Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا خطاب

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ بدلتے ہوئے حالات نے نئے تقاضوں او رچیلنجز کو جنم دیا ہے جس کے پیش نظر ہمیں سیکیورٹی سمیت دیگر شعبوں میں قابل اور باصلاحیت افسروں کی ضرورت ہے تاکہ بہتر ہیومن ریسورس دستیاب ہوسکے، ان خیالا کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے دورے پر آئے ہوئے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے 46ویں کامن کورس کے پی ایس پی اور ایئرفورس آفیسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حیدر علی شکوہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار، سیکریٹری خزانہ نورالحق بلوچ، آئی جی پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ، ڈی آئی جی عبدالرزاق چیمہ بھی موجود تھے جبکہ وفد میں نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے 46ویں کامن کورس کے 29اور ایئرفورس کے دو آفیسرز شامل تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں سسٹم ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مجموعی گورننس میں بہتری آسکے، اس ضمن میں اداروں کے مالی اور انتظامی امور سے متعلق بہتری اہمیت کی حامل ہے جس سے اداروں میں نظم وضبط کو پروان چڑھایا جاسکتا ہے، اجلا س کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سسٹم کو بہتر کرنے کی ذمہ داری بھی ہم سب کی ہے، اگر سسٹم بہتر ہوگا تو اس کے اثرات واضح طور پر نظر آئیں گے،انہوں نے کہا کہ ملک اور صوبوں کو قابل اور اپنے پیشے سے مخلص آفیسرز کی ضرورت ہے جو ملکی وقار اور عظمت پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کریں، اس موقع پر کورس کے شرکاء کی جانب سے وزیراعلیٰ سے سوالات پوچھے گئے، امن وامان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں کمزور گورننس کا مسئلہ رہا ہے، اس سلسلے میں کبھی باقاعدہ پلاننگ او رمنصوبہ بندی نہیں کی گئی،موجودہ صوبائی حکومت صوبے کی مجموعی گورننس اور سروسز اسٹریکچر میں بہتری کے لئے خاطر خواہ اقدامات کررہی ہے تاکہ اہم عہدوں پر اہل اور باصلاحیت افراد تعینات ہوں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر حکومت پوری طرح سے عمل پیرا ہے ہم نے 3000کے لگ بھگ جعلی اسکیمات ترقیاتی پروگرام سے خارج کردی ہیں، ہم ایک بہترین میکنزم کے ساتھ شفافیت اور مانیٹرنگ کے عمل کو بہتر بنارہے ہیں، اے اور بی ایریاز سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ خرابی اے اور بی ایریاز کی نہیں بلکہ سسٹم کی ہے، ہم نے کبھی لیویز فورس میں ہیومن ریسورس کی بہتری لئے سے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے نہ ہی انہیں بہترین ٹریننگ مہیاکی گئی ہے،جس کے باعث عوام کو لیویز کی جانب سے بہترین خدمات کی فراہمی میں غفلت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا، ہمیں اپنے شہری علاقوں سے مطابقت رکھنے والی سہولیات دیہی علاقوں میں بھی فراہم کرنی ہیں تاکہ عوام کا معیار زندگی بہتر ہو، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں ہم سی پیک کے ثمرات سے پوری طرح خود کو مستفید نہیں کرپائے لیکن موجودہ حکومت نے سی پیک اور اس سے جنم لینے والے نئے مواقعوں سے خود کو باخبر رکھا ہے، سی پیک پاکستان اور بلوچستان کے وسیع تر مفاد کا لازمی جزو ہے، بلوچستان میں سی پیک کے ساتھ ساتھ قدرتی ذخائر بھی موجود ہیں ہمارے پاس کوئلہ، گیس، کاپر، ماربل، کرومائیٹ اور طویل ساحلی پٹی موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضروت ہے، ہمیں اپنے وسائل کو بروئے کار لاکر پاکستان خصوصاً بلوچستان کو ترقی کے لازوال راستے پر گامزن کرنا ہے اور اس مقصد کا حصول تب ہی ممکن ہوگا جب ہم اسکل ڈویلپمنٹ پر سرمایہ کریں گے، بلدیاتی اداروں کی کارکردگی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ایک مثبت قدم ہے، بلدیاتی اداروں کو مالی خودمختاری دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان اداروں کے استعداد کار کو بڑھایا جاسکے، جس سے ان میں مجموعی بہتری آئے گی، بلوچستان کے وسیع رقبے کو قابل کاشت بنانے اور اس سے خاطر خواہ فائدے کے حصول سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف نصیرآباد ڈویژن میں کینال سسٹم موجود ہے جبکہ صوبے کا دیگر حصہ بارانی اور زمینی پانی سے استفادہ کرتا ہے، موجودہ صوبائی حکومت زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ڈیموں کی تعمیر کررہی ہے ماضی میں بنائے گئے ڈیمز حالات اور موسم سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث ناکام ہوگئے لیکن موجودہ صوبائی حکومت ایسی ساخت کے ڈیموں کی تعمیر کرے گی جو دیرپا ہوں اس کے ساتھ ساتھ جن علاقوں میں کینال کے نظام سے پانی فراہم کیا جاتا ہے وہاں اس سسٹم کو پوری طرح موثر بنایا جارہا ہے، سڑکوں کی تعمیر اور انفراسٹرکچر سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں دورویہ سڑکیں نہیں ہیں لیکن موجودہ حکومت وفاق کے تعاون سے کراچی تا چمن، ژوب تا کوئٹہ دورویہ سڑکوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہے تاکہ بین الصوبائی زمینی رابطے کسی تعطل کا شکار نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبے تین مراحل پر مشتمل ہیں جن میں ایک سالہ، دوسالہ اور تین سالہ منصوبے شامل ہیں جن کی مقررہ مدت میں تکمیل کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے، موجودہ صوبائی حکومت کے وژن سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ہم مثبت اور تعمیری سوچ کو پروان چڑھائیں گے تو صوبے میں مجموعی بہتری اور خوشحالی دیکھنے کو ملے گی، ہمیں ایک موثر معاشی پلان مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان اور خصوصاً بلوچستان ترقی کی منازل احسن انداز میں طے کرسکے۔

  • نصیرآباد، دھماکے سے پانچ افراد زخمی

    نصیرآباد، دھماکے سے پانچ افراد زخمی

    بلوچستان کے علاقے نصیر آباد کے قریب زوردار دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گوٹھ حمید کھوسہ میں دھماکہ ہوا جس کے باعث پولیس اہلکار سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے ،زخمیوں میں سے ایک شخص کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، دھماکے کی اطلاع ملنے پر سیکورٹی و ریسیکو ادارے فوری موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا.

    پولیس نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا اور علاقہ بھر کی ناکہ بندی کر دی، پولیس نے دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کرنے شروع کر دئیے

  • بلوچستان بھر میں پولیو مہم شروع

    10لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر، 3ہزار732 موبائل ٹیمیں،265 فکسڈ سائیڈ اور383 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہونگی،ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینیٹر راشد رزاق
    کوئٹہ۔ 26 اگست (اے پی پی) ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینیٹر راشد رزاق نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں پولیو مہم شروع کردیا گیا ہے،پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 10لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، پولیو مہم کے دوران4ہزار460کے قریب ٹیمیں حصہ لے گی جبکہ 3ہزار732 موبائل ٹیمیں 265 فکسڈ سائیڈاور383 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہونگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیو مہم کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینیٹر راشد رزاق نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کیاجارہا ہے، بلوچستان کے7 اضلاع میں 7روزہ خصوصی پولیو مہم شروع ہوگئی ہے،26 اگست سے کوئٹہ اور پشین میں 28 اگست سے نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی، صحبت پورجبکہ قلعہ عبداللہ میں 2ستمبر سے پولیومہم شروع کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں رواں سال پولیو کے چار کیسز سامنے آئے ہیں دو قلعہ عبداللہ، ایک کوئٹہ جبکہ ایک جعفرآباد میں رپورٹ ہوا ہے جس کی بنیاد پر پولیو کی خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے۔پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 10لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوارڈینیٹر راشد رزاق نے مزید کہا ہے کہ پولیو مہم کے دوران4ہزار460کے قریب ٹیمیں حصہ لینگی جبکہ 3ہزار732 موبائل ٹیمیں 265فکسڈ سائیڈاور383 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہونگی۔ واضح رہے کہ پوری دنیا میں پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو وائرس ابھی تک موجود ہے، رواں سال پاکستان میں پولیو کے 53کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہے جس کے خلاف ہم سب کو ملکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خصوصا والدین سے گذارش ہے کہ کسی قسم کے بھی منفی پراپیگنڈے پر کان نہ دھریں کیونکہ حال ہی میں ہونے والے کیسز کی ایک بڑی وجہ عدم تعاون بھی ہے ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل صحت مند اور محفوظ بنانے کے لئے ان قطروں کا پھلاناضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ویکسین کے ذریعے ہی بچوں کو پولیو سے بچایا جا سکتا ہے۔پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے علمائے کرام، سیاسی، سماجی رہنماؤں سمیت قبائلی عمائدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہمارے معاشرے سے یہ خطرناک وائرس کا خاتمہ یقینی ہوسکے۔

  • بولان، ڈھاڈر بائی پاس پر تصادم

    موٹر سائیکل سوار جاں بحق (اے پی پی) بولان کے علاقے ڈھاڈربائی پاس پر تیز رفتاری کے باعث موٹرسائیکل اور پک اپ گاڑی میں تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا زخمی ہے،پولیس نے پک اپ ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔ ذرائع کے مطابق پیر کے روز ڈھاڈر بائی پاس کے قریب پک اپ گاڑی نے موٹر سائیکل کو اچانک ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کا ساتھی زخمی ہوگیا،پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پک اپ ڈرائیور کوگرفتار کرلیا ہے،پولیس نے نعش اور زخمی کو مقامی ہسپتال منتقل کردیا جہاں زخمی کو طبی امداد دی جارہی ہے،پولیس نے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

  • وزیراعلئ بلوچستان نی ہدایت دے دی

    وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان کی انتظامیہ کو ہدایت میری کسی بھی شہر آمد اور دوروں کے دوران بازار اور دکانیں بند نہ کی جائیں شہریوں اور دکانداروں کو میرے دورے کے دوران کسی زحمت اور پریشانی میں مبتلا نہ کیا جاۓ اور میرے دورں کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہوتا ہے عوام کی سہولت اور مفاد عامہ کو ہر صورت ملحوظ رکھا جاۓ گا۔وزیراعلئ بلوچستان.

  • بلوچستان میں 8 سال میں 300 سے زائد کانکنوں کی موت

    بلوچستان میں کوئلہ کانیں موت کے کنویں بن گئی ہیں گزشتہ 8 برس کے دوران 300 سے زائد کانکن مختلف حادثات میں زندگی کی بازی ہارگئے، درجنوں زخمی ہوئے انسانی حقوق کمیشن نے بھی صوبے کی کوئلہ کانوں میں حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    بلوچستان میں ہزاروں فٹ گہرائی سے کوئلہ نکالنے والوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔ یہاں پر حفاظتی آلات اور انتظامات نہ ہونے کے باعث حادثات جنم لیتے ہیں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ، ہرنائی، دکی، مچھ اور قلات میں 2010 سے لے کر اب تک کوئلہ کانوں میں مختلف حادثات کے باعث 300 سے زائد کانکن جاں بحق ہوئے۔ گذشتہ سال صرف 3 حادثات میں 57 کانکن جان کی بازی ہارگئے۔
    ایچ آر سی پی نے بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں بڑھتے ہوئے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانکنوں اور مزدوروں کے تحفظ کیلئے حکومت سے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے پر زوردیا اور کمیشن کے مطابق کوئلہ کانوں میں زیادہ تر دھماکے میتھین گیس بھر جانے کے باعث رونما ہوتے ہیں۔ جان لیوا گیس کی جانچ کے سادہ طریقہ کار کو اپنا کر حادثات پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

  • سابق وزیراعلی بلوچستان حفاظتی ضمانت منظور

    سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری حفاظتی ضمانت کیلئے ہائیکورٹ پہنچ گئے جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے درخواست کی سماعت کی اور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلی نواب ثناءاللہ زہری کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی عدالت کی نواب ثناءاللہ زہری کو دس روز میں ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی نواب ثناءاللہ زہری نے سیشن عدالت 3 سے بھی ضمانت حاصل کرلی ہے جب کے نواب ثناءاللہ زہری نوابزادہ امان اللہ زرکزئی کے ساتھیوں سمیت قتل کے مقدمے میں نامزد ہیں۔

  • کشمیر بنے گا پاکستان، بلوچستان میں یکجہتی کشمیر ریلی ،پاک فوج زندہ باد کے نعرے

    کشمیر بنے گا پاکستان، بلوچستان میں یکجہتی کشمیر ریلی ،پاک فوج زندہ باد کے نعرے

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بلوچستان میں ریلی نکالی گئی، سوئی کا علاقہ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا

    عالمی برادری کو خبردار کرتا ہوں کہ بھارت جھوٹا آپریشن کر سکتاہے، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم اورکالے قوانین کی اطلاق پرسوئی میں ریلی نکالی گئی،احتجاجی ریلی میں سول سوسائٹی سمیت لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،شرکاء نے ہاتھوں میں کشمیری بھائیوں سے اظہاریکجہتی کے بینرزاورپلے کارڈزاٹھارکھے تھے

    بھارت کشمیر میں نیا ناٹک رچانے والا ہے،دنیا نوٹس لے، شاہ محمود قریشی

    بلوچستان کے علاقے سوئی کی فضا میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں کی گونج رہی، شرکاء پاک فوج اورپاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بھی لگاتے رہے .

    کشمیر میں افغانی طالبان آ رہے ہیں ،ہدف دہلی بھی ہو سکتا ہے، بھارت کی چیخ و پکار

    یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پرعالمی خاموشی تشویشناک ہے،عالمی برادری بھارت پردباؤڈالےکہ وہ کشمیریوں پرظلم وستم بند کرے،

    واضح رہے کہ مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 20 روز ہو گئے ہیں، تمام تر پابندیوں کے باوجود کشمیر میں زبردست احتجاج جاری، سری نگر سورہ میں بھارتی فوج کے خلاف مظاہرہ ہوا، خواتین بھی احتجاج میں شریک ہوئیں، بھارتی فوج کی فائرنگ اور پیلٹ گن سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج نے گھروں میں محصور لوگوں کو بھی نہ چھوڑا، گھروں میں آنسو گیس فائر کئے جس سے کشمیری خاتون شہید ہوگئی۔

  • وزارت داخلہ نے حزب الاحرار کو دہشتگرد کالعدم قرار دے دیا.

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حزب الاحرار اور بلوچستان راجیہ جوری آر سانگر کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے وزارت داخلہ نے دونوں تنظیموں کو دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے پر کالعدم قراردیا۔ دونوں تنظیموں کے بارے میں انٹیلی جینس رپورٹس کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے وزارت داخلہ کی طرف سے چاروں صوبوں، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
    انسداد دہشتگردی کے صوبائی محکموں کی طرف سے وزارت داخلہ کے احکامات پر عمل درآمد بھی شروع کردیا گیا ہے.

  • تربت یونیورسٹی میں منعقدہونے والے یوتھ امن میلے کا کامیاب انعقاد.

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ تربت یونیورسٹی میں منعقدہونے والے یوتھ امن میلے کا کامیاب انعقاد مکران کے نوجوانوں اور عوام کی جانب سے ان عناصرکے لئے ایک واضح پیغام ہے جو بدامنی کے ذریعہ اپنے مذموم مقاصد کا حصول چاہتے ہیں، مکران سمیت بلوچستان بھر میں امن قائم ہوا ہے جسے کسی صورت خراب نہیں ہونے دیا جائے گا، میلے میں نوجوانوں کے بڑی تعدادا میں شرکت اور جوش وخروش ایک روشن، ترقیاتی یافتہ اور پرامن بلوچستان کا مظہر ہے ان خیالات کا اظہارانہوں نے تربت یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ کیچ کے اشتراک سے پیغام پاکستان تحریک کے تحت منعقد ہونے والے تین روزہ یوتھ امن میلہ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وفاقی وزیر محترمہ زبیدہ جلال، صوبائی وزراء میر ظہور بلیدی، میر سلیم کھوسہ، زمرک خان اچکزئی، نورمحد دمڑ، بشریٰ رند، مہ جبین شیران، رکن صوبائی اسمبلی لالہ رشید بلوچ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی رامین محمد حسنی، فوکل پرسن بلال کاکڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر، وائس چانسلر تربت یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر رزاق صابر، باپ پارٹی کے سینئر نائب صدر عبدالرؤف رند، سول سوسائٹی، اساتذہ اور طلباء اور طالبات کی بہت بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیغام پاکستان تحریک کا مقصد نوجوانوں کے ذریعہ امن اورترقی لا پیغام گھر گھر پہنچانا ہے، ملک اور صوبے کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے، نوجوان حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ ترقی کے عمل میں بھی ہراول دستے کا کردار ادا کریں، انہوں نے کہا کہ سی پیک، گوادر پورٹ اور بارڈر مارکیٹوں کے قیام سے مکران کے لوگوں کے لئے روزگار اور ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور ان کی معاشی حالت بہتر ہوگی، وزیراعلیٰ نے مکران کے عوام بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک دشمن عناصر کے پروپیگنڈہ سے خود کو محفوظ رکھیں جو بلوچستان کو تاریکی اور پسماندگی میں دھکیلنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قومیں مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھتی ہیں جبکہ غلط فیصلے قوموں کے زوال کا باعث بنتے ہیں،وزیراعلیٰ نے کہ صوبائی حکومت نے بجٹ میں تعلیمی ادارو ں کے لئے خطیرفنڈز مختص کئے ہیں جس سے تعلیم کے شعبہ میں بہتری آئے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ تربت میں خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی کا سب کیمپس اور نرسنگ کالج کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، تقریب سے میر رامین محمد حسنی نے بھی خطاب کیا جبکہ طلباء وطالبات کی جانب سے قومی یکجہتی سمیت دیگر موضوعات پر رنگارنگ تفریحی پروگرام پیش کئے گئے، بعدازاں وزیراعلیٰ نے تربت یونیورسٹی میں انجینئرنگ یونیورسٹی خضدار کے سب کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا، انہوں نے ہدایت کی کہ سب کیمپس میں ان تمام شعبہ جات کا ترجیحی بنیادوں پر آغاز کیا جائے جن کی سی پیک میں مانگ ہے، وزیراعلیٰ نے تربت یونیورسٹی میں بوٹینیکل گارڈن کا افتتاح بھی کیا اور پودا لگاکر شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔