Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے وحشیانہ حملے کی حقیقت کا پردہ فاش

    معصوم معراج وہاب کی والدہ نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا،11جنوری 2025 کو بی ایل اے تنظیم نے تمپ میں دو بے گناہ معصوم شہریوں کو اپنی وحشت کا نشانہ بنایا،جمیل اور اس کے بھتیجے معراج وہاب کو مبینہ "ریاستی ڈیتھ اسکواڈ” سے وابستگی کے جھوٹے الزام میں بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا،معراج کی والدہ نے تربت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بی ایل اے کے اس وحشیانہ اقدام کی شدید مذمت کی،انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ماہ رنگ بلوچ پر کڑی تنقید کی اور اُس کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ،معراج کی والدہ کا کہنا تھا کہ ماہ رنگ ریاستی ظلم پر تو آواز اٹھاتی ہیں، لیکن بی ایل اے کے وحشیانہ مظالم پر مکمل خاموشی اختیار کرتیں ہیں،

    معراج کی والدہ نے بی ایل اے کے "ریاستی ڈیتھ اسکواڈ” جیسے بے بنیاد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ "معراج ایک معصوم بلوچ تھا جو ایک کالعدم تنظیم کی دہشت گردی کا شکار ہوا”پندرہ سال کی عمر میں اس نے کیا گناہ کیا تھا جو بی ایل اے نے اس کو اتنی بے دردی سے قتل کیا؟ جمیل پر حملے کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی لیکن میرے بچے کی ذمہ داری قبول کیوں نہیں کی؟، میرے بچے کا کیا قصور تھا؟ میرے بچے کا یہی قصور تھا کہ وہ سروس اسٹیشن میں گاڑی دھو کر مجھے کچھ پیسے دیتا تھا؟، میرے بچے کو بی ایل اے کے لوگوں نے قتل کیا اور قتل کرنے کے بعد ذمہ داری بھی نہیں لے رہے،بی ایل اے والے میرے بیٹے کے ہاتھ کی گھڑی اور اس کے پاؤں کے جوتے تک اتار کے لے گئے، میری ماہ رنگ بلوچ سے درخواست ہے، جو انصاف کی علمبردار بنتی ہیں، کہ مجھے بھی انصاف فراہم کیا جائے، "بی ایل اے والے مجھے بتائیں کہ میرے بیٹے نے کیا غلطی کی تھی؟ اگر وہ ایک غلطی بھی ثابت کر دیں، تو میں اپنے بیٹے کے قتل کو معاف کر دوں گی” میرا بیٹا انسان تھا، کوئی جانور نہیں جسے بے دردی سے مارا گیا، بی ایل اے نے اسے جانوروں کی طرح قتل کیا اور پھر اس کا ذمہ بھی نہیں لیا،بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جمیل ملک کے قتل کا اعتراف کیا، تو پھر وہ میرے بیٹے کی ہلاکت پر کیوں خاموش ہیں؟،

  • بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

    بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں آندھی، شدید بارش و برفباری، سفر میں رکاوٹ کا خدشہ

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)محکمہ موسمیات نے 18 جنوری سے مغربی ہواؤں کے ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں میں داخل ہونے کی پیش گوئی کی ہے، جس کے نتیجے میں شمال مغربی بلوچستان اور شمالی پاکستان کے مختلف حصوں میں تیز ہوائیں، بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ 18 جنوری سے شروع ہو کر 21 جنوری تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس سے موسم مزید سرد اور حالات چیلنجنگ ہو سکتے ہیں۔

    بلوچستان کے مختلف اضلاع جیسے کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، خضدار اور دیگر علاقوں میں تیز ہواؤں اور درمیانی بارش کے ساتھ پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے۔ ان علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ممکنہ طور پر ٹریفک میں رکاوٹیں اور پھسلن جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

    شمالی پاکستان کے اضلاع بشمول چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مری، گلیات، اور کشمیر و گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں بھی بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ موسم سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے مشکل حالات پیدا کر سکتا ہے، جبکہ برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے، جو ان علاقوں کی آمدورفت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ 18 اور 19 جنوری کے دوران چاغی، کوئٹہ، نوشکی اور دیگر علاقوں میں شدید بارش کے باعث فلیش فلڈنگ کا اندیشہ ہے۔ اس دوران برفباری کے باعث ناران، کاغان، استور اور سکردو سمیت دیگر پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی بندش اور پھسلن کے باعث سفر متاثر ہو سکتا ہے۔

    عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر برفباری والے علاقوں میں جانے سے بچیں۔ کسان حضرات کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ موسمی صورتحال کی یہ پیش گوئی ان علاقوں میں رہنے والے افراد اور سیاحوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے تاکہ وہ ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کر سکیں۔

  • انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی مگر مچھ کے آنسو ہیں ، ایک طرف کشمیر میں ریاستی سطح پر مظالم اور دوسری طرف ہمسایہ ممالک میں دراندازی، ہندوستان کا یہ بدنماچہرہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے، پاکستان پر الزامات لگاتے ہوئے انڈین آرمی چیف یہ بھول گے کہ کلبھوشن نیٹ ورک ہندوستان کے اصل چہرے سے نقاب ہٹانے کیلئے کافی ہے،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کی محرومیوں اور حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑے گی،بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج بھی بنیاد ی سہولیات سے محروم ہیں،ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی عشرہ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز سے منایا جائے گا، بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، شہ رگ کا سودا نہ کوئی کر سکتا ہے اور ہونے دیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ بلوچستان کے موقع پر کوئٹہ میں مرکزی مسلم لیگ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں تنظیمی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی صدر سردار امجد اسلام سمیت ضلعی صدور اور شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے۔

    خالد مسعود سندھو نے اجلاس میں پارٹی کی جاری رکنیت سازی مہم کا جائزہ لیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی رکنیت سازی مہم ملک بھر میں جاری ہے، بلوچستان کے عوام کو مرکزی مسلم لیگ کا حصہ بنانے کیلئے خصوصی توجہ دی جارہی ہے،مرکزی مسلم لیگ رکنیت سازی مہم کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک بھر سے نوجوان قیادت کو آگے لانے کیلئے پرعزم ہے،خالد مسعود سندھو کا پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں عشرہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے اس کا سودا کسی صورت قبول نہیں،کشمیر میں ہونے والے بھارتی ریاستی مظالم ہوں یا کشمیر یوں سے بے وفائی کرنے والے پاکستانی حکمران کشمیر کے سب مجرموں کو کٹہرے لایا جانا چاہئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کی جدوجہد آزادی میں ہر طرح سے ان کے ساتھ کھڑی ہے،

    خالد مسعود سندھو نے کہا کہ بلوچستان اور کشمیر کے لوگ ان کے دل کے بہت قریب ہیں،بلوچستان کی محرمیوں کو ختم کرنے کیلئے اور مسائل کو حل کرنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت خدمت کے منصوبہ جات پر کام کر رہے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا روزگار سہولت پروگرام اسی کا حصہ ہے،بلوچستان کے نوجوانوں کو فری آئی ٹی سکلز سیکھا کر اور روزگار کیلئے سہولتیں پیدا کر کے اپنے حصے کاکام کر رہے ہیں، پاکستان مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے حقوق کیلئے ہر سطح پر کوششیں جاری رکھے گی۔

    جنوبی بھارت میں باڈی بلڈرز،جسموں‌کو فخر سے پیش کرنے والی خواتین

    یوکرین اور روس کے ایک دوسرے پر بڑے ڈرون،میزائل حملے

    وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مہم،عمران ریاض،شہباز گل پر مقدمہ،تین ملزمان گرفتار

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

  • کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12   لاشیں نکال لی گئیں

    کوئٹہ،کان میں دھماکے کے بعد سرچ آپریشن مکمل، 12 لاشیں نکال لی گئیں

    کوئٹہ: پانچ روز قبل سنجدی کے علاقے میں گیس بھرنے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بیٹھ جانے والی کوئلہ کان کا سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور تمام 12 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

    چیف مائنز انسپکٹر کے مطابق، 9 جنوری کو سنجدی کی کوئلہ کان میں گیس بھرنے سے دھماکا ہوا تھا جس کی وجہ سے کان بیٹھ گئی تھی اور اس حادثے میں 12 کان کن پھنس گئے تھے۔ دھماکے کے بعد فوراً ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا، اور اب تمام کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔سرچ آپریشن کے دوران ایک اور کان کن کی لاش نکالی گئی، جس کے بعد اب تک تمام 12 کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی گئی ہیں۔ انسپکٹر نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام متاثرہ افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں۔چیف مائنز انسپکٹر کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی ہے جو 15 دنوں میں مکمل تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    یاد رہے کہ 9 جنوری کو سنجدی کی کوئلہ کان میں گیس بھرنے کے باعث دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں کان بیٹھ گئی اور 12 کان کن اس حادثے میں پھنس گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری طور پر آپریشن کا آغاز کیا تھا تاکہ کان میں پھنسے کان کنوں کو نکالا جا سکے۔اس واقعے کے بعد مقامی محنت کشوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کوئلہ کانوں میں حفاظت کے انتظامات مزید بہتر کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

    لاس اینجلس ،آگ نہ بجھ سکی، تیز ہوائیں، بجلی بند کرنے کا امکان

  • بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اغوا کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران 26 سے زائد افراد صوبے کے مختلف علاقوں سے اغوا کیے گئے ہیں، جن میں بعض افراد کی رہائی ابھی تک نہیں ہو سکی۔

    ان میں سے ایک اہم واقعہ 10 سالہ طالب علم مصور کاکڑ کا اغوا ہے، جس نے کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ مصور کاکڑ کا اغوا ایک سنگین نوعیت کا واقعہ بن چکا ہے جس کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں اور حقوق کے اداروں نے صوبائی حکومت اور پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے علاوہ، بلوچستان حکومت اور پولیس اب تک شعبان سے اغوا کیے گئے ایک ہی خاندان کے 7 افراد سمیت متعدد مغویوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال نے بلوچستان کی عوام میں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بلوچستان میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور اس سلسلے میں موثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دے اور اغوا کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔دوسری جانب، بلوچستان میں اغوا کی وارداتوں میں اضافے کے باعث عوامی تحفظ کا سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے، جس کے لیے فورسز کی جانب سے مزید کارروائیاں کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

  • کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ:کوئٹہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: کوئٹہ کے ضلع قلات کےجنوبی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکےمحسوس کیے گئے ، جس کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے،زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 3.6 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے کی گہرائی 33 کلو میٹر تھی جبکہ زلزلے کا مرکز قلات سے 27 کلو میٹر دور جنوب میں تھا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے شہر سبی اور گردونوح میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے، جس کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی تھے،زلزلہ پیما مرکز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر اور مرکز سبی سے 22 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔

    آسٹریلیا سے شکست:بھارت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سےباہر

    خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا عرس ،بھارت نے 400 پاکستانی زائرین کے ویزے روک لیے

    سائبر ٹرک دھماکے سے پھٹنے کے بعد ٹیسلا کا بڑا قدم

  • دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے،سرفراز بگٹی

    دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے،سرفراز بگٹی

    کوئٹہ: وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہم شہداء کو کسی صورت نہیں بھول سکتے اور ان کے خاندانوں کی کفالت کریں گے-

    باغی ٹی وی : سرفراز بگٹی نے اے ٹی ایف اسکول سے پاس آؤٹ ہونے والے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں عوام کی خدمت کرنی ہے اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کو سہولیات فراہم کی جائیں گی، دہشت گردوں نے اسکولوں، کالجوں اور وکلاء کو نشانہ بنایا ہے، لیکن دشمنوں کے لا حاصل عزائم ہر صورت ناکام ہوں گے غازیوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں چیلنج کریں۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم شہداء کو کسی صورت نہیں بھول سکتے اور ان کے خاندانوں کی کفالت کریں گے، کیونکہ شہداء ہمارے دلوں میں بستے ہیں اے ٹی ایف پر تنقید آج تک نہیں سنی، اور میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ میں غیرت مند غازیوں سے خطاب کر رہا ہوں۔

    سال 2025 کا نیوزی لینڈ سے آغاز، شاندار آتش بازی

    وزیراعلی بلوچستان نے دہشتگردی کے خلاف خون بہانے والوں کو سلام پیش کیا اور کہا کہ بزدل دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، انہوں نے اسکولوں، جامعات، پارکوں اور ہسپتالوں پر حملوں کو ناکام قرار دیا اور کہا کہ دشمنوں کی لا حاصل جنگ کو ختم کرنا ہے فورس کا حصہ بننے والے ایمان داری سے شہریوں اور اثاثوں کی حفاظت کریں پولیس کی ہر ضرورت کو پورا کیا جائے گا، اور اے ٹی ایف اسکول کو تھرمل کیمروں اور عمارت کی مرمت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    کوٹ چھٹہ: سعودی عرب میں غلام سرور دلشاد کے بھتیجے کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی

  • سرکاری   افسران اور ملازمین کا  ایک سے زائد محکموں میں نوکری کرنے کا انکشاف

    سرکاری افسران اور ملازمین کا ایک سے زائد محکموں میں نوکری کرنے کا انکشاف

    کوئٹہ :بلوچستان کے مختلف اضلاع میں محکمہ تعلیم کے افسران اور ملازمین کا بیک وقت ایک سے زائد محکموں میں نوکری کرنے کا انکشاف ہوا ہے،جبکہ ڈائریکٹر ایجوکیشن نے متعلقہ ملازمین کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 42 افسران اور ملازمین محکمہ تعلیم کے ساتھ دیگر محکموں میں ملازمت کررہے ہیں، بیک وقت دہری ملازمت کرنے والوں میں کوئٹہ، تربت، بارکھان، ژوب، ڈیرہ بگٹی، شیرانی ، کچھی، لسبیلہ، مستونگ، پنجگور، واشک، لورالائی ، قلعہ عبداللہ، چمن اور پشین کے محکمہ تعلیم کے ملازمین بھی شامل ہیں۔

    نوٹیفکیشن میں مجاز اتھارٹی نے سیکرٹری خزانہ کو متعلقہ افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ تمام افسران اور ملازمین کی تنخواہیں روکی جائیں، جن کے نام فہرست میں شامل ہیں تمام افسران اور ملازمین کے خلاف بیڈا ایکٹ 2011 کے تحت کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    یوکرین کے روس پر ڈرونز حملے، تیل کے ڈپو کو آگ لگ گئی

    دہری ملازمت کرنے والوں سے متعلق ہدایت کی گئی ہے کہ دو ہفتے کے اندر افسران اور ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائےعلاوہ ازیں ڈائریکٹر ایجوکیشن نے تمام متعلقہ اضلاع کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے،سب سے زیادہ ضلع کوئٹہ کے افسران اور ملازمین دہری ملازمت کررہے ہیں-

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

  • تربت میں بم دھماکا، 2 ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی

    تربت میں بم دھماکا، 2 ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی

    بلوچستان کے علاقے ضلع تربت میں سڑک کنارے ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کارپس (ایف سی) کے 2 اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابقاسسٹنٹ کمشنر دشت حمید کورائی نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ گوادر اور تربت کے درمیانی علاقہ دشت کھڈان زریں بک میں پیش آیا، جہاں عرب شیوخ شکار کھیلنے کے بعد واپس اپنے کیمپ جا رہے تھے۔اسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ حملے میں تمام عرب شیوخ محفوظ رہے، تاہم سیکیورٹی پر مامور 2 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 4 زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر تربت منتقل کردیا گیا۔مقامی انتظامیہ کے ایک اور حکام نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان عربوں کا تعلق قطری شاہی خاندان سے ہے، مزید کہا کہ دھماکے کے بعد انہیں ’اضافی سیکیورٹی‘ فراہم کی گئی۔کسی بھی عہدیدار نے یہ نہیں بتایا کہ قطری شاہی خاندان کے کون لوگ شکار کھیل رہے، قطر میں شاہی خاندان کے ارکان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ کیا قطریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔اس حملے کی کسی بھی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔یاد رہے کہ خلیجی اشرافیہ میں سے شکار کے شوقین لوگ ہر موسم سرما میں بلوچستان کا سفر کرتے ہیں تاکہ نایاب تلور کا شکار کر سکیں۔جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس طویل عرصے سے پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ عرب ممالک کے امیر شہریوں کو تلور کے شکار کی اجازت دیتا ہے، جو ہر موسم سرما میں وسطی ایشیا سے ہزاروں کی تعداد میں ہجرت کرتے ہیں۔

    کندھ کوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید

    چیمپئنز ٹی20 کپ کا ٹائٹل اے بی ایل اسٹالینز کے نام

  • کوئٹہ: دھماکے سے گیس پائپ لائن تباہ، سپلائی معطل

    کوئٹہ: دھماکے سے گیس پائپ لائن تباہ، سپلائی معطل

    کوئٹہ(باغی ٹی وی رپورٹ) گیس پائپ لائن دھماکے سے متاثر، بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس سپلائی معطل

    کوئٹہ کے نواحی علاقے مغربی بائی پاس پر دھماکا خیز مواد کے ذریعے گیس پائپ لائن کو اڑانے سے آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق واقعہ بروری تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں پل کے نیچے سے گزرنے والی 18 انچ قطر کی مین گیس پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے بعد آگ کے شعلے آسمان کو چھونے لگے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا۔

    ایس ایچ او بروری محمود خروٹی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واقعہ تخریب کاری کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بالائی بلوچستان کے مختلف علاقے بشمول کچلاک، زیارت، بوستان اور پشین جبکہ کوئٹہ شہر کے علاقوں جناح ٹاؤن، نواکلی اور ہزار گنجی گیس کی فراہمی سے محروم ہوگئے ہیں۔

    گیس کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور صارفین کو پیش آنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔