Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ایوب اسٹیڈیم کی تعمیرومرمت ميں مبينہ کرپشن۔

    ایوب اسٹیڈیم کے مختلف گراؤنڈزپر80کروڑروپےخرچ ہوۓ ہیں جب کے نتاج صفر ہیں ایکسیئن نے ایڈوانس میں ہی ٹھیکیدار کو 26 کروڑ روپے قوائد کے برخلاف ادا کردیئے تعمیراتی منصوبہ 2016 میں مکمل ہونا تھا مگر 2019 میں بھی ادھورا ہے انتظامیہ غفلت اور مبینہ کرپشن کے باعث کوئٹہ نیشنل گیمز کی میزبانی سےمحروم ہوا اور تعمیراتی کام کے دوران تین ایکسین تبدیل کئے جاچکے ہیں مشیر کھیل عبدالخالق کا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ايونٹ سےبلوچستان کا مثبت تشخص سامنےآتا ہے اور نيشنل گيمز سال 2016 ميں کوئٹہ ميں ہوناتھا،مشير کھيل بلوچستان

  • کوئٹہ صدر انجمن تاجران گرفتار۔

    کوئٹہ: ڈبل روڈ پر تجاوزات غلط پارکنگ کی وجہ سے ڈبل روڈ کوئٹہ پرضلعی انتظامیہ نے (110) ایک سو دس دکانیں سیل کردی تھی جس کے بعد انجمن تاجراننے ڈبل روڈ کو بینڈ کر کے احتجاج شرو کیا تھا اور دھرنہ دیا تھا اب آج انجمن تاجران اور احتجاج پر بیٹھے دکانداروں پر پولیس کا لاٹھی چارج اور روڈ پر لگائے گئے کیمپ کو اکھاڑ دیا گیا ہے اور روڈ کو آمدورفت کے لئے کھول دیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سےمرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ ،میر یاسین مینگل سمیت متعدد تاجر گرفتار کر لئے ہیں اور اب مرکزی انجمن تاجران رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ کی گرفتاری کے خلاف کل بروز بدھ 24 جولائ کو کوہیٹہ شہر میں کمشنرکوہیٹہ ڈی سی کوہیٹہ اور پولیس انتظامیہ کے خلاف مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی ہے.

  • کوئٹہ،مستونگ روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی،پولیس۔

    کوئٹہ کے علاقے مستونگ روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا،پولیس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ مستونگ بائی پاس شیخ زائد ہسپتال کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے نوراحمد نامی شخص کو زخمی کردیا اور موقع وارادات سے فرار ہوگئے،پولیس کو اطلا ع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمی شخص کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔دریں اثناء کوئٹہ کوئلہ پھاٹک پر تیز رفتاری کے باعث روڈ حادثہ میں دو افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پرطبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کردیا۔

  • محکمہ صحت بلوچستان نے پنجگور کی رہائشی خاتون کے مبینہ گردہ نکالنے کا معملے پر انکوائری۔

    پنجگور کی رہائشی خاتون کے مبینہ گردہ نکالنے کے معاملے پر محکمہ صحت بلوچستان نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے محکمہ کے ایک اعلامیہ کے مطابق کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں پنجگور کے رہائشی محمد طاہر کی بیٹی کے مبینہ گردہ نکالنے کے معاملے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ کمیٹی اس معاملے کی جانچ کرے گی کہ کیا ورثا ء سے آپریشن اور گردہ نکالنے کی اجازت لی گئی تھی؟ کیا مریض کا آپریشن کرنا ضروری تھا؟ کیا اس دوران سرجن نے خراب طبی طریقہ کار تو نہیں اپنایا تھا یا کسی غفلت کا مظاہرہ تو نہیں کیا؟کمیٹی اپنی رپورٹ 7روز میں محکمہ صحت بلوچستان کو پیش کرے گی اور کمیٹی کو مکمل اختیار ہے کی وہ ہسپتال کی کسی بھی عملے سے جانچ کرے یا ریکارڈ طلب کرے۔

  • 500ملی گرام نامی اینٹی بائیوٹک انجیکشن استعمال پر پابندی۔

    محکمہ صحت بلوچستان نے اینٹی بائیوٹک انجیکشن اناٹا میٹرونیزاڈول 500ملی گرامکے استعمال پر پابندی عائدکردی ہے جب کے محکمہ صحت حکومت بلوچستان نے غیر معیاری ہونے کی شکایات پر اناٹا میٹرونیزاڈول 500ملی گرام نامی اینٹی بائیوٹک انجیکشن کے استعمال پر فوری طور پر پابندی عائد کرتے ہو ئے سرکاری شعبہ کے ہسپتالوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ یہ انجیکشن18۔2017 میں خریدے گuے تھے۔انجیکشن نمونے ٹیسٹ کے لیے گئے صوبائی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری اور نیشنل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو بجھوا دئیے گئے ہیں غیر معیاری ثابت ہونے پر انجیکشن فراہم کرنے والی کمپنی پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ادا کی گئی قیمت بھی وصول کی جائے گی۔

  • ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو بلوچستان کرپشن سے متعلق عوامی شکایات  کے لئے   25جولائی کوکھلی کچہری لگائیں گے۔

    23جولائی چیر مین نیب جسٹس جاوید اقبال کی خصوصی ہدایات پر ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو بلوچستان فرمان اللہ 25جولا ئی کو دن 2:00 سے 3:00 بجے کے درمیان کرپشن سے متعلق عوامی شکایات کی شنوائی کے لئے کھلی کچہری لگائیں گے۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے یا متاثرہ افراد کرپشن سے متعلق معلومات اور شکایات مکمل شواہد کے ساتھ نیب کے ریجنل آفس میں ڈی جی نیب کے روبرو پیش کر سکتے ہیں۔ نیب کے قانون 1999ء کے دائرہ کار میں آنے والی تمام شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عوام الناس کی راہنمائی کے لئے مطلع کیا جاتا ہے کہ ایسے جرائم جو نیب کے دائرہ کار میں آتے ہیں جیسے سرکاری خزانے کو کسی فرد یا ادارے کی طرف سے نقصان پہنچایا گیا ہو، سرکاری اختیارات کا غلط استعمال کر کے مالی فوائد حاصل کئے گئے ہوں، عوام الناس سے دھوکہ دہی کی گئی ہو، بینکوں، مالیاتی اداروں اور حکومتی واجبات کی دانستہ عدم ادائیگی کا ارتکاب کیا گیا ہو یا عوامی عہدیداروں اور سرکاری ملازمین نے ناجائز اثاثے بنائے ہوں، ایسی تمام شکایت پر فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ تاہم سائلین سے کہا گیا ہے کہ کھلی کچہری میں ذاتی نوعیت کے مسائل لانے کے بجائے عوام الناس سے دھوکہ دہی سے متعلق کیس سمیت سرکاری خزانے کو لوٹنے والے عناصر کی نشاندہی کی جائے۔ کھلی کچہری کا انعقاد چیئر مین نیب جسٹس جاوید اقبال کی خصوصی ہدایت پر تمام ریجنل آفسز میں ہر ماہ کی آخری جمعرات کو کیا جاتا ہے۔

  • چمن تصادم، 3 افراد ہلاک، 7 زخمی ہوۓ ہیں۔

    بلوچستان کے علاقے چمن میں دو قبائل کے درمیان تصادم کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور سات افراد زخمی ہوئے ہیں ذرائع کے مطابق میزئی اڈاہ کے مقام پر دو قبائل کے درمیان لڑائی میں جدید اسلحہ کا آزادانہ استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں رحمت اللہ عبداواسع اور شاہ گل سمیت ایک اور شخص ہلاک ہوئے ہیں قبائل میں تصادم سے کوئٹہ چمن مرکزی شاہراہ ہر قسم کے ٹریفک کے لیے معطل رہی جبکہ علاقے میں خوف و حراست پھیل چکا ہے اور فائرنگ کے باعث سینکڑوں افراد محصور ہوئے ہیں
    علاقائی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کرانے کیلئے عمائدین کی وفد علاقے میں داخل ہوچکی ہے۔

  • ڈی جی نیب بلوچستان کھلی کچہری لگائیں گے.

    ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو بلوچستان فرمان اﷲ جمعرات 25 جولائی کودن 2سے 3 بجے کے درمیان کرپشن سے متعلق عوامی شکایات کی شنوائی کے لئے کھلی کچہری لگائیں گے۔ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے یا متاثرہ افراد کرپشن سے متعلق معلومات اور شکایات نیب کے ریجنل آفس میں ڈی جی نیب کے روبرو پیش کر سکتے ہیں۔ نیب کے قانون 1999کے دائرہ کار میں آنے والی تمام شکایات پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لاءجائے گی۔
    عوام الناس کی راہنمائی کے لئے مطلع کیا جاتا ہے کہ ایسے جرائم جو نیب کے دائرہ کار میں آتے ہیں جیسے سرکاری خزانے کو کسی فرد یا ادارے کی طرف سے نقصان پہنچایا گیا ہو، سرکاری اختیارات کا غلط استعمال کر کے مالی فوائد حاصل کئے گئے ہوں، عوام الناس سے دھوکہ دہی کی گئی ہو، بینکوں، مالیاتی اداروں اور حکومتی واجبات کی دانستہ عدم ادائیگی کا ارتکاب کیا گیا ہو یا عوامی عہدے داروں اور سرکاری ملازمین اپنے مالی وسائل سے آعلی زندگی گزاررہے ہوں اور ناجائز اثاثے بنائے ہوں، ایسی تمام شکایت پر فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ تاہم سائیلین سے کہا گیا ہے کہ کھلی کچہری میں زاتی نوعیت کے مسائل لانے کے بجائے عوام الناس سے دھوکہ دہی سے متعلق کیسز سمیت سرکاری خزانے کو لوٹنے والے عناصر کی نشاندہی کی جائے۔ کھلی کچہری کا انعقاد چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی خصوصی ہدایت پر تمام ریجنل آفسز میں ہر ماہ کی آخری جمعرات کو کیا جاتا ہے۔

  • کوئٹہ سے افسوسناک خبر۔

    کوئٹہ ہننہ اوڑک کے علاقہ میں تیز بارش سے ولی تنگی میں سیلابی بارش کے پانی میں بہہ کر ایک شخص جانبحق ہوگیا اور 3 خواتین کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعت ہیں۔

  • کوئٹہ کے تفریحی مقامات کے حوالے سے ہوا اہم اجلاس۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے وژن کے مطابق ان کی ہدایت کی روشنی میں کوئٹہ کے تین تفریحی اور صحت افزاء مقامات ولی تنگی، شعبان اور ہنہ جھیل کو پرکشش سیاحتی مراکز میں تبدیل کرنے کے مجوزہ منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے پیر کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، صوبائی وزراء میر سلیم احمد کھوسہ، حاجی نورمحمد دمڑ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالرحمن بزدار، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری نورالامین مینگل اورسیکریٹری سیاحت سمیت دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی خان اور منصوبے کے کنسلٹنٹ کی جانب سے اجلاس کومجوزہ منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی، اجلاس میں تینوں مقامات کی ترقی کے منصوبوں کے لئے ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام سے اتفاق کرتے ہوئے ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ کا مسودہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں متعلقہ محکموں کے حکام، علاقے کے معتبرین اور پاک فوج کی نمائندگی سے بھی اتفاق کیا گیا، اتھارٹی ان مقامات کی ماسٹر پلاننگ کرے گی، اجلاس میں ماسڑ پلاننگ میں مقامی آبادی کی شراکت داری، جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ و افزائش کے امور کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں اس بات سے اتفاق کیا گیا کہ سیاحتی مقامات کی ترقی میں نجی شعبہ کو بھی شامل کیا جائے گا اور مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں کے فروغ او ر مقامی افراد کو روزگای کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا، اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا کہ ولی تنگی، ہنہ جھیل اور شعبان کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کرتے ہوئے وہاں تفریحی، رہائشی، تجارتی، مواصلاتی اور ماحولیاتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں کشتی رانی، سرفنگ، واٹر گلائیڈنگ، تھیم پارک، رہائشی کاٹیجز، ریستوران، سمیت بچوں اور بڑوں کی دلچسپی کی دیگر سہولتیں شامل ہوں گی جبکہ سیکیورٹی کیمروں کی تنصیب سمیت سیکیورٹی کے دیگر اقدامات بھی کئے جائیں گے اور سیاحت کے فروغ کے لئے خیبر پختونخوا کے تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے گا، اس موقع پر وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان صوبہ میں سیاحت کے فروغ کے موجود امکانات اور مواقعوں سے بھرپور استفادہ کرکے اندرون ملک اور بیرون ممالک کے سیاحوں کی توجہ بلوچستان کی جانب مبذول کراناچاہتے ہیں جس کے لئے روا ں مالی سال کے صوبائی بجٹ میں خطیر فنڈز مختص کئے گئے ہیں، اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ سیاحت کے فروغ سے دنیا بھر میں بلوچستان کا مثبت تاثر اجاگرہوگا۔