Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • گھوٹکی: بس سے اغوا کیےگئے تمام مسافروں کو بازیاب کرالیا گیا

    گھوٹکی: بس سے اغوا کیےگئے تمام مسافروں کو بازیاب کرالیا گیا

    سندھ کے ضلع گھوٹکی میں گڈوکشمور روڈ پر بس سے اغوا کیےگئے تمام مسافروں کو بازیاب کرالیا گیا۔

    ڈی ایس پی اوباڑو عبدالقادر کے مطابق بس کنڈکٹر مغوی مسافروں کی صحیح تعداد نہیں بتا سکا تھا، ڈاکوؤں نے 14 مسافروں کو اغوا کیا تھا 13 مغوی بازیاب ہوئے ہیں اور ایک کی لاش مل گئی ہے جس کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے جاں بحق مغوی کریم بخش ضلع جعفرآباد کا رہائشی ہے، آپریشن کے دوران ڈاکوؤں سے مقابلے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، ڈاکوؤں نے پولیس بکتر بند پر راکٹ بھی فائر کیے ۔

    واضح رہے کہ پیر کی شب گھوٹکی میں ڈاکوؤں نے 19 مسافروں کو اغوا کرلیا تھا۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مرید شاخ کے قریب گڈو کشمور روڈ پر مسافر بس پر حملہ کیا اور مسافروں کو اغوا کیاعینی شاہدین کے مطابق بس میں خواتین سمیت 25 افراد سوار تھے، ڈاکو خواتین کو چھوڑ کر 19 مردوں کو اپنے ساتھ لےگئے،پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مسافر بس صادق آباد سے کوئٹہ جارہی تھی۔

  • ژوب ، قمر الدین کاریز میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کی کھلی کچہری

    ژوب ، قمر الدین کاریز میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کی کھلی کچہری

    ضلع ژوب کے علاقے قمر الدین کاریز میں انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ نے کھلی کچہری میں شرکت کی ، علاقے کے عمائدین اور مشران کے ساتھ ملاقات کی

    کھلی کچہری میں مقامی افسران ، علاقے کے معزز قبائلی عمائدین، مشران اور مقامی رہنماؤں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری کے دوران علاقائی امن و امان، باہمی مسائل کے حل، اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے اس موقع پر کہا کہ فرنٹیئر کور بلوچستان عوام کے امن، تحفظ اور ترقی کے لئے پرعزم ہے، اور قبائلی مشران کے ساتھ مسلسل رابطہ اور مشاورت سے علاقے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر قبائلی عمائدین اور مشران نے فرنٹیئر کور بلوچستان(نارتھ)کے ساتھ باہمی اتفاق اور مشترکہ کوششوں سے امن و امان اور ترقی کے فروغ کے لیے اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • کوئٹہ میں  کارروائی ، بڑی تعداد میں اسمگل شدہ سگریٹس، چھالیہ اور چائے برآمد

    کوئٹہ میں کارروائی ، بڑی تعداد میں اسمگل شدہ سگریٹس، چھالیہ اور چائے برآمد

    انسدادِ اسمگلنگ آپریشن،فرنٹیئر کور نارتھ بلوچستان اور کوئٹہ کسٹمز کی مشترکہ بڑی کارروائی،کوئٹہ میں کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں اسمگل شدہ سگریٹس، چھالیہ اور چائے برآمد کر لی گئی

    انسداد اسمگلنگ کی بڑی کارروائی میں 10ٹرک ضبط کر کے کسٹمز وئیر ہاؤس منتقل کر دئیے گئے،انسداد اسمگلنگ کی کامیاب مشترکہ کارروائیوں میں ضبط شدہ اشیاء کی مالیت تقریبا ً70کروڑ روپے ہے ،پچھلے3ہفتوں میں انسداد اسمگلنگ کی کارروائیوں میں اربوں روپے مالیت کا سامان ضبط کیا گیا ہے ،پچھلے 3ہفتوں میں ضبط شدہ اشیا میں 70سے زائد لگژری گاڑیاں، سگریٹس، چائے، کپڑا، چھالیہ اور منشیات شامل ہیں،وفاقی حکومت اورعسکری قیادت کی ہدایت پر اسمگلنگ کے ناسور کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے

    کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے کہا کہ ؛ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے شانہ بشانہ اسمگلنگ کیخلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، دُشمن عناصر کو مُلکی معیشت اور قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اسمگلنگ کے ناسور کے مکمل خاتمہ تک فرنٹیئر کور نارتھ بلوچستان اور کوئٹہ کسٹمز کی کارروائی جاری رہیں گی

  • بی ایس ڈی آئی،سول انتظامیہ، پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کا مشترکہ ترقیاتی اقدام

    بی ایس ڈی آئی،سول انتظامیہ، پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کا مشترکہ ترقیاتی اقدام

    (بی ایس ڈی آئی) بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو

    بی ایس ڈی آئی حکومتِ بلوچستان کا ایک اہم ترقیاتی پروگرام ہے، جو سول انتظامیہ ،پاک فوج ،ایف سی بلوچستان اور مقامی نمائندوں کے باہمی اشتراک سے شروع کیا گیا ہے۔اس کا مقصد ان چھوٹے مگر ضروری منصوبوں کی تکمیل ہے جو ماضی میں صوبائی پی ایس ڈی پی میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر یا نظرانداز ہوتے رہے۔ کیوں کہ پی ایس ڈی پی میں منصوبے طویل عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچتے تھے اور کچھ وجوہات کی بنا پر ادھورے بھی رہ جاتے تھے ، جبکہ بی ایس ڈی ائی منصوبوں پر کام کرنے کا عمل تیز اور کرپشن سے پاک صاف ہیں۔

    حکومتِ بلوچستان نے ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) قائم کی ہیں، جن میں ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ چیئرمین، متعلقہ ایم پی اے کا نمائندہ اور فیلڈ فارمیشن کے افسران شامل ہیں۔ یہ کمیٹیاں ان ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو مقامی عوام کی فوری ضرورت ہوتی ہیں۔ڈی سی سی کی سفارشات پر بلوچستان کے 35 اضلاع میں مجموعی طور 969 منصوبے بی ایس ڈی آئی میں شامل کئے گئے ، جن میں سے ایف سی بلوچستان نارتھ کے ایریا میں 23 اضلاع شامل ہیں، ان اضلاع میں ٹوٹل 568 منصوبوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مالیت 8705 ملین روپے بنتی ہے، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    359 منصوبے زیرِ غور ہیں۔
    44 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
    75 منصوبوں کے ورک آرڈر جاری ہو چکے۔
    90 منصوبوں کے ورک آرڈر تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمانڈر 12 کور کی ہدایات کے مطابق فیز ون اور فیز ٹو کے تمام منصوبے 30 مئی 2026 تک مکمل کرنا لازمی مکمل کرنے ہیں۔بی ایس ڈی آئی کو مکمل شفافیت کے اصول پر تشکیل دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے PIU( پروگرام امپلیمنٹیشن یونٹ) بطور مانیٹرنگ ٹیم کام کر رہی ہے ، جو معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنا رہی ہیں۔

    عوام نے بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری مقامی سطح کے منصوبوں پر واضح اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے سول انتظامیہ ،پاک فوج ،ایف سی بلوچستان اور تمام متعلقہ اداروں کی کوششوں کو سراہا ہے، جن کی بدولت ترقیاتی کام پہلے سے زیادہ تیزی، شفافیت اور مؤثر انداز میں جاری ہیں۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ژوب بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ژوب بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی نے ژوب بازار کا اچانک دورہ کیا مقامی شہریوں اور دکانداروں سے غیر رسمی ملاقات کی,

    انہوں نے دورے کے دوران سیکیورٹی صور تحال کا جائزہ لیا. ژوب بازار میں مقامی شہریوں کے ساتھ گھل مل گئے اور دکانداروں سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے۔عوام نے پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کی امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا ۔لوگوں نے آئی جی ایف سی کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔یہ دورہ عوام کے ساتھ قریبی تعلق اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے عزم کی عملی مثال ہے۔

  • دکان میں چوری کا شبہہ، 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا گیا

    دکان میں چوری کا شبہہ، 8 افراد کو دہکتے انگاروں پر چلادیا گیا

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایک افسوسناک اور تشویش ناک واقعہ پیش آیا جہاں مقامی جرگے نے چوری کے شبے میں آٹھ افراد کو روایتی ’’آگ پر چلانے‘‘ کی آزمائش سے گزارا۔

    جیو نیوز کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ایک دکان میں چوری کے شبے نے علاقے میں تنازعہ کھڑا کیا اور جرگے نے سچ معلوم کرنے کے لیے انتہائی غیر انسانی طریقہ اپنایا۔اطلاعات کے مطابق جرگے نے آٹھ افراد کو حکم دیا کہ وہ دہکتے ہوئے انگاروں پر چل کر دکھائیں تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ کون چور ہے۔ حیران کن طور پر ان میں سے کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا، جس پر جرگے نے اسے ’’بے گناہی کی نشانی‘‘ قرار دے دیا۔

    یہ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملک کے آئین اور قانون کے صریحاً منافی ہے۔ علاقے میں اس واقعے نے خوف اور تشویش کی فضا پیدا کردی ہے۔موسیٰ خیل کی ضلعی انتظامیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جرگے میں شامل سات افراد کو مقدمے میں نامزد کردیا۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس طرح کے قبائلی فیصلے اور سزائیں غیر قانونی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پولیس حکام کے مطابق ایک جرگہ رکن کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تفتیش کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے غیر انسانی اور توہین آمیز رواجوں کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

  • ایف سی ہیڈکوارٹر ژوب میں کھلی کچہری،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر ژوب میں کھلی کچہری،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر ژوب میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی، کمشنر ژوب ڈویژن ،ڈپٹی کمشنر ژوب، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری میں ژوب کے علاقوں میں درپیش مسائل کے حل، امن و استحکام کے قیام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل محمد عاطف مجتبٰی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے۔ عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور ہم سب نے مل کر وطن دشمن عناصر کی سازشوں کو شکست دینی ہے۔ علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔ کھلی کچہری کے دوران مقامی عمائدین نے تعلیم وصحت اور روڈز کی حالتِ زار اور سیکورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔شرکاء نے اس عزم کا ا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور امن کے لیے بلوچستان حکومت، سیکیورٹی فورسز ، ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
    balochistan

  • کوئٹہ میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144، عوامی اجتماعات پر پابندی

    کوئٹہ میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144، عوامی اجتماعات پر پابندی

    کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت شہر بھر میں ہر قسم کے جلسے، جلوس، احتجاجی ریلیاں اور عوامی اجتماعات پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فیصلے کا اطلاق اگلے حکم تک جاری رہے گا۔

    انتظامیہ کے مطابق شہر میں ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے مختلف اداروں کی رپورٹس موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے اور قانون و امن کی فضا برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات ضروری تھے کوئٹہ میں اسلحہ کی نمائش و استعمال پر مکمل پابندی عائدکر دی گئی ہے،خواتین و بچوں کے علاوہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کا استعمال سختی سے منع کر دیا گیا ،بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی ہوگی۔ اعلامیہ کے مطابق پانچ سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد ہوگی، عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے لیے ماسک یا مفلر کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ ضلع کوئٹہ میں تیزاب اور دھماکہ خیز مواد کی نقل و حمل بھی ممنوع قرار دی گئی ہے، لیویز اور ایف سی کو سخت کارروائی کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔ خلاف ورزی پر کارروائی دفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت ہوگی، محکمہ داخلہ ڈپٹی کمشنر کو پابندیوں کی رپورٹ روزانہ محکمہ داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے

  • این،25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر ، بلوچستان کے عوام کی بدلے گی تقدیر

    این،25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر ، بلوچستان کے عوام کی بدلے گی تقدیر

    این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ وفاقی اور بلوچستان حکومت کی نگرانی میں مرحلہ وار تیزی سے جاری ہے، جبکہ تعمیراتی ذمہ داری ایف ڈبلیو او کے سپرد ہے۔ یہ قومی شاہراہ مستونگ، کچلاک، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور چمن جیسے اہم شہروں کو آپس میں جوڑتی ہے۔

    198 کلومیٹر کا طویل منصوبہ تین حصوں پر مشتمل ہے، پہلا حصہ مستونگ تا کچلاک 88 کلومیٹر ، دوسرا حصہ کچلاک تا قلعہ عبداللہ 62 کلومیٹر ، تیسرا حصہ قلعہ عبداللہ تا چمن 48 کلو میٹر جس میں خوجک ٹنل (2.5 کلومیٹر) اور چمن باونڈز (2.5 کلومیٹر)شامل ہیں،پہلے مرحلے میں قلعہ عبداللہ تا چمن (48 کلومیٹر) سڑک کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کشادہ کیا جا رہا ہے، جبکہ اس میں شامل خوجک ٹنل (اڑھائی کلومیٹر) پر بھی فروری میں کام شروع کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے تجارت میں اضافہ ہو گا، گاڑیوں کی آمدورفت میں آسانی ہو گی، بلوچستان کی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، برفباری کے موسم میں ٹریفک حادثات میں کمی آئے گی، سفری فاصلہ کم ہو جائے گا

    منصوبے کی مجموعی سیکیورٹی پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ذمہ ہے، جو تعمیراتی سرگرمیوں اور عام ٹریفک کی حفاظت یقینی بنا رہی ہے۔عوام، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے این-25 خطے میں ترقی، امن اور معاشی خوشحالی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ جو مستقبل میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔

  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز بن گئی

    مکران ایک محفوظ، پُرامن اور پُرسکون سیاحتی مرکز کے طور پر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ سمیٹنے لگا،پاکستان کے جنوبی ساحل مکران نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ،گزشتہ مہینوں میں خصوصاً یورپ سے آنے والے سیاحوں کی بڑھتی تعداد بلوچستان کی پر امن شناخت مضبوط کرنے لگی ،لسبیلہ سے گوادر تک نیلی پٹی کنڈ ملیر، پسنی، ارماڑہ اور ہنگول کی طلسماتی قدرتی کشش مہمانوں کو متاثر کر رہی ہے،سیاحوں نے بلوچستان کی مہمان نوازی، ثقافتی روایات اور مقامی لوگوں کی سادگی کو بے مثال قرار دیا

    مقامی پولیس کے مطابق؛رواں سال 400 سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے مکران کا رخ کیا ،مقامی حکام کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی پر غیر ملکی سیاحوں نے تسلی کا اظہار کیا ہے، پولیس کی شاندار سیکیورٹی فراہم کرنے کے باعث غیر ملکی سیاح یہاں پر بلا خوف و خطر سفر کرتے ہیں، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی مندر ہے جس کو غیر ملکی سیاح دیکھنے آتے ہیں اور پولیس ان کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرتی ہے،

    مکران میں ہر گزرتا دن اعتماد امن و ترقی کے نئے امکانات کو دنیا کے سامنے زیادہ نمایاں کر رہا ہے،عالمی برادری بھی بلوچستان کو امن پسند مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن خطہ کے طور پر تسلیم کرچکی ہے،مکران اب صرف خوبصورت ساحل نہیں بلکہ بلوچستان کے روشن مستقبل اور اُبھرتی ہوئی عالمی شناخت بن رہا ہے