Baaghi TV

Category: پشاور

  • ضلع کرم میں آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم میں اضافہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    ضلع کرم میں آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم میں اضافہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع کرم میں آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ کے مطابق آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم ایک لاکھ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 30 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قبائلی بے گھر افراد کے دوہرے پتے کے مسئلے کو حل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
    ‎سہیل آفریدی نے کہا کہ جو بے گھر افراد میزبان گھروں میں مقیم ہیں، انہیں بھی امدادی پیکیج فراہم کیا جائے گا تاکہ کوئی متاثرہ خاندان حکومتی معاونت سے محروم نہ رہے۔
    ‎وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں مہذب قوموں کی طرح باہمی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر ترقی، امن اور خوشحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت متاثرہ عوام کی بحالی اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

  • پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن: طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاجواب کر دیا

    پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن: طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لاجواب کر دیا

    
پشاور میں ینگ لیڈرز کنونشن کے دوران ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو سوال کر کے حیران کر دیا۔
    کنونشن کے دوران طالبہ نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں تو جعلی حکومتیں ہیں لیکن کے پی میں تو اصلی حکومت ہے، پھر ترقی دوسرے صوبوں میں ہو رہی ہے، یہاں کیوں نہیں ہو رہی؟
    ‎سوال سنتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مسکراتے رہے اور کہا کہ ہماری ترقی یہ ہے کہ آپ بلا جھجک وزیراعلیٰ سے سوال کر رہی ہیں۔
    ‎یہ موقع شرکاء کے لیے دلچسپ بھی رہا اور طالبہ کی ہوشیاری کی داد بھی دی گئی۔

  • ترقی ممبران کے حجروں میں ہوئی،باقی صوبے کا کیا، سہیل آفریدی سے طالبہ کا سوال

    ترقی ممبران کے حجروں میں ہوئی،باقی صوبے کا کیا، سہیل آفریدی سے طالبہ کا سوال

    پشاور میں ینگ لیڈر کنونشن میں ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو لاجواب کردیا۔

    طالبہ نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ دوسرے صوبوں میں جعلی حکومت ہے یہاں تو اصلی ہے، دوسرے صوبوں میں ترقی ہورہی ہے یہاں کیوں نہیں؟۔وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ ہماری ترقی یہ ہے کہ آپ وزیراعلیٰ سے سوال کررہی ہیں، صرف لاہور میں کام کرنے کو ترقی نہیں کہتے۔طالبہ نے کہا کہ یہاں بھی ترقی ممبران نے اپنے حجروں میں کر رکھی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے طالبہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق ضرور اے این پی یا کسی دوسری پارٹی سے ہو گا۔طالبہ نے کہا کہ جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، ایم پی اے اور ایم این اے کے گھروں میں ہوئی، صوبے میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا آپ نے کیا کیا؟ دوسرے صوبوں سے ہمارے صوبے کا موازنہ کیا جائے کہ ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے صوبے کے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا، یہ شعور دیا کہ ایک بہن مجھ سے میری پالیسی پر سوال کر رہی ہیں، اے این پی کے دور میں بم دھماکے ہوتے تھے، این کے دور میں نشتر ہال بند تھا، ہم نے کھول دیا،جنوبی پنجاب میں لوگ اسکولوں میں جانور باندھتے ہیں، سندھ میں آج بھی اسپتالوں میں کتے گھوم رہے ہیں، پشاور میں ترقی آرہی ہے، 200 ارب روپے کی اسکیمیں لے کر آرہے ہیں، قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے۔

  • گرلز کالجز میں موسیقی، رقص ماڈلنگ پر پابندی، تقریبات کے لیے اجازت لازمی

    گرلز کالجز میں موسیقی، رقص ماڈلنگ پر پابندی، تقریبات کے لیے اجازت لازمی

    ‎خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام گرلز کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن نے پشاور سمیت دیگر اضلاع کے کالجز کے پرنسپلز کو خط ارسال کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ویلکم، فیئر ویل پارٹیز، اسپورٹس گالا اور ثقافتی پروگرامز منعقد کرنے کے لیے پیشگی اجازت لازمی ہوگی۔
    ‎خط کے مطابق کالجز میں تقریب سے قبل ڈائریکٹر یا ریجنل ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن سے اجازت لینا اور مہمانوں کی فہرست جمع کرانا ضروری ہوگا۔ تقریبات کے دوران طالبات کے موبائل فون کے استعمال پر سخت پابندی ہوگی اور کالج یونیفارم پہننا لازمی ہوگا۔
    ‎مزید بتایا گیا ہے کہ طالبات کی حفاظت اور باوقار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات کیے جائیں گے۔ تقریبات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ تمام تقریبات کو سماجی اور ثقافتی اقدار کے مطابق منعقد کرنا ہوگا، اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کالجز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • خیبر: باڑہ قمبرخیل شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    خیبر: باڑہ قمبرخیل شنکو میں چار افراد کی لاشیں برآمد

    خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے قمبرخیل شنکو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشوں پر گولیوں کے واضح نشانات موجود ہیں، جس سے ابتدائی طور پر یہ واقعہ فائرنگ کا معلوم ہوتا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مزید تفتیش جاری ہے۔

  • 
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں کی تفتیش میں پیشرفت، سہولت کاروں کی شناخت

    
پشاور ایف سی ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملوں کی تفتیش میں پیشرفت، سہولت کاروں کی شناخت

    
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر 24 نومبر 2025 کو ہونے والے خودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی ہو گئی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے تھا، اور دھماکوں کی تمام منصوبہ بندی بھی افغانستان میں کی گئی تھی۔
    واقعے کے بعد دہشتگردوں کے خلاف اہم گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور سہولت کاروں کی شناخت کے بعد واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کو تیز کر دیا گیا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ حملے میں تین خودکش بمباروں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا تھا، جس میں 3 ایف سی جوان سمیت 6 جوان شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے۔ دہشتگردانہ کارروائی کے دوران 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کی ایف آئی آر سی ٹی ڈی میں درج ہے۔

  • دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے۔

    سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشتگرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا کھلی بربریت ہےصوبے میں دہشتگردی ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہے، دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گادہشتگردی پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی کمزوری یا ابہام کی گنجا ئش نہیں، پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کا مقابلہ جاری رکھے گا اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو جلد امن کا گہوارہ بنائے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو دنوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔

    قبل ازیں سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان صبر سے کام لیں کیونکہ بہت جلد بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو رہا کرا لیا جائے گا آج کارکنوں میں جو جذبہ نظر آ رہا ہے ایسا جوش انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھابانی پی ٹی آئی کی بیماری کو پارٹی، وکلا اور حتیٰ کہ ان کے خاندان سے بھی چھپایا گیا جبکہ ذاتی معالج تک بھی رسائی نہیں دی جا رہی۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنوں کے جذبے اور عمران خان کے درمیان صرف چند لمحوں کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ تھوڑا انتظار کریں، انشاء اللہ اپنے لیڈر کو رہا کرائیں گےانہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا آپریشن رات کے اندھیرے میں کیا گیا اس کے بعد 5 دن تک پوری قوم سے یہ حقیقت چھپائی گئی اور قوم سے جھوٹ بولا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ان کے ذاتی معالج سے کروائی جائے تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہوا وہ اڈیالہ جیل کے باہر دو دن تک موجود رہے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی بعض بااثر عناصر نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے قائد سے ملاقات نہیں کر سکے۔

  • سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    باڑہ / ضلع خیبر:سیاسی اتحاد باڑہ نے تیراہ میدان سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کے آپریشنز، شیلنگ، ڈرون کارروائیوں اور بدامنی کے باعث بے گھر ہونے والے متاثرین کو فوری طور پر باعزت طریقے سے بحال کیا جائے۔

    سیاسی اتحاد باڑہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متاثرینِ تیراہ گزشتہ کئی برسوں سے بے سرو سامانی، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ہر دور میں ریاست کے ساتھ تعاون، صبر اور قربانی کی مثالیں قائم کیں، مگر اس کے باوجود آج بھی انہیں بنیادی انسانی، آئینی اور قبائلی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
    اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔

    خیبر قومی جرگہ میں باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان، جنرل سیکرٹری عطاء اللہ، شیریں آفریدی،سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی، اے این پی عبدالرزاق،فاٹا لویہ جرگہ صدر ملک بسم اللہ، جماعت اسلامی کے شاہ فیصل،پی ٹی آئی عابد آفریدی،جماعت اسلامی خان ولی آفریدی،مسلم لیگ ن اصغر آفریدی،ملک محمد حسین سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،سیاسی اتحاد باڑہ کے اہم مطالبات میں کہا گیا ہے کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔تیراہ میں فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر گولے برسائے جانے اور ہیلی کاپٹر کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، کیونکہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور ان سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری و عملی طور پر نافذ کیا جائے۔متاثرین کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔تیراہ کے بلند ایریاز میں گھروں کے درست پتے نہ رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائے اور امدادی پیکیجز میں شامل کیا جائے۔پولیٹیکل انتظامیہ یا نادرا کی من پسند اور خود ساختہ رجسٹریشن کو سیاسی اتحاد باڑہ کسی صورت قبول نہیں کرتا کیونکہ اس عمل سے حقیقی متاثرین محروم ہو رہے ہیں۔وادی تیراہ کے بعد اپر باڑہ اور بازو پین ایریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا۔

    قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے آج سے باڑہ میں امن تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔باڑہ میں اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور شہریوں میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے متاثرینِ تیراہ کے حوالے سے غیر سنجیدہ بیانات قابل افسوس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر مستقل حل نکالیں۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر سیاسی اتحاد باڑہ کے آئینی، قانونی اور اخلاقی مطالبات پر فوری اور عملی عمل درآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔سیاسی اتحاد باڑہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سیاسی اتحاد باڑہ مرکزی حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے متاثرین کی 13,744 گاڑیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرے گا۔

  • باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

    باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟

    ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے موجودہ وزیر اعلیٰ (جو اس وقت ایم پی اے تھے) کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تیراہ میں دہشتگردی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہونے والی نشست میں یہ بھی طے کیا گیا کہ فتنہ الخوارج سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں تیراہ سے چلےجانے کا کہا جائے گا۔ جرگہ قرآن لے کر خوارج کے پاس گیا لیکن خوارج نے قبائلی روایات کے برعکس جرگے کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور تیراہ سے نکلنےپر راضی نہ ہوئے۔ 28 اکتوبر 2025 کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو پہلا خط لکھا جس میں متوقع نقل مکانی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں اس کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا کہا گیا۔ اسی دوران، 14 نومبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے تیراہ کے بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے اصولی طور پر 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ تین ماہ کے وقفے کے بعد (11 دسمبر 2025 کو)، تیراہ کے مقامی مشران نے ضلع خیبر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور آگاہ کیا کہ دہشت گردوں کو علاقہ خالی کرنے پر قائل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، لہٰذا وہ علاقہ خالی کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔

    17 دسمبر 2025 کو علاقے کے 26 معززین پر مشتمل ایک جرگے نے ضلع انتظامیہ خیبر سے ملاقات کی اور نقل مکانی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔ جرگے کی اسی طرح کی ملاقاتیں 18 اور 19 دسمبر 2025 کو بھی جاری رہیں۔ 26 دسمبر 2025 کو چیف سیکرٹری نے تیراہ کے بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔ 31 دسمبر 2025 کو جرگے نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں نقل مکانی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی اور جرگے کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل کے بعد نقل مکانی 14 جنوری 2026 تک مکمل ہونی تھی، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی، بعد ازاں اس مدت میں 26 جنوری 2026 تک توسیع کر دی گئی۔

    جرگہ کے اصل حقائق یہ ہیں کہ، تیراہ میں آفریدی قبیلے کے 8 قبیلے موجود ہیں جن میں سے 6 قبیلوں میں سے ہر قبیلے نے 4 نمائدے منتخب کیے تھے – لہذا 24 رکنی جرگہ بنایا گیا جو تیراہ کے لوگوں کے اصل نمائیدگان تھے ، ہفتے کے دن باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ منعقد ہونا تھا، اسکو CM KP ، مینا خان جیسے لوگوں نے ڈسکریڈٹ کرنے کے لئے اتوار کے روز جمرود میں سیاسی جلسہ بھی رکھ لیا – حکومت نے 4 ارب روپے تیراہ کے لوگوں میں بانٹنے کی بجائے اور جرگے کو نظر انداز کر کے،اپنے نظر شفقت political workers میں بانٹے تاکہ political mileage حاصل کیا جا سکے – سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور ستمبر سے لے کر جنوری تک یہ تاخیر ان کی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ کس طرح تیراہ کے لوگوں کو سیاسی ڈھال بنایا گیا- 90 ہزار لوگوں کے لئے صرف 2 ریجسٹریشن پوائنٹس بنائے گئے تاکہ انسانی المیہ بنایا جائے – لہذا ان سب وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی اور جرگے کے عمائدین کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما کی جانب سے تیراہ جرگہ کے ممبران کو "ٹاؤٹ” قرار دینا شرمناک ہے۔ یہ جرگہ صدیوں سے مقامی لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی قیادت ان معتبر مقامی افراد کو خریدنے میں ناکام رہی، تو اب انہیں بدنام کرنے پر اتر آئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق اقبال آفریدی، مینا خان، سہیل آفریدی کے بھائی اور غنی آفریدی نے متاثرین کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے میں خورد برد کی – جرگہ پی ٹی آئی کے اِن سیاستدانوں کی جانب سے کی جانے والی جعلی رجسٹریشنز کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، کیونکہ جرگہ نہیں چاہتا کہ حق داروں کا حق مار کر سیاسی من پسند افراد کو نوازا جائے۔ اسی مزاحمت کی وجہ سے اب ان سیاستدانوں نے جرگے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی تیراہ کے عوام کے لیے مختص 4 ارب روپے کو اپنے حامیوں میں بانٹ کر ان کو 8 فروری کے جلسے میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اصل جرگہ ہفتے کو منعقد ہوگا ، اتوار کو جمرود میں ہونے والا جلسہ سیاسی چال ہے ، تاکہ لوگوں کو ورغلایا جائے اور آٹھ فروری کے جلسے میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے ۔

    تیراہ کے لیے مختص 4 ارب روپے میں مبینہ خردبرد اور ناانصافی کے خلاف باڑہ سیاسی اتحاد نے 31 جنوری 2026 کو ایک خالص عوامی قبائلی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس جرگے میں قبائلی مشران، ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے شریک ہوں گے تاکہ فنڈز کے شفاف استعمال، ذمہ داروں کے تعین اور تیراہ کے مسائل کا سیاست سے بالاتر حل یقینی بنایا جا سکے۔

  • اڈیالہ کا قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا

    اڈیالہ کا قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اڈیالہ کا قیدی اپنی سزا پوری کرکے ہی آزاد ہوگا۔

    میڈیا سے گفتگو میں فیصل کریم کنڈی بولے کہ صوبائی حکومت کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ قیدی کو کس طرح آزاد کرائیں، انہوں نے واضح کیا کہ قیدی اپنی سزابھگت کرہی آزاد ہوگا، اگر قیدی کو اسپتال لایا گیا ہے توکسی مریض کا علاج کرنا غلط بات تو نہیں، گورنرخیبر پختونخوا نے وادی تیراہ میں آپریشن کے خبروں کی تردید کردی اور کہا کہ تیراہ میں لوگ ہرسال سردیوں میں نقل مکانی کرتے ہیں، اس وقت تیراہ کے حوالے سے صرف لفظی جنگ جاری ہے، اس سال صوبائی حکومت نےاس مد میں 4 ارب روپے رکھے اور آئی ڈی پیزکی رجسٹریشن شروع کی، 50 سے60 فیصد لوگ آپریشن کے خدشے کے پیش نظر نقل مکانی کرگئے، اس سے پہلے30 فیصد تک لوگ سردی میں بچوں کے ہمراہ نقل مکانی کرتے تھے، دہشتگردوں کیخلاف ہرجگہ آپریشن ہوتا ہے، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں بھی دہشتگرد ہیں وہاں آپریشن ہوگا۔