Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور ،گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار

    پشاور ،گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار

    پشاور کے علاقے حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن میں دھماکا دہشتگردی قرار دے دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق دھماکا ریمورٹ کنٹرول بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، بارودی مواد ڈیڑھ کلو گرام وزنی تھا،پولیس نے پھٹنے والی گیس پائپ لائن کے مقام کا معائنہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ایک آئی ای ڈی پائپ لائن کے ساتھ چھوڑ کر گئے تھے، چھوڑا گیا ڈیڑھ کلو گرام بارودی مواد بھی ناکارہ بنا دیا گیا ۔

    واضح رہے کہ حسن خیل میں گزشتہ رات گیس پائپ لائن پھٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ دھماکے سے 24 انچ گیس پائپ لائن میں آگ لگ گئی تھی جس کے باعث کے پی کے مختلف شہروں کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی،صوبہ کے3 اضلاع میں اب بھی گیس کی فراہمی معطل ہے۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے صوبائی دارالحکومت پشاور کی ترقی کے لیے اہم اور بڑے فیصلوں کا اعلان کردیا۔ 7 دسمبر کو پشاور میں بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کے ساتھ ساتھ شہر کے 100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرینڈ میٹنگ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی زیر صدارت پشاور کے پارلیمنٹرینز کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ و سابق اراکین اسمبلی، پشاور کے منتخب نمائندگان اور سینئر سیاسی قیادت نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں شہر کے ترقیاتی وژن، مسائل اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران 7 دسمبر کو پشاور میں ایک بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پشاور ہماری شناخت، ہمارا چہرہ اور صوبے کا دل ہے۔ اس کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کے لیے ہم ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔””شہر کے میگا پروجیکٹس، انفراسٹرکچر کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ، صفائی، خوبصورتی اور عوامی سہولیات کے تمام منصوبوں میں تیزی لائی جائے گی۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پشاور کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے پر مشتمل میگا ڈویلپمنٹ پلان تیار کیا جارہا ہے، جس کے لیے آئندہ ہفتے ایک گرینڈ میٹنگ طلب کی جائے گی جس میں تمام متعلقہ اداروں، ماہرین، منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کو مدعو کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے زور دیا کہ حکومت پشاور کے دیرینہ مسائل کے حل اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہے۔ یہ منصوبے نہ صرف پشاور کا انفراسٹرکچر جدید بنائیں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔

  • میرانشاہ میں پاک فوج کے زیرِ انتظام ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا جرگہ

    میرانشاہ میں پاک فوج کے زیرِ انتظام ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کا جرگہ

    میرانشاہ میں پاک فوج کے زیرِ انتظام ملک و مشران اور قبائلی عمائدین کے اہم جرگہ کا انعقاد کیا گیا۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میرانشاہ نے جرگہ میں موجود شرکاء کا خیرمقدم کیا۔

    جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے قیام امن کے حوالے سے قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہا۔ جرگہ میں شمالی وزیرستان کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی اور فلاحی کاموں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر جی او سی کا کہنا تھا کہ عوام، سول انتظامیہ اور پاک فوج کے باہمی تعاون سے ہی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔جرگہ کے دوران قبائلی عمائدین کی ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ جرگہ کا اختتام قومی یکجہتی اور سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ کیا گیا۔

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،موٹر سائیکل چوری کی نکلی

    ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،موٹر سائیکل چوری کی نکلی

    ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل چوری کی نکلی۔

    محکمہ انسداد دہشتگردی کی جانب سے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کی تحقیقات جاری جاری ہیں جس میں پیشرفت سامنے آئی ہے،خیبر پختونخوا پولیس کا بتانا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کیا جانے والا موٹر سائیکل چوری کی تھی، موٹرسائیکل راولپنڈی سے چوری کی گئی جس کی چوری کی ایف آئی ار متعلقہ تھانے میں درج تھی،حملے سے متعلق کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے میں 3 اہلکار شہید اور 10 افراد زخمی ہوئے تھے جب کہ 3 دہشتگرد مارے گئے تھے،

  • ہنگو ،پولیس  چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، تین اہلکار شہید

    ہنگو ،پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، تین اہلکار شہید

    ہنگو کے تھانہ سٹی کے علاقے قاضی تالاب میں واقع پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔

    ڈی پی او ہنگو خان زیب خان کے مطابق چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے حملہ آوروں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور جوابی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہدا کی میتوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دو پولیس جوانوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور ڈی پی او کی قیادت میں بھاری نفری تعینات ہے۔ حکام کے مطابق دونوں جانب سے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر اضافی نفری بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے عوام اور سیکیورٹی فورسز کے حوصلے کمزور نہیں کر سکتے

    بھارتی کرکٹر کا ایئر انڈیا میں سفر سے گریز کا مشورہ

    ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں خوفناک آگ، 36 ہلاک، 279 لاپتہ

    اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی صحت سے متعلق افواہیں مسترد کردیں

  • ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ،تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے،انکشاف

    ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ،تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے،انکشاف

    پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر خود کش حملے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، حملہ کرنیوالے تینوں دہشتگرد ایک ہی موٹر سائیکل پر آئے، بائیک ہیڈ کوارٹرز سے کچھ فاصلے پر کھڑی کی۔

    سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق دہشتگرد کوہاٹ روڈ، سول کوارٹر سے جائے وقوعہ پہنچے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں کے پاس کلاشنکوف اور 8 سے زائد دستی بم تھے، دہشتگردوں کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹنگ کیلئے لیبارٹری بھجوا دیئے گئے۔رپورٹ کے مطابق حملے کا مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے میں 3 لوگ آئے تھے، حملہ آور افغان شہری تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ٹریک کررہے ہیں کہ حملہ آور کہاں سے آئے تھے، سی سی ٹی وی فوٹیجز پورے شہر سے اکٹھی کرلی ہیں، حملہ آوروں کی موٹرسائیکل تحویل میں لے لی ہے۔آئی جی کے پی نے کہا کہ پولیس کو ڈرونز سمیت جدید اسلحہ فراہم کررہے ہیں، دہشت گردوں کے حربوں میں تبدیلی آئی ہے۔

  • الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں،سہیل آفریدی کی درخواست پر ریمارکس

    الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں،سہیل آفریدی کی درخواست پر ریمارکس

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    پشاور ہائیکورٹ میں سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے کی،دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے، خود نوٹس میں کہا گیا ہے جلسہ حویلیاں میں تھا جو این اے 18 کی حدود میں نہیں، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی،وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے میں کی گئی تقریر کی ٹرانسکرپشن پڑھ کر سنائی اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کوئی دھاندلی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی،جسٹس وقاراحمد نے کہا کہ آپ کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی تو نہیں کی، آپ الیکشن کمیشن کی کارروائی میں شامل ہوجائیں، تھوڑا انتظار کریں،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں، آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف 2 کارروائیاں چل رہی ہیں، ایک کارروائی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی ہے، پہلے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کارروائی مکمل کرے پھر الیکشن کمیشن کرے، الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو بائی پاس کر کے نوٹس دیا، الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اختیار نہیں۔الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، الیکشن کمیشن کے عملے کو دھمکانا بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے، الیکشن کمیشن نے باقی امیدواروں کو بھی نوٹس دیے، بلاامتیاز کارروائی کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ اداروں پر اعتماد کریں، ہم نے ابھی کوئی ختمی فیصلہ نہیں کیا،جسٹس سیدارشد علی نے الیکشن کمیشن کے نمائندے استفسار کیا کہ ابھی تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو نااہل یا کام سے نہیں روکا،جسٹس ارشد علی نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے تحفظات کیا ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعلیٰ کے خلاف فوجداری سمیت کوئی بھی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ ہم اس میں آرڈر کرتے ہیں، عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  • بنوں میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن،25 سے زائد دہشتگرد جہنم واصل

    بنوں میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن،25 سے زائد دہشتگرد جہنم واصل

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے نرمی خیل میں سیکیورٹی فورسز نے 24 نومبر کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب آپریشن کیا، جس کے دوران 25 سے زائد دہشتگرد (خوارج) مارے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک دہشتگرد ایک ناکارہ اسکول کی عمارت میں پناہ لیے ہوئے تھے، جسے وہ عارضی ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد علاقے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ فورسز نے آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق مارے گئے دہشتگردوں میں متعدد افغان باشندے بھی شامل ہیں، جن کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں اسی عزم کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

    دوسری جانب تیراہ کی وادیِ کدر کے شیڈو علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں کالعدم لشکرِ اسلام کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد شدت پسند مارے گئے۔ذرائع کے مطابق شدت پسند ایک ایسی سیکیورٹی چوکی استعمال کر رہے تھے جو پہلے سے ایک حکمتِ عملی کے تحت خالی کی گئی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں وہاں مشاہدے میں آیا کہ کالعدم گروہ کے عناصر اسے دوبارہ اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں بروقت کارروائی کی گئی۔آپریشن کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل محاصرہ کرکے آپریشن شروع کر دیا تاکہ کسی بھی مشتبہ یا باقی ماندہ دہشت گرد عنصر کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے شدت پسندوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ وادیِ کدر کے وسیع تر علاقے میں مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے تاکہ دوبارہ دراندازی کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکے۔

  • پشاور حملہ،گورنر خیبر پختونخوا کی مذمت،تفصیلات طلب کر لیں

    پشاور حملہ،گورنر خیبر پختونخوا کی مذمت،تفصیلات طلب کر لیں

    گورنر خیبر پختوںخوا فیصل کریم کنڈی نے اعلیٰ حکام سے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فتنہ الخوارج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ بیرونی پشت پناہی میں سرگرم خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے، خیبرپختونخوا کے عوام کو اپنی پولیس، ایف سی اور فورسز پر فخر ہے، سپاہیوں نے شہادتیں پیش کر کے اسلام، ملک اور انسانیت کے دشمنوں کے عزائم ناکام بنائے۔

    دوسری جانب مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے پشاور ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی مزمت کی اور کہا کہ ایف سی اہلکاروں نے جرت اور بہادری کے ساتھ حملے کو ناکام بنایا، حملے کو بروقت ناکام بنانا ایف سی اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے،پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، شہید اہلکاروں کی درجات کی بلندی کیلے دعاگو ہوں،شہید اہلکاروں کے بہادر اہلخانہ کی غم میں برابر کے شریک ہیں اللہ عزوجل ان کو صبروجمیل عطا فرمائے، آمین،

    واضح رہے کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹرز پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا گیا، تینوں خود کش حملہ آور مارے گئے۔ ڈپٹی کمانڈنٹ ایف سی جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جوانوں نے بہادری سے خودکش حملے کو ناکام بنایا، فیڈرل کانسٹیبلری کے تین اہلکار شہید ہوئے ہیں۔حملے میں 2 ایف سی اہلکاروں سمیت 5 افراد زخمی بھی ہوئے۔

  • بنوں ریجن،3 ماہ میں 130 ڈرون حملوں کی کوشش،14 دہشتگردہلاک،22 زخمی

    بنوں ریجن،3 ماہ میں 130 ڈرون حملوں کی کوشش،14 دہشتگردہلاک،22 زخمی

    بنوں ریجن میں دہشتگردی کے واقعات اور پولیس آپریشنز سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
    رپورٹ کے مطابق بنوں ریجن میں 28 اگست 2025 سے اب تک ہونے والے تمام حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، ریجن میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی نگرانی آر پی او سجاد خان نے کی، بنوں ریجن میں شدت پسندوں کی جانب سے پولیس تھانوں اور چوکیوں پر 10 حملوں کی کوششیں کی گئیں،رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس تھانوں اور چوکیوں پر 130 سے زیادہ ڈرون حملوں کی کوشش کی گئی، دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 14 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کو مارا گیا، آپریشنز کے دوران 22 شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔

    آر پی او بنوں سجاد خان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ بنوں کے بعض علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں، شدت پسند پولیس تھانوں اور چوکیوں پر متعدد حملے کرچکے ہیں، آئی جی کے پی نے بنوں ریجن کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور وسائل فراہم کیے، بلٹ پروف گیٹس اور ڈبل وال سسٹم تھانوں میں نصب کیے گئے،بنوں ریجن کو جدید اسلحہ سے لیس کیا گیا، جدید وسائل ہونے کے باعث دہشتگردوں کے بڑے حملے ناکام بنا دیے گئے، دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز میں عوام نے بھرپور ساتھ دیا، دہشتگردوں کے ڈرون حملوں کو بھی جدید وسائل کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔