Baaghi TV

Category: پشاور

  • پشاور میں پیپلز پارٹی کی "صوبہ بچاؤ تحریک” پر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی کیمپ کو آگ لگ گئی

    پشاور میں پیپلز پارٹی کی "صوبہ بچاؤ تحریک” پر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی کیمپ کو آگ لگ گئی

    خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی "صوبہ بچاؤ تحریک” کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے، جب ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی کیمپ کو آگ لگا دی۔احتجاج جناح پارک سے شروع ہوا اور خیبرپختونخوا اسمبلی چوک تک پہنچا، جہاں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ باچا نے خطاب کیا۔خطاب کے بعد مظاہرین نے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی، اسمبلی کے گیٹ پر چڑھائی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔

    پولیس نے شلنگ کی جس سے مظاہرین بکھر گئے، تاہم مظاہرین نے اسمبلی کے قریب قائم پی ٹی آئی احتجاجی کیمپ پر دھاوا بول دیا اور سامان کو آگ لگا دی۔آگ کے باعث کیمپ میں موجود گیس سلنڈر پھٹ گیا۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان کی شلنگ کے دوران حالت غیر ہو گئی، جنہیں فوری طبی امداد دی گئی۔

    ایس ایس پی آپریشنز مسعود بنگش کے مطابقپولیس صرف ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے تعینات تھی، کچھ نقاب پوش مظاہرین نے ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کی۔”انہوں نے مزید کہا کہ کیمپ کو آگ لگانے والے شرپسندوں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لی جائے گی۔”

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا:صوبائی حکومت نے اپنی کرپشن چھپانے کے لیے پرامن سیاسی کارکنوں پر شیلنگ کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے۔”ے پی کی نااہل حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔”آج ہر شہری ‘صوبہ بچاؤ تحریک’ کی آواز ہے۔”

    یاد رہے کہ پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا میں مبینہ کوہستان اسکینڈل، گندم کرپشن اور بڑھتی بیروزگاری کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، یہ تحریک صوبے کو بدانتظامی، اقربا پروری اور کرپشن سے نجات دلانے کی کوشش ہے۔

    ماہرین کے مطابق، خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کی موجودگی اور سرگرمی سیاسی توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن احتجاج میں تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر جب واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    بھارت، لالو پرساد یادیو نے بیٹے کو خاندان اور پارٹی سے نکال دیا

    مورو احتجاج: شرجیل میمن نے مظاہرین کے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کی ویڈیوز پیش کردیں

    حماس کا امریکی جنگ بندی تجویز سے اتفاق، اسرائیل کی تردید

  • چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان اور ایمل ولی خان میں صلح

    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان اور ایمل ولی خان میں صلح

    چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے باچا خان مرکز پشاور کا دورہ کیا، جہاں ان کا استقبال اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے پشتون روایات کے مطابق کیا اور ان کا جرگہ قبول کر لیا۔

    باغی ٹغی وی کے مطابق اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ جو واقعہ پیش آیا وہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا تھا، اور اُس روز بھی میں نے معذرت کی تھی، آج ایک بار پھر تمام گلے شکوے دور کرنے اور باچا خان مرکز آنے کا مقصد بھی یہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹر ایمل ولی خان اور ان کے خاندان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

    مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ باچا خان مرکز تمام مظلوموں اور پشتونوں کا گھر ہے، یہاں ہمیشہ روایتی جرگوں کے ذریعے مسائل حل کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پشتون روایات کا احترام کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کے جرگے کو قبول کرتا ہوں، اور باچا خان مرکز پشاور میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

    سینئر سیاستدان کمال الدین اظفر انتقال کر گئے

    کویت کیجانب سے 19 سال بعد پاکستانیوں کیلئے دروازے کھل گئے

  • اسلام میں کفر اور حق آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    اسلام میں کفر اور حق آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ٕخیبر پختونخوا کی جامعات کے طلبہ سے ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ملاقا ت کی-

    خیبر پختونخوا کی جامعات کے زائد طلبہ نے ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ساتھ ایک نشست میں شرکت کی ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد“ اور ”پاک فوج زندہ باد، کشمیر بنے گا پاکستان“ جیسے فلک شگاف نعروں نے ماحول کو گرما دیا طلبہ نے اپنے جوش و جذبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔

    ی جی آئی ایس پی آر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں (بھارت) نے سوچا کہ حملے کریں گے اور پاکستان جواب نہیں دے گا آپ نے دیکھا آپ سب کس طرح اپنے ملک کے پیچھے کھڑے ہوئے اپنے ملک کے پیچھے پورا پاکستان کھڑا ہوا اللہ کے حکم سے یہ آہنی دیوار کھڑی ہوئی آہنی دیوار نے وہ تمام غلط حکمت عملی جو بھارت، مودی نے کی تھی، اس کو غلط ثابت کیا۔‘

    انہوں نے کہا کہ خارجی نورولی کہتا ہے شریعت میں اجازت ہے آپ کافر سے مدد لے سکتے ہیں، مگر اسلام میں کفر اور حق آپس میں اکٹھے نہیں ہوسکتے وہ سمجھے تھے کہ یہاں کے عوام اور فوج ایک دوسرے سے دور ہیں یہ قوم اور فوج ہمیشہ سے متحد تھی، متحد رہے گی،’ہمارا پہلا انتخاب امن ہے۔‘

  • 40 ارب کا اسیکینڈل،تحقیقات کے دوران اکاؤنٹنٹ جنرل کا تبادلہ،پی اے سی کا اظہار ناراضگی

    40 ارب کا اسیکینڈل،تحقیقات کے دوران اکاؤنٹنٹ جنرل کا تبادلہ،پی اے سی کا اظہار ناراضگی

    پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اسپیکر بابر سلیم سواتی نے 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل کی انکوائری کے دوران صوبے کے اکاؤنٹنٹ جنرل، نصیرالدین سرور، کے اچانک تبادلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

    22مئی 2025 کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اسلام آباد کے نام ایک مراسلے میں، کمیٹی کے چیئرمین نے اس تبادلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کی ہے،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے نصیرالدین سرورکے اچانک تبادلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کنٹرولر جنرل سے وضاحت طلب کرلی، بابر سلیم سواتی نے کہا کہ تبادلے کا وقت اور اس کے اثرات تشویشناک ہیں، اس نوعیت کی مالی بے ضابطگیاں متعلقہ افسران کی ملی بھگت یا غفلت کے بغیر ممکن نہ تھیں، 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات اور مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نصیرالدین کو ڈی جی انویسٹی گیشن، ویجیلنس و ریگولیشن تعینات کیا گیا جہاں اب وہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے انچارج ہوں گے۔

    خط، اسپیکر کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو لکھا گیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ان خدشات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تبادلے کا وقت اور اس کے اثرات تشویشناک ہیں.

  • ایوب میڈیکل کالج میں کروڑوں کی مبینہ بدعنوانی، جعلی گارنٹی پر ادائیگی کا انکشاف

    ایوب میڈیکل کالج میں کروڑوں کی مبینہ بدعنوانی، جعلی گارنٹی پر ادائیگی کا انکشاف

    ایوب میڈیکل کالج میں فیبریکیٹڈ عمارت کی تعمیر کے منصوبے میں کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے، جس میں ایک ٹھیکیدار کو جعلی بینک گارنٹی جمع کروا کر بغیر کام کیے خطیر ادائیگی حاصل کرنے کا الزام ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق 16 کروڑ روپے کا معاہدہ 18 کروڑ تک پہنچا دیا گیا۔ایوب میڈیکل کالج کے ڈین، ڈاکٹر ثاقب ملک کے مطابق 2021 میں ایک تعمیراتی ٹھیکہ منظور کیا گیا، جس کے تحت عمارت چھ ماہ میں مکمل ہونا تھی۔ تاہم، ابتدائی کام کے بعد ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر منظر سے غائب ہو گیا۔

    ادارے نے ٹھیکیدار کو ساڑھے 8 کروڑ روپے ادا کیے، حالانکہ بلڈنگ کا صرف جزوی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا۔ مزید برآں، تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جمع کروائی گئی بینک گارنٹی جعلی تھی، جبکہ معاہدے کی لاگت بھی غیر معمولی طور پر بڑھا دی گئی۔ذرائع کے مطابق معاملے میں ملوث افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، تاہم متعلقہ اہلکاروں نے سروسز ٹربیونل سے حکم امتناع حاصل کر کے کارروائی رکوا دی ہے۔

    وضح رہے کہ ایوب میڈیکل کالج میں سامنے آنے والا یہ اسکینڈل اعلیٰ سطحی احتسابی عمل کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ سرکاری وسائل کے غیر شفاف استعمال کو روکا جا سکے۔

    فرانس: 300 بچوں سے زیادتی کے اعتراف پر سابق سرجن کو 20 سال قید دینے کی سفارش

    روس اور یوکرین کے درمیان سب سے بڑا قیدیوں کا تبادلہ، 390 افراد رہا

    بھارتیہوں نےپاکستان سے جنگی شکست کا غصہ مٹھائیوں پر اتار دیا

    ایف آئی اے کی کارروائی: انسانی اسمگلنگ میں ملوث 4 بدنام زمانہ ملزمان گرفتار

  • بنوں میں‌پولیس چوکی پر حملہ، ایک اہلکار زخمی

    بنوں میں‌پولیس چوکی پر حملہ، ایک اہلکار زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں گزشتہ شب دہشتگردوں کی جانب سے پولیس چوکی فتح خیل پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا، تاہم وہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سجاد خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ رات گئے پیش آیا جب دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔ پولیس کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کے باعث ایک بڑے نقصان سے بچا گیا، اور حملہ آور فرار ہوگئے۔حملے کے بعد موقع پر پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی۔ آر پی او سجاد خان، ڈی پی او بنوں سلیم عباس کلاچی اور ایس پی سی ٹی ڈی آپریشنز کی قیادت کے لیے خود جائے وقوعہ پر پہنچے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ پولیس افسران نے اہلکاروں کا حوصلہ بڑھایا اور علاقے کی مکمل نگرانی کا حکم دیا۔پولیس کے مطابق، حملے میں ایک کانسٹیبل شدید زخمی ہوا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے کہا ہے کہ علاقے کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کر دی گئی ہے اور کسی بھی مشتبہ فرد کی اطلاع پر فوری کارروائی کی جائے گی۔

  • پشاور ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا تاریخی دھرنا کامیابی سے ہمکنار

    پشاور ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کا تاریخی دھرنا کامیابی سے ہمکنار

    خیبر پختونخواہ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کا طویل، پرامن اور منظم احتجاجی دھرنا بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہو گیا۔ حکومت نے سروس اسٹرکچر سمیت لیڈی ہیلتھ ورکرز کے تمام دیرینہ مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔دھرنے کے دوران درج کی گئی تمام ایف آئی آرز ختم کر دی گئی ہیں، بند کی گئی گاڑیاں ریلیز کر دی گئی ہیں اور جن مظاہرین سے موبائل فون ضبط کیے گئے تھے، وہ بھی واپس کر دیے گئے ہیں۔

    دھرنے کی کامیابی کے لیے شاہین ہیلتھ ورکرز کی صدر اختر بی بی، جنرل سیکرٹری عشرت ملک نے مسلسل جدوجہد اور کاوشیں کی۔لیڈی ہیلتھ ورکرز نے بھی اپنے حقوق کے لیے پرامن طریقے سے آواز بلند کی اور بالآخر کامیابی حاصل کی۔ دھرنے کی اس تاریخی کامیابی پر پاکستان ملی لیبر فیڈریشن خیبر پختونخواہ کے چیئرمین وزیرزادہ اور صدر اختر خٹک نے شاہین یونین کی قیادت، تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دھرنے میں شریک تمام طبقات کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مرکزی صدر میاں غلام مصطفی اور جنرل سیکرٹری رانا جبران کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دھرنے کے ہر مرحلے میں بھرپور ساتھ دیا۔ انہی کی قیادت اور تعاون سے دھرنا خوش اسلوبی سے اور بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے اختتام پذیر ہوا۔انہوں نے کہا کہ جب بھی محنت کش طبقے پر مشکل وقت آیا، پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔انہوں نے دھرنے کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام رہنماو¿ں اور شخصیات کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

  • لنڈی کوتل: تعلیم و صحت کا بحران، اے این پی نے بچاؤ تحریک کا اعلان کر دیا

    لنڈی کوتل: تعلیم و صحت کا بحران، اے این پی نے بچاؤ تحریک کا اعلان کر دیا

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی تحصیل لنڈی کوتل کے صدر زبیر ولی شینواری نے کہا ہے کہ لنڈی کوتل میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کا بحران سنگین شکل اختیار کر چکا ہے، عنقریب "لنڈی کوتل بچاؤ تحریک” کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ وہ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر اے این پی کے جنرل سیکرٹری عبدالجبار آفریدی، سینئر نائب صدر شفیع اللہ، حاجی پرویز، سمید اللہ، ندیم اور اظہار آفریدی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    زبیر ولی شینواری نے کہا کہ لنڈی کوتل میں تعلیم کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے، حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر 37 پرائمری اسکولوں کے غیر فعال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جو نہایت تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں، دوسری جانب موجودہ اسکولوں میں سٹاف کی شدید قلت ہے۔ "پرائمری اسکولوں میں اکثر صرف دو اساتذہ تعینات ہیں، جن میں سے ایک بھی اگر چھٹی پر ہو تو دوسرے کو ایک سو سے زائد بچوں کو سنبھالنا پڑتا ہے، یہ ناانصافی ہے اور تعلیم کے ساتھ کھلا مذاق ہے”، انہوں نے کہا۔

    زبیر شینواری کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے سخت ترین دور میں بھی تعلیم کو فروغ دیا، لیکن آج جب حالات نسبتاً بہتر ہیں تو صوبائی حکومت نہ نئے اسکول تعمیر کر رہی ہے اور نہ ہی موجودہ اداروں کو مطلوبہ سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کہ وہ اس تحریک میں اے این پی کا ساتھ دیں کیونکہ تعلیم اور صحت کے مسائل کسی ایک پارٹی نہیں بلکہ پورے علاقے کا اجتماعی مسئلہ ہیں۔

    پریس کانفرنس کے دوران جنرل سیکرٹری اے این پی لنڈی کوتل، عبدالجبار آفریدی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال لنڈی کوتل میں جاری مسائل پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی طور پر اسپتال میں 22 ڈاکٹروں کی تعیناتی ضروری ہے مگر اس وقت صرف 11 ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں سے اکثر اکثر غیر حاضر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں بجلی کا مستقل مسئلہ بھی موجود ہے، جس کے باعث بلڈ بینک سمیت دیگر اہم شعبے مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔

    عبدالجبار آفریدی نے مزید کہا کہ ضلع خیبر میں محکمہ صحت کی نئی آسامیوں میں لنڈی کوتل کے نوجوانوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کو قانونی طور پر لنڈی کوتل ہسپتال میں موجود ہونا چاہیے، لیکن ان کا دفتر جمرود میں قائم ہے جو مقامی آبادی کے ساتھ ایک اور زیادتی ہے۔

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیر صحت، وزیر تعلیم اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ لنڈی کوتل کے تعلیم اور صحت کے مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر فعال اسکولوں کو فعال کیا جائے، اسپتال میں ڈاکٹروں اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور لنڈی کوتل کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیے جائیں۔

  • بنوں اور لکی مروت سے پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آ گئے

    بنوں اور لکی مروت سے پولیو کے 2 نئے کیسز سامنے آ گئے

    پشاور:خیبر پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے صوبے میں رواں سال پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق، بنوں اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے دو کمسن بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہےنیشنل انسٹیٹیو ٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے انسداد پولیو نے ان کیسز کی تصدیق کی ہے بنوں کی یونین کونسل سین تانگہ سے 28 ماہ کے ایک بچے میں جبکہ لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی سے 26 ماہ کی ایک بچی میں وائرس پایا گیا۔

    ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، یو سی بخمل احمد زئی لکی مروت میں سینکڑوں بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں۔

    بھارت کو رافیل کی فروخت،کرپشن،فرانس میں تحقیقات،جج کو ذمہ داری مل گئی

    محکمہ صحت کے مطابق، رواں سال خیبر پختونخوا میں بنوں سے دو جبکہ تورغر، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہےملک بھر میں اب تک پولیو کے کل 10 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں خیبرپختونخوا سے 5، سندھ سے 4 اور پنجاب سے ایک کیس شامل ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 2024 میں ملک بھر میں پولیو کے 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، ان میں بلوچستان سے 27، سندھ سے 23، خیبرپختونخوا سے 22 جبکہ پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس شامل تھا۔

    شالیمار ایکسپریس ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 5 زخمی

    محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو سے بچاؤ کے لیے بچوں کو بروقت ویکسین دلائیں اور انسداد پولیو مہمات میں بھرپور تعاون کریں۔

  • خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 3بچوں سمیت 5 افراد شہید

    خضدار میں اسکول بس کے قریب دھماکا ، 3بچوں سمیت 5 افراد شہید

    خضدار میں زیرو پوائنٹ کے قریب دھماکے سے بس میں سوار 3بچوں سمیت 5 افراد شہید ہو گئےہیں

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایک اور بزدلانہ اور بھیانک حملے میں جس کی منصوبہ بندی بھارت کی دہشت گرد ریاست نے کی تھی اور بلوچستان میں اس کے پراکسیوں نے اسے انجام دیا تھا، آج خضدار میں اسکول جانے والے معصوم بچوں کی بس کو نشانہ بنایا گیا میدان جنگ میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد ان گھناؤنی اور بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے کے لیے بھارتی پراکسیوں نے میدان مار لیا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین معصوم بچے اور دو بالغ افراد شہید ہوئے اور متعدد بچے زخمی ہوئے ہیں آپریشن بنیان المر صوص میں ناکام ہونے کے بعد، ان بھارتی دہشت گرد پراکسیوں کو بھارت کی طرف سے پاکستان میں معصوم بچوں اور شہریوں جیسے نرم اہداف کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے ریاستی آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    بھارتی سیاسی حکومت کی طرف سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کا استعمال نفرت انگیز اور ان کی پست اخلاقی اور بنیادی انسانی اصولوں کو نظر انداز کرنے کا عکاس ہے اس بزدلانہ بھارتی اسپانسرڈ حملے کے منصوبہ سازوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں اور انجام دینے والوں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔

    پاکستان کی مسلح افواج بہادر پاکستانی قوم کی حمایت کے ساتھ، اپنے تمام مظاہر میں پاکستان سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی خضدار میں اسکول بس پر دہشتگرد حملے کی شدید مذمت
    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول بس پر دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز اور تعلیم دشمن کارروائی قرار دیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں شہداء کے اہل خانہ سے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف پاکستان کے مستقبل، بلکہ تعلیم، امن اور ترقی پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے ان دہشتگردوں نے اسکول بس کو نشانہ بنا کر درندگی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ "بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا یہ سفاکانہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور امن کے قیام سے خائف ہیں۔ معصوم بچوں پر حملہ ان کی گھناؤنی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔”

    انہوں نے متاثرہ بچوں کے والدین کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اس کربناک سانحے پر غم زدہ ہے اور لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔وزیراعظم نے دہشتگردی میں ملوث عناصر کی فوری نشاندہی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ "ان سفاک دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ریاست پاکستان کسی صورت ایسے بزدلانہ حملوں کو برداشت نہیں کرے گی۔”انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے بھارتی ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔وزیراعظم نے اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ حملے کے ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کریں اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ آئندہ کوئی بھی دشمن قوت بچوں، تعلیمی اداروں یا پاکستان کے مستقبل کو نشانہ نہ بنا سکے۔

    ادھروزیر داخلہ محسن نقوی نے خضدار دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں، ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں-