Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • کوئٹہ پولیس کی بڑھی کاروائی۔

    کوئٹہ پولیس کی کاروائی گاڑیاں چوری کرنے والے بین الصوبائی گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کرلیا گیا کوئٹہ شہر کے مختلف تھانوں کی حدود سے چوری شدہ تین گاڑیاں برآمد ہوئی ہیں تفصیلات کے مطابق ایس پی سریاب ڈویژن محمد بلوچ کی خصوصی ہدایات اور ایس ڈی پی او شالکوٹ سرکل زین عاصم کی زیر نگرانی میں ایس ایچ او شالکوٹ تھانہ خلیل احمد بگٹی اور ایس ایچ او نیو سریاب تھانہ مختیار احمد موسیٰ خیل نے دیگر پولیس پارٹی کے ہمراہ کلی زیرین خان سبی روڈ کوئٹہ میں کامیاب کاروائی کرتے ھوئے گاڑیاں چوری کرنے والے گروہ کے تین ارکان کو گرفتار کرلیا جن میں عبدالروف ولد سورہ خان بھٹو سکنہ بروری روڈ کوئٹہ ارشد ولد عبدالمالک شاہوانی سکنہ مستونگ ظفرعلی ولد محمدبخش قوم بلیدی سکنہ حب شامل ہیں ملزمان سے برآمد ھونے والی گاڑیاں جن میں ٹیوٹا ڈبل ڈور پک اپ سرکاری سیٹلائٹ ٹاؤن تھانہ کی حدود سے چوری شدہ ھے جس کی دوسری گاڑی وٹز کار سفید رنگ سول لائن تھانے کی حدود سے چوری شدہ ھے تیسری گاڑی ایکس کرولا انڈسٹریل تھانے کی حدود سے چوری شدہ ھے گرفتارملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیاگیاہے۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہدایت کر دی۔

    کوئٹہ:- وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے رمضان المبارک میں کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں سیکیورٹی کے موثر انتظامات کے ساتھ ساتھ ٹریفک کے نظام کی بہتری اور عوام الناس کو ارزاں نرخوں پر اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، رمضان المبارک میں سیکیورٹی اقدامات، ٹریفک کے انتظامات اور رمضان بازاروں سے متعلق امور کے جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے کوئٹہ میں پانچ مقامات پر لگائے گئے رمضان بازاروں میں ضلعی انتظامیہ کے زیرانتظام فیئر پرائس شاپس کے انعقاد کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام کو پھل، سبزیاں، آٹا اور دیگر اشیائے خوردونوش کی ارزاں نرخوں پرفراہمی ک لئے ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال اور متحرک رہیں، عبادت گاہوں، بازاروں اور عوامی مقامات کی فول پرول سیکیورٹی کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات کئے جائیں اور تمام سیکیورٹی ادارے الرٹ رہتے ہوئے عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مربوط اینٹیلیجنس سسٹم قائم کرتے ہوئے معلومات کا تبادلہ بھی کریں، وزیراعلیٰ نے رمضان المبارک کے دوران عمومی جرائم کی روک تھام کی ہدایت بھی کی، وزیراعلیٰ نے ٹریفک کے نظام کی بہتری کا پلان بنانے اور اس پر فوری طور پر عملدرآمد کے آغاز کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے انتظامی افسران اور مجسٹریٹس کو باقاعدگی کے ساتھ اشیاء خورونوش کے نرخوں پر نظر رکھنے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں، ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی، انہوں نے کہا کہ حکومت کی رٹ نظر آئے گی تو عوام کو ریلیف ملے گا لہٰذا میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ ہر مقام پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں، خاص طور پر میٹروپولیٹن کارپوریشن اپنا دائرہ کار کو سریاب اور گردونواح کے دیگر علاقوں تک وسعت دے کر صفائی کے نظام سمیت دیگر شہری سہولتیں فراہم کرے اور مزید سستے بازاروں کا انعقاد کیا جائے جن سے زیادہ سے زیادہ عوام مستفید ہوسکیں۔ وزیراعلیٰ نے کوئٹہ شہر میں مستقل بنیادوں پر ماڈل بازاروں کے قیام کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی۔ اس موقع پر ڈی آئی جی کوئٹہ کی جانب سے اجلاس کو سیکیوریٹی انتظامات اور ٹریفک پلان کے بارے میں بریفنگ دی گئی جبکہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے سستے بازاروں کے انعقاد کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات، سیکریٹری خزانہ، ایس ایس پی ٹریفک، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

  • رمضان المبارک سے قبل گوشت، دودھ، دہی کی قیمتوں میں اضافہ

    رمضان المبارک سے قبل گوشت، دودھ، دہی کی قیمتوں میں اضافہ

    رمضان المبارک سے قبل گوشت اور دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا. قصابوں نے بکرے کے گوشت میں 250 روپے اور گائے کے گوشت میں 20روپے فی کلو اضافہ کر دیا ،دودھ اور دہی کی قیمتوں میں بھی پندرہ سے بیس روپے کا اضافہ کیا گیا ہے. کوئٹہ میں حکومت کی جانب سے بکرےکےگوشت کی سرکاری قیمت 650روپےمقرر کی گئی ہے لیکن قصابوں کی جانب سے بکرے کا گوشت 900 رپے کلو فروخت کیا جا رہا ہے. گائے کے گوشت کی قیمت 360 سے 400 تک مقرر ہے لیکن وہ بھی مہنگا فروخت کیا جا رہا ہے .دودھ اوردہی کی سرکاری قیمتوں پربھی عملدرآمد نہیں ہورہا، دودھ کی مقررہ قیمت 95کی بجائے110سے115روپےفی کلومیں فروخت اوردہی کی مقررہ قیمت 100روپے کی بجائے120روپے فی کلو میں فروخت جاری ہے . عوامی حلقوں نے گوشت اور دودھ دہی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گوشت اور ددود دہی مقررہ نرخوں پر ہی فروخت کروانے کے لئے حکومت نوٹس لے.

  • کیسکو کا رمضان میں لوڈشیڈنگ سے متعلق بڑا اعلان.

    کوئٹہ شہر میں نصف فیڈرز لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی 92 میں سے 48 فیڈروں لوڈشیڈنگ فری ہوں گے 20فیڈروں پر ایک سے تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوگی جن میں 13 فیڈروں پر چھ گھنٹے اور چار فیڈروں پر سات گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوگی
    کوئٹہ، ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں 7 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی
    کوئٹہ میں سحر اور افطار کے اوقات میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی معاہدے کی باعث رمضان شیڈول میں زرعی فیڈر شامل نہیں ہے بلوچستان میں کوئی بھی شارٹ فال نہیں پوری بجلی مل رہی ہے ٹرانسفارمر خراب ہونے کی صورت میں تین گھنٹے میں تبدیل ہوں گے اور اندرون صوبہ ٹراسفارمر پانچ سے چھ گھنٹے میں تبدیل ہوگا وولٹج میں کمی کا مسئلہ حل کررہے ہیں ارکان اسمبلی معزز ہے ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا شکایات کیلئے اپنے نمبر سمیت افسران کے نمبر مشتہر کروں گا،
    کوئٹہ، حکومت اور وفاقی وزیر کی ہدایت کے مطابق رمضان شیڈول بنایا ہےکیسکو کے کل واجبات 288 ارب روپے ہیں
    زمینداروں پر واجب الادا رقم 212ارب روپے ہے حکومت پر زرعی سبسڈی کی مد میں 17 ارب روپے ہیں کل 13ارب روپے صوبائی محکموں پر واجب الادا ہیں ڈومیسٹک اور کمرشل صارفین پر 14 ارب روپے واجبات ہیں، کیسکو چیف ایگزیکٹو کی پریس کانفرنس۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

    کوئٹہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ منصوبے جذبات اور احساسات کے بجائے پیشہ ورانہ قابلیت سے چلتے ہیں، صوبائی حکومت32 ارب روپے کی لاگت سے گزشتہ 15سال سے ادھوری 450 اسکیمات کو مکمل کر رہی ہے، صوبے میں قانونی سازی بہتر کی جارہی ہے، میر عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رہنماء اور پارلیمنٹ کا حصہ ہیں انہیں اظہار راۓکا حق ہے، ریکوڈک منصوبہ کیس میں ہرجانے کی رقم صوبے کو اداکرنی ہوگی، یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ صوبے میں پہلی دفعہ منرل سیکٹر پر کام کر رہے ہیں ریکوڈک کا کیس عالمی سطح پر چل رہا ہے اسکا ایک فیصلہ ہمارے خلاف آچکا ہے لیکن اب تک ہر جانے کی رقم طے نہیں ہوئی قوی امکان ہے کہ ہم پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جائیگا جو کہ بڑی رقم ہے یہ رقم صوبے نے ادا کرنی ہے اور اسکا سارا بوجھ حکومت بلوچستان پر آئیگا ہم اس صورتحال سے نکلنے کے لئے مختلف میکنزم پر کام کر رہے ہیں ریکوڈک و ہ واحد منصوبہ ہے جو کہ فیزبل اور گراؤنڈ پر عملی طور پر موجود ہے،باقی منصوبوں کے حوالے سے باتیں ہیں لیکن ان کے حوالے سے کوئی ٹھوس اور جامع معلومات نہیں ہیں ہمیں صوبے کے طور پر اسمبلی اور اسٹیک ہولڈرز کو بتانا ہے کہ ہماری پوزیشن ٹھیک نہیں ملکی سطح پر بھی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے اس صورتحال میں ہمیں اندورنی سطح پر کوئی بیل آؤٹ پیکج ملنے کے امکانات نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ جذبات اور احساسات سے منصوبے نہیں چلتے یہ انتہائی پیشہ ورانہ کام ہے،معدنیات دنیا کا مہنگا ترین شعبہ ہے جس پر وسیع ترین کام کرنا پڑتا ہے،ثمر مبارک مند کے کہنے پر صوبے کے ایک ارب روپے لگے لیکن دو سے تین ماہ کام کرنے کے بعد انکا منصوبہ بند ہوگیا تھر میں بھی یہی ہوا لیکن سندھ حکومت نے پیشہ ورلوگوں سے کام لیتے ہوئے تھر سے کوئلہ نکلا جس سے بجلی بنائ جارہی ہے انہوں نے کہا کہ دفتری اور آن گراؤنڈ منصوبے چل رہے ہیں،حکومت کا کام سسٹم ٹھیک کرنا ہے ہمارے فیصلوں کو سروسز پر اثر انداز ہونا چاہیے ہم میڈیا پر آنے کے بجائے مربوط اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کی کتاب بنا نا آسان جبکہ اس پر اصل کام عمل درآمد ہے ہماری حکومت جون تک32 ارب روپے کی لاگت سے 450اسکیمات جو گزشتہ حکومتوں کی شروع کردہ ہیں کو مکمل کریگی یہ وہ منصوبے ہیں جنہیں ہم نے شروع نہیں کیا یہ 15سال سے ادھوری اسکیمات تھیں، صوبے کے کالج، سکول،سڑکیں،ہسپتال ادھورے تھے انہیں پورا کر رہے ہیں،ماضی میں جو بھی حکومت آئی اس نے ماضی کے منصوبوں پر کام کرنے کی بجائے اپنے منصوبے شروع کیے انہوں نے کہا کہ صوبے میں قانون سازی بہتر کی جارہی ہے،، سروس اور بھرتیوں کے قانون بہتر کر رہے ہیں 80سال پرانے قوانین میں ریفارمز لا رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اتحادی جماعت ہے ان کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں، وزیر اعظم کی مدد سے سی پیک کے مغربی روٹ پر کام کر رہے ہیں اور یہ دو روئیہ بنے گا صوبے میں کارڈیک اور کینسر کا ہسپتال بنا رہے ہیں،، پہلی بار پلاننگ کمیشن کی جانب سے صوبے کی بہتری کے لئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں اسکیمات شامل کی جائیں گی،ہم نے صوبے کے ہر ضلعی کو تر جیح دی ہے،انہوں نے کہا کہ عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رکن ہیں بی اے پی میں کھلا ماحول ہے ہم ایک دوسرے سے اظہار رائے کرتے ہیں بعض اوقات ہم سنجیدیگی سے بات نہیں کر رہے ہوتے لیکن میڈیا پر بات آنے کے بعد لوگ سنجیدہ ہو جاتے ہیں اختلاف سیاست کاحصہ ہے سیاست میں لوگوں کے پاس آزادی اظہار ہونی چاہے ہم اسے کسی اور طریقے سے دیکھتے ہیں جبکہ لوگ کسی اور انداز میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

  • بلوچستان ہائیکورٹ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

    کوئٹہ : بلوچستان ہائیکورٹ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا بلوچستان عوامی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام پلاننگ کمیشن کے سفارشات سے منافی قرار دیا ہائیکورٹ نے 5 ارب 30 کروڑ کے بی اے ڈی ڈی پی کو معطل کردیا ہائیکورٹ کا حکومت پی ایس ڈی پی پر پلاننگ کمیشن کی سفارشات سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم ہائیکورٹ نے آئندہ پی ایس ڈی پی بنانے سے متعلق حکومت کو ایک درجن کے قریب گائیڈ لائنز دے دیں اور حکومت 2019-20 اور مستقبل کے پی ایس ڈی پیز ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے, حکم حکومت فنڈز مختص کرتے وقت جاری اسکیمات کو ترجیح دے تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو اور اضافی لاگت سے بچا جاسکے تعلیمی, زرعی, صحت, جنگلات, گلہ بانی پر محکمانہ پالیسی بنایا جائے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف اور عام عوام کو فائدہ پہنچے حکومت پی ایس ڈی پی میں خالصتا اجتماعی نوعیت, مفاد عامہ پر مبنی منصوبے شامل کرےہائیکورٹ کے حکم نامے میں دیگر نکات بھی شاملصوبائی پی ایس ڈی پی سے متعلق آئینی درخواست شہری شیخ عالم نے 2016 میں دائر کی تھی بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل بینچ سے فیصلہ سنایا۔

  • پاک فوج نے آواران میں ایسا کام کیا جو حکومت بھی نہ کر سکی

    پاک فوج نے آواران میں ایسا کام کیا جو حکومت بھی نہ کر سکی

    پاک فوج کے زیر اہتمام بلوچستان کے علاقے ضلع آواران میں میڈیکل کیمپ لگایا گیااور مستحق افراد میں راشن بھی تقسیم کیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت ہے بلوچستان کے پسماندہ ترین ضلع آواران میں میڈیکل کیمپ لگایا گیا جس میں پاک فوج کے ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف نے 3500 سے زائد مریضوں کو علاج معالجہ کیا.پاک فوج کی میڈیکل ٹیم نے کیمپ میں 100 سے زائد آنکھوں کے آپریشن بھی کئے. میڈیکل کیمپ میں ای سی جی، الٹراساؤنڈ سمیت متعد دٹیسٹوں کی مفت سہولیات بھی میسر تھیں .ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع آواران کے دور دراز علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے 150 خاندانوں میں راشن بھی تقسیم کیا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے.

  • مین ٹرانسفارمر کی کیبل پھٹ گئی۔

    مین ٹرانسفارمر کی کیبل پھٹ گئی۔

    بلوچستان سبی : واپڈا گریڈ اسٹیشن کے مین ٹرانسفارمر کی کیبل پھٹ گئی ہے جس کی وجہ سے شہر کے پانچ فیڈر بند ہوگئیں ہیں اور تین گھنٹوں سے شہر تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے کیبل کی مرمت کاکام جاری ہے اور مین کیبل کی مرمت کا کام مکمل کرکے جلد بجلی بحال کردی جائے گی ۔ کیسکو حکام۔

  • مذمت نہیں بلکہ مذاحمت کرینگے۔،لشکری رئیسانی

    مذمت نہیں بلکہ مذاحمت کرینگے۔،لشکری رئیسانی

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے وحدت کالونی کے رہائشیوں کو مکانات خالی کرنے کے نوٹسز جاری کرنے کے اقدام پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کوبے گھر کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی ہم حکومت کے جعلی منصوبوں کی صرف مذمت نہیں بلکہ مزاحمت کریں گے، گزشتہ روز سراوان ہاؤس میں وحدت کالونی کے رہائشی افراد کے ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں جعلی مینڈیٹ پر آنے والی حکومت ناکامی کا شکار ہے حکومت اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے جعلی منصوبوں کے ذریعے عوام کی توجہ ان ناکامیوں سے ہٹانے کی ناکام کوشش کررہی ہے انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے تحت بلوچستان کے لوگوں کورہائش کی سہولت دینے کی بجائے لوگوں سے ان کے مکانات چھیننے جارہے ہیں جس کی جنتی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر کا منصوبہ سابق حکومت کا تھا جسے موجودہ حکومت اپنے کھاتے میں ڈالنے کیلئے وحدت کالونی میں رہائشی لوگوں کو ان کے مکانات سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ وحدت کالونی کے رہائشی سالہا سال سے کالونی میں رہ رہے ہیں جنہیں اب تک کی حکومتیں بنیادی انسانی سہولیات تک فراہم نہیں کرپائیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہے جہاں بلندو بالا عمارتوں کی تعمیر مضحکہ خیز ہے اور اس شہر میں حکومت فیلٹس تعمیر کرنے جارہی ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وحدت کالونی میں گزشتہ کئی دہائیوں سے لوگ رہ رہے ہیں ضرورت اس کی ہے کہ وہاں رہائشی لوگوں کو بے دخل کرکے سڑک پر بے سہارا چھوڑنے کی بجائے حکومت انہیں مالکانہ حقوق دے اور انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ہم نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق، ساحل اور وسائل کی بات کی ہے حکومت کے جعلی منصوبے کی مذمت نہیں بلکہ اس منصوبے کے آگے مذاحمت کرینگے۔

  • لیبر قوانین بلوچستان میں نہ ہونے کے برابر:جام کمال خان

    لیبر قوانین بلوچستان میں نہ ہونے کے برابر:جام کمال خان

    وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں لیبر قوانین کم اور بلوچستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عالمی یوم مزدور پر کوئٹہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی نسبت دنیا نے لیبر یونین قوانین میں بہت ترقی کی بلوچستان کے لیبر قوانین سمیت متعدد شعبوں میں قانون سازی کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 27 ارب روپے صرف پنشن کی مد میں دیے جا رہے ہیں،آیندہ پانچ سال کے دوران صوبے کا پنشن بل 140 ارب تک پہنچ جائےگا

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے یوم مزدور پر اپنے پیٍغام میں مزدوروں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ مزدوروں اور ان کے خاندان کی فلاح و بہبود کے لیے ایک منصوبہ شروع کر رہے ہیں، ہم آج سے مزدور کے لئے احساس پروگرام کا آغاز کرنے جا رہے ہیں. یہ پروگرام غربت کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کرے گا، اس پروگرام سے مزدور کو سماجی تحفظ ملے گا. وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت مزدور کی عظمت پر یقین رکھتی ہے، ملک کی ترقی اور خوش حالی میں محنت کش کا کلیدی کردار ہے،