Baaghi TV

Category: پشاور

  • وزیرِاعلیٰ کا انتخاب،خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کو طلب

    وزیرِاعلیٰ کا انتخاب،خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کو طلب

    خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح 10 بجے طلب کرلیا گیا ہے، جس کے ایجنڈے میں وزیرِاعلیٰ کا انتخاب شامل ہے۔

    سیکریٹری صوبائی اسمبلی کے مطابق امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کل دوپہر 3 بجے تک جمع کروائے جا سکیں گے، جب کہ کاغذات کی جانچ پڑتال 12 اکتوبر کو شام 4 بجے تک مکمل کی جائے گی۔ جانچ پڑتال کے بعد اسپیکر اسمبلی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کریں گے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ 13 اکتوبر کو ہوگی۔

    دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کے انتخاب میں کوئی آئینی پیچیدگی پیدا ہوئی تو عدالت اس کا حل نکالے گی۔

    افغان فورسز کی بھارت کے اشارے پر سرحدی جارحیت،افغان وزیر خارجہ بھارت میں موجود

    پاک افغان فورسز میں جھڑپیں، دو افغان پوسٹیں تباہ ،پانچ اہلکار ہلاک

    پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات ، فرینڈز پینل کی شاندار کامیابی

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا  انتخاب، پی ٹی آئی کا جے یو آئی سے رابطہ، حمایت کی درخواست

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا انتخاب، پی ٹی آئی کا جے یو آئی سے رابطہ، حمایت کی درخواست

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) سے باضابطہ طور پر حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطہ کرلیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کا وفد جے یو آئی کے مرکز پہنچا جہاں وزیراعلیٰ کے انتخاب میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔ وفد میں پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر،عرفان سلیم اور دیگر رہنما شامل تھے۔جے یو آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری سینیٹر مولانا عطا الحق درویش، مولانا جلیل جان اور دیگر رہنماؤں نے پی ٹی آئی وفد کا استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران پی ٹی آئی نے جے یو آئی سے اپنے نامزد امیدوار سہیل آفریدی کی حمایت کی درخواست کی۔

    اس موقع پر جنید اکبر نے بتایا کہ پیر کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کر رہی ہے تاکہ سہیل آفریدی کے حق میں حمایت حاصل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ **پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) سے بھی جلد بات چیت کی جائے گی، جبکہ وہ باچا خان مرکز جا کر اے این پی قیادت سے ملاقات کریں گے۔

    جنید اکبر نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور انہیں مختلف پیشکشیں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو اقتدار سے محروم کیا گیا تو وفاقی حکومت بھی مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

    ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جے یو آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا عطا الحق درویش نے کہا کہ پی ٹی آئی وفد کو خوش آمدید کہا گیا ہے، تاہم وزیراعلیٰ کے انتخاب میں تعاون کے حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی جرگے کی شکل میں مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے۔ "ہم صوبے کو متحد کرنے کے لیے آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جے یو آئی ہمارے امیدوار سہیل آفریدی کی حمایت کرے۔”

    رجب بٹ نے فاطمہ خان کے الزامات مسترد کر دیے،مقدمےکا اعلان

    غزہ میں مٹھائیاں بانٹی جا رہی ہیں، یہاں احتجاج کس بات پر؟ خواجہ آصف

  • علی امین گنڈا پور کا ہاتھ سے لکھا استعفیٰ گورنر ہاؤس موصول،گورنر کی بھی تصدیق

    علی امین گنڈا پور کا ہاتھ سے لکھا استعفیٰ گورنر ہاؤس موصول،گورنر کی بھی تصدیق

    گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق آج دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اپنے عہدے سے دست‌نویس استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس کو موصول ہوا اور اس کی وصولی کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔

    گورنر خیبر پختون خواہ نے کہا کہ آئینِ پاکستان اور متعلقہ قوانین کے مطابق استعفے کی جانچ پڑتال اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ آئینی طریقہ کار کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔گورنر کے پی نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھائے گا۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ پر 11 اکتوبر کی تاریخ درج ہے۔

  • پشاور ،حسن خیل میں دہشتگردوں کا پولیس اسٹیشن پر حملہ، دو خوارج ہلاک، دو زخمی

    پشاور ،حسن خیل میں دہشتگردوں کا پولیس اسٹیشن پر حملہ، دو خوارج ہلاک، دو زخمی

    خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں خوارج نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کر دیا۔ حملے کے دوران پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا

    پولیس کے مطابق خوارج کے ایک گروہ نے رات گئے اچانک حسن خیل پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے مورچہ سنبھال لیا اور بھرپور انداز میں فائرنگ کا جواب دیا۔ پولیس کی بروقت اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں حملہ ناکام بنا دیا گیا۔فائرنگ کے تبادلے میں دو خوارج ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوگئے، جنہیں ان کے ساتھی اٹھاتے ہوئے علاقے سے لے کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ باقی ماندہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا جا سکے۔

    سی سی پی او پشاور نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس نے بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ ان کے مطابق صورتحال پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور مزید سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی کارروائی کو روکا جا سکے۔

  • ہمیں مت دھتکاریئے، ایسا مت کیجئے، ہم پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت ہیں،سلمان اکرم راجہ

    ہمیں مت دھتکاریئے، ایسا مت کیجئے، ہم پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت ہیں،سلمان اکرم راجہ

    تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر سے تبدیلی کی وجہ سے صوبہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی آ رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس تبدیلی کو روکنے کی کوشش ہو گی

    پشاور میں جنید اکبر ،اسد قیصرو دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ تحریک انصاف دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے سرا سر الزام ہے بہتان ہے ہمارے لیے پاکستانی قوم کا خون مقدم ہے۔ ملک کے ہر کونے میں اپنی جان کا نذرانہ دینے والے ہم ہر سپاہی افسران کے ساتھ کھڑے ہیں یہ کہنا کہ ہم کسی کے خون کو کمتر سمجھتے ہیں یہ بہتان ہے ،سپاہی،افسر،پولیس کے اہلکار سب کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم پاکستانی قوم کی آواز ہیں، ہم ہراس منفی طاقت کے خلاف کھڑے ہیں جو پاکستان کو میلی نظر سے دیکھتی ہے،ہم پر سہولت کاری کے الزامات لگائے گئے، ڈرانے کی کوشش کی گئی کہ آپ کو ریاست کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں،ہمیں مت دھتکاریئے، ایسا مت کیجئے، ہم پاکستان کو متحد رکھنے والی قوت ہیں، آج قوم عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے،

    جنید اکبر کا کہنا تھا کہ میں علی امین گنڈاپور کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس کو جیسے ہی حکم ملا اس نے ایک منٹ بھی ضائع نہیں کیا اور استعفٰی دے دیا،ہمارے تمام 92 امیدوار سہیل آفریدی کو ووٹ دیں گے ،ہم سہیل آفریدی کو یقینی طور پر وزیراعلیٰ بنائیں گے ۔

  • پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں علی امین کی نئی ہدایت

    پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں علی امین کی نئی ہدایت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔

    اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ارکان اسمبلی کو پشاور میں رہنے کی ہدایت دی۔ذرائع کے مطابق علی امین نے کہا کہ گورنر غلط بیانی کر رہے ہیں کہ استعفیٰ نہیں ملا، استعفیٰ گورنر ہاؤس میں جمع کرایا گیا ہے اور اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔اجلاس میں نامزد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ علی امین میرے بڑے ہیں اور میں ان سے رہنمائی لوں گا۔ادھر وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد علی امین گنڈاپور ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے۔ روانگی سے قبل انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے اسٹاف سے مصافحہ کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

    گزشتہ روز علی امین گنڈاپور نے واضح کیا تھا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور اب اگر بانی پی ٹی آئی بھی کہیں گے تو وہ اپنا فیصلہ واپس نہیں لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ عام ورکر کی طرح پارٹی کے ساتھ کام کریں گے، جبکہ مخالفین کو چیلنج دیا کہ سیاسی کوشش کرکے دیکھ لیں، خیبر پختونخوا حکومت نہیں گرائی جا سکتی۔

    امریکہ میں بارودی مواد بنانے والے پلانٹ میں دھماکا، متعدد ہلاک و لاپتہ

    ٹرمپ کے دورہ اسرائیل کے لیے سیکیورٹی پلان ، سڑکیں بند ، پابندیاں عائد

    اگر دہشت گرد افغانستان سے آئے تو اُن کے پیچھے جائیں گے،خواجہ آصف

    ٹرمپ کو بڑا جھٹکا،شکاگو میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی معطل

  • علی امین گنڈاپور کا وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ گورنر کو موصول

    علی امین گنڈاپور کا وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ گورنر کو موصول

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ گورنر خیبر پختونخوا کو جمع کرا دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے میں لکھا کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور بانی عمران خان کے احکامات کی تعمیل میں یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 130 کی شق (8) کے تحت وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔اپنے استعفے میں سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ جب انہوں نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو صوبہ مالی مشکلات اور دہشت گردی کے سنگین خطرات سے دوچار تھا۔ ’’ہم نے عمران خان کی رہنمائی میں مالی استحکام حاصل کیا اور صوبے کو امن و ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔‘‘

    علی امین گنڈاپور نے اپنے کابینہ کے اراکین، اراکینِ اسمبلی، سرکاری افسران اور پارٹی کارکنان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر معمولی حالات میں بھی ثابت قدمی سے صوبے کی خدمت کی۔انہوں نے کہا کہ میں یہ دعویٰ تو نہیں کر سکتا کہ ہر چیلنج میں کامیاب ہوا، لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت میں ہمیشہ خلوص اور دیانت داری سے کام کیا۔

    استعفے کے آخر میں انہوں نے پاکستان اور پاکستان تحریکِ انصاف کے حق میں نعرہ تحریر کیا کہ پاکستان زندہ باد، پاکستان تحریکِ انصاف پائندہ باد۔استعفے پر علی امین گنڈاپور کے دستخط کے ساتھ تاریخ 8 اکتوبر 2025 درج ہے۔

    نئی دہلی میں افغان وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیا

  • وزیراعلیٰ کا کوئی آفیشل استعفیٰ موصول نہیں ہوا،  گورنر خیبر پختونخواہ

    وزیراعلیٰ کا کوئی آفیشل استعفیٰ موصول نہیں ہوا، گورنر خیبر پختونخواہ

    گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ان کے پاس وزیراعلیٰ کا کوئی آفیشل استعفیٰ نہیں پہنچا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ جب بھی وزیراعلیٰ کا استعفیٰ موصول ہوگا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملٹری سیکرٹری کو استعفیٰ ملنے کی خبریں بے بنیاد اور فیک نیوز ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان اپوزیشن لیڈر ہی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پوری پی ٹی آئی یومِ نجات منا رہی ہے۔

    سینیٹ میں ہنگامہ آرائی: پی ٹی آئی کا قائم مقام چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ

  • گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    گنڈا پور کا استعفیٰ، اپوزیشن متحرک، نیا وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں تیز

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد صوبے میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے بدلنے لگا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے سرگرم مشاورت شروع کر دی ہے اور اراکین اسمبلی کو پشاور میں قیام کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے مستعفی ہونے کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے رابطے تیز کر دیے ہیں اور مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ نئے وزیراعلیٰ کے لیے متفقہ امیدوار کے نام پر مشاورت جاری ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی پشاور میں موجود ہیں اور اپوزیشن قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے مشترکہ امیدوار لانے پر متفق ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و نشریات اختیار ولی خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال پر متحدہ اپوزیشن میں تفصیلی مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعلیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے پر متفق ہیں تاکہ صوبے میں سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکے۔ادھر پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے جنرل سیکرٹری ملک حبیب نور اورکزئی نے بھی گفتگو میں تصدیق کی کہ ان کی جماعت اپوزیشن کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو گئی تو جے یو آئی (ف) کے امیدوار کو وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے لایا جا سکتا ہے۔ پارٹی آزاد اراکین سے بھی رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کو کامیابی دلانے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کی جا سکے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبرپختونخوا میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں برسراقتدار آنے کے لیے متحد ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔

  • نیب کی کاروائی، 40 ارب روپے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار

    نیب کی کاروائی، 40 ارب روپے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار

    نیب نے 40 ارب روپے کے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث ایک سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر جعلی کمپنی کے ذریعے سرکاری خزانے سے براہ راست 3 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول کرنے اور مختلف بینکوں میں اپنے اکاؤنٹس کے ذریعے 16 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز کرنے کے الزامات ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق نیب حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری تاریخی اسکینڈل کی تحقیقات میں ایک بڑی پیشرفت ہے، تفتیش سے مزید ملزمان کے نام سامنے آئیں گے،گرفتار ملزم جو ایم/ایس ممتاز خان کنسٹرکشن کمپنی کے نام سے جعلی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر تھا اسے نیب خیبر پختونخوا نے ایبٹ آباد سے گرفتار کیا، بعد ازاں اسے پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے نیب کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا تاکہ مزید تفتیش اور شواہد کی برآمدگی ممکن ہو سکے۔

    نیب کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم ماضی میں ایک عام ڈمپر ڈرائیور تھا، تاہم اس نے دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر جعلی کمپنی قائم کی جس کے ذریعے سرکاری خزانے سے خطیر رقم خرد برد کی گئی،یہ رقم مبینہ طور پر ٹھیکیداروں کے سکیورٹی ڈپازٹ ہیڈ آف اکاؤنٹ (G-10113) سے نکالی گئی، جو دراصل سرکاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے ضمانتی رقم کے طور پر رکھی جاتی ہے،تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی کمپنی اور اس کے بینک اکاؤنٹس خرد برد شدہ رقوم کی منتقلی کے مرکزی ذرائع کے طور پر استعمال ہوئے۔