت مکمل کر کے انہیں ہنگامی صورتحال میں خدمات انجام دینے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق انخلا کے راستے، محفوظ مقامات اور امدادی مراکز پہلے ہی مختص کر دیے گئے ہیں۔ ریسکیو آلات، بھاری مشینری، مواصلاتی نظام اور دیگر ضروری وسائل بھی ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
حکام نے ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ موسمی انتباہات پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔ -

لنڈی کوتل، زمین کے تنازع پر خونریز تصادم، 4 افراد جاں بحق، 9 زخمی
ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے نیکی خیل میں زمین کے تنازع نے خونریز رخ اختیار کر لیا، جہاں متنازع اراضی پر درخت کاٹنے کے معاملے پر دو فریقوں کے درمیان ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق نیکی خیل میں زمین کی ملکیت کے تنازع پر دونوں فریقوں کے درمیان کافی عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی تھی۔ ہفتے کے روز ایک فریق متنازع زمین پر موجود درخت کاٹ رہا تھا کہ دوسرے فریق نے اس پر اعتراض کیا، جس پر پہلے تلخ کلامی ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ مسلح تصادم میں تبدیل ہوگیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ 9 افراد زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے واقعے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے گھروں تک محدود ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں اور مقامی افراد نے زخمیوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال لنڈی کوتل منتقل کیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد شدید زخمیوں کو تشویشناک حالت کے باعث مزید علاج کے لیے پشاور کے مختلف اسپتالوں میں ریفر کر دیا گیا۔پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے جبکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور تصادم میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیکی خیل میں زمین کے تنازع پر دونوں فریقوں کے درمیان ماضی میں بھی کئی مرتبہ کشیدگی پیدا ہو چکی ہے، تاہم اس بار متنازع اراضی پر درخت کاٹنے کے معاملے نے تنازع کو سنگین خونریز تصادم میں تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
-

بنوں پولیس نے 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی
بنوں: بنوں پولیس نے دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں مطلوب 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی تفصیلی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں ملزمان کے نام، عرفیت، تصاویر اور گرفتاری یا ہلاکت کی اطلاع دینے پر مقرر کردہ انعامی رقوم بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ان تمام ملزمان پر مجموعی طور پر 15 کروڑ 85 لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق فہرست میں شامل افراد پر بم دھماکوں، سیکیورٹی فورسز پر حملوں، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی سے متعلق دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔جاری کردہ فہرست میں متعدد مطلوب دہشت گردوں کے نام شامل ہیں، جن میں افسر علی عرف پشتون، فضل غنی عرف لوانئی، الیاس عرف قاری بلال، زرگل عرف انکل پسین عرف عباسین، حافظ الرحمان عرف پکھان، اعجاز خان عرف اعجازی، کفایت اللہ عرف ناظم، نعمت اللہ عرف مولوی عباس، عبدالقادوس عرف مغویہ، اختر محمد عرف خلیل، حمید اللہ عرف فیکر مند، حیات اللہ، خالد عرف قاری خالد، صدر حیات عرف ابو سفیان، امیرزادہ خان عرف صافی، محمد زبیر عرف خالد عرف جعفر، صادق اللہ عرف امیر صادق، نصیر اللہ عرف عمر عرف فرہاد عرف گیدڑ سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔پولیس کے مطابق اختر محمد عرف خلیل اس فہرست میں سب سے زیادہ مطلوب ملزم ہے، جس کی گرفتاری یا ہلاکت کی اطلاع دینے پر ایک کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح صدر حیات عرف ابو سفیان، امیرزادہ خان عرف صافی، محمد زبیر عرف خالد عرف جعفر اور صادق اللہ عرف امیر صادق میں سے ہر ایک پر 80 لاکھ روپے انعام رکھا گیا ہے، جبکہ مقامی کالعدم ٹی ٹی پی کمانڈر قرار دیے گئے نصیر اللہ عرف عمر عرف فرہاد عرف گیدڑ پر 70 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔ فہرست میں کم سے کم انعامی رقم 5 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کیپٹن (ر) فرقان بلال نے بتایا کہ 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں پر مجموعی انعامی رقم 15 کروڑ 85 لاکھ روپے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر مطلوب دہشت گردوں کے لیے بھی انعامی رقوم مقرر کرنے کا عمل جاری ہے اور ان کی تفصیلات بھی جلد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
بنوں پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ فہرست میں شامل افراد کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فوری طور پر پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع دینے والے افراد کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی اور مؤثر معلومات فراہم کرنے والوں کو قانون کے مطابق مقررہ انعام ادا کیا جائے گا۔
-

خواجہ سراؤں کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں، پشاور ہائیکورٹ کی ہدایت
پشاور ہائیکورٹ نے حکومت کو خواجہ سراؤں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے یہ ریمارکس پولیس کی جانب سے خواجہ سراؤں کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس مختلف مقامات پر خواجہ سراؤں کو بلاجواز ہراساں کرتی ہے، جس سے وہ عدم تحفظ اور مشکلات کا شکار ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ آیا خواجہ سراؤں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق کوئی قانون سازی یا عملی منصوبہ زیر غور ہے؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کر لی ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجوزہ اقدامات میں خواجہ سراؤں کے لیے شیلٹر ہومز کا قیام، انڈومنٹ فنڈ کا اجرا، مختلف سرکاری محکموں میں ملازمتوں کا کوٹہ مقرر کرنا اور دیگر فلاحی اقدامات شامل ہیں تاکہ انہیں معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ سینٹرل جیل میں پہلی مرتبہ ایک خواجہ سرا کو بطور وارڈن تعینات کیا گیا ہے، جو اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
عدالت نے سرکاری حکام سے کہا کہ اب تک اس معاملے پر تحریری جواب عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا، لہٰذا حکومت جلد از جلد اپنا تفصیلی جواب اور مجوزہ اقدامات کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
پشاور ہائیکورٹ نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ خواجہ سراؤں کو آئین کے مطابق تحفظ اور مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ -

صحافیوں کی آزادانہ اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے کا بل،خیبر یونین آف جرنلسٹس کا شدید ردعمل
خیبر یونین آف جرنلسٹس نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے قانون سازی کے ذریعے صحافیوں کی آزادانہ اظہار رائے پر پابندی عائد کرنے سے متعلق بل کو مسترد کر دیا.
خیبر یونین آف جرنلسٹس خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے مبینہ طور پر منظور کیے گئے اس قانون پر شدید تشویش، افسوس اور مذمت کا اظہار کرتی ہے، جس کے تحت صحافیوں پر قید، بھاری جرمانوں اور اسمبلی کارروائی کی آزادانہ کوریج پر پابندیوں جیسے سخت اختیارات متعارف کرائے گئے ہیں،خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی سمیت دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، جبکہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے پر قید، جرمانوں اور پابندیوں کی دھمکی دینا آئینِ پاکستان میں دیے گئے اظہارِ رائے اور آزادیِ صحافت کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے،یونین اس امر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے کہ مذکورہ بل کو کئی ماہ تک منظرِ عام پر نہیں لایا گیا اور متعلقہ صحافتی تنظیموں، میڈیا نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز سے کوئی مؤثر مشاورت نہیں کی گئی،ایسے قوانین کو یکطرفہ انداز میں نافذ کرنا جمہوری روایات کے منافی ہے،خیبر یونین آف جرنلسٹس حکومتِ خیبر پختونخوا اور اسمبلی سے مطالبہ کرتی ہے کہ صحافی برادری کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے، متنازع شقوں پر نظرثانی کی جائے اور تمام صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد ایسا قانونی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو ایک طرف ایوان کے وقار کو برقرار رکھے اور دوسری طرف آزادیِ صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کو بھی یقینی بنائے،خیبر یونین آف جرنلسٹس واضح کرتی ہے کہ اگر اس قانون کی متنازع شقیں واپس نہ لی گئیں تو صوبے بھر کی صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاجی تحریک اور ہر جمہوری و قانونی آپشن استعمال کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
-

خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی نے استحقاق سے متعلق ترمیمی ایکٹ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزیوں پر قید، جرمانے یا دونوں سزائیں دینے کی شقیں شامل کر دی گئی ہیں۔
منظور شدہ ترمیمی ایکٹ کے مطابق اسمبلی یا کسی قائمہ کمیٹی کی کارروائی، سوالات، قرارداد، تحریک یا تحریکِ التوا کو ایوان میں پیش کیے جانے یا سرکاری طور پر جاری ہونے سے قبل شائع یا نشر کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ قانون کے تحت ایسی خلاف ورزی کو قابلِ سزا جرم تصور کیا جائے گا۔ایکٹ میں مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کے لیے الگ الگ سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اسمبلی کی کارروائی یا کسی رکن کی تقریر کی مسخ شدہ یا گمراہ کن رپورٹ شائع کرنے پر تین ماہ تک قید یا تین لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔اسی طرح ممنوعہ اسمبلی کارروائی یا قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کو قبل از وقت شائع یا نشر کرنے والے افراد کو چھ ماہ تک قید، دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ترمیمی قانون کے تحت اسمبلی یا اس کے وقار کے خلاف ہتک آمیز بیانات شائع کرنے پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس جرم کے مرتکب افراد کو چھ ماہ تک قید، پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔مزید برآں، اسمبلی کے کسی افسر پر حملہ کرنے یا سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں ایک ماہ تک قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ، یا دونوں سزائیں نافذ کی جا سکیں گی۔
-

خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کیلئے نئی مراعات، بلیو پاسپورٹ اور ٹول ٹیکس سے استثنیٰ کی سفارش
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے تین ماہ قبل منظور کیے گئے اراکین اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی ایکٹ 2026 کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے تحت صوبائی اسمبلی کے ارکان کو متعدد نئی مراعات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کو صوبے بھر میں تمام ٹول ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جبکہ وفاقی حکومت کو سفارش کی جائے گی کہ ارکان اسمبلی اور ان کی شریک حیات کو تاحیات سرکاری (بلیو) پاسپورٹ جاری کیے جائیں۔قانون کے تحت ارکان اسمبلی کے لیے غیر ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنسوں کی تعداد آٹھ مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ارکان اسمبلی کو سرکٹ ہاؤس، ریسٹ ہاؤس یا کسی بھی سرکاری رہائش گاہ میں تین روز تک مفت قیام کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ترمیمی ایکٹ میں ارکان کی سکیورٹی سے متعلق بھی نئی شقیں شامل کی گئی ہیں، جن کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ ہر رکن کو حالات اور ضرورت کے مطابق اے یا بی کیٹیگری سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
قانون میں ارکان کی حاضری اور نظم و ضبط کے حوالے سے بھی واضح شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایکٹ کے مطابق اگر کوئی رکن کسی مہینے کے دوران اسمبلی اجلاسوں میں تین چوتھائی سے زیادہ غیر حاضر رہتا ہے تو اس کی تنخواہ روک دی جائے گی۔ اسی طرح کسی جرم میں سزا یافتہ قرار پانے والے رکن اسمبلی کی تنخواہ بھی معطل کردی جائے گی۔ترمیمی ایکٹ کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں ان نئی مراعات پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے، جہاں ایک طرف اسے منتخب نمائندوں کے لیے سہولیات قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مالی بوجھ اور عوامی مفاد کے تناظر میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
-

اے این پی سوات کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر حملہ،ایمل ولی خان کی مذمت
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اے این پی سوات کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری، شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ممتاز علی خان پر یہ مسلسل تیسرا حملہ ہے، جو ریاستی رٹ اور حکومتی کارکردگی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن دیہاڑے اس نوعیت کا حملہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن کے دعویداروں کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا کہ حملہ آور کہاں سے آتے ہیں، کھلے عام کارروائیاں کیسے کرتے ہیں اور پھر کس کی سرپرستی میں باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کا ایک گھر پر گھنٹوں تک فائرنگ کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ممتاز علی خان کے گھر کے تین افراد اور ریسکیو اہلکاروں کا زخمی ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ممتاز علی خان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، بلکہ انہوں نے ہمیشہ عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے امن، جمہوریت اور پختون قوم کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ممتاز علی خان کے خاندان نے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں، تاہم افسوس ہے کہ آج ایک بار پھر انہیں مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ممتاز علی خان اور ان کے خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ایسے بزدلانہ حملوں سے نہ ماضی میں مرعوب ہوئی ہے اور نہ آئندہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹے گی۔ایمل ولی خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کرائی جائیں، حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ ممتاز علی خان اور ان کے خاندان کو مؤثر سیکیورٹی فراہم کی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی امن، جمہوریت، قانون کی بالادستی اور پختون قوم کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ عزم اور استقامت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
-

پشاور میں خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ، ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
پشاور کے علاقے گلبہار میں خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے، جس میں ایک نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 24 جون کو تھانہ گلبہار کی حدود میں پیش آیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان خاتون کے قریب آ کر مبینہ طور پر نازیبا حرکت کرتا ہے۔ خاتون فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنا جوتا اتار کر نوجوان کو دور بھگانے کی کوشش کرتی ہے۔
فوٹیج کے مطابق خاتون جب وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے تو مبینہ ملزم اس کا تعاقب کرتا ہے، اسے پکڑ لیتا ہے اور مبینہ طور پر تشدد کرتے ہوئے زمین پر گرا دیتا ہے۔ واقعے کے بعد نوجوان موقع سے فرار ہو جاتا ہے جبکہ خاتون شدید خوف و ہراس کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون نے تاحال اس واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات کی بنیاد پر شبہ ہے کہ مبینہ ملزم کا ذہنی توازن درست نہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے طبی معائنے اور مزید تحقیقات کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس نے واضح کیا کہ خاتون کی شکایت یا دیگر قانونی تقاضوں کے مطابق کیس کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات زیر غور ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے یا ان پر تشدد کرنے کے واقعات قابلِ سزا جرائم ہیں، اور ایسے معاملات میں شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ ایسے واقعات کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔