Baaghi TV

Category: پشاور

  • خیبرپختونخوا میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعلیٰ کو خط

    خیبرپختونخوا میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپی ٹی آئی رہنماؤں کا وزیراعلیٰ کو خط

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ اور اسپیکر صوبائی اسمبلی سے عام انتخابات 2024 میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس حوالے سے خط بھی لکھ دیا ہے۔

    ملک میں منعقدہ عام انتخابات 2024 میں پشاور سے پی ٹی آئی کے امیدواروں تیمور سلیم جھگڑا، محمود جان، علی عظیم، ارباب جہاندار، ملک شہاب، محمد عاصم، کامران بنگش، ساجد نواز اور حامد الحق نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی اور اسپیکر بابر سلیم کو خط لکھا ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے لکھے گئے تین صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کے تحت تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی جائے،گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی بروقت تحقیقات کی جاتی تو این اے-18 ہری پور کے ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی نہیں ہوتی۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبے بھر میں متعدد نشستیں ہیں جن کے نتائج تبدیل کیے گئے ہیں، جن میں پشاور سے بڑی تعداد میں نشستوں میں غیر معمولی دھاندلی بھی شامل ہےوزیراعلیٰ اور اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رولز آف بزنس کے قاعدہ 237 کے تحت صوبائی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی بنا کر تحقیقات کی جاسکتی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ تمام پریذائیڈنگ افسران نے دستخط شدہ فارم 45 کے نتائج فراہم کیے لیکن ان نتائج کو بعد میں تبدیل کر دیا گیا، جیسے ہی ابتدائی نتائج پی ٹی آئی کے حق میں آئے، ان اسکرینوں کو بند کر دیا گیا، ڈی آر او پشاور، سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز ان واقعات کے اہم گواہ ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نےکہا ہے کہ سی سی پی او نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو قیوم اسٹیڈیم کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، اس وقت کے چیف سیکریٹری اور آئی جی آف پولیس مبینہ طور پر کنٹرول رومز میں موجود تھے،مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن اور پشاور ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

  • ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    صوبہ خیبر پختونخوا میں تیل و گیس(oil & gas) کے نئے ذخائر دریافت ہوگئے ہیں۔

    ترجمان او جی ڈی سی ایل (ogdcl)نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں نشپابلاک کوہاٹ سے تیل و گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔براگزئی ایکس ون کنویں سے یومیہ2280 بیرل تیل حاصل ہو گا جبکہ یومیہ 56لاکھ مکعب فٹ گیس پیداوار بھی ہوگی،نشپا بلاک میں کنگریالی فارمیشن سے یہ پہلی ہائیڈروکاربن دریافت ہے، براگزئی ایکس ون کنویں کی ڈرلنگ5170 میٹر گہرائی تک مکمل کی گئی ۔

    نشپا بلاک میں او جی ڈی سی بطور آپریٹر 65 فیصد ، پی پی ایل 30 اور جی ایچ پی ایل 5 فیصد کے حصے دار ہیں،نئی دریافت سے او جی ڈی سی ایل کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو گا جبکہ ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

  • طور خم سرحد،  سکیورٹی فورسز نے 358 ملین کا اسمگل شدہ سامان تحویل میں لے لیا

    طور خم سرحد، سکیورٹی فورسز نے 358 ملین کا اسمگل شدہ سامان تحویل میں لے لیا

    خیبر ایجنسی، پاک۔افغان طورخم سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی کرنسی اور غیر قانونی سامان کی بھاری کھیپ پکڑ کر قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ہفتہ کے روز سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کی، جس میں مجموعی طور پر 358 ملین روپے مالیت کا 43 ٹن غیر ملکی و ممنوعہ سامان تحویل میں لیا گیا۔کارروائی کے دوران مختلف ممالک کی جعلی کرنسی بھی برآمد ہوئی جن میں بھارتی کرنسی،سعودی ریال،افغان افغانی،امریکی ڈالرشامل ہیں،ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کرنسی غیر قانونی طریقوں سے پاکستان کے اندر پھیلائی جا رہی تھی جو مالیاتی نظام کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔

    پکڑے گئے غیر ملکی و ممنوعہ سامان میں آتش بازی کا سامان،بڑے پیمانے پر سگریٹس،غیر قانونی موبائل فونز،منشیات (ڈرگز)،پان اور گٹکا،ممنوعہ ادویات،دیگر قیمتی اشیاء شامل ہیں،سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ تمام سامان طورخم سرحد کے راستے پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، جس کا مقصد مقامی مارکیٹ کو متاثر کرنا تھا۔تمام برآمد شدہ مال کو لنڈی کوتل ایف سی چھاؤنی میں باقاعدہ کارروائی کے بعد تلف کر دیا گیا۔تلفی کا عمل کمانڈنٹ خیبر رائفلز کرنل سعید احمد کی نگرانی میں مکمل کیا گیا۔سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ طورخم سرحد پر چیکنگ سسٹم مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اسمگلنگ اور جعلی کرنسی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ناکام بنایا جا سکے۔

    علاقے کے عوام نے بھی اس کامیاب کارروائی کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقے میں ایسی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں تاکہ غیر قانونی تجارت پر مکمل کنٹرول ممکن بنایا جاسکے۔

  • پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبے میں ڈینگی کی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    ڈینگی کنٹرول سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی عدالت میں پیش ہونے والے ڈی جی ہیلتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈینگی روک تھام صرف محکمہ صحت کی نہیں بلکہ تمام محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ہر سال جنوری میں ڈینگی کنٹرول پلان تیار کیا جاتا ہے جبکہ اس مہم میں مجموعی طور پر 19 محکمے شامل ہوتے ہیں۔

    ڈی جی ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے ڈی پی او کو اب تک اس پلان میں شامل نہیں کیا گیا تھا، تاہم اس بار اس پہلو پر بھی کام کیا جائے گا۔

    ڈکی بھائی کے دوران حراست تشدد ،گالیوں اور رقم کے مطالبے کے سنگین الزامات

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو مکمل رپورٹ دی جائے کہ کن عوامل کے باعث مشکلات درپیش ہیں اور ان کا حل کس طرح ممکن ہے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو علاج کی سہولیات مفت فراہم کی گئیں یا ان سے پیسے لیے گئے؟ عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار بھی رپورٹ کا حصہ بنائے جائیں۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 میں ڈینگی کے کیسز غیر معمولی حد تک بڑھ گئے تھے تاہم حکومتی اقدامات کے باعث صورتحال پر بہتر طور پر قابو پایا گیا،جس کے بعد عدالت نے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ فریقین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    بجلی بحالی میں ناکامی : نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے پر جرمانہ عائد

  • کسی کو صوبہ یا اسلام آباد بند نہیں کرنے دیں گے، گورنر خیبر پختونخوا

    کسی کو صوبہ یا اسلام آباد بند نہیں کرنے دیں گے، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کےحالات جب خراب ہوجائیں تو پھر گورنر راج لگ سکتا ہے، صوبائی حکومت اگر ریاست کو سپورٹ کرتی ہے تو پھر تو ٹھیک ہے، اگر صوبائی حکومت سپورٹ نہیں کرتی تو پھر مجبوراً گورنر راج لگے گا، پی ٹی آئی کو احتجاج سے کچھ نہیں ملے گا۔بانیٔ پی ٹی آئی کا طرزِ فکر یہی ہے کہ اگر حکومت ان کی ہو تو سب کچھ درست، اور اگر نہ ہو تو کچھ بھی قابلِ قبول نہیں۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کسی کو صوبہ یا اسلام آباد بند نہیں کرنے دیں گے، صوبائی حکومت کو وفاق کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ سب سے پہلے ریاست اور پھر سیاست، افواج پاکستان نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں،گزشتہ روز پی ٹی آئی جلسے کا کیا مقصد تھا یہ علم نہیں ہے، اس بار پی ٹی آئی اسلام آباد میں احتجاج نہیں کرسکے گی، فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، سٹرکوں پر کوئی فیصلے نہیں ہوتے،بلوچستان حکومت نے ہمشیہ وفاقی حکومت کو سپورٹ کیا ہے، جیل میں جانا کوئی بڑی بات نہیں، پاکستان کی ہر بڑی سیاسی شخصیت جیل گئی ہیں، پی ٹی آئی ریہرسل کرے پھر پتہ چلے گا کہ کیسے یہ لوگ گورنر ہاؤس آتے ہیں، پہلے بھی گورنر ہاؤس کا تیل بند کرنے کی دھمکی دی تھی، اب پی ٹی آئی کی خود بولتی بند ہوگئی ہے

  • مردان میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری پر ریونیو ٹیکس آفس پشاور کی کامیاب کاروائی

    مردان میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری پر ریونیو ٹیکس آفس پشاور کی کامیاب کاروائی

    مردان میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری پر ریونیو ٹیکس آفس پشاور کی کامیاب کاروائی،آر ٹی او پشاور کی غیر قانونی تمباکو پیداوار کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں

    حال ہی میں مردان میں ایک سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا،چھاپے کے دوران ایم/ایس یونیورسل ٹوبیکو کمپنی کی غیر رجسٹرڈ مشینری برآمد ہوئی، برآمد شدہ مشینری کی یومیہ پیداوار تقریباً 6,000 سے 7,000 کلوگرام تمباکو تھی، جس سے روزانہ تقریباً 45 ملین روپے کی غیر قانونی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا، غیر رجسٹرڈ مشینری خاص طور پر اندرونِ ملک اور آزاد کشمیر میں غیر قانونی سگریٹ کی پیداوار کے لیے استعمال ہو رہی تھی،اس سے قبل بھی وفاقی بورڈ آف ریونیو نے جعلی سگریٹ کارٹیل پکڑ کر اربوں روپے کے ٹیکس نقصان سے بچایا تھا،

    غیر قانونی اور جعلی سگریٹ کی پیداوار ہر سال قومی آمدنی کو اربوں روپے کا نقصان پہنچاتی ہے،خیبرپختونخوا میں گورنس کی ناکامی کی وجہ سے صوبہ illegal Spectrum( غیر قانونی سرگرمیوں) کا گڑھ بن چکا ہے

  • اگر گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک ہوگا،محمود خان اچکزئی

    اگر گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک ہوگا،محمود خان اچکزئی

    پشاور:تحریک تحفظ آئین پاکستان نے قومی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کردیا-

    پشاور میں تحریک انصاف کے زیر اہتمام جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، سابق اسپیکر اسد قیصر، شاہد خٹک، مینا خان، تیمور سلیم جھگڑا، عاطف خان، مصطفی نواز کھوکھر ، شیر علی ارباب، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی خطاب کیا۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کی جنگ کا آخری مرحلہ شروع ہوگیا ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان اور عمران خان یہی جمہوری قوتیں ہیں ہماری تحریک سے ان کے اوسان خطا ہوگئے ہیں، پاکستانی آئین کے مطابق جو آئین توڑتا ہے وہ سیکورٹی رسک ہے، جن لوگوں نے جنگ کو ترک کیا وہ ترقی کررہے ہیں، جنگی جنونیت ختم کرنا ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان والے ہمارے بھائی ہیں ہم ایک زنجیر ہیں، آئین و قانون کی بات کرنے والے کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں جج، جرنیل، علما اکرام اور سیاست دانوں کو بلایا جائے، قومی کانفرنس میں ہم ایک دوسرے کو بخش دیں اور ملک کو بچائیں، ایسا ملک ہو جہاں ہم آزاد ہوں آئین و قانون کی بالادستی ہو، پارلیمنٹ اور عوام کی منتخب اسمبلیاں ریاست ہیں،اگر گورنر راج لگا تو خیبرپختونخوا کا ہر چوک ڈی چوک ہوگا-

  • پشاور جلسے سے واپسی پرپی ٹی آئی کارکنوں کی گاڑی کو حادثہ، ایک کارکن جاں بحق

    پشاور جلسے سے واپسی پرپی ٹی آئی کارکنوں کی گاڑی کو حادثہ، ایک کارکن جاں بحق

    پشاور: رنگ روڈ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے واپسی پرکارکنوں کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے پشاور جلسے سے واپسی پر پی کے 71 سے ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کے قافلے کی گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی ،ممبر صوبائی اسمبلی عبد الغنی آفریدی کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ایک کارکن جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے،زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کے قافلے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    اس حوالے سے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلسے سے واپسی پر کارکنوں کی گاڑی الٹنے سے افسوسناک واقعہ پیش آیا، حادثے میں پی ٹی آئی کارکن حسیب جاں بحق اور3 زخمی ہوئے۔

  • ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی،شاہد خاقان عباسی

    ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

    پشاور پریس کلب میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 26 ویں اور27ویں ترامیم آئین پاکستان پر سیاہ دھبہ ہیں کیونکہ آئین میں ترامیم کبھی بھی ذاتی مفاد اور فائدے کے لیے نہیں کی جاتیں بلکہ ملک وقوم کے مفاد میں ہوتی ہیں ہمارا سیاست کا مقصد ملکی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود ہے،کرسی نہیں، ملک کو قانون وآئین کے مطابق چلانا ہوگا ورنہ مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ قانون سے انحراف کی وجہ سے ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے، ملک کے حکمران نوجوانوں کاخیال نہیں کر رہے ہیں جو افسوس ناک ہے، جہاں سیاسی استحکام نہیں ہوگا وہاں معیشت بہتر نہیں ہوگی افسوس کا مقام ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے اور نفرت سے کام لیا جارہا ہے، ہم کسی کوگالی نہیں دیتے بلکہ ملک کو ترقی دینے اور جوڑنے کی بات کرتے ہیں، سب کو مل کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا، اگر کردار ادا نہ کیا گیا تو کل صرف پچھتاوا ہی ہوگا۔

    ڈکی بھائی نے پوری قوم سے معافی مانگ لی

    انہوں نے کہا کہ آئین کسی کو ذاتی طور پر فائدہ نہیں دیتا، ہم اسٹیبلشمںٹ کا سہارا نہیں لیں گے بلکہ عوامی سپورٹ سے اوپر آئیں گے، ملک میں جو کچھ ایک دوسرے کو کہا جارہا ہے اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،کسی کو گالیاں دے کر کیسے مسائل کیے جاسکتے ہیں،آج صرف اور صرف ملک کی بات کرنی چاہیے، جب بھی عوامی مینڈیٹ کی نفی ہو تو مسائل ہوں گے، اگر گورنر راج کی خیبرپختونخوا میں گنجائش ہے تو ہر صوبے میں ہے،کرسی کی چاہت چھوڑی جائے توصوبائی اور مرکزی حکومتوں کومسائل کا حل مل جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مسلم لیگ (ن) میں آواز اٹھائی لیکن جب انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا راستہ چھوڑ دیا تو ہم نے اپنا راستہ الگ کیا واٹس ایپ والی جماعتیں نہیں چل سکتیں، ہمیں کرسی عزیز ہوتیں تو ہم اپنا راستہ الگ نہ کرتے، آئین میں ترمیم عوامی رائے اور مفاد میں ہونی چاہیےہمیں اپنی سرحد کا دفاع کرنا ہے، افغان حکومت وہاں سے جارحیت روکے، کوئی چوائس نہیں کہ ہم پر حملہ ہو اور ہم چپ بیٹھے رہیں اور جواب نہ دیں۔

    بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے ریاستی ادارے کی دو ٹوک پوزیشن قابل تحسین ہے، اویس خان لغاری

  • خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے، کابینہ نے 9 مئی واقعات کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔

    پشاور میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ صوبائی کابینہ اجلاس میں 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی گئی ہے اور 51 مقدمات میں ریاست کابینہ کی منظوری کے بعد دستبردار ہوگی،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، کابینہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعلیٰ نے انہیں خصوصی طور پر طلب کیا تھا۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس نے 51 مقدمات واپس لینے کی سفارشات بھیج دیں، پی ٹی آئی اراکین اور کارکنان 9 اور 10 مئی کے مقدمات میں نام زد ہیں، مقدمات میں سزا کی صورت میں اراکین اسمبلی کو نااہلی کا خدشہ ہے۔