Baaghi TV

Category: پشاور

  • لنڈی کوتل:رابطہ العالم الاسلامی کے تعاون سے سینکڑوں یتیم بچوں میں 5 کروڑ روپے سے زائد کی امداد تقسیم

    لنڈی کوتل:رابطہ العالم الاسلامی کے تعاون سے سینکڑوں یتیم بچوں میں 5 کروڑ روپے سے زائد کی امداد تقسیم

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)سعودی آرگنائزیشن رابطہ العالم الاسلامی (مسلم ورلڈ لیگ) اسلام آباد کے تعاون سے ضلع خیبر، بڈھ بیر، ریگی، للمہ، فقیر آباد، چارسدہ، صوابی، اکوڑہ خٹک اور مردان سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے یتیم بچوں اور ان کے خاندانوں میں خطیر مالی امداد تقسیم کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد پشاور کے رِنگ روڈ پر واقع دی بیسٹ اسکول میں کیا گیا، جس کا اہتمام آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر محترم عبداللطیف اور جمرود کے معروف سماجی کارکن حاجی جمال آفریدی نے سوشل ورکرز کی متحرک ٹیم کے ہمراہ کیا۔ امداد کی تقسیم کے عمل میں نعیم اللہ، عابد علی، سمیع اللہ، سردار، غنی، عمر آفریدی اور ابوبکر نے بھرپور معاونت فراہم کی جبکہ اسکول کے پرنسپل حبیب الرحمن نے فلاحی مقصد کے لیے بھرپور تعاون پر خصوصی شکریہ وصول کیا۔

    تقریب کے دوران مجموعی طور پر 243 خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 523 یتیم بچوں میں 58,553,821 روپے (پانچ کروڑ پچاسی لاکھ تریپن ہزار آٹھ سو اکیس روپے) کی خطیر رقم نقد تقسیم کی گئی۔ امداد کی فراہمی یتیم بچوں کی ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی، جس میں بعض بچوں کو 3 لاکھ 66 ہزار روپے جبکہ بعض کو 2 لاکھ 44 ہزار روپے فی یتیم کے حساب سے ادائیگی کی گئی۔ اس موقع پر جمرود کے مزید 92 یتیم بچوں کا ڈیٹا بھی ڈائریکٹر عبداللطیف کو فراہم کیا گیا تاکہ ان کی فوری رجسٹریشن مکمل کر کے انہیں بھی آئندہ مرحلے میں امدادی پروگرام کا حصہ بنایا جا سکے۔ منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یتیموں کی کفالت ایک عظیم دینی فریضہ ہے اور رابطہ العالم الاسلامی پاکستان بھر میں مستحقین کی معاونت کا یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گی۔

  • لنڈی کوتل: بجلی اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی پر مشران کا پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان

    لنڈی کوتل: بجلی اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی پر مشران کا پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی)ضلع خیبر کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے بازار ذخہ خیل کے مشران اور وی سی 13 کے چیئرمین حاجی فتح گل آفریدی نے حاجی عباس آفریدی، اسد علی اور دیگر عمائدین کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکام کی بے حسی اور علاقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ مشران کا کہنا تھا کہ وی سی 13، علاقہ الاچہ، برگ اور کرمنہ کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور ٹیسکو حکام کی جانب سے ان کے ساتھ سراسر ظلم جاری ہے، جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ان کے اپنے فیڈر کی بجلی علاقہ خیبر میں قائم کرش پلانٹس کو فراہم کی جا رہی ہے جبکہ مقامی آبادی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے باعث علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہے کہ خواتین دور دراز علاقوں سے سروں پر پانی ڈھو کر لانے پر مجبور ہیں۔ مشران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی کی سپلائی لائنوں کے اخراجات برداشت کیے ہیں، اس کے باوجود انہیں ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب موبائل نیٹ ورک کی کمزوری کی وجہ سے وہ بیرون ملک مقیم اپنے رشتہ داروں سے رابطے تک سے قاصر ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران مشران نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ اگر علاقے میں بجلی اور موبائل نیٹ ورک کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو وہ احتجاجاً آنے والی پولیو مہم کا مکمل بائیکاٹ کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،چار دہشتگردہلاک،ایک کا سرنڈر

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،چار دہشتگردہلاک،ایک کا سرنڈر

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ایک رکن، جس کی شناخت عاقف کے نام سے ہوئی ہے، نے تیراہ کے علاقے آدم خیل میں حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شدت پسند نے رضاکارانہ طور پر خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا، جس کے بعد اسے مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ ہتھیار ڈالنے کے وقت کسی قسم کی مزاحمت کی اطلاع نہیں ملی۔ایک اورواقعے میں اسی علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے کے دوران چار شدت پسند مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ جھڑپ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی کے دوران اس وقت پیش آئی جب شدت پسندوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار شدت پسند ہلاک ہو گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    حکام نے بنوں میں ایک افغان مہاجر کیمپ کو فوری طور پر خالی کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ کیمپ کے قریب دہشت گرد حملے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔ پولیس کے مطابق کوہاٹ روڈ پر واقع کیمپ کے نزدیک مسلح افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی، جس سے گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) مفیز خان ٹاؤن شپ سے ڈومیل جا رہے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا، تاہم بروقت جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر کیمپ خالی کرانے کا فیصلہ کیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بنوں یاسر آفریدی نے بتایا کہ مہاجرین کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق دالبندین میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی ایک ممکنہ دہشت گرد کارروائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کے باعث ناکام بنا دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندستان سے وابستہ شدت پسندوں نے شہر کی حدود میں مقامی نوجوانوں کے ایک چھوٹے اجتماع پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا، جس سے مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ زخمی نوجوان کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت خطرے سے باہر قرار دی۔ واقعے کے بعد دالبندین میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی اور فرار ہونے والے شدت پسندوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور امن کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    نوشہرہ میں افغان مہاجرین کے انخلا کا عمل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران کرایہ داری ایکٹ کے تحت متعدد مقدمات درج کیے گئے، جن کے نتیجے میں کئی افغان مہاجرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی اور بغیر دستاویزات مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے ضلع کے مختلف علاقوں میں چیکنگ اور نفاذِ قانون کے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل قانون کے مطابق جاری ہے اور انخلا مکمل ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت کے پہاڑی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری

    خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت کے پہاڑی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری

    خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ نشیبی علاقوں میں بارش کے بعد درجہ حرارت مزید کم ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے ضلع دیر میں برفباری کے بعد سرد موسم کا آغاز ہوچکا ہے اور خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد نے لواری ٹنل کا رخ کرلیا ہے۔ سوات، کالام، مالم جبہ اور گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں برفباری کے بعد ہر جانب سفید چادر بچھ گئی ہے، جس سے قدرتی حسن میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔ سیاح برفباری کے مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز بناتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ مقامی ہوٹلوں میں بھی رش بڑھ گیا ہے۔

    ادھر ایبٹ آباد اور گلیات کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش ہوئی جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے موسم مزید سرد ہوگیا۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی بادل برسے، جس سے موسم خوشگوار مگر سرد ہوگیا ہے۔آزاد کشمیر کی وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں بھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ اپر نیلم، اڑنگ کیل اور دیگر بلند مقامات پر وقفے وقفے سے ہونے والی برفباری کے باعث وادیاں مکمل طور پر برف سے ڈھک گئی ہیں۔ برفباری کے باعث نظامِ زندگی جزوی طور پر متاثر ہوا ہے، تاہم مقامی افراد اور سیاح اس خوبصورت موسم سے محظوظ ہو رہے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں بھی سردی کی شدت بڑھ گئی ہے۔ چلاس کے بالائی علاقوں میں گزشتہ رات سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا گیا ہے۔ برفباری کے بعد سرد ہواؤں نے علاقے میں شدید سردی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران بالائی علاقوں میں مزید برفباری اور بارش کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے سیاحوں اور مقامی افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسم کی صورتحال کے پیش نظر بروقت معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • کرک،پولیس گاڑی پر فائرنگ،5 اہلکار شہید

    کرک،پولیس گاڑی پر فائرنگ،5 اہلکار شہید

    کرک میں پولیس موبائل پر فائرنگ سے 5 پولیس اہلکار شہید ہوگئے ہیں،

    پولیس کے مطابق پولیس موبائل پر فائرنگ کا واقعہ تھانہ گرگری کی حدود میں پیش آیا، فائرنگ میں5 پولیس اہل کار شہید ہوئے،ڈی پی او کرک سعود خان نے فائرنگ کے واقعے میں 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس موبائل میں 5 اہلکار سوار تھے،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی جگہ پر بھارتی نفری کو بھیج دیا گیا ہے اور علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

  • بنوں،دہشتگردوں نے بکہ خیل میں ٹوچی پل کو نقصان پہنچایا،آمدروفت متاثر

    بنوں،دہشتگردوں نے بکہ خیل میں ٹوچی پل کو نقصان پہنچایا،آمدروفت متاثر

    دہشت گردوں نے بنوں میرانشاہ روڈ پر واقع دور افتادہ علاقے بکہ خیل کے قریب ٹوچی پل کے ایک حصے کو نقصان پہنچایا۔

    مقامی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پل کو کاٹنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک بڑا گڑھا بن گیا اور سڑک مکمل طور پر بند ہو کر ناقابلِ استعمال ہو گئی۔ اس واقعے کے باعث بکہ خیل، گھوڑا بکہ خیل، نرمی خیل اور سردی خیل کی زمینی رابطہ کاری منقطع ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق، سرد اور بارش کے موسم میں اس واقعے نے بالخصوص مقامی رہائشیوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ شہری غیر محفوظ کچی سڑکوں اور پانی سے بھرے راستوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ اور مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ واقعے کے بعد متعلقہ حکام اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچے اور نقصان و صورتحال کا جائزہ لیا۔ ابتدائی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور پل کے متاثرہ حصے کی مرمت کا کام جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔ دریں اثنا، سیکیورٹی فورسز نے تخریب کاری میں ملوث عناصر کی شناخت اور جلد از جلد ٹریفک کی بحالی کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کا ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کا ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

    اکستان تحریک انصاف نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔

    نجی خبررساں ادارے کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی خیبرپختونخوا حکومت شفیع جان کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال ہوگی، کے پی کے عوام کو وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی شکل میں امید نظر آ رہی ہے 8 فروری 2026 کو پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمہوریت کی بقا کے لیے ایک بار پھر مل بیٹھنے کی تجویز دے دی کہا کہ ملک میں آئین رہا نہ عدلیہ، جو ججز کھڑے ہوسکتے تھے وہ چلے گئے اب لوگوں کو عدالتوں سے انصاف کی کوئی امید نہیں، ہم نے جو اہداف حاصل کرنے تھے 2 سال میں وہ حاصل نہیں کرسکے، ہم پھر بھی جمہوریت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • کوہاٹ، وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں ایمرجنسی سہولیات کا فقدان، شہریوں میں شدید تشویش

    کوہاٹ، وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں ایمرجنسی سہولیات کا فقدان، شہریوں میں شدید تشویش

    کوہاٹ کے وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں ایمرجنسی کی صورتحال تشویشناک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک شہری نے ویڈیو بیان میں ہسپتال انتظامیہ اور صحت سہولیات کی عدم دستیابی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    شہری کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی کے دوران بنیادی دوائیاں اور کینولا جیسی ضروری اشیاء بھی دستیاب نہیں، حالانکہ ان کی قیمت محض 500 روپے کے لگ بھگ ہے۔ شہری کا کہنا تھا کہ حکومت صحت کارڈ کے تحت دس لاکھ روپے تک کے علاج کا دعویٰ کرتی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جب ایمرجنسی میں بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو مہنگے علاج کے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے لواحقین کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کوہاٹ میں فوری طور پر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے۔

  • ڈی آئی خان،دہشتگردوں کا ناکہ،فوجی افسر کے نہ رکنے پر فائرنگ

    ڈی آئی خان،دہشتگردوں کا ناکہ،فوجی افسر کے نہ رکنے پر فائرنگ

    ڈیرہ اسماعیل خان،این ۔50 شاہراہ پر تحصیل درابن کے علاقے میں دہشت گردوں کی جانب سے فوجی افسر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں افسر زخمی ہو گئے۔

    واقعہ گاؤں نیو گڑہ خان کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم دہشت گردوں نے ایک فوجی افسر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔سیاہ ویگو گاڑی میں سوار فوجی افسر کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب سفر کر رہے تھے کہ راستے میں دہشت گردوں نے سڑک پر عارضی چیک پوسٹ،رکاوٹ قائم کر کے گاڑی روکنے کی کوشش کی۔ گاڑی نہ روکنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود فوجی افسر زخمی ہو گئے۔زخمی ہونے والے افسر کی شناخت میجر مشتاق مروت کے نام سے ہوئی ہے، جو ای ایم ای کوئٹہ میں تعینات ہیں۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ زخمی افسر کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔

  • وزیراعلی خیبرپختونخوا کے منشیات فروشوں سے روابط کے اہم شواہد سامنے آگئے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا کے منشیات فروشوں سے روابط کے اہم شواہد سامنے آگئے

    وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے منشیات فروشوں سے روابط کے اہم شواہد سامنے آگئے

    16 دسمبر 2025 کو وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے سینٹرل جیل پشاور کا دورہ کیا،دورہ سیکیورٹی سسٹم کے افتتاح کے نام پر کیا گیا، اصل مقاصد مختلف نکلے۔ جیل دورے کی منصوبہ بندی سی ایم کے قریبی ساتھیوں نے کی، ذرائع کے مطابق وزیراعلی کے فرنٹ مین ہادی آفریدی اور خرم خان دورے کے مرکزی کردارہیں،خرم خان جیلوں کو سامان سپلائی کرنے والی “سیونتھ سیز” کمپنی کے شیئر ہولڈر نکلے، کمپنی پر نیلامی کے عمل میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات ہیں،خرم خان 9 مئی کے قیدیوں کو موبائل فون فراہم کرنے میں بھی ملوث رہے،پشاور جیل میں بدنام منشیات فروش صدیق اور عبدالخالق آفریدی قید ہیں ،یہ دونوں منشیات فروش سہیل آفریدی کے بڑے الیکشن فنانسر رہے ہیں،صدیق آفریدی نے انتخابی مہم پر مبینہ طور پر 5 کروڑ خرچ کیے، وزیرِ اعلیٰ کے بھائی عامر آفریدی نے قیدی عبدالخالق کے لیے جیل حکام پر دباؤڈالا،

    سہیل آفریدی نے 9 مئی کے قیدیوں سے ملاقات کا مطالبہ کیا،ملاقات میں صدیق اور عبدالخالق آفریدی کو بھی شامل کیا گیا،دونوں مجرمان افتتاحی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ موجودتھے،وزیرِ اعلیٰ نے صدیق اور عبدالخالق کی پیرول پر رہائی کا مطالبہ کیا،افتتاحی تقریب سابق وزیرِ اعلیٰ کے دور کے میں کئے جا چکے تھے،جیل حکام نے دورے کی کوئی سفارش نہیں کی تھی۔