Baaghi TV

Category: پشاور

  • دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام،  140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد ناکارہ بنا دیا گیا

    پاکستان میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ ذرائع کے مطابق انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے تھانہ بکا خیل اور تھانہ ککی کی حدود میں کامیاب کارروائیاں کیں، جس کے دوران بڑی مقدار میں نصب بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تھانہ بکا خیل کی حدود میں کارروائی کے دوران 140 کلوگرام سے زائد بارودی مواد پر مشتمل دو دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) کو بروقت ناکارہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد حساس مقامات پر نصب کیا گیا تھا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا تھا۔دوسری کارروائی تھانہ ککی کی حدود میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے 8 کلوگرام بارودی مواد سے تیار کی گئی ایک خود ساختہ آئی ای ڈی کو بھی ناکارہ بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ بم رابطہ پُل اور مقامی بازار کے قریب نصب کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی و مالی نقصان پہنچایا جا سکے۔ماہرین بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تمام بارودی مواد کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت انٹیلیجنس معلومات اور فورسز کی فوری کارروائی کے باعث ایک بڑا دہشتگرد حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ علاقے میں مزید سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور دہشتگردی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ

    کرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق جاری ،افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف افواج پاکستان کی زمینی اور فضائی موثرکارروائیاں جاری ہیں

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان بارڈر پرکرم سیکٹر میں پاک فوج کی افغان طالبان کے خلاف کامیاب کارروائی، متعدد پوسٹیں تباہ کردیں،پاک فوج نے بھاری آرٹلری فائر سے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا،

  • پشاور میں شوہر کے قتل کیس میں خاتون اور ساتھی کو سزائے موت

    پشاور میں شوہر کے قتل کیس میں خاتون اور ساتھی کو سزائے موت

    ‎پشاور کی عدالت نے شوہر کے قتل کے مقدمے میں ملوث خاتون اور اس کے ساتھی کو سزائے موت سنا دی۔ عدالت نے دونوں مجرموں کو جرم ثابت ہونے پر سخت سزا سناتے ہوئے مقتول کے اہل خانہ کو ایک ملین روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
    ‎استغاثہ کے مطابق ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت خاتون کے شوہر کو قتل کیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر جرم ثابت ہونے پر فیصلہ سنایا گیا۔
    ‎عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دینا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے، ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے: سہیل آفریدی

    پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت ہمارا فرض ہے، ہر چیلنج کا مقابلہ کریں گے: سہیل آفریدی

    ‎پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عالمی اور ملکی حالات کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور اسلام آباد میں پیش آنے والے حالیہ واقعات افسوسناک ہیں، تاہم پاکستان کسی بھی خطرے یا چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں۔
    ‎سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وفاقی نمائندوں کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مفادات تبدیل نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاملات کے حل کے لیے جرگہ بنانے کی تجویز بھی دی گئی تھی لیکن اس سے پہلے ہی کارروائی شروع کر دی گئی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور بورڈ آف پیس جیسے اہم معاملات پر عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

  • پشاور: دو چیک پوسٹوں پر پولیس نے شدت پسندوں کاحملہ ناکام بنا دیا

    پشاور: دو چیک پوسٹوں پر پولیس نے شدت پسندوں کاحملہ ناکام بنا دیا

    خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شدت پسندوں نے دو مختلف مقامات پر پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔

    پولیس کے مطابق ناصر باغ کے علاقے سخی پل چوکی پر حملہ آوروں نے بھاری ہتھیاروں سے اچانک حملہ کیا،پولیس کی فوری جوابی کارروائی پر شدت پسندوں نے راکٹ فائر کیے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔

    ادھر تھانہ متنی کی حدود میں پاسنی پولیس چوکی پر بھی حملے کی کوشش کی گئی، جسے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا، پولیس حکام کے مطابق مشکوک نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہی اہلکار الرٹ ہوگئے اور حملہ آوروں کو پیش قدمی سے روک دیا گیا۔

    برطانیہ کا 4 ممالک کیلئے ویزے بند کرنے کا اعلان

    سی سی پی او نے واقعے کے بعد شہر بھر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے رہی ہے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہےعلاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کا امن خراب کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔

    امریکا میں مالیاتی اداروں کو سائبر حملوں کا خدشہ ،ہائی الرٹ

  • خیبر پختونخوا حکومت کا کریک ڈاؤن:1000سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندے گرفتار

    خیبر پختونخوا حکومت کا کریک ڈاؤن:1000سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندے گرفتار

    خیبر پختونخوا حکومت کے احکامات کے بعد پولیس نے صوبے میں مقیم غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے اور اب تک ایک ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جو گزشتہ چند سالوں میں افغان کے خلاف پشاور میں بڑی کارروائی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں غیر قانونی مقیم افراد خصوصاً افغان باشندوں کے خلاف کارروائی حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوئی ہے، حکام کے مطابق اس سے قبل دیگر صوبوں کی نسبت پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں افغان باشندوں کیخلاف نسبتاً کم سختی تھی۔

    خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پاک افغان سرحدی کشیدگی کے پیش نظر کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کردیے ہیں، شہر بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور ڈویژنل ایس پیز کی سربراہی میں کارروائیوں کے دوران 1044 غیر قانونی مقیم افراد گرفتار کیے گئے ہیں، گرفتار کیے گئے افراد افغان باشندے ہیں جو بغیر کسی قانونی حیثیت یا دستاویز کے پاکستان میں مقیم تھے گزشتہ 2 سالوں میں افغان باشندوں کو واپسی کے احکامات کے بعد پشاور میں یہ سب سے زیادہ گرفتاریاں ہیں جو 2 روز میں عمل میں آئی ہیں۔

    خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    پولیس حکام کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے، جس کے لیے متعلقہ تھانوں کی سطح پر ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہیں،کارروائی صرف غیر قانونی مقیم باشندوں کے خلاف جاری ہے، حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد پشاور پولیس نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی شروع کر کے سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

    امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت

    پولیس کی جانب سے غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے لیکن حالیہ پاک افغان سرحدی جھڑپوں کے بعد بارڈر بندش سے افغان باشندوں کی واپسی بھی متاثر ہوئی ہے گرفتار افغان باشندوں کی جلد واپسی نہ ہونے سے انہیں تھانوں اور پھر جیل میں رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،کیونکہ تھانوں اور جیل میں جگہ کم پڑ گئی ہے،گرفتار افغان باشندوں کو عدالت کی جانب مہلت دی جا رہی ہے کہ بارڈر کھلنے تک ضمانت پر رہ سکتے ہیں، عدالتیں انسانی ہمدردی کی بنا پر عارضی ضمانتیں دے رہی ہیں-

    ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تین زونز کو نقصان پہنچا،ایمیزون کی تصدیق

  • دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید دو بھائیوں کی نمازجنازہ ادا

    دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید دو بھائیوں کی نمازجنازہ ادا

    گزشتہ شب نمازِ تراویح کے دوران دہـشـتگردوں نے سوکڑی حسن خیل کی مسجد سے بزدلانہ اور وحشـیانہ کارروائی کرتے ہوئے دو پولیس اہلکاروں سمیت تین بھائیوں کو اغوا کر لیا۔

    بعد ازاں دہـشـتگردوں نے دو اہلکار بھائیوں کو بے دردی سے شـہید کر دیا جبکہ ان کا تیسرا بھائی تاحال دہـشتـگردوں کے قبضے میں ہے۔دہشـتگردوں کو نہ ماہِ مقدس رمضان کا احترام رہا، نہ مسجد کی حرمت کا خیال اور نہ ہی نمازِ تراویح کے تقدس کا پاس۔ یہ اندوہناک واقعہ دہـشتگردوں کی سفاکیت اور اسلام دشمنی کا کھلا ثبوت ہے۔شـہید اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

    ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے کہا کہ معصوم شہریوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشتگردی اور انسانیت دشمنی ہے۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں اس قسم کی کارروائی کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ بنوں ریجن پولیس شـہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔

  • پاک فوج کی کاوشوں سے قبائلی نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ، کیڈٹ کالج وانا میں کلاسز بحال

    پاک فوج کی کاوشوں سے قبائلی نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ، کیڈٹ کالج وانا میں کلاسز بحال

    پاک فوج کی کاوشوں سے قبائلی نوجوانوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ، کیڈٹ کالج وانا میں کلاسز بحال کر دی گئی ہیں،

    پاک فوج اور عوام کے مثالی اتحاد نے فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو ایک بار پھر شکست دے دی،نومبر 2025 میں فتنہ الخوارج کے ہاتھوں تباہ کیڈٹ کالج وانا میں تین ماہ بعد ہی تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں،پاک فوج اور فرنٹیئر کور کے پی ساؤتھ نے قلیل مدت میں مرمتی کام مکمل کر کے کالج طلبہ کیلئے دوبارہ فعال کر دیا،مقامی افراد اور قبائلی عمائدین نے کیڈٹ کالج وانا میں تعلیمی سرگرمیوں کے دوبارہ اجرا پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا ،پاک فوج کی بروقت کارروائی سے فتنہ الخوارج اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہا اورطلبہ کی قیمتی جانوں کو بھی بچایا

    خوارج نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ پاکستان بالخصوص قبائلی عوام اور انکے بچوں کے مستقبل کے بھی دشمن ہیں،تعلیمی اداروں پر دہشتگردی سےواضح ہوتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا اسلام ،پشتون روایات اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں

  • باجوڑ،فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید،بنوں،مسجدمیں گھس کر دہشتگردوں نے 3 بھائیوں کو کیا اغوا

    باجوڑ،فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید،بنوں،مسجدمیں گھس کر دہشتگردوں نے 3 بھائیوں کو کیا اغوا

    باجوڑ کی تحصیل خار میں نامعلوم افراد فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہل کار شہید ہوگئے۔

    ایس ایچ او گل زادہ کے مطابق پولیس اہلکار رمضان المبارک کے دوران معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کی،فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے۔ ریسکیو کے مطابق زخمی پولیس اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کردیا گیا۔

    دوسری جانب شہدا کی نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں ادا کردی گئی جس میں اعلیٰ پولیس اور سول حکام نے شرکت کی،فتنۂ الخوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے جنازے پر رقت آمیز مناظردیکھنے میں آئے،مقامی افراد نے فتنۂ الخوارج کو بددعائیں دی اور نعرہ بازی کی،شہریوں کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہے کہرام افغانستان میں انکے ٹھکانوں میں برپا کرینگے،بیشک اسکے لئے کابل کی سرکاری عمارتوں کو ہی کیوں نا ہو زمین بوس کرنا پڑے،کب تک خوارج ان پختونوں کی شرافت سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے؟

    علاوہ ازیں بنوں کے علاقے سوکڑی حسن خیل میں تراویح کے دوران 10 سے 15 دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر 3 بھائیوں کو اغوا کر لیا۔مغویوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک کمشنر آفس کا کمپیوٹر آپریٹر شامل ہے

  • وانا ،تعلیم دشمن عناصر کی ایک اور کارروائی، گورنمنٹ اسکول دھماکے سے تباہ

    وانا ،تعلیم دشمن عناصر کی ایک اور کارروائی، گورنمنٹ اسکول دھماکے سے تباہ

    جنوبی وزیرستان لوئر کے مرکزی شہر وانا کے نواحی علاقے اعظم ورسک میں نامعلوم افراد نے تعلیم دشمن کارروائی کرتے ہوئے ایک سرکاری اسکول کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اسکول کی عمارت مکمل طور پر منہدم ہو گئی اور عمارت ناقابلِ استعمال بن گئی۔

    مقامی ذرائع کے مطابق دھماکہ رات کے وقت کیا گیا، جس کے باعث خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تاہم اسکول کی مکمل تباہی کے باعث علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے بعد مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اسکول کی عمارت میں بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی تحصیل برمل میں نامعلوم افراد متعدد سرکاری اسکولوں کو بارودی مواد سے نشانہ بنا چکے ہیں، جس سے علاقے میں تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ قبائلی عمائدین اور سماجی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف بچوں کے مستقبل پر حملہ ہیں بلکہ پورے علاقے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ مقامی آبادی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ اسکول کی فوری تعمیر نو کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔