وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پولیس فورس نے گرانقدر قربانیاں دی ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا، ہمارے نظام صوبے، ملک اور قوم کے لئے ان قربانیوں سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوسکتا جو پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران دی ہیں، آج ہم جس پرامن حالت میں سکون کے ساتھ رہ رہے ہیں یہ انہی قربانیوں کی بدولت ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم شہداء پولیس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حیدرعلی شکوہ، آئی جی پولیس محسن بٹ، پولیس حکام اور شہداء کے لواحقین بھی تقریب میں موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کے دن ہم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہاں موجود ہیں، شہداء کی جانوں کا نعم البدل تو نہیں ہوسکتا تاہم ہم ان کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے غم میں شامل ضرور ہوسکتے ہیں،ہم عزم اور جذبے کے ساتھ شہداء کے بچوں کی تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش کی سہولتوں کو ضرور یقینی بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک اور صوبے میں ہر سطح اور ہر پیمانے پر دہشت گردی ہوتی رہی ہے اور اگر صورتحال میں بہتری آئی ہے تو اس کی وجہ اور کچھ نہیں صرف شہداء کی قربانیاں ہیں، تمام فورسز ہماری ہیں اور وردی میں ملبوس لوگ صحیح معنوں میں سچے پاکستانی ہیں جو 24گھنٹے سرحدوں اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے وسائل کم نہیں لیکن ایسی کوئی ترجیح نہیں بنائی گئی ہے جس سے ان وسائل کا صحیح معنوں میں استعمال ہو اور یہ وہ خامیاں ہیں جن سے بہت سے امور خراب ہوئے، انہوں نے کہا کہ اب وہ وقت ہے جب ہم نے ہر شعبے کو اٹھانا ہے، بہتری آئے گی تو کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا، ہمارے سپاہیوں کے پاس تمام سہولتیں ہوں گی تو وہ بہتر انداز میں اپنے فرائض سرانجام دینے کے قابل ہوسکیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فورسز کو سہولتیں فراہم کرکے ان کی کارکردگی کو مثالی بنائے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے، پولیس اورلیویز فورس امن کے قیام کی اہم ذمہ داریاں ادا کررہی ہیں اور ان فورسز میں کسی قسم کی تفریق نہیں آنی چاہئے، ہم انہیں یکساں سہولتیں دیں گے اور ان سہولتوں کو دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں دیکھے اور ان دیکھے دشمنوں کا سامنا ہے ان حالات میں سیکوریٹی فورسز اپنے حوصلے بلند رکھیں، ان کی اخلاقی مدد معاشرے کی ذمہ داری ہے جس میں سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، ہماری فورسز بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور مشکل ترین اور کٹھن حالات میں بھی کبھی پیچھے نہیں ہٹیں، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے شہداء کے لواحقین سے فرداً فرداً ملاقات کی اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے آئی جی پولیس کو ان کے حل کے لئے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی، قبل ازیں وزیراعلیٰ نے یادگار شہداء پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، وزیراعلیٰ نے شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔
Category: کوئٹہ
-

کوئٹہ، ٹرین کو بم سے اڑانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا،کتنے کلو وزنی بم تھا؟ اہم خبر
بلوچستان میں ملک دشمنوں کا ایک اور بڑا منصوبہ ناکام ہو گیا، ٹرین کو بم سے اڑانے کی سازش ناکام بنا دی گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے بولان میں ملک دشمنوں کی جانب سے تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے، کوئٹہ سےکراچی جانیوالی بولان میل کو اڑانے کی کوشش کی گئی، تا ہم اطلاع ملنے پر سیکورٹی حکام نے ریلوےٹریک پر 8 کلووزنی بم کوناکارہ بنادیا،بم کےساتھ 7 راکٹ بھی منسلک کیے گئے تھے
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی راجن پور کے نواحی علاقہ عمرکوٹ کے قریب کوٹلہ حسن شاہ کے ساتھ ریلوے ٹریک سے بم برآمد ہوا تھا،بم ڈسپوزل اسکواڈ کےآفیسرغلام عباس کے مطابق ریلورے ٹریک سے ملنے والا بم پنچ کلو وزنی تھا،
-
ہائی کورٹ کی جانب سے سیل شدہ دکانوں کو کھولنے کاحکم.
بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے تمام سیل شدہ دکانوں کو کھولنے کے احکامات کاخیر مقدم کرتے ہیں۔ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان شہر کی وسیع تر مفاد میں انتظامیہ،میٹروپولٹین کارپوریشن سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتے آرہے ہیں،اور آئندہ بھی شہر کی خوبصورتی کی بحالی اور ناجائز تجاوزات کے خاتمے کیلئے اپنا بھرپور کرداراداکریگی،بیان میں کہاگیاکہ گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ میں سیل شدہ دکانوں کے متاثرین کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کی سماعت ہوئی اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ،اللہ داد ترین سمیت دیگر سینکڑوں تاجر موجود تھے۔طویل بحث ومباحثہ کے بعد معزز عدالت نے دکانوں کو ڈی سیل کرنے کے احکامات دیتے ہوئے متعلقہ دکانداروں سمیت شہر کے تمام دکانداروں کو ناجائز تجاوزات،ڈبل پارکنگ،سڑکوں پر گاڑیوں کی مرمت،غیر قانونی تعمیرات سے سختی سے منع کیا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے احکامات صادر کئے۔بیان میں کوئٹہ شہر کے تمام دکانداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ وہ شہر کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے احساس ذمہ داری کامظاہرہ کریں کیونکہ موجودہ حالات میں شہر میں پیدل چلنا محال ہوگیاہے جن کی متعدد وجوہات کے ساتھ ساتھ ناجائز تجاوزات بھی شامل ہیں،ہم ناجائز تجاوزات،شہر کی صفائی کے حوالے سے اپنے حصہ کاکام کرنے کوتیار ہیں۔مگر حکومت کو بھی شہر کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہونگے جن میں قائم بس،ٹرک وینگ اڈوں کی ہزارگنجی منتقلی،شہر میں ہنگامی بنیادوں پر پارکنگ پلازوں کی تعمیر،متعدد فلائی اوورز اور انڈرپاسز کی تعمیر جیسے اقدامات ناگزیر ہیں اگر حکومت کوئٹہ کے حوالے سے سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کرتی۔تو تاجر تجاوزات کاخاتمہ کرکے بھی شہر کی حالت نہیں بدل سکتی،اس موقع پر عدالت میں موجود تاجروں نے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور عدالت سے درخواست کی عموماََ آپریشن کید وران کارروائی میں انتظامیہ کے آفیسران کی جانب سے تاجروں کو مارپیٹ،گالم گلوچ کاسامنا کرناپڑتاہے جس پرعدالت نے تمعلقہ حکام کو تاجروں کی عزت نفس کا خیال رکھنے کا بھی حکم دیاہے۔
-
کوئٹہ شراب کے اڈوں کی رونقیں ایک مرتبہ پھر بحال.
کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں شراب کے اڈوں کی رونقیں ایک مرتبہ پھر بحال ہوگئی ہے جہاں پر بڑی تعداد لوگ موجود ہوتے ہیں جو انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کوئٹہ کے علاقے جناح روڈ ،فاطمہ جناح روڈ،عدالت روڈ،ٹیکسی اسٹینڈسمیت دیگر اہم شاہراہوں پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ناک نیچے شراب کی دوکانوںنے اڈے کی شکل اختیار کرلی ہے جہاں پر بڑی تعداد میں شہری موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں غلط تاثر پروان چڑھ رہا ہے جو انتظامیہ کے کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اہم شاہراہوں پر سرعام شراب کی کاروبار سے غلط رجحان بڑھ رہا ہے نشے کی عادی افراد ہر وقت یہاں پر منڈلارہے ہوتے ہیں قریبی ہی بس اسٹینڈ ہے جہاں پر خواتین سمیت طلباءاور طالبات کا گزر ہوتا اہم شاہراہوں پر شراب کی دوکانیں چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے انہوں نے وزیراعلی جام کمال ،صوبائی وزیر داخلہ ،کمشنر کوئٹہ ،آئی جی پولیس سمیت دیگر اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ کوئٹہ شہر کے اہم شاہراہوں پر شراب کے اڈوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے تاکہ شہریوں کو عذاب سے جھٹکارا مل سکے.
-
بلوچستان پشین دھماکہ سیکورٹی فورسسز کی گاڑی پر ہوا۔
پشین کلی ملیزئی اور علیزئی پل کے قریب سیکورٹی فورسسز کی گاڑی پر ریمونٹ کنٹرول دھماکہ ہوا تھا دھماکہ ایف سی پشین کے سکواڈ گاڑی پر ہوا ہے پشین دھماکے سے دور دور تک آوازیں سنای گئی ہے پشین ایف سی کے گاڑی برشور اور دیکر چیک پوسٹوں پر تنخواء دینے کیلے جارہے تھے دھماکے میں تین ایف سی اہلکار زخمی ہوے زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتایا جارہا ہے زخمیوں کو فوری طور پر طبی علاج کیلے کوئٹہ سی ایم ایچ منتقل کردیا ہے
اسی موقع پر کمانڈر سیکٹر نارتھ برگیڈئر لیاقت علی نے کہاں کہ دشمن کے مذموم مقاصد ایف سی کے اس کے کام سے نہں روک سکتے ہمارے جوانوں کے حوصلے بلند ہے اور ہم ان دہشت گردوں کو ائنی ہاتھوں سے نمٹیے گے۔ -
خواتین کا پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاج۔
سریاب کلی مینگل آباد میں تیزاب گردی کا شکارھونے والی خواتین کا پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاج کیا احتجاج کرنے والی خواتین اور مردوں کا کہنا ھے کہ 25 جولائی کو رات 1 بجے دو افراد ہمارے گھر میں داخل ھوئے اور گھر میں سوئے بچوں پر تیزاب پھینک دیا،محمد حمزہ کا کہنا ھے کہ ہم نے تیزاب گردی کرنے والوں کے خلاف نیو سریاب پولیس تھانہ میں مقدمہ بھی درج کرایا مگر ایس ایچ او نیو سریاب ہمارے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں ہمیں ڈرانے اور دھمکانے کے لیئے ہمارے ایک آدمی کو اٹھایا گیا ہے جسے واپس نہیں چھوڑا جارہاجن کیخلاف ہم نے ایف آئی آر درج کرائی مگر انکو گرفتار نہیں کیا جارہا،متاثرہ بچی کے والد کا موقف ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔
-
بلوچستان میں دھماکہ۔
بلوچستان کے علاقے پشین کلی ملیزی کے قریب زور دار دھماکے اور فائرنگ کی آواز سنائی دی گئی ہے اطلاع ہے کے ملیزئی علیزئی روڈ پر بم دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہیں زخمیوں کو فوری طبی امداد کوئٹہ ریفرر کردیا بارودی مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور دھماکہ سیکورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب ہوا۔
-
اراکین سینیٹ کے اعزاز میں عشائیہ.
صدر بلوچستان عوامی پارٹی وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان کا چئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی کامیابی پر اراکین سینیٹ کے اعزاز میں عشائیہ
۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری وفاقی وزراء چوہدری غلام سرور زبیدہ جلال وزیراعظم کی مشیر فردوس عاشق اعوان بلوچستان کے وزراء اراکین قومی اسمبلی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی عشائیہ میں شرکت شرکاء کی جانب سے چئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو مبارک باد کامیابی اتحادیوں کی محنت کا نتیجہ ہے جسکے لیۓ جمہوری اور سیاسی راستہ اپنایا گیا وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان بلوچستان عوامی پارٹی چئیرمین کی حمایت پر حکومت اور اتحادی جماعتوں کی مشکور ہے وزیراعلئ جام کمال خان. -
بگٹی ہاؤس کوئٹہ کا فیصلہ۔
عدالت نے بگٹی ہاوس کوئٹہ کا فیصلہ نواب میر عالی بگٹی کے حق میں سنا دیا ہے، یاد رہے نوابزادہ طلال اکبر بگٹی کے وفات کے بعد نوابزادہ شاہ زین بگٹی کوئٹہ بگٹی ہاوس میں رہ رہے تھے جس کے بعد نواب میر عالی بگٹی نے عدالت میں درخواست دائر کیا تھا جس کا فیصلہ نواب میر عالی بگٹی کے حق میں آگیا ہے
-
بلوچستان میں کی نیب نے بڑھی کروائی۔
نیب بلوچستان نے سابق مشیرخزانہ خالد لانگو، سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کے فرنٹ مین سہیل مجید شاہ کی38کروڑ 20لاکھ روپے مالیت کی رہن زرعی اراضی ضبط کرکے حکومت بلوچستان کے حوالے کر دی،ترجمان نیب بلوچستان (اے پی پی) بلوچستان خزانہ کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے نیب بلوچستان نے سابق مشیرخزانہ خالد لانگو، سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کے فرنٹ مین سہیل مجید شاہ کی38کروڑ 20لاکھ روپے مالیت کی رہن زرعی اراضی ضبط کرکے حکومت بلوچستان کے حوالے کر دی۔ ترجمان نیب بلوچستان کے مطابق ڈی سی صحبت پور کو متعلقہ زمین کی زرعی آمدن سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ قومی احتساب بیورو بلوچستان نے بلوچستان خزانہ کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سابق مشیر خزانہ خالد لانگو،سابق سیکرٹری خزانہ مشاق رئیسانی کے فرنٹ مین ٹھیکیدار سہیل مجید شاہ کی پلی بارگین کی بقایا رقم کی عدم ادائیگی کی صورت بطور ضمانت لی گئی 38کروڑ20لاکھ روپے مالیت کی 388ایکڑ رہن زرعی اراضی ضبط کر کے حکومت بلوچستان کے حوالے کر دی جبکہ ڈی سی صحبت پور کو متعلقہ زمین کی زرعی آمدن سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی بھی ہدایات جاری کر دی ہیں۔واضح رہے کہ بلوچستان خزانہ کیس کے مرکزی ملزمان کے فرنٹ مین سہیل مجید شاہ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے 96کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کروانے کے لئے پلی بارگین کی درخواست دی۔ملزم نے درخواست کی معزز عدالت اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد 46کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے جبکہ 50کروڑ روپے مالیت کی زمینیں رہن رکھوائیں تاہم بقایا رقم جمع کروانے کی مدت گزر جانے کے بعد نیب بلوچستان نے ضلع صحبت پور میں واقع 388ایکڑ زمین قبفہ میں لے کر بحق سرکارحکومت بلوچستان کو قبضہ منتقل کر دیا۔ مزید برآں 419ایکڑ کی مزید رہن زرعی زمین کو بھی ضبط کر کے حکومت بلوچستان کے حوالے کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔واضح رہے پلی بارگین کی رقم جمع نہ کروانے کی صورت احتساب عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں جن کی روشنی میں ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جا سکتی ہے۔