Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان بی ایریا میں FIR تحصیلداران کی بجائے لیویز کے آفیسروں کو دیا جائے.

    بلوچستان لیویز ایکٹ 2010 کے تحت اگر ایف آئی آر لیویز آفیسر درج کرتے تو آج انصاف کی آواز دوبالا ہوتا لیویز وہ قبائلی فورس ہے جہنوں نے ہمیشہ خطے کی امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر قربانیاں دی ہیں قبائلی فورس لیویز نے ہمیشہ جان ہتھیلی پر رکھ قوم و ملک کی خاطر اپنے جانیں قربان کئے ہیں جو کسی سے ڈھکی چپی نہیں ہیں لیویز فورس وہ واحد فورس ہے جہنوں نے دیگر سیکیورٹی اداروں سے ملکر بلوچستان بھر میں دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے میں اپنا قلیدی کردار ادا کیا ہے اگر بی ایریا میں ایف آئی آر لیویز آفیسران درج کرتے تو آج شاید انصاف ہوتا کسی غریب کو ایف آئی آر درج کرنے کے لئے دربدر کی ٹھوکریں نہیں کانا پڑتا آج میں جولکھنے جارہا ہوں وہ کھڑواہ ضرور ہے لیکن سچ ہے جی ہاں میں اس تحریر کے ذریعے اعلی آفیسران سے انصاف کے منتظر ضرور ہوں 26 مئی کو ایک افسوناک واقع زیارت کے علاقے کچ میں پیش آتا ہے جہاں 75 سالہ بوڑھا شخص کی اکلوتے بیٹے کو سہولت کاروں کی مدد سے 4 نقاب پوش اغوا کار اغوا کرتے ہیں اور 75سالہ بوڑھا شخص ایف آئی آر کےلئے دربدر کی ٹھوکریں کاکر آخر مجبور ہوتا ہے کیونکہ نائب تحصیلدار ہدایت اللہ کی جانب سے ایف آئی آر درج نہیں ہوتا جس کے لئے بہانا پہ بہانا ہوتا 75 سالہ بوڑھے شخص سیدہان مری کے مطابق نائب تحصیلدار نے کہا کہ ایف آئی آرہرنائی کے تحصیل شاہرگ میں درج ہوتا ہے کیونکہ مغوی کے سہولت کار اور آپ انہی علاقے کے رہائشی ہیں جناب نائب تحصیلدار صاحب واقع آپ کے علاقے کچ میں پیش آیا چھاپہ آپ نے سہولت کاروں کے گھر میں لگایاروز اول سے ایف آئی آر درج کرنے کی یقین دہانی آپ نے کرائی تو اب شاہرگ میں ایف آئی آر درج کیسے ہوگا کاش کہ اگر آج لیویز آفیسران ایف آئی آر درج کرتے تو شاید ایسے بوڑھے اور لاچار شخص کو انصاف ضرور ملتا آخر میں بوڑھے شخص کی فون پر حالات کو دیکھ کر صرف اتنا لکھوں گا کہ صوبائی حکومت لیویز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر لیویز آفیسران ہی کو درج کرانے کی ایکٹ منظوری دی حائے تاکہ کسی غریب اور لاچار شخص کو اسطرح کی ٹھوکریں نہ کھانے پڑئیں۔

  • وزیراعلئ جام کمال خان کا بڑا اعلان۔

    وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان کا امام باگاھ ناصرالعزا پر خود کش حملہ ناکام بنانے پر اظہار اطمینان وزیر اعلئ کی دہشت گردی کی کاروائ کو دلیری کے ساتھ روکنے اور دہشت گرد کو کیفر کردار تک پہنچانے پر پولیس فورس کی کاکردگی کی تعریف اور پولیس کانسٹیبل نے جرآت کا مظاہرہ کر کے بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا۔وزیراعلئ کا جان کی پرواہ کیۓ بغیر دہشت گردی کی کاروائ ناکام بنانے والے بلوچستان کانٹیبلری کے زخمی جوان کے لیۓ 10لاکھ روپے نقد انعام اور تعریفی سند کا اعلان کیا۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرائیض کی ادائیگی کے دوران الرٹ رہنا باعث اطمینان ہے۔وزیراعلئ جام کمال خان۔

  • کوئٹہ کو بڑھی تباہی سے بچا لیا گیا۔

    میکانگی روڈ پر تعینات پولیس اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے جبکہ جوابی کاروائی میں حملہ آور مارا گیا اور حملہ آور کے جسم سے کوئی چیز بندی ہوئی ہے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کرلیا گیا ہے۔

  • بلوچستان کے اسپتالوں میں ادویات کی قلت کا خدشہ.

    بلوچستان میں سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور مشینری کی خریداری کا معاملہ التواء کا شکارہے، رواں مالی سال پونے 2 ارب روپے کے فنڈز لیپس اور اسپتالوں میں ادویات ناپید ہونے کا خدشہ ہے۔
    بلوچستان حکومت کے میڈیکل اسٹور ڈپو کی جانب سے سیکرٹری صحت بلوچستان کے نام مراسلہ میں کہا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور مشینری کی خریداری کا معاملہ التواء کا شکارہے جس کے باعث رواں مالی سال کے پونے 2 ارب روپے کے فنڈز لیپس اور اسپتالوں میں ادویات ناپید ہونے کا خدشہ ہے۔
    مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے قائم ٹیکنیکل ٹیم کی عدم دلچسپی کے باعث ادویات، مشینری کی خریداری کا معاملہ اپریل سے التواء کا شکار ہے، مشینوں اور ادویات کیلئے بھیجی گئی رپورٹ اب تک منظور نہیں ہوسکی ہے، حتمی پرائس لسٹ کو جلد منظور نہ کیا گیا تو صوبے میں ادویات کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے.

  • سینکڑوں وفاقی وصوبائی محکمہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)کے اربوں روپے کے نادہندہ نکلے.

    سینکڑوں وفاقی وصوبائی محکمہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)کے اربوں روپے کے نادہندہ نکلے کیسکو کی جانب سے جاری کردہ فہرست کےمطابق صوبائی حکومت کے وہ تمام ذیلی محکمے جو کیسکوکے نا دہندہ ہیںاُن میںپبلک ہیلتھ انجینئرنگ 5516ملین روپے ، محکمہ تعلیم کے ذمہ 4809ملین روپے، محکمہ صحت کے ذمہ 1698ملین روپے،بلوچستان پولیس636ملین روپے ،لوکل گورنمنٹ اینڈرورل ڈیولپمنٹ کے ذمہ 255ملین روپے ، کمیونیکشن اینڈورکس ڈیپارٹمنٹ208ملین روپے، بلوچستان کمشنرز172ملین روپے، ڈپٹی کمشنرزبلوچستان 553ملین روپے، محکمہ خزانہ 18ملین روپے، محکمہ جیل 56ملین روپے، ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ209ملین روپے، بلوچستان فوڈ ڈیپارٹمنٹ51ملین روپے، محکمہ جنگلات تقریباً38ملین روپے، فشریز ڈیپارٹمنٹ60ملین روپے، محکمہ ایری گیشن کے ذمہ 73ملین روپے، لائیواسٹاک ڈیپارٹمنٹ50ملین روپے،بلوچستان بلڈنگ کے ذمہ 96ملین روپے، بی ایم سی کے ذمہ تقریباً 33ملین روپے، سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ80ملین روپے، بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی تقریباً15ملین روپے ،محکمہ واسا کے ذمہ 220ملین روپے جبکہ لوکل باڈیز کے ذمہ 646ملین سے زائد کے بقایاجات واجب الاداہیں۔ وفاقی محکموںکے ذمہ بھی کیسکوکے بجلی واجبات بقایاجات ہیں اُن میں پاکستان پوسٹ آفسز کے ذمہ 120ملین روپے،پاکستان ٹیلی کمیونکیشن کارپوریشن 109ملین روپے، الیکشن کمشنر ساڑھے14ملین روپے، سینٹرل ایکسائز لینڈکسٹم کے ذمہ تقریبا53ملین روپے ،ڈی جی رجسٹریشن نادار 38ملین روپے، پلانٹ پروٹیکشن تقریبا16ملین روپے، سوئی سدرن گیس کے ذمہ 24ملین روپے، نیشنل بینک آف پاکستان14ملین روپے، گوادرپورٹ اتھارٹی کے ذمہ 10ملین روپے، میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ تقریباً13ملین روپے، محکمہ آرکیالوجی کے ذمہ 12ملین روپے کے بقایاجات شامل ہیں۔

  • پی ٹی ایم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج۔

    لوگوں کو بغاوت اور ریاست کیخلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے پر پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی کور کمیٹی کے ممبر کاکا شفیع ترین، گل نور خاکسار (وڑانگہ)،سرباز عبدالرب درانی،عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر حاجی اصغر علی ترین،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، امیر جان شیرانی،یوسف خان موسیٰ خیل،نقیب اللہ خان،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سابق صوبائی وزیر عبیداللہ بابت،دوست محمد لونی،مولوی بہرام خان اچکزئی اور نور باچا خان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔سرکار کی مدعیت میں درج مقدمے میں لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کی دفعات شامل ہیں۔ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی فعات 5اور 6بھی لگائی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز کچھ لوگ باچاخان چوک پشین پر پشتون تحفظ موومنٹ والے جلسہ کررہے تھے جس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کرکے خطاب کیا اس موقع پر مقررین نے ریاست اور فوج کیخلاف نفرت انگیز اور شرانگیز الفاظ استعمال کئے.

  • بلوچستان فوڈ اتھارٹی کارروائی.

    ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی میجر (ر)بشیر احمد کی ہدایت پر بی ایف اے فوڈ سیفٹی ٹیم نے کوئٹہ شہر کے مختلف مقامات میں کارروائی کرتے ہوئے غیر معیاری اشیاءکی فروخت اور صفائی کے ناقص انتظامات پر شاہین بیکرز پلانٹ کو سربمہر کر دیا۔ ڈائریکٹر آپریشنز ندا کاظمی کی سربراہی میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے منگل کے روز میکانگی روڈ اور میر احمد خان روڈپر واقع بیکری شاپس اور بیکرز پلانٹس میں پروڈکشن کا معیار چیک کرتے ہوئے وہاں صفائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے چیکنگ کے دوران متعدد بیکریوں انمول سوئیٹس اینڈ بیکرز ، انبالہ بیکری اوربیکرز پلانٹس کو حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر وارننگ جاری کیے جبکہ ان سے برآمد ہونے والی زائدالمعیاد اشیاءخورد و نوش کوموقع پر ہی پر تلف کردیا گیا اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل بی ایف اے بشیر احمد کا کہنا ہے کہ عوام کو صاف اور معیاری غذائی اشیاءکی فراہمی کے لیے فوڈ سیکیورٹی اور فوڈ سیفٹی یقینی بنائی جارہی ہے۔اس ضمن بی ایف اے کی جانب سے بلاتعطل و بلا امتیاز کاروائیوں و موثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے دی گئی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

  • یوم تکبیر کے حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی کی تقریب۔

    تقریب سے سینئر رہنما سردار نور احمد بنگلزئی امینہ بلوچ آرگنائزر ملک خدا بخش روبینہ شاہ اور دیگر نے خطاب کیا اور کہا کے ہر قدم پر ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں پاکستان ایٹمی اثاثے شب رات میں چلانے کے لیے نہیں بنائے گئے تھے منظور پشتیں جیسے غدار ہر دور میں پیدا ہوتے رہے رہے ہیں اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلے غداروں کا ہوا ہے آج عالم کفر کی نظروں میں پاکستان بری طرح کھٹک رہا ہے اور ایٹمی دھماکوں سے آج ہی کے دن پوری دنیا کے مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہوا تھا پاک فوج کے دشمن اب ملک کے نوجوانوں کو اکسانے اور اشتعال دلانے پر اتر آئے ہیں جب کے پاکستان کی فوج نے ہر مشکل وقت میں سمجھ داری اور دور اندیشی سے سازشیوں کا مقابلہ کیا اور کرینگے۔

  • حکومت کو ایک اور مشکل درپیش آ گئی۔

    حکومتی کے اتحادی اختر مینگل نے بجٹ منظوری میں حکومت کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کر دیا حکومت ہمارے چھ مطالبات پر 10 ماہ میں حکومت نے عمل نہیں کیا جو ہم نے چھ نکات دیئے تھے اس پر کمیٹی بھی نہ بنا سکی ہم مفت میں حکومت کا بخار لیں اور وہ ہمیں جھنڈی دکھاتے رہیں، ایسا نہیں ہو سکتا ہم نے فیصلہ کیا ہے حکومت وعدہ پورا کرے گی تو ہم بھی ساتھ دینگے جب تک حکومت ہمارا مطالبہ نہیں مانتی، ہم بھی حکومت کا مزید ساتھ نہیں دینگے،بجٹ سے زیادہ ضروری ہمارے 6 نکات ہیں سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزیراعظم اور صدر کو ووٹ دیے، اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں۔

  • پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے 2 افراد زخمی۔

    سول ہسپتال میں آج پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سلمان آغا اور بھائیوں پر آج پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما مجید اچکزئی کے بندوں نے حملہ کیا. زخمی ابھی ٹراما سینٹر سول ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہے.
    سلمان آغا اور بھائی شدید زخمی ہے مقدمہ درج کرنے کے بجائے اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ بہادر خان حمیدزئی سلمان آغا اور بھائیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ راضی نامہ کیا جائے.
    متاثرین کا مزید کہنا تھا کہ لیویز تھانہ زرغون انچارج قاہر اس سارے واقعے کے ذمہ دار ہے بالا حکام سے درخواست ہے کہ اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور متاثرین کا کہنا ہے کہ مجید اچکزئی غیرقانونی طور پر کوئلے کے کان پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جو کہ سلمان آغا اینڈ برادرز کول کمپنی کی پچھلے 50 سال سے ملکیت ہے۔