پشاور کی ایک مقامی عدالت نے جھوٹی گواہی اور تفتیش میں سنگین غفلت برتنے پر تفتیشی افسر ہدایت اللہ کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے سزا سنانے کے ساتھ ہی متعلقہ افسر کو فوری طور پر جیل منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق تفتیشی افسر نے کیس میں موجود اہم ڈیجیٹل شواہد فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری نہیں بھجوائے، جس کے باعث تحقیقات کا ایک اہم پہلو نظر انداز ہو گیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے شواہد کسی بھی مقدمے میں حقائق تک پہنچنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں نظر انداز کرنا سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے، حالانکہ وہ مقدمے کے اہم گواہ تھے۔ فیصلے میں اس کو تفتیشی عمل میں بڑی کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز عمل نے انصاف کے تقاضوں کو متاثر کیا۔
عدالت کے مطابق ایک تفتیشی افسر کی بنیادی ذمہ داری غیر جانبدارانہ، مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہوتی ہے۔ اگر کوئی افسر جان بوجھ کر یا غفلت کے باعث اہم شواہد اور گواہوں کو نظر انداز کرے تو اس سے مقدمے کی ساکھ اور انصاف کی فراہمی دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
عدالت نے کیس میں مبینہ غفلت برتنے پر پراسیکیوٹر عبید الرحمٰن اور ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر جاوید علی کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ دونوں افسران سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ مقدمے کے دوران ان کی جانب سے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی تو نہیں ہوئی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی اہم مثال ہے کہ عدالتیں تفتیش اور استغاثہ کے عمل میں غفلت یا بددیانتی کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات اور مضبوط شواہد ہی منصفانہ عدالتی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پراسیکیوشن حکام کے لیے احتساب اور ذمہ داری کا واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
Category: پشاور
-

جھوٹی گواہی اور غفلت پر تفتیشی افسر کو 10 سال قید
-

وزیرستان میں گولیاں چل گئیں، قبائلی رہنما کے دو بیٹوں کی موت
وزیرستان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک قبائلی رہنما کے دو بیٹے جاں بحق جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ وانا کے علاقے کڑیکوٹ بازار کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے اچانک فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں قبائلی رہنما کے دو بیٹے موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔واقعے میں ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ڈی ایس پی اصغر علی شاہ نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
-

شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کی تخریبی کارروائیاں، تین پل تباہ کر دیئے
میرعلی: شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں دہشت گردوں نے مختلف علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کرتے ہوئے تین پل بارودی مواد سے اڑا دیے، جس کے باعث مقامی آبادی کی آمدورفت شدید متاثر ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ موسکی کے علاقے میں پیش آیا جہاں نظام روڈ پر واقع پل کو بارودی مواد نصب کرکے دھماکے سے تباہ کر دیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں پل مکمل طور پر منہدم ہو گیا اور رابطہ سڑک متاثر ہوئی۔دوسری کارروائی خسوخیل کے علاقے میں کی گئی جہاں دہشت گردوں نے ایک اور پل کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے باعث پل کو شدید نقصان پہنچا اور علاقے میں نقل و حرکت متاثر ہوئی۔تیسرا واقعہ گاؤں ایپی میں اکبر علی کے گھر کے قریب پیش آیا، جہاں واقع پل کو بارودی مواد سے اڑا دیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں پل مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں واقعات کے بعد متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ حکام نے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
-

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں سیاسی امور اور ایم ایل-1 ریلوے منصوبے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ایم ایل-1 ریلوے منصوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع کی ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، ایم ایل-1 ریلوے ٹریک سے جنوبی اضلاع میں تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، ایم ایل-1 منصوبے کی تکمیل سے علاقے میں معاشی خوشحالی آئے گی ، گورنر خیبرپختونخوا نے منصوبے کی بروقت تکمیل کی اہمیت پر زور دیا،ملاقات میں خیبرپختونخوا میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی شریک تھے۔
-

کنگ سلمان ریلیف نےخیبر پختونخوا میں 3,500 شیلٹر این ایف آئی کٹس تقسیم کر دیں
کنگ سلمان ریلیف نے خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں 3,500 شیلٹر این ایف آئی کٹس کی تقسیم کامیابی سے مکمل کر لی۔
اسلام آباد۔کنگ سلمان ریلیف سینٹر نے خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں شیلٹر این ایف آئی کٹس امدادی منصوبے کے پانچویں مرحلے کو کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت کمزور اور ضرورت مند کمیونٹیز کو اہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت فراہم کی گئی۔اس اقدام کے تحت مجموعی طور پر 3,500 شیلٹر این ایف آئی کٹس مستحق خاندانوں میں سات اضلاع جن میں اپر کرم میں (500 کٹس)، لوئر کرم میں (500 کٹس)، مہمند میں (500 کٹس)، اورکزئی میں (500 کٹس)، شمالی وزیرستان میں (500 کٹس)، لوئر جنوبی وزیرستان میں (500 کٹس) اور اپر جنوبی وزیرستان میں (500 کٹس) میں تقسیم کی گئیں۔ہر شیلٹر این ایف آئی کٹ میں ایک خیمہ، سولر پینل بمع لائٹس ، دو تھرمل کمبل، پلاسٹک میٹس، کچن سیٹ، واٹر کولر اور اینٹی بیکٹیریل صابن شامل تھے۔ ان اشیاء کا انتخاب ضرورت مند خاندانوں کی فوری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس منصوبے پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حیات فاؤنڈیشن کے قریبی تعاون سے عمل درآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں مؤثر رابطہ کاری، شفافیت اور ہدف شدہ مستحقین تک بروقت انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی گئی
اس مشترکہ کاوش کے ذریعے یہ اقدام کامیابی سے 24,129 سے زائد افراد تک پہنچا اور انہیں براہِ راست فائدہ پہنچایا، جو کمزور اور ضرورت مند کمیونٹیز کی معاونت اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے کنگ سلمان ریلیف کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔ یہ منصوبہ بحرانوں اور آفات سے متاثرہ افراد کی خدمت کے لیے مملکتِ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مضبوط انسانی ہمدردی پر مبنی شراکت داری اور باہمی یکجہتی کی بھی عکاسی کرتا ہے
-

ملک میں شدید گرمی اور پانی کی قلت کا خدشہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں اوسط 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو معمول سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا پنجاب میں 29.7 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 19 فیصد زیاد ہ رہی، تاہم سند ھ میں صرف 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے 91 فیصد کم تھی بلوچستان میں بارشوں کی کمی 71 فیصد رہی جبکہ گلگت بلتستان میں بارشیں معمو ل سے 33 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئیں۔
جون 2026 کے لیے جاری ماہانہ پیشگوئی کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے برابر یا معمول سے کچھ کم رہنے کا امکان ہےسب سے زیادہ کمی شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کےبعض ملحقہ علاقوں میں متوقع ہے اس کے برعکس گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں معمول سے کچھ زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس کے برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ بحر ہند کا ڈائپول فی الحال غیر جانبدار مرحلے میں ہے ان موسمی عوامل کے باعث بارشوں کی جغرافیائی تقسیم غیر متوازن رہ سکتی ہے جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا رجحان نمایاں ہو سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
مارچ تا مئی 2026 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 148 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 26 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب میں اس عرصے کے دوران بارشیں 31 فیصد اور سندھ میں 106 فیصد زیادہ رہیں، تاہم آئندہ جون تا اگست کے عر صے میں صورتحال مختلف رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جون تا اگست 2026 کے دوران پنجاب، سندھ، زیریں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے شمالی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، شمالی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بارشیں معمول کے برابر یا اس سے زیادہ رہ سکتی ہیں شمال مشرقی پنجاب میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے بارشوں میں کمی کے باعث خریف فصلوں کی بوائی اور ابتدائی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے جبکہ آبپاشی کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب شمالی علاقوں میں زیادہ بارشیں، برف پگھلنے کے عمل میں تیزی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جس سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات پیدا ہوں گے شدید گرمی، وقفے وقفے سے بارشوں اور نمی میں اضافے کے باعث ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں اسی طرح درجہ حرارت کے شدید فرق کے نتیجے میں گرد آلود آندھیاں، تیز ہوائیں اور ژالہ باری کے واقعات بھی فصلوں، باغات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
-

گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ ،پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔
خیبر پختونخوا میں شدید گرمی سے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ ہےصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے صوبے کے بالائی اضلاع میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے ، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں احتیاطی اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں جاری شدید گرمی کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث شمالی اضلاع میں گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھل رہے ہیں 4 جون کی شام سے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں، جو پہلے سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے ساتھ مل کر گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سوات، چترال، دیر، کوہستان اور مانسہرہ کے مختلف علاقوں میں فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ موجود ہے، نشیبی علاقوں اور دریا کنارے آباد آبادیوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادارے نے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، خطرناک علاقوں میں بروقت وارننگ جاری کرنے اور کمیونٹی الرٹ سسٹم کو فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے مزید برآں نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو پیشگی خبردار کرنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ مؤثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے سیاحوں، مسافروں اور مقامی افراد کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمی صورتحال کے دوران احتیا طی تدابیر اختیار کی جائیں، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جار ی کر دی گئی ہے۔
-

پشاور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ جاری
پشاور ہائیکورٹ نے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ جاری کر دی ہے-
پشاور ہائیکورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج برقرار ہیں جبکہ جسٹس اعجاز انور سینئر پیونی جج کی حیثیت سے اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے،جبکہ جسٹس سید ارشد علی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے اور جسٹس صاحبزادہ اسداللہ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں۔ اسی طرح جسٹس محمد نعیم انور پانچویں جبکہ جسٹس وقار احمد چھٹے نمبر پر شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلے پر آنے والے جسٹس بابر ستار کو سنیارٹی لسٹ میں ساتواں نمبر دیا گیا ہے، جسٹس کامران حیات میاں خیل آٹھویں اور جسٹس محمد اعجاز خان نویں نمبر پر ہیں جبکہ جسٹس محمد فہیم ولی دسویں نمبر پر شامل کیے گئے ہیں،جسٹس خورشید اقبال گیارہویں اور جسٹس طار ق آفریدی بارہویں نمبر پر ہیں۔
اسی طرح جسٹس عبدالفیاض چودھویں اور جسٹس فرح جمشید پندرہویں نمبر پر شامل ہیں جسٹس انعام اللہ خان سولہویں اور جسٹس ثابت اللہ خان سترہویں نمبر پر ہیں جبکہ جسٹس صلاح الدین اٹھارہویں اور جسٹس صادق علی مومند انیسویں نمبر پر شامل کیے گئے ہیں جبکہ جسٹس مدثر امیر بیسویں اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ اکیسویں نمبر پر ہیں۔
پشاور ہائیکورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انتظامی کمیٹی کے یکم مئی 2026 کے فیصلے کی روشنی میں نئی نامزدگیاں بھی جاری کر دی گئی ہیں۔
-

ڈیرہ اسماعیل خان ائیرپورٹ سے کمرشل فلا ئٹس آپریشن کے لیے گورنر خیبرپختونخوا متحرک
ڈیرہ اسماعیل خان ائیرپورٹ سے کمرشل فلا ئٹس آپریشن کے لیئے گورنر خیبرپختونخوا متحرک ہو گئے
ساؤتھ ایئر نے ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے باقاعدہ پروازیں شروع کرنے کا اعلان کر دیا، ساؤتھ ایئر کے وفد کی کنور محمد طارق کی سربراھی میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات ہوئی،گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈی آئی خان اور چترال پروازوں کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں ساؤتھ ایئر کو خوش آمدید کہتے ہیں، ساؤتھ ایئر کی پروازیں خیبر پختونخوا میں کامیاب ثابت ہوں گی،صوبے میں سیاحت اور کاروبار کے فروغ کے لیے فضائی رابطے ناگزیر ہیں،خیبر پختونخوا پاکستان کی سیاحت کا مرکز ہے،خیبر پختونخوا کے کئی اہم علاقے اب بھی فضائی سہولیات سے محروم ہیں، پشاور سے کراچی، لاہور اور کوئٹہ کی پروازیں صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی لائیں گے، نئی ایئرلائنز کے فلائٹس سے خیبر پختونخواہ میں روزگار، سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا،
-

کوئٹہ سے پشاور کے لیےجعفر ایکسپریس ٹرین سروس بحال
3 روزہ تعطل کے بعد بلوچستان سے ٹرین سروس بحال کر دی گئی-
ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس ہفتے کے روز کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہو گئی، جس کے ساتھ ہی صوبے اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ریلوے رابطہ دوبارہ بحال ہو گیاپاکستان ریلوے نے بلوچستان سے ٹرینوں کی آمد و رفت دوبارہ بحال کرتے ہوئے ہفتے کے روز جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ کر دیا۔
ریلوے حکام کے مطابق صوبے سے تمام ٹرین آپریشن معمول کے مطابق بحال کر دیے گئے ہیں جعفر ایکسپریس اپنے مقررہ وقت پر کوئٹہ سے روانہ ہوئی، جبکہ واپسی کی سروس بھی شیڈول کے مطابق پشاور سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگی اس اقدام سے بلوچستان کا ملک کے دیگر علاقوں کے ساتھ ریلوے رابطہ دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ اور پشاور کے درمیان چلنے والی واحد مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس گزشتہ اتوار کو ایک خودکش حملے کے بعد معطل کر دی گئی تھی، یہ حملہ چمن ریلوے کراسنگ کے قریب ایک شٹل ٹرین کو نشانہ بنانے کے لیے گاڑی میں نصب دھماکہ خیز مواد کے ذریعے کیا گیا تھا حملے کے وقت جعفر ایکسپریس روانگی کے لیے تیار تھی، تاہم سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر اسے روک دیا گیا اور بعد ازاں ٹرین منسوخ کر دی گئی مسافروں کو ٹکٹوں کی رقم واپس حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، 2 روز بعد ٹرین سروس بحال کر دی گئی تھی، تاہم بدھ کے روز اسے ایک مرتبہ پھر معطل کر دیا گیا، ریلوے حکام نے کوئٹہ اور پشاور دونوں جانب سے جعفر ایکسپریس کی معطلی کی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت نہیں کی تھی۔