Baaghi TV

Category: پشاور

  • لنڈی کوتل:ڈی ایچ کیو ہسپتال، کرپشن کے خلاف پیرا میڈیکس کا دھرنا، انتظامیہ پر سنگین الزامات

    لنڈی کوتل:ڈی ایچ کیو ہسپتال، کرپشن کے خلاف پیرا میڈیکس کا دھرنا، انتظامیہ پر سنگین الزامات

    لنڈی کوتل (تحصیل رپورٹر مہد شاہ شینواری) ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں پیرا میڈیکل اسٹاف نے مبینہ کرپشن، بدانتظامی، رشوت خوری اور اقرباپروری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال کے احاطے میں دھرنا دے دیا ہے۔ یہ احتجاج پاکستان پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر ولی خان آفریدی کی قیادت میں کیا جا رہا ہے، جس میں منتخب عوامی نمائندے، سماجی کارکن اور مقامی عمائدین بھی شریک ہیں۔

    مظاہرین نے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس)، ڈپٹی ایم ایس اور کلریکل عملے پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد کی گئی، پوسٹنگز اور ڈیوٹی تبادلوں میں رشوت کا بازار گرم ہے اور سرکاری رہائش گاہوں کا غیر قانونی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک مقامی این جی او کی خاتون کو خلاف ضابطہ اسٹاف کوارٹر میں ٹھہرایا گیا جبکہ ہیلتھ مینجمنٹ کمیٹی (ایچ ایم سی) فنڈز ممبران کی منظوری کے بغیر نکلوائے گئے۔

    ولی خان آفریدی نے الزام لگایا کہ ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں کی تعداد آٹھ سے کم ہو کر صرف دو رہ گئی ہے، صفائی، لیبارٹری اور پیتھالوجی کے شعبے بری طرح متاثر ہیں، اور گوسٹ ملازمین کو تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ اے آئی پی پروگرام کے تحت بھرتی کیے گئے عملے کی تنخواہوں سے ناجائز کٹوتیاں کی جا رہی ہیں اور این او سی کے اجرا میں رشوت طلب کی جاتی ہے۔

    ڈینٹل بلاک کی مرمت جیسے دیرینہ مسائل بھی حل نہیں کیے جا رہے جبکہ مستقل ایم ایس کی عدم تقرری سے ہسپتال کی نگرانی مفلوج ہو چکی ہے۔ موجودہ ایم ایس کو جمرود اور لنڈی کوتل دونوں ہسپتالوں کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو موثر انتظامی کنٹرول کے لیے ناکافی ہے۔

    تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی متعدد کوششیں اب تک ناکام ہو چکی ہیں، اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، دھرنا جاری رہے گا۔

    سماجی کارکن اختر علی شینواری نے بھی دھرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ماہر ڈاکٹروں کی کمی نے غیر تربیت یافتہ افراد کو اسپتال کے نظام کو غلط استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس سے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ہسپتال کے ایک اہلکار نے سابق ایم ایس جمشید شیرانی کے دور کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نظم و ضبط کے سخت نفاذ کی وجہ سے ہسپتال میں بہتری لائے تھے۔

    مقامی صحافیوں کی جانب سے جب یہ معاملہ صوبائی وزیر عدنان قادری کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ معاملہ اعلیٰ حکام کے ساتھ اٹھائیں گے اور جلد از جلد ہسپتال کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ یہ احتجاجی دھرنا آج دوسرے روز بھی جاری رہا اور مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • لنڈی کوتل:ایٹا ٹیسٹ کے دوران زبردستی موبائل چھین کر بدنام کیا گیا، امیدوار کا الزام

    لنڈی کوتل:ایٹا ٹیسٹ کے دوران زبردستی موبائل چھین کر بدنام کیا گیا، امیدوار کا الزام

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)ایٹا ٹیسٹ کے دوران زبردستی موبائل چھین کر بدنام کیا گیا، امیدوار کا الزام،اسلامیہ کالج پشاور میں ڈی ایم پوسٹ ٹیسٹ کے دوران امیدوار کی بےعزتی، پریس کانفرنس میں انصاف کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق شاکر اللہ آفریدی نے ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 18 مئی 2025 کو اسلامیہ کالج پشاور میں ایٹا کے زیر اہتمام منعقدہ اساتذہ بھرتی ٹیسٹ (ڈی ایم پوسٹ) کے دوران ان کے ساتھ سخت زیادتی کی گئی۔ شاکر اللہ کا کہنا تھا کہ پرچہ کے دوران ایٹا کے ایک ممتحن نے ان کی جیب سے زبردستی موبائل فون چھین لیا جو بند حالت میں تھا، لیکن ممتحن نے اُسے غلط رنگ دے کر اُن پر موبائل کے استعمال کا الزام لگا دیا جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا۔

    انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اسی دوران ممتحن نے زبردستی ان کی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی اور ان کے خلاف من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگا کر اُن کی تضحیک کی، جس سے ان کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہوئی۔ شاکر اللہ کے مطابق واقعے کے بعد نہ صرف ان کا موبائل فون واپس نہیں کیا گیا بلکہ اُن کا امتحانی پرچہ بھی منسوخ کر دیا گیا، جو اُن کے ساتھ صریح ناانصافی اور ظلم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو بنوں میں ایٹا ٹیسٹ کے دوران جو پرچے آؤٹ ہوئے تھے، اُن کو ایٹا کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیوں نہیں کیا گیا اور اُن میں ملوث افراد کو اب تک سزا کیوں نہیں دی گئی، حالانکہ اُن کے خلاف ثبوت موجود تھے اور وہ پکڑے بھی گئے تھے۔

    پریس کانفرنس کے اختتام پر شاکر اللہ آفریدی نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کوئی اہلکار کسی غریب طالب علم کے مستقبل سے نہ کھیلے۔

  • خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، 9 دہشتگرد ہلاک

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، 9 دہشتگرد ہلاک

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات پر متعدد کامیاب کارروائیوں کے دوران بھارتی سرپرستی میں سرگرم 9 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا، جبکہ وطن کے دو سپوت مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، لکی مروت میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی کارروائی میں 5 دہشتگرد مارے گئے، جن کا تعلق بھارت کے حمایت یافتہ خارجی گروہوں سے تھا۔دوسری جانب، بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران مزید 2 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی کوشش کو بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیا گیا، جس میں 2 حملہ آور مارے گئے، تاہم افسوسناک طور پر پاک فوج کے دو جوان، سپاہی فرہاد علی طوری (ضلع کرم) اور لانس نائیک صابر آفریدی (ضلع کوہاٹ)، مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔

    پاک فوج نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قربانیاں قوم کا حوصلہ بلند کرتی ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق، متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، اور ہر دہشتگرد کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’افواجِ پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

    سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    روس کا یوکرین پر سب سے بڑا ڈرون حملہ، متعدد مکانات تباہ، خاتون ہلاک

    سیالکوٹ: ٹیکس بار کے نئے سیکرٹری چوہدری شیراز اسلم کو مبارکباد، وکلا کا نیک خواہشات کا اظہار

  • لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ،مسیحاغائب

    لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ،مسیحاغائب

    لنڈی کوتل(مہد شاہ شینواری کی رپورٹ)لنڈی کوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال عوام کی چیخ و پکار کا مرکز بن گیا ، سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی نے مریضوں کی زندگی داؤ پر لگا دی

    لنڈی کوتل کے عوام چیخ رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں لیکن ان کی آواز شاید ان ایوانوں تک نہیں پہنچ رہی جہاں سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے فیصلے ہوتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل جو پورے علاقے کے مریضوں کے لیے امید کی آخری کرن ہے، اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، مستقل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) نہ ہونا اور عملے کی غیر سنجیدگی نے ہسپتال کو ایک بے یار و مددگار عمارت میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں مریض قسمت کے سہارے پڑے ہوتے ہیں۔

    ہسپتال کے ایک سینئر اہلکار اور ضلع خیبر پیرامیڈیکس کے صدر ولی خان آفریدی نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی اور مستقل ایم ایس کی عدم تعیناتی کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ایم ایس کے ذمے جمرود ہسپتال کی ذمہ داریاں بھی ہیں، جس کے باعث وہ لنڈی کوتل میں باقاعدگی سے موجود نہیں رہتے۔ ولی خان نے اعلان کیا ہے کہ پیر کو مقامی مشران اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک اہم اجلاس بلایا گیا ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

    فلاحی کارکن اختر علی شینواری نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند بااثر افراد ذاتی مفادات کی خاطر لنڈی کوتل کے عوام کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔ روزانہ مریض ہسپتال کے در و دیوار سے ٹکرا کر واپس مایوس لوٹتے ہیں، کیونکہ ان کا علاج کرنے والا کوئی ماہر ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا۔

    ایک اور ہسپتال اہلکار نے کیجولٹی وارڈ میں عملے کی غفلت کی نشاندہی کی اور کہا کہ ماضی میں ایم ایس شیرانی کے دور میں ہسپتال میں نظم و ضبط قائم تھا، اور کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی تھی۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر شعبہ بے توجہی اور بدنظمی کا شکار ہے۔

    جب ان مسائل پر خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر عدنان قادری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ان مسائل کو متعلقہ حکام کے سامنے رکھیں گے اور لنڈی کوتل کے عوام کو درپیش طبی مشکلات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف وعدے کافی ہیں؟
    لنڈی کوتل کے عوام بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کے ہسپتال میں فوری طور پر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے، مستقل ایم ایس مقرر کیا جائے اور غفلت برتنے والے عملے کے خلاف کارروائی ہو۔ یہ کوئی سیاست یا مراعات کی بات نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق کا مسئلہ ہے ، علاج کا حق دیا جائے۔

    یہ محض ایک ہسپتال نہیں، پورے قبائلی علاقے کی سانسیں اس کی صحت سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر ہسپتال کو نظر انداز کیا گیا تو یہ عوامی بے چینی کسی بڑے احتجاج کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
    عوام کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال ہمارے بچوں کی جانوں کا مسئلہ ہے، اس پر خاموشی ناقابلِ برداشت ہے۔

  • اسلامیہ کالج پشاور ہراسگی کیس ،اساتذہ کو رومانی تعلقات سے گریز کی ہدایت

    اسلامیہ کالج پشاور ہراسگی کیس ،اساتذہ کو رومانی تعلقات سے گریز کی ہدایت

    اسلامیہ کالج پشاور نے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو ہراسگی کے الزامات پر برطرف کیے جانے کے بعد فیکلٹی ممبران کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس ضابطے میں اساتذہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبا و طالبات کے ساتھ غیر تدریسی یا غیر اخلاقی تعلقات سے مکمل گریز کریں اور صرف تدریسی و پیشہ ورانہ دائرہ کار میں رہیں۔گزشتہ روز ایک طالبہ کی شکایت پر کی جانے والی انکوائری کے بعد وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاء الحق نے صرف 15 منٹ کے اندر اندر اسسٹنٹ پروفیسر کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔ انکوائری کمیٹی نے شکایت کی تصدیق کے بعد برطرفی کی سفارش کی تھی، جسے سنڈیکیٹ نے منظور کیا۔

    کالج انتظامیہ کے مطابق اس قسم کے واقعات ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، اور آئندہ اگر کوئی استاد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

    بلوچستان ،قلعہ عبداللہ میں دھماکا، 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی

    بھارت نے پانی روکا تو ردعمل دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کے خلاف کامیابی نواز شریف کی ہدایت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے: ایاز صادق

    پی ایس ایل 10:،لاہور قلندرز کا پشاور زلمی کو جیت کیلئے 150 رنز کا ہدف

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 214 گھنٹوں میں شہداء کی تعداد 125 ہوگئی

  • سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات اور گرد و نواح کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.7 ریکارڈ ہوئی، زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 205 کلو میٹر تھی۔

    زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے ، زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    اس سے قبل 26 اپریل کو بھی سوات اور گردو نواح کے علاقوں میں زلزلےکے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 ریکارڈ کی گئی۔

  • لنڈی کوتل: منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 1500 گرام ہیروئن برآمد،ملزم گرفتار

    لنڈی کوتل: منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 1500 گرام ہیروئن برآمد،ملزم گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) خیبر کے علاقے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ چراوزگئے چیک پوسٹ پر ایک مشتبہ شخص کو روک کر اس کے قبضے سے 1500 گرام ہیروئن برآمد کر لی گئی، جبکہ ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق کارروائی سب انسپکٹر حاجت خان کی قیادت میں انجام دی گئی، جو ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) خیبر رائے مظہر اقبال کی ہدایت پر جاری انسدادِ منشیات مہم کا حصہ تھی۔ حاجت خان نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ چیک پوسٹ پر سخت نگرانی کے دوران ایک شخص کو پیدل مشکوک انداز میں گزرتے ہوئے روکا گیا، جس کے قبضے سے بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی۔

    گرفتار ملزم کا تعلق ذخہ خیل سے ہے، جسے موقع پر ہی حراست میں لے کر مقامی تھانے منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ اس کے ممکنہ نیٹ ورک اور معاونین تک بھی رسائی حاصل کی جا سکے۔

    ڈی پی او رائے مظہر اقبال نے پولیس ٹیم کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو منشیات کے زہر سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کیلئے پولیس کسی دباؤ یا مصلحت کا شکار نہیں ہو گی۔

  • پشاور: اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن اور خانہ فرہنگ ایران کے درمیان صحافتی، ثقافتی تعاون پر اتفاق

    پشاور: اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن اور خانہ فرہنگ ایران کے درمیان صحافتی، ثقافتی تعاون پر اتفاق

    پشاور (باغی ٹی وی رپورٹ) اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن پشاور اور خانہ فرہنگ ایران کے مابین مذہبی، ثقافتی، تہذیبی اور صحافتی شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق رائے ہوا ہے۔ اس موقع پر ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین قمی اور ان کے ترجمان ریاض احمد رضوی نے شرکت کی، جب کہ اباسین ایسوسی ایشن کی نمائندگی صدر ضیاء الحق سرحدی نے کی جو پاک افغان جائنٹ چیمبر کے سینئر نائب صدر اور سرحد چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

    ضیاء الحق سرحدی نے ایران کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حسین قمی کو ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان اور ایران کے صحافیوں اور کالم نگاروں کے درمیان قریبی روابط اور وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایرانی قونصل جنرل علی بنفشہ خوا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے 2019ء میں اباسین ایسوسی ایشن کے وفد کو ایران کے قومی دن میں شرکت کی دعوت پر شکریہ بھی ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان نہ صرف مذہبی بنیادوں پر برادرانہ تعلقات قائم ہیں بلکہ تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے بھی دونوں اقوام قریب ہیں۔ اباسین ایسوسی ایشن کو ایک فکری تھنک ٹینک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں شامل کالم نگار قومی سطح پر رائے عامہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر حسین قمی نے اباسین کالم رائٹرز ایسوسی ایشن کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے صحافیوں اور کالم نگاروں کے مابین وفود کے تبادلے سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے اباسین ایسوسی ایشن کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اپنی تصنیف "روشنی کے سفیر” بھی تحفے میں پیش کی۔

  • پشاورہائیکورٹ،فوجی عدالتوں سے سزایافتہ مجرمان کی اپیل خارج

    پشاورہائیکورٹ،فوجی عدالتوں سے سزایافتہ مجرمان کی اپیل خارج

    پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزائیں درست قرار دیتے ہوئے 3مجرموں کی اپیلیں خارج کردیں۔

    پشاور ہائیکورٹ میں ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزاؤں کیخلا ف اپیلوں پر سماعت ہوئی، جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فضل سبحان نے اپیلوں کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجرمان نے مجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم کیا، مجرمان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے،پشاور ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹس سے سنائی گئی سزائیں درست قرار دےدیں اور سزاؤں کیخلاف تین اپیلوں کو خارج کردیا،یادرہے کہ ملٹری کورٹ نے ایک مجرم کو عمر قید، دوسرے کو 20سال اور تیسرے کو 16سال قید کی سزا سنائی تھی۔

  • رکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کے قریب دھماکا

    باجوڑ میں رکن قومی اسمبلی مبارک زیب کے گھر کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دھماکے میں مبارک زیب کے گھر کا گیٹ تباہ ہوگیا، لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اس حوالے سے ڈی پی او باجوڑ، وقاص رفیق نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا تھا، جسے گھر کی دیوار کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت مبارک زیب اپنے گھر پر موجود نہیں تھے، ورنہ نقصان ہو سکتا تھا۔مبارک زیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بزدلانہ کارروائیاں میرے حوصلے کو پست نہیں کر سکتیں۔ میں اپنے شہید بھائی کے وژن کو جاری رکھوں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی ایسی کارروائی سے خوفزدہ نہیں ہوں گے جو ملک کے مفاد کے خلاف ہو۔

    اس واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور دھماکے کے اصل محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ باجوڑ میں شدت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھاتا ہے، جہاں سیکیورٹی کی صورتحال معمولی بہتر ہوئی تھی، مگر ایسے واقعات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ابھی بھی خطرات موجود ہیں۔