Baaghi TV

Category: پشاور

  • پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار

    پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار

    پاکستان کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے والے ایک افغان شہری کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق افغان شہری شاہ نواز کی پاکستان مخالف بیان پر مبنی ویڈیو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو داؤدزئی کے علاقے میں واقع مہاجر کیمپ خزانہ سے گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران افغان شہری شاہ نواز نے پاکستان مخالف بیان دینے کا اعتراف کیا اور اپنے اقدام پر معافی بھی مانگی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے بیان اور ویڈیو شواہد کی بنیاد پر اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد افغان شہری کو افغانستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران کسی بھی قسم کی نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا ریاست مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے یکم اپریل 2025 سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اب تک لاکھوں افغان باشندوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملکی سلامتی، قانون کی عمل داری اور معاشرتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔سیکیورٹی حکام کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے والوں کے خلاف کڑی نگرانی جاری ہے، اور مستقبل میں بھی ایسے واقعات پر فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ایف بی آر کی کاروائی،صوابی میں تمباکو کے غیرقانونی  گرین لیف تھریشنگ یونٹ کا سراغ

    ایف بی آر کی کاروائی،صوابی میں تمباکو کے غیرقانونی گرین لیف تھریشنگ یونٹ کا سراغ

    ایف بی آر ریجنل ٹیکس آفس پشاور نے کارروائی کر کے صوابی میں تمباکو کے غیرقانونی گرین لیف تھریشنگ یونٹ کا سراغ لگا لیا۔

    ذرائع کے مطابق غیرظاہر شدہ جی ایل ٹی یونٹ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث پایا گیا، علاقہ یار حسین امان آباد میں گرین لیف تھریشنگ یونٹ بغیر اجازت کے فعال تھا،ذرائع ایف بی آر کے مطابق یونٹ سے90970 کلو لیمینا، 20 ہزار کلو اسٹیم اور 149990 کلو رین لیف تمباکو برآمد ہوا، کمپنی کے پاس پاکستان ٹوبیکو بورڈ کا صرف 100 ہزار کلو کوٹہ موجود ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرقانونی گودام سیل کر کے مشینری اور اسٹاک قبضے میں لے لیا گیا ہے، غیرقانونی تمباکو کے ذخیرہ اور پیداوار پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا، فیلڈ مارشل  اور وزیر داخلہ  سمیت سول و عسکری شخصیات کی شرکت

    میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سمیت سول و عسکری شخصیات کی شرکت

    خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق میجر عدیل زمان شہید کی نماز جنازہ پشاور گیریژن میں ادا کی گئی،نماز جنازہ میں چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، پشاور کور کے کمانڈر سمیت سول و عسکری شخصیات اور عوام نے شرکت کی۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے میجر عدیل زمان شہید کی عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج کے شہدا قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی انہوں نے دعا کی کہ شہید کی درجات بلند ہوں اور اہل خانہ کو اللہ پاک صبر دے۔

    آج سے مریخ کا زمین سے رابطہ کچھ دنوں کے لیے منقطع

    بعد ازاں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا اور آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے افسران اور جوانوں کی خیریت دریافت کی۔

    واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں کارروائی کرتے ہوئے بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 5 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے میجر شہید ہوگئے،میجر عدیل زمان نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں دستے کی قیادت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

    اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اجلاس،وزیراعظم کے دورۂ ڈیووس کی تیاریوں کا جائزہ

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی افسران اور جوانوں کی ایسی قربانیاں قوم کے حوصلے کو مزید مضبوط کرتی ہیں شہید کو ان کے آبائی شہر ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  • پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    پشاور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    پشاورہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخوا ست پر سماعت کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایا ہے، آرڈیننس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن کے لئے لیگل فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے معاملات کو ریگولیٹ کیا گیا اور اس کے بعد یہ درخواست اب غیر موثر ہوگئی ہےْ

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کیا جاتا ہے جسٹس کامران حیات نے فیصلے میں لکھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، اسٹیٹ بینک کے مراسلوں اور سرکلرز کے ذریعے مالی اداروں اور لوگوں کو صرف آگاہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی کرنسی کاروبار میں احتیاط کریں۔

    پشاور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اسٹیٹ بینک کے مراسلوں میں یہ ذکر نہیں ہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار جرم ہے، یا اس کے لئے کوئی سزا ہے، کرپٹو اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ کی ریگولیشن کا معاملہ پالیسی اور قانون سازی کا ہے اور یہ عدالتی اختیار میں نہیں آتا۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ قانون سازی اور پابندی کا اختیار انتظامیہ اور مقننہ کے پاس ہےدرخواست گزار کے مطابق منی کرپٹو ٹریڈنگ سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خدشات ہے، حکومت کی جانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا گیا ہے، کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فارکس کے لئے پالسی 2025 آئی ہے، اس سٹیج پر یہ درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہے۔

  • میری شخصیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا مریم نواز کو خط

    میری شخصیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا مریم نواز کو خط

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت اخلاقی و ذہنی پستی کی شکار، رویہ غیر جمہوری اور قابل مذمت ہے۔

    پشاور میں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے پنجاب کے 3 روزہ دورے کے دوران صوبائی حکومت کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا،کہا کہ پنجاب حکومت کا رویّہ غیرجمہوری اور قابل مذمت ہے، صوبائی حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے، ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کےلیے مسلسل راستے اور بازاروں کو زبردستی بند کروایا گیا، پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے پر ریسٹ ایریاز بھی بند کروائے گئے،مزار اقبال پر حاضری کے دوران لائٹس بند کروائے گئے، پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، ملک میں معاشی و سیاسی عدم استحکام کےدوران ایسا رویہ تشویشناک اور ناقابل فہم ہے، قومی یکجہتی کے وقت نفرت آمیز رویے ملک کےلیے نقصان دہ ہیں۔

    سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کے اس رویے کی شدید مذمت کرتی ہے اور تمام سرکاری افسران کو واضح ہدایت دیتی ہے کہ وہ دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کی روایات اور استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی جائے، خیبر پختونخوا میں کسی کو اجنبیت محسوس نہ ہو۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا کہ جو ہوا وہ انتظامی خامی تھی نہ ہی حادثاتی بلکہ آئینی عہدہ اور بین الصوبائی عزت کو خراب کیا گیا، جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طور پر ایک عوامی نمائندہ کے شایان شان نہیں تھا، میرے دورے کے دوران جس انداز میں معاملات کو ڈیل کیا گیا وہ کوتاہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا،میں نے چار کروڑ لوگوں کے نمائندے کی حیثیت سے لاہور کا دورہ کیا، مارکیٹیں اور عوامی مقامات کو بند کرکے لاہور کے شہریوں کو تکلیف دی گئی، موٹر وے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا، میرے دورہ سے متعلق میرے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ سب منشیات اسمگلنگ تک سے جوڑا گیا اوریہ پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، ایسے رویے اور انداز سے میری شخصیت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، جسے کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،انتظامی طور پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک کرنا تھا، ایسے طریقوں سے ریاستی یونٹس میں ہم آہنگی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، میں خط کے ذریعے اس انداز اور طور طریقوں پر بھرپور احتجاج کرتا ہوں، توقع رکھتا ہوں کہ ان کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل میں ان سے اجتناب برتا جائے گا۔

  • پشاور،انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے 5 کارندے ہلاک

    پشاور،انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے 5 کارندے ہلاک

    پشاور میں پولیس مقابلے کے دوران انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گینگ کے سرغنہ سمیت 5 کارندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    سی سی پی او پشاور میاں سعید نے بتایا کہ ٹارگٹ کلرز گینگ پولیس پر حملےکی منصوبہ بندی کر رہا تھا، ہلاک ملزمان پہلے بھی 2 پولیس اہلکاروں کو شہید کر چکے تھے،انہوں نے بتایا کہ گینگ سرغنہ نجمل الحسن نے ویڈیو بیان میں پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنےکا اعتراف بھی کیا تھا، ٹارگٹ کلرز گینگ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور درہ آدم خیل میں 30 وارداتوں میں ملوث تھا، ٹارگٹ کلرز پشاور میں 12 اور نوشہرہ میں17 افراد کے قتل میں ملوث تھے، ہلاک ٹارگٹ کلرز نے چارسدہ اور درہ آدم خیل میں بھی ایک، ایک شخص کو قتل کیا تھا، گینگ نے اے این پی رہنما مومن خان اور ان کے بھائی کو بھی نشانہ بنایا تھا، ملزمان نے ایک خواجہ سرا کو بھی فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا

  • کرک،کالعدم ٹی ٹی پی کے 8 دہشتگرد ہلاک

    کرک،کالعدم ٹی ٹی پی کے 8 دہشتگرد ہلاک

    کرک میں کالعدم ٹی ٹی پی اور پولیس کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دشوار گزار راستہ ہونے کے باعث لاشیں برآمد نہیں کی جاسکیں۔

    خیبرپختونخوا کے علاقے کرک میں دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ختم ہوگیا، پولیس کی جانب سے سیکیورٹی آپریشن مکمل کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشتگردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث دہشتگردوں کی لاشیں برآمد نہ کی جاسکیں، شدید فائرنگ کے دوران 2 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق آپریشن کالعدم ٹی ٹی پی کلیم اللہ گروپ کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، آپریشن کے بعد کلیم اللہ گروپ کے بچ جانیوالے افراد فرار ہوگئے۔

  • پختون ثقافت ہمیشہ عزت، وقار اور انسانی حرمت کی علمبردار رہی ہے،گورنر خیبر پختونخوا

    پختون ثقافت ہمیشہ عزت، وقار اور انسانی حرمت کی علمبردار رہی ہے،گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے لاہور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھیوں کی جانب سے دیے گئے نازیبا اور توہین آمیز ریمارکس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختون ثقافت ہمیشہ عزت، وقار اور انسانی حرمت کی علمبردار رہی ہے، بالخصوص خواتین کے احترام کو ہمارے معاشرے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے، لاہور میں سامنے آنے والے الفاظ نہ صرف افسوسناک بلکہ شرمناک بھی ہیں، جو ہمارے معاشرتی اقدار کے منافی ہیں۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اختیار اور عہدوں پر فائز افراد سے سیاسی بلوغت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور احترام کا مظاہرہ بھی لازم ہے، کیونکہ ان کے الفاظ صرف ان کی ذات ہی نہیں بلکہ پورے صوبے اور ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست ذاتی حملوں اور کردار کشی کا نام نہیں بلکہ تعمیری مکالمے، اختلافِ رائے کے احترام اور عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ ہونی چاہیے۔گورنر خیبرپختونخوا نے تمام سیاسی قائدین پر زور دیا کہ وہ گندی سیاست سے بالاتر ہو کر گفتار اور کردار میں اعلیٰ اقدار کو اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر زبان و بیان میں شائستگی اور احترام برقرار رکھنا قومی ذمہ داری ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ اور خواتین کے احترام کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر کردار ادا کیا جانا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف سیاسی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی منفی مثال بنتے ہیں، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مثبت، مہذب اور ذمہ دارانہ سیاست کو فروغ دیں تاکہ ملک میں برداشت، احترام اور وقار کی فضا قائم رہ سکے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی،سماعت ملتوی

    پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی،سماعت ملتوی

    پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی کیسز پر لارجر بینچ کی سماعت ملتوی کر دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ، سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی،ایڈوکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور درخواست گزاران کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے درخواستوں پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ نے وقت پر کیوں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست جمع نہیں کرائی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہے اس لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وکیل درخواست گزاران کیا چاہتے ہیں،وکیل اسد قیصر نے کہا کہ اگر پراسیکیوٹر جنرل ملتوی کرنا چاہتے ہیں، کوئی اعتراض نہیں،بس ہماری حفاظتی ضمانت میں توسیع کی جائے،ہمیں نہیں معلوم کہ لارجر بینچ کو کس پر گائیڈ کرنا ہے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ آپ کی جو درخواستیں ہیں، اس پر ہی لارجر بینچ کو اسسٹ کیا جائے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمیں ضمانت درخواست کی وجوہات اور ٹیریٹوریل جریسڈکشن پر اسسٹ کیا جائے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سے قبل بھی پنڈی سے لوگ آئے اور مقدمات کی تفصیلات ہم سے مانگ رہے تھے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزاران کو جب ریلیف دیا جاتا ہے وہ کیا متعلقہ اداروں کے آگے پیش ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں سے ریلیف لے کر سب پیش نہیں ہوتے، کچھ درخواست گزاران ہی ہوئے تھے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر کوئی یہاں سے ضمانت لیتا ہے اور اس کو صحیح استعمال نہیں کرتا، وہ سزا کا مرتکب ہوگا، عدالت نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کی غیر موجودگی کی وجہ سے سماعت ملتوی کی جاتی ہے، وکیل درخواست گزاران اگلی سماعت پر اپنی مکمل رپورٹس جمع کروائیں،جو درخواست گزاران نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر چکے ہیں، ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کی جاتی ہے،جن درخواست گزاران نے متعلقہ عدالتوں سے رجوع نہیں کیا وہ تین دن میں وہاں پیش ہو جائیں،

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کوہلو میں‌7 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کوہلو میں‌7 ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حالیہ تخریب کاری کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی کے سابق رہنما اسلم بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی برسی سے ہو سکتا ہے، جو کل منائی جا رہی ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آج بلوچستان میں ٹرین سروس معطل رہے گی، جبکہ سیکیورٹی فورسز متاثرہ ریلوے ٹریک پر تحقیقات اور مرمتی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مسافروں کی حفاظت اور جلد از جلد ٹرین آپریشن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

    کالعدم بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کے ترجمان، جس نے اپنا نام دوستین بلوچ بتایا، نے ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بیان کے مطابق گروہ کے مسلح افراد نے ریلوے لائن پر بارودی مواد نصب کر کے دھماکہ کیا جس سے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کا عملہ موقع پر پہنچ گیا ہے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کوہلو میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد شدید زخمی ہوئے جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردوں کی شناخت اور وابستگی جانچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    ذرائع کے مطابق رات کے وقت ضلع ٹانک کے علاقے شادی خیل کے قریب گاؤں مغزی/رغزی میں ایک دینی مدرسے کو نامعلوم ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مدرسے کے نو طالب علم زخمی ہو گئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر کے قریبی اسپتالوں منتقل کیا۔ مقامی حکام نے حملے کی مذمت کی اور مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے بچوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ حملے کا مقصد اور ذمہ داران کی شناخت تاحال زیرِ تفتیش ہے۔

    حکام کے مطابق میران علی کے علاقے فقیران چوک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گشت پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں چار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس نے ضلع لکی مروت میں مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت برکت عرف برکتی اور ابوذر کے نام سے ہوئی، جو متعدد جعلی شناختوں کے تحت منظم دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ وہ دہشت گردی، سیکیورٹی فورسز پر حملوں، قتل، اقدامِ قتل اور بھتہ خوری سمیت دس سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ سابق لیویز اہلکار ہدایت اللہ، کانسٹیبل حافظ زینت اللہ اور دیگر افراد کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔ آپریشن وانڈہ امیر خان کے نواحی علاقے میں کیا گیا۔ امن کمیٹی کے مقامی رضاکاروں نے بھی امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن میں ان کا سرغنہ دلاور بھی شامل تھا۔ دلاور متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر حکومت نے 40 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران کالعدم گل بہادر گروپ سے وابستہ ایک خودکش بمبار ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت مہدی کے نام سے ہوئی، جو گزشتہ دو سال سے خودکش حملوں کی تربیت اور منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ وہ تنظیم جیشِ فرسانِ محمد اور اس کی خودکش ونگ خالد بن ولید یونٹ کا رکن تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ گھات لگا کر حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے اسے ہلاک کر دیا، جبکہ دیگر دہشت گرد فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر کے علاقے بارہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس کے دوران کالعدم تنظیم کے مقامی کمانڈر خمیم کے گھر سمیت متعدد دہشت گرد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے بسی خیل تھانے کی حدود میں پولیس نے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی پر وہ پسپا ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری جدید اسلحے اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچی، جس پر حملہ آور موٹر سائیکلیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے موٹر سائیکلیں تحویل میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں نے سیکیورٹی فورسز سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور دہشت گردی کی مذمت کی۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔