Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کا امکان مسترد

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کا امکان مسترد

    پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنما اور صوبائی وزیر سلیم کھوسہ اور پیپلزپارٹی کے رہنما اور رکن اسمبلی علی مدد جتک نے صوبے میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی تبدیلی کے امکان کو خارج ازامکان قرار دے دیا،

    بلوچستان اسمبلی میں صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر اراکین کے لیے ان کیمرہ بریفنگ کے لیے آمد کے بعد میڈیا سے بات چیت میں مسلم لیگ ن بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر وصوبائی وزیر سلیم کھوسہ کا کہناتھا کہ ان کا مسلم لیگ ن کی قیادت سےرابطہ ہوا ہے اور اس میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کےحوالے سےکوئی بات زیرغور نہیں۔تاہم سلیم کھوسہ کا کہناتھا کہ انہوں نے سنا ہےکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ڈھائی، ڈھائی سال کا معاہدہ ہے۔ن لیگ کے پارلیمانی رہنما کا یہ بھی کہناتھا کہ بلوچستان حکومت میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے اور ہم سب کا وزیراعلی سرفراز بگٹی پراعتماد ہے، وہ صوبے میں امن اور ترقی کےلئےکام کررہے ہیں، اور صوبے میں جلد مثالی امن قائم ہوجائےگا۔اسی طرح اس موقع پر رہنما پیپلز پارٹی و رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک کا میڈیا سے بات چیت میں کہنا تھا کہ دوستین ڈومکی کے بیانات کو سنجیدہ نہ لیا جائے،بلوچستان حکومت میں ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے، سرفرازبگٹی کو صدر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کا اعتماد حاصل ہے اور مرکزی قیادت کے فیصلے کے بغیر بلوچستان میں تبدیلی نہیں آسکتی، وزیراعلیٰ کےخلاف بیانات دینے والے لوگ خود کو میڈیا میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔

  • امن کیلئے سب متحد ہیں، ایف سی ہیڈ کوارٹر لورالائی میں جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    امن کیلئے سب متحد ہیں، ایف سی ہیڈ کوارٹر لورالائی میں جرگہ،گورنر،وزیراعلیٰ کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر لورالائی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں مہمانِ خصوصی گورنر بلوچستان جعفر خان مندو خیل ، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی، کور کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان ،آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی، سابق گورنر بلوچستان گل محمد جوگیزئی، آئی جی پولیس، کمشنر لورالائی ڈویژن اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    جرگے کے دوران علاقے کی سلامتی، ہم آہنگی، قبائلی روابط اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مقامی قبائل نے پاک فوج ،فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ کی جانب سے امن کے قیام اور بحالی کے لیے کی گئی عملی کوششوں کو سراہا.گورنر بلوچستان نے عمائدین سے خطاب میں کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ سے ریاستی اداروں کے مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے تسلسل، ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

    وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور خطے میں پائیدار امن، سماجی استحکام اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔ اور علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے ۔

    کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ، بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے ۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔

    جرگے کے اختتام پر تمام قبائلی عمائدین نے حکومت بلوچستان ,پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے امن کے قیام بالخصوص دکی کول مائنز اور این 70 کی سیکیورٹی کو خوش ائند قرار دیا اور اس عزم کو دہرایا کہ وہ علاقائی امن، سماجی اتحاد اور ترقی کے سفر میں ریاستی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

  • ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی لیڈیز بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی لیڈیز بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    کوئٹہ،فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے 68ویں لیڈیز بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں 89 لیڈیز سولجرز نے تربیت مکمل کی۔ ان تمام لیڈیز کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے، ان مقامی بلوچ لیڈیز کی شمولیت، ایف سی بلوچستان نارتھ میں مقامی خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اور اعتماد کا مظہر ہے۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر 12 کور لیفٹینینٹ جنرل راحت نسیم احمد خان تھے – آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبٰی نے ان کا استقبال کیا ،مہمانِ خصوصی نے کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والی تمام لیڈیز سولجرز اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد دی اور اپنے خطاب میں کہا، "تمام لیڈیز سولجرز کو فخر ہونا چاہیے کہ وہ ایف سی بلوچستان (نارتھ) جیسے باوقار ادارے کا حصہ بن رہی ہیں، جو اپنی شاندار روایات، قربانی اور بہادری کے لیے جانا جاتا ہے۔”تمام لیڈیز سولجرز بلوچستان اور پاکستان کا فخر ہیں اور خواتین کے لیے ایک عظیم مثال ہیں ،پاسنگ آؤٹ پریڈ میں قبائلی عمائدین، مقامی شخصیات، معزز مہمانوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی بھرپور شرکت نے ایف سی اور عوام کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کو مزید تقویت دی۔تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی لیڈیز سولجرز میں خصوصی انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

  • نصیرآباد، بلوچستان، ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفر ایکسپریس بڑے سانحے سے بچ گئی

    نصیرآباد، بلوچستان، ریلوے ٹریک پر دھماکہ، جعفر ایکسپریس بڑے سانحے سے بچ گئی

    بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں نامعلوم مسلح افراد نے نوٹل پولیس اسٹیشن کی حدود میں ربیع کینال کے قریب ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا دیا۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکہ عافر ایکسپریس کی آمد سے چند منٹ قبل ہوا،

    دھماکے کے نتیجے میں ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا اور اس روٹ پر ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع کا معائنہ کیا، شواہد اکٹھے کیے اور ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکے میں ریموٹ کنٹرول یا ٹائمر ڈیوائس استعمال کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تخریب کاری کی منصوبہ بند کوشش معلوم ہوتی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمان کی تلاش کے لیے قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا ہے، جبکہ تفتیش کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔ مزید پیش رفت کا انحصار حاصل ہونے والی خفیہ معلومات پر ہوگا۔

  • جسٹس کامران ملاخیل قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر

    جسٹس کامران ملاخیل قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر

    جسٹس کامران ملاخیل کو بلوچستان ہائیکورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس تعینات کردیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے وفاقی وزارت قانون کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جسٹس کامران ملاخیل مستقل چیف جسٹس کی تقرری تک قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ روزی خان بڑئچ کو وفاقی آئینی عدالت کا جج مقرر کیا گیا ہے

    وزیراعظم سے اردن کے شاہ عبداللہ دوئم کی ملاقات

  • شکارپور سے کوئٹہ آنے والی 18 انچ کی گیس پائپ لائن مچ کے قریب تباہ

    شکارپور سے کوئٹہ آنے والی 18 انچ کی گیس پائپ لائن مچ کے قریب تباہ

    شکارپور سے کوئٹہ آنے والی 18 انچ کی گیس پائپ لائن مچ کے قریب تباہ ہو گئی۔

    بلوچستان کے علاقے مچ میں گیس کی مرکزی پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد کے ذریعے نقصان پہنچا دیا گیا، جس کے باعث کوئٹہ اور گرد و نواح کے متعدد اضلاع کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔ 18 انچ قطر کی مین گیس پائپ لائن متاثر ہوئی ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی اداروں نے کلیئرنس کا عمل شروع کر دیا ہے۔ایس ایس جی سی حکام کے مطابق مرمت اور بحالی کا کام سیکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی شروع کیا جائے گا، تاہم گیس فراہمی کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔علاقے میں گیس کی بندش کے باعث گھریلو صارفین اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔گیس پائپ لائن کے متاثر ہونے کے بعد بلوچستان کے شہر کوئٹہ، مستونگ، پشین اور زیارت کے لیے گیس کی سپلائی بند ہو گئی ہے۔

  • بلوچستان کے 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس 16 نومبر تک معطل

    بلوچستان کے 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس 16 نومبر تک معطل

    حکومتِ بلوچستان نے صوبے کے تمام 36 اضلاع میں 10 سے 16 نومبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے، جب کہ نیشنل ہائی وے این-70 کے لورالائی سیکشن پر 14 نومبر تک تمام ٹرانسپورٹ سروسز بند رہیں گی۔

    صوبائی محکمہ داخلہ کے مطابق سیکیورٹی الرٹ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس کی معطلی دیہی علاقوں میں نافذ رہے گی، تاہم کوئٹہ کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کوئٹہ کے کئی علاقوں میں بھی سگنلز نہ ہونے کے باعث انٹرنیٹ تک رسائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔محکمہ داخلہ کے مطابق لورالائی سیکشن پر ٹرانسپورٹ سروسز کی معطلی عارضی ہے اور یہ پابندی ٹیکسیاں اور نجی گاڑیاں بھی شامل ہے۔ تاہم، مقامی یا شہر کے اندر سفر پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

    تمام ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں۔ شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل سرکاری سفری ہدایات ضرور چیک کریں

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد و ادارے نشانہ

    پاکستان اور سری لنکا کے درمیان میچز کا شیڈول تبدیل

    وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس مؤخر، اب کل ہوگا

  • سیکیورٹی خدشات، جعفر ایکسپریس کی آمد و رفت 4 روز کے لیے معطل

    سیکیورٹی خدشات، جعفر ایکسپریس کی آمد و رفت 4 روز کے لیے معطل

    پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کی آمد و رفت 9 نومبر سے 12 نومبر تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ریلوے حکام کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ جعفر ایکسپریس کل (8 نومبر) اپنے مقررہ وقت پر پشاور کے لیے روانہ ہو گی، تاہم اس کے بعد چار دن تک ٹرین کی سروس معطل رہے گی۔ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں نے ریلوے انتظامیہ کو ممکنہ خطرات کے پیش نظر ٹرین آپریشن عارضی طور پر روکنے کی تجویز دی تھی، تاکہ مسافروں اور عملے کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی جعفر ایکسپریس کی آمد و رفت دوبارہ بحال کر دی جائے گی

    پاک افغان مذاکرات ختم، ثالثوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیے،خواجہٰ آصف

    مذاکرات ناکام، افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، اندرونی تقسیم اور بیرونی اثرات

    سری لنکا کا پاکستان دورے کے لیے اسکواڈز کا اعلان

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب ، وزیراعظم ویڈیو لنک پر صدارت کریں گے

  • افغان فورسز کی سیز فائر کی خلاف ورزی، پاک فوج کا مؤثر جواب

    افغان فورسز کی سیز فائر کی خلاف ورزی، پاک فوج کا مؤثر جواب

    افغانستان کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چمن بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس کا پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ گزشتہ ماہ پانچ روز تک جاری رہنے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد نافذ کی گئی جنگ بندی میں توسیع کی جا سکے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کابل حکومت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج چمن میں پاک۔افغان سرحد پر فائرنگ افغان جانب سے شروع کی گئی تھی، جس کا پاکستانی فورسز نے فوری اور ذمہ دارانہ جواب دیا۔

    ترجمان کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی کے باعث صورتِ حال پر قابو پا لیا گیا اور جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان جاری مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور توقع کرتا ہے کہ افغان حکام بھی اسی سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔دوسری جانب استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تیسرے دور کے حتمی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے

    بھارت دنیا کی سب سے بڑی الیکشن چور جمہوریت بن گیا،راہول گاندھی

    خوارج نے ریسکیو ایمبولینس اغوا کر لی، خاتون مریضہ سڑک پر چھوڑ دی

    وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کل منظور ہونے کا امکان، اجلاس طلب

  • بلوچستان، پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملی

    بلوچستان، پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت نہ ملی

    بلوچستان حکومت نے پی ٹی آئی کے جلسے کی اجازت مسترد کردی، سیکیورٹی خدشات کے باعث الرٹ جاری
    بلوچستان حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
    سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی خدشات اور صوبے میں بڑھتے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے 7 نومبر کو کوئٹہ میں بڑے سیاسی جلسے کا اعلان کر رکھا تھا، تاہم حکومتِ بلوچستان نے سیکیورٹی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر اجازت دینے سے انکار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے، لہٰذا کسی سیاسی یا عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسے، ریلی یا احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے یا امن و امان کی صورتحال سے بچا جا سکے۔سیکیورٹی اداروں نے صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے، خاص طور پر کوئٹہ، مستونگ، خضدار اور تربت سمیت حساس اضلاع میں گشت اور نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔