Baaghi TV

Category: پشاور

  • کوئی قانونی یا آئینی نقطہ مبہم ہوا تو استعفیٰ واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا

    کوئی قانونی یا آئینی نقطہ مبہم ہوا تو استعفیٰ واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے بطور وزیراعلیٰ استعفے پر شاعرانہ تبصرہ کیا ہے

    نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کےپی علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اب تک موصول نہیں ہوا، استعفیٰ دیکھ کر پتہ چلےگا کہ مستعفی ہونے کی کیا وجہ ہے، کوئی قانونی یا آئینی نقطہ مبہم ہوا تو استعفیٰ واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز علی امین گنڈاپور نے اپنا استعفیٰ دستخط کرکے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو بھجوایا تھا

    گورنرکے پی فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر شاعرانہ تبصرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا.
    کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
    اس طرح تو ہوتا ہےاس طرح کےکاموں میں

    علاوہ ازیں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ علی امین گنڈاپور میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کررہے تھے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرعباد اللہ نے ملاقات کی جس دوران صوبے کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اورمشاورت کی گئی،اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نالائق اور کرپٹ تھے، وہ میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کررہے تھے، کبھی کہتے تھے ریاست کے ساتھ ہیں ، کبھی کہتے تھے دہشتگردوں کے ساتھ ہیں، نئے نامزد وزیر اعلیٰ بھی اتنے قابل نہیں لہٰذا صوبہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا.

  • علی امین گنڈاپور مستعفی،استعفے پر دستخط کر کے گورنر کو ارسال کر دیا

    علی امین گنڈاپور مستعفی،استعفے پر دستخط کر کے گورنر کو ارسال کر دیا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے پر دستخط کر کے گورنر کو ارسال کر دیا ہے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبے کو سنگین معاشی اور امن و امان کے مسائل درپیش تھے، تاہم پارٹی قیادت کے اعتماد اور ڈیڑھ سال کی محنت سے معاشی بحرانوں پر قابو پا لیا گیا۔ انہوں نے کابینہ ممبران اور اپوزیشن ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مخلصانہ انداز میں صوبے کے لیے کام کیا۔آج سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات زیر گردش تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے علی امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا جا رہا ہے۔

    بعدازاں، تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس تبدیلی کی تصدیق کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جائے گا۔سلمان اکرم راجا کے مطابق علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان پر سنگین الزامات لگائے تھے اور انہیں پارٹی میں تقسیم کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے بعد قیادت نے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

    یوں خیبرپختونخوا میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے اور سہیل آفریدی کے نئے وزیراعلیٰ بننے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔

    لاس اینجلس آگ: ملزم 9 ماہ بعد گرفتار، چیٹ جی پی ٹی سے طریقہ پوچھنے کا انکشاف

    صدر زرداری سےن لیگ وفد کی ملاقات، لفظی محاذ آرائی ختم کرنے پر اتفاق

    سعودی کاروباری وفد کا پاکستان مٰیں سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر زور

    اسرائیل اور حماس میں آج جنگ بندی ممکن ہے، ترک وزیرِ خارجہ

  • خیبرپختونخوا، گنڈاپور مستعفی،اپوزیشن متحرک، اجلاس طلب

    خیبرپختونخوا، گنڈاپور مستعفی،اپوزیشن متحرک، اجلاس طلب

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے اور سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کے بعد صوبے میں سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے۔

    قائد حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد اللہ متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نے کل پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔ اپوزیشن اراکین کو تجاویز پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے آج وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی امیدوار ہوں گے۔

    انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور پارٹی میں تقسیم کا ذمہ دار بھی انہیں قرار دیا تھا۔

    منڈی بہاؤالدین: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائی، بیمار و مردار جانوروں کا 500 کلوگرام گوشت برآمد

    چکلالہ گیریژن میں لیفٹیننٹ کرنل جنید طارق اور میجر طیب راحت کی نمازِ جنازہ ادا

  • صوبے میں بدامنی کا ادراک اگر خود پی ٹی آئی نے کیا  تو اچھی بات ہے،مولانا فضل الرحمان

    صوبے میں بدامنی کا ادراک اگر خود پی ٹی آئی نے کیا تو اچھی بات ہے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست آئینی ترمیم سے کیسے پیچھے ہٹ گئے؟

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 16 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس منعقد ہوگی، غزہ میں 70 ہزار بے گناہ لوگ شہید ہوچکے ہیں، امن مارچ کے ساتھ اسرائیل مردہ باد بھی مارچ کا حصہ ہوگا، ہمیں حقیقت پسندانہ بات چیت کرنی چاہیے،پی ٹی آئی 26 آئینی ترمیم سے قبل آخری نشستوں تک ہمارے ساتھ تھی، پوائنٹ اسکورنگ نہ کرے،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی کی خبروں پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا ،صوبے میں بے امنی اور کرپشن انتہا پر ہے ،صوبے میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے فیصلے سے صورتحال کو دیکھ کر اسمبلی میں فیصلہ کریں گے، صوبے میں بدامنی کا ادراک اگر خود پی ٹی آئی نے کیا ہے تو اچھی بات ہے

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کہ 26 ویں آئینی ترمیم کےخلاف لوگ عدالت گئےہیں، یہ ہرپاکستانی کا حق ہے، پی ٹی آئی 26 آئینی ترمیم سے قبل آخری نشستوں تک ہمارے ساتھ شریک تھی، ہم سنجیدہ سیاسی لوگ ہیں ،ہمیشہ حقیقت پسندانہ بات کرنی چاہیے، پی ٹی آئی والے کیسےفریق بنےجو یہ کہہ کرکہ ہم توججوں سےیکجہتی کیلئےآئے ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم میں ہم نے کافی شقیں ختم کیں اور کچھ شامل کیں، کے پی اور بلوچستان میں ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، موجودہ صورتحال پرنظرہے،

  • بنوں میں دہشتگردوں کے حملے، 2 اساتذہ اور بی آئی ایس پی کے 2 اہلکار اغوا

    بنوں میں دہشتگردوں کے حملے، 2 اساتذہ اور بی آئی ایس پی کے 2 اہلکار اغوا

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں مختلف مقامات سے چار سرکاری ملازموں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا، جن میں دو ہائی اسکول کے اساتذہ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے دو کارکن شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق پہلا واقعہ ہوید پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا، جہاں گورنمنٹ ہائی اسکول موسیٰ خان کے ہیڈ ماسٹر اور ایک سینئر ٹیچر کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ بنوں پولیس کے ترجمان کاشف نواز نے بتایا کہ دونوں اساتذہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اسکول سے واپس جا رہے تھے۔ مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ضلع پولیس افسر (ڈی پی او) بنوں سلیم عباس کلاچی نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو میں کہا کہ ہوید پولیس اسٹیشن پہلے بھی دہشت گردوں کے متعدد حملوں کی زد میں رہا ہے اور اس علاقے کو حساس قرار دیا جاتا ہے۔

    ڈی پی او کے مطابق دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب 15 سے 20 دہشت گردوں کے گروپ نے بی آئی ایس پی کے ادائیگی مرکز پر حملہ کیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر صفی اللہ اور سپر وائزر شاہ خالد کو اغوا کر لیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گرد متاثرین سے رقم بھی لوٹ کر لے گئے تاہم اس کی مقدار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    مصر مذاکرات، حماس کے اسرائیل سے مستقل جنگ بندی اور انخلا کے مطالبات

    نیشنل پریس کلب حملہ،جوائنٹ کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ وزارت داخلہ کے حوالے

  • میر علی،انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

    میر علی،انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد

    میرعلی کے نزدیک سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں ایک مشکوک ٹرالی کو روک کر اس سے بڑی مقدار میں ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز سامان برآمد کر لیا گیا۔

    حکام کے مطابق کارروائی قابلِ عمل خفیہ معلومات پر مبنی تھی اور فورسزنے حدِ ہدف کو محاصرہ کر کے فوری کارروائی انجام دی، جس کے نتیجے میں ٹرالی کو مزید منتقل ہونے سے قبل ہی قابو کر لیا گیا۔آپریشن کے دوران ای او ڈی (Explosive Ordnance Disposal — بم و دھماکہ خیز اشیاء سے نمٹنے والی ٹیم) نے موقع پر موجود متعدد چیزیں محفوظ انداز میں ڈسپوز کیں۔ ڈسپوز کی جانے والی اشیاء کی فہرست درج ذیل ہے

    16 آر پی جی (RPG) گولے
    3 روسی قسم کے ہائی ایکسپلوسیو (HE) گرینیڈ
    7 دیگر HE گرینیڈ
    1 اینٹی پرسنل مائن (APM)
    3 تیار شدہ IEDs (بارود سے بنے دھماکہ خیز آلات)
    20 کلو گرام دھماکہ خیز مواد
    5 راؤنڈز 81 ملی میٹر مورٹر گولہ بارود
    15 شاٹ گن راؤنڈز (12 گیج)
    23 آر پی جی-7 کے بوسٹر چارجز
    6 IED فیوزز

    مزید تحقیقات اور عدالتی جانچ پڑتال کے لیے مندرجہ ذیل اشیاء ضبط کر کے لیبارٹری تک بھیج دی گئی ہیں
    3 آر پی جی-7 لانچرز
    1 بھاری مشین گن (زارکائی) کا بیرل
    1 12.7 ملی میٹر بندوق کا زنگ آلود جسمانی حصہ
    2 اضافی بھاری مشین گن کے بیرلز
    1 سب مشین گن کے تحت لگایا جانے والا گرینیڈ لانچر (UBGL) کِٹ
    1 راکٹ لانچر باڈی (نوعیت نامعلوم)
    1 ٹرائی پوڈ ماؤنٹ

    گولہ بارود کی تفصیلی مقدار (جو بعد ازاں فورنزک استعمال کے لیے رکھی گئی):
    1,445 راؤنڈز 12.7 ملی میٹر (AAMG) کی گولیاں
    30,400 راؤنڈز زارکائی کالیبر ہتھیاروں کے لیے
    2,240 راؤنڈز 14.5 ملی میٹر ایچ ایم جی (HMG) گولیاں
    190 پستول راؤنڈز

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنانے کی کوشش میں سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ موقع پر پہنچنے والی ای او ڈی ٹیم نے شواہد کی حفاظت اور ابتدائی تفتیش کے بعد اشیاء کا معائنہ کیا، جبکہ تفتیشی ٹیمیں برآمد شدہ اشیاء کی ماخذ، ممکنہ کارپوریٹرز اور ان کے نیٹ ورک کی شناخت کے لیے مزید تفتیش کر رہی ہیں۔علاقائی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو عارضی طور پر سیل کر رکھا تھا اور اس بات کی تصدیق کی جارہی ہے کہ اس واقعے میں عام شہریوں یا فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا

  • پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج

    تحریک انصاف کی خاتون رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے یہ مقدمہ تھانہ شرقی پشاور میں صنم جاوید کی قریبی دوست خاتون وکیل کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق، صنم جاوید کو پشاور کی ایک مصروف شاہراہ پر اس وقت روکا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، نامعلوم پانچ افراد نے ان کی گاڑی کو زبردستی روکا، انہیں گاڑی سے نکالا اور ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔مدعیہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جائیں، اور ملوث افراد کی شناخت و گرفتاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، تاہم اسپیکر نے اس مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اسپیکر کو وزیراعلیٰ ہاؤس بلا کر عہدہ چھوڑنے کا کہا، لیکن بابر سلیم سواتی نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اسپیکر شپ کا منصب بانی چیئرمین عمران خان نے دیا ہے، اس لیے وہ صرف انہی کی ہدایت پر استعفیٰ دیں گے اور اس حوالے سے براہِ راست عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بابر سلیم سواتی پر سینیٹر اعظم خان سواتی (سابق وفاقی وزیر اور عمران خان کے قریبی ساتھی) نے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات پر بابر سلیم سواتی نے وزیراعلیٰ سمیت مختلف اداروں کو خط لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم بعد میں پارٹی قیادت نے معاملہ دبا دیا تھا۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر بڑھتے اختلافات پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔

    بھارت،مغربی بنگال میں مودی پارٹی پر عوام کا حملہ، رکن پارلیمنٹ زخمی

    عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی ترجمان کے ساتھ اسپیس، سنگین خدشات

    حماس کی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں سخت شرائط

    مقبوضہ لداخ میں کشیدگی برقرار، لہہ اور کرگل اضلاع میں کرفیو نما پابندیاں

  • لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل: سودی لین دین سے تنازعات اور دشمنیاں بڑھنے لگیں

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی)لنڈی کوتل میں لین دین کے معاملات میں سودی نظام کے باعث تنازعات، دشمنیاں اور قتل و قتال کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ عدالتی تاخیر اور نئے نظام کی کمزوریوں نے عوامی مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ فریقین کے درمیان لچک اور تحمل کے بغیر تنازعات کا حل ممکن نہیں، جب کہ پولیس صرف عوامی تعاون سے ہی امن و امان کے مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتی ہے۔

    یہ باتیں ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں منعقدہ “میٹ دی پریس” کے دوران صوبائی وزیر عدنان قادری کے پرسنل سیکرٹری مولانا شعیب قادری، پشاور ہائی کورٹ ضلع خیبر کے سابق ایگزیکٹو ممبر ایڈوکیٹ قبیس شینواری، جے یو آئی (فاٹا) کے سینئر نائب امیر مفتی اعجاز شینواری، ایس ایچ او عشرت شینواری، طورخم کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری اور سماجی رہنما حاجی الیاس شینواری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیں۔

    مقررین نے کہا کہ لنڈی کوتل میں سودی لین دین خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، جب کہ قرآن کریم میں سود کے خلاف اعلانِ جنگ کیا گیا ہے، اس لیے اس کے نتائج بھی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے جرگوں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض جرگہ ثالثان غیر جانبداری کے بجائے فریقین میں سے ایک کو سپورٹ کرتے ہیں اور پیسے لے کر فیصلے کرتے ہیں، جس سے تنازعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ نیا پٹوار سسٹم فسادات کی جڑ بن چکا ہے، اس نظام کے تحت زمینوں کے معاملات میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، جب کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات نے عوام کو انصاف سے محروم کر رکھا ہے۔ مقررین نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب تنازع خونریزی تک پہنچ جاتا ہے تو جرگہ یاد آتا ہے، حالانکہ اگر ابتداء ہی میں صلح جو رویہ اختیار کیا جائے تو بڑے سانحات سے بچا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایف سی آر کے وقت مقامی مشران اکثریتی تنازعات جرگے کے ذریعے حل کرتے تھے، مگر مرجر کے بعد حکومت نے نیا نظام تو نافذ کر دیا لیکن اس کے لیے عوامی تربیت، عدالتی سہولیات اور ادارہ جاتی تیاری نہیں کی۔ مرجر کے بعد اگرچہ عدلیہ اور وکالت کا نظام آیا ہے، مگر لاء فیکلٹی اور تربیت یافتہ عملہ نہ ہونے سے نظام کمزور ہے۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے کالجوں میں لاء فیکلٹی قائم کی جائے تاکہ نوجوان نئے نظام سے واقف ہوں، عدالتی عمل تیز ہو اور انصاف عام آدمی کی دہلیز تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو مل کر عوامی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ نیا نظام عوام کے حق میں مؤثر ثابت ہو۔

  • خیبرپختونخوا حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی اہلکار واپس دے دیے

    خیبرپختونخوا حکومت نے ایمل ولی کو سیکیورٹی اہلکار واپس دے دیے

    خیبرپختونخوا حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ایمل ولی خان کو سیکیورٹی اہلکار واپس فراہم کر دیے۔

    صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ایمل ولی خان کی سیکیورٹی میں کسی قسم کی کمی یا واپسی نہیں کی گئی۔ ترجمان صوبائی حکومت نے بتایا کہ ایمل ولی خان سے ان کے اعتماد اور مرضی کے اہلکاروں کی فہرست حاصل کی گئی ہے تاکہ انہیں سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ترجمان نے کہا کہ ایمل ولی خان کو پہلے ہی ضروری سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے، عوام بے بنیاد پراپیگنڈے کے بجائے سرکاری ذرائع سے جاری معلومات پر بھروسہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی سربراہ نے ریجنل پولیس آفیسر کو اپنے قابلِ اعتماد اہلکاروں کے نام فراہم کیے ہیں اور حالات کے مطابق ان ہی اہلکاروں کو سیکیورٹی پر مامور کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ہدایت دی ہے کہ اگر ایمل ولی خان کو مزید اہلکار درکار ہوں تو فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور کسی سطح پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان نے بیان جاری کیا تھا کہ ایمل ولی خان سے وفاقی سیکیورٹی کے بعد صوبائی پولیس بھی واپس لے لی گئی ہے اور تعینات اہلکاروں کو لائن حاضر کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا تھا کہ ایمل ولی خان کو درپیش خطرات سے متعلق حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا جا چکا ہے، اس کے باوجود سیکیورٹی ہٹانے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

    شہباز شریف ملائیشیا کے سرکاری دورے پر کوالالمپور پہنچ گئے

    لاہور۔راولپنڈی ٹرین کرایوں میں اضافہ، نئی ریٹ لسٹ جاری

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، شہادتوں کی تعداد 19 ہوگئی

    پاکستان کا ابھرتی معیشتوں میں دوسرا نمبر، دیوالیہ ہونے کے خدشات ختم