Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ میں سول سیکرٹریٹ‌ کی دونوں‌ کینٹین سیل، دودھ میں کیا چیز ملائی گئی تھی سن کر حیران رہ جائیں‌ گے

    کوئٹہ میں سول سیکرٹریٹ‌ کی دونوں‌ کینٹین سیل، دودھ میں کیا چیز ملائی گئی تھی سن کر حیران رہ جائیں‌ گے

    کوئٹہ میں سول سکریٹریٹ کے دونوں کینٹین سیل کردیے گئے ہیں،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کینٹین میں موجود دودھ میں مضر صحت کیمیکل پایا گیا ہے. دونوں کنٹینزکو صفائی کے ناقص انتظامات پرسیل کیا گیا ہے.

    ڈی جی فوڈ‌ اتھارٹی کی جانب سے حالیہ دنوں‌ میں‌ مختلف مقامات پر صفائی کے انتظامات چیک کرنے کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں. آج منگل کے دن انہوں‌ نے سول سیکرٹریٹ کی دونوں کینٹین چیک کیں‌ تو وہاں‌ صفائی کے انتہائی ناقص انتظامات پائے گئے جس پر دونوں کینٹین سیل کر دی گئی ہیں. ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے سول سیکرٹریٹ‌کی دونوں‌ کنٹین میں ناقص انتظامات پر سخت برہمی کا اظہا رکیا ہے.

  • پشین میں فائرنگ۔

    صحافی روح اللہ کاکڑ کے گھر پر فائرنگ کی گئی ہے فائرنگ کے نتیجے میں روح اللہ کاکڑ کا بھائ زخمی ہوا ہے جسے کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے اور لیویز نے بروقت کاروائ کرتے ہوے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا ملزمان سے اسلحہ بھی برآمد مزید تفتیش جاری۔

  • منہ کا نوالہ کسی کو چھننے نہیں دیں گے۔

    کوئٹہ بلوچستان کے صحافی رہنماؤں نے کہاہے کہ صحافی حکومت مخالف نہیں لیکن اپنے منہ کا نوالہ کسی کو چھننے نہیں دیں گے میڈیا پر غیر اعلانیہ سینسر شب، صحافیوں کی جبری برطرفی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، بلوچستان کے صحافیوں نے ماضی میں آزادی صحافت کے لئے جدوجہد کی ہے اگر آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لئے تحریک شروع کی گئی تو اسکا آغاز بلوچستان سے ہوگا، یہ بات پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر سلیم شاہد، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین، کوئٹہ پریس کلب کے صدر رضاالرحمن، بی یو جے کے جنرل سیکرٹری عبدالرشید بلوچ، رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر بی یو جے کے زیر اہتمام میڈیا ہاؤسز سے جبری برطرفیوں،تنخواہوں کی عدم ادائیگی،چینلز کی بندش اور غیر اعلانیہ سنسر شپ کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی، مقررین نے کہا کہ صحافیوں نے آزادی صحافت کے لئے ہمیشہ جدوجہد کی ہے آمروں کے دور میں کوڑے کھائے لیکن اصولی موقف اور حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا لیکن آج ملک میں بد ترین سنسر شپ اورصحافیوں کا استحصال جاری ہے جو ناقابل قبول ہے انہوں نے کہا کہ صحافی ہمیشہ عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن آج ہم اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں پورے ملک میں میڈیا بد ترین دور سے گزر رہا ہے بلوچستان کے صحافیوں نے ہمیشہ آزادی صحافی کی آواز بلند کی ہے یہ ہمارا آئینی حق ہے لیکن آج جس دور سے صحافی گزر رہے ہیں اسکی مثال آمریت کے ادوار میں بھی نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ صحافی گفتا نشستا بر خاستاکے لئے نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کے لئے باہر نکلے ہیں اگر آج ہم خاموش ہوگئے تو پھر آزادی صحافت پر جو قدغن لگے گا اس کے ہم سب ذمہ دار ہونگے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ رہی ہے کہ ہم نے ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے تمام صحافیوں کو میڈیا ہاؤسز سے جبری برطرفیوں،تنخواہوں کی عدم ادائیگی،چینلز کی بندش اور غیر اعلانیہ سنسر شپ کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوکر آواز بلند کرنی ہوگی،آج بلوچستان سمیت ملک بھر میں بیورو بند کئے جارہے ہیں صحافیوں کو نکالا جارہا ہے،تنخواہوں میں کٹوتی ہورہی ہے ایسے اقدامات نے ایک با ر پھر مارشل لاء کی تاریخ تازہ کردی ہے انہوں نے واضح کیا کہ ہم حکومت گرانا یہ حکومت کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم اپنے منہ کا نوالہ کسی کو چھننے نہیں دیں گے، اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے بھی صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہر طبقہ بر سر احتجاج ہے یہ ملک کے لئے نیک شگون نہیں اور یہ حکومت کی ناکامی اور بے بسی کی نشانی ہے انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہیں جو پورے معاشرے کے مظلوم طبقے کی آواز بنتے ہیں لیکن آج صحافیوں کو خاموش کروایاجارہا ہے میڈیا ہاوسز اپنے منافعے سے ورکرز کا خیال کریں اگر ورکر کام نہ کریں تو میڈیا ہاؤسز کا کام ٹھپ ہو جائیگا مالکان کو چاہیے کہ وہ ملازمین کے استحصال سے گریز کریں انہوں نے کہا کہ حکومت نے جب اپنی مرضی کی بات کرنی ہوتی ہے تو وہ صحافیوں کا خیال کرتے ہیں لیکن آج میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسر شپ جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے بی این پی ہر محاذ پر میڈیا کی آزادی کے ساتھ جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہے۔

  • کیسکو کے دعوے پورے نہ ہوسکے۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق کوئٹہ کے سریاب روڈ ، خلجی کالونی ،ائیر پورٹ روڈ عالمو چوک. کلی عمر. شالکوٹ. کلی کوتوال ، پشتون آباد سمیت ملحقہ علاقوں میں بجلی غائب ہے دوپہر 2 بجے سے بجلی بند ہے 9 گھنٹے گزرنے کے باد بھی بجلی بحال نہیں ہوسکھی شدید گرمی میں بزرگ، بچے، بڑے شدید کوفت کا شکار ہیں کیسکو حکام غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ بتانے سے قاصر ہیں اور کیسکو کا شکایتی نمبر مسلسل مصروف جا رہا ہے علاقہ مکینوں کا کیسکو کے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

  • مکمل کوئٹہ جام عوام کو شدید مشکلات۔

    کوئٹہ ہاکی گراؤنڈ چوک کے مقام پر بلوچستان ایجوکیشنل ایمپلائز ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے باعث کوئٹہ شہر اور بائی پاس روڈ پر صبح سے ہزارو گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہے مسافرو مریضوں خواتین بچے اور ٹرانسپورٹرو کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ساتھ ہی کچھ میٹر پر میں ایمرجنسی ہسپتال ہے جہاں انے والے مریضوں کو مزید تکلیف کا سامنا ہے جب کے رات کے وقت بھی ٹرافیک کا نظام مکمل طور پر خراب ہے اور ٹرافیک جام ہے اور انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔مزید اطلاعت کے مطابق دھرنے سے مرکزی قیادت کا دبنگ اعلان کہ مزاکرات جاری ہیں اگر مرکزی قیادت یا بلوچستان کا کوئی بھی ٹیچر کو گرفتار کیا گیا تو اس کے ردعمل کل سے بلوچستان بھر کے تمام تعلیمی ادارے تمام کالجز تمام تعلیمی دفاتر کی مکمل تالا بندی بھی کر دی جائے گی۔

  • بلوچستان میں 144 نافذ۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے مجاز حکام کی منظوری سے ایک حکم نامے کے ذریعہ ضلع کوئٹہ کی حدود میں فوری طورپر دفعہ 144 نافذ کردی ہے جسکے تحت جلسہ کرنے جلوس نکالنے دھرنے دینے اور 5 یا 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد رہے گی۔اس اقدام کا مقصد عوام کی جان مال کا تحفظ اور سڑکوں کی بندش کی صورت میں انہیں درپیش مشکلات کو دور کرنا ہے ۔

  • کوئٹہ ،کوئلے کی کان میں دھماکا، دس مزدور پھنس گئے

    کوئٹہ ،کوئلے کی کان میں دھماکا، دس مزدور پھنس گئے

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں زہریلی گیس بھرنے سے کوئلہ کان میں دھماکہ ہوا ہے جس سے 10 مزدور کان میں پھنس گئے
    کوئٹہ سے بھی جائیں گی اس سال حج پرواز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے علاقے ڈیگاری میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں کان میں کام کرنے والے دس افراد پھنس گئے، واقعہ کی اطلاع پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کاروائیاں شروع کر دیں. محکمہ معدنیات کے حکام اور لیویز کا عملہ بھی موجود ہے.

    کوئٹہ رحمانیہ مسجد میں دھماکے کا مقدمہ درج

    کوئلہ کی کان میں دھماکا رات کو ہوا تھا اس لئے امدادی کاروائیوں میں مشکلات کا سامنا تھا ، اب صبح ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاروائی میں تیزی شروع کر دی .

  • وزیراعلئ بلوچستان کا نیک خواہشات کا اظہار۔

    وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کینسر بیالوجی میں ماسٹرز ڈگری لینے والی طالبہ معصومہ راجپوت بلوچستان کی بیٹی اور فخر پاکستان ہے اپنے ٹوئیٹر پر معصومہ راجپوت کو مبارکباد دیتے ہوۓ وزیراعلئ نے کہا ہے کہ
    معصومہ راجپوت نے جرمنی کی نامور یونیورسٹی سے کینسر کے شعبہ میں ماسٹرز کرکے تاریخی کامیابی اور کینسر بیالوجی میں ماسٹرز کرنے والی ملک کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔وزیراعلئ بلوچستان نے معصومہ راجپوت کی مزید کامیابیوں کے لیۓ نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے

  • سبی میں واپڈا کا بجلی چوروں کے خلاف آپریشن۔

    سبی میں واپڈا کا بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف اپریشن اٹھویں روز بھی جاری سبی شہر الہ آباد غریب آباد لونی روڈ میں سیکڑوں بجلی چوروں کے کنکشن منقطع کردیئے گئے تفصیلات کے مطابق ایکس این کیسکو عبدالستار لاشاری کی خصوصی ہدایت پر ایس ڈی او آپریشن محمد دین انصاری نے بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف آپریشن شروع کردیا آپریشن میں کیسکو کاعملہ جلال احمد حاجی غلام حسین شعیب انصاری ابراہیم نیازاحمد چانڈیو فضل احمد صدیق لونی طارق بگٹی حصہ لے رہے ہیں لائن سپرئڈنٹ جلال احمد اور حاجی غلام حسین نے بتایا کہ شہر اور گردونواح میں سیکڑوں کنکشن منقطع کرکے نہ دہندگان کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اپریشن اٹھویں روز بھی جاری رہے گا ان کا کہنا تھا کہ سبی شہر اللہ آباد غریب آباد لونی روڈ اور گردو نواح کے تمام علاقوں میں آپریشن زور و شور سے جاری ہے اور بجلی چوری پر قابو پانے کے لیے کیسکو کی ٹیم الرٹ ہے بجلی کے نادہندگان کو چاہیے کہ وہ اپنے بقایاجات فوری طور پر ادا کریں ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوروں کے خلاف آپریشن میں کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور جرمانے بھی کیے جا رہے ہیں.

  • مستونگ،سانحہ درینگڑھ کا ایک سال مکمل۔

    مستونگ درینگڑھ میں 13 جولائی 2018 کو انتخابی جلسے میں دھماکہ ہوا تھا دھماکے میں نوابزادہ میر سراج رئیسانی سمیت 150 افراد شہید جبکہ متعداد زخمی ہوئے تھے شہداء درینگڑھ کے یاد میں آج مختلف پروگرامز و تعزیتی ریفرنس منعقد کئےگئے جب کے شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی پہلی برسی عقیدت و احترام سے منائی گئی جس میں وزیر اعلی’ بلوچستان کے معاون خصوصی سید حسنین ہاشمی نوابزادہ جمال خان رئیسانی چئیرمین کیو ڈی اے بشری’ رند صوبائی مشیر دنیش کمار ایم پی اے ماہ جبین بلوچ و دیگر نے شرکت کی اور خطاب بھی کئے۔