Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج میں شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت میں دوسرے بیچ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ 23 دسمبر 2024 کو منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فارغ التحصیل ہونے والی 64 لیڈی کیڈٹس نے اپنی تربیت اور محنت کا شاندار مظاہرہ کیا۔

    پریڈ کی تقریب کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر 12 کور، لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان تھے، جنہوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور فلاح میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ایسی تربیتی ادارے ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر مالک بلوچ، ممبر بلوچستان اسمبلی، آئی جی ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) اور علاقے کے معززین کے علاوہ کیڈٹس کے والدین کی بڑی تعداد بھی اس تقریب میں شریک ہوئی۔

    پاسنگ آؤٹ پریڈ میں لیڈی کیڈٹس نے اپنی تربیت کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ کیڈٹس نے مارچ پاسٹ اور مارشل آرٹس کے مختلف فنون کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی محنت، عزم اور انضباط نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔پاس آؤٹ ہونے والی کیڈٹس میں سے 90 فیصد کا تعلق بلوچستان کے مختلف ڈویژنز جیسے مکران، قلات، رخشان، سبی، ژوب، لورالائی اور نصیرآباد سے ہے۔ یہ بات اس بات کا غماز ہے کہ شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج نہ صرف تربت بلکہ پورے بلوچستان کی بچیوں کی تربیت اور فلاح کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والی کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اوور آل بیسٹ کیڈٹ کا اعزاز آمنہ عثمان کو دیا گیا، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے کالج کی تربیت کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انعامات کی تقسیم کے دوران تمام کیڈٹس کی محنت کو سراہا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت، بلوچستان کا پہلا گرلز کیڈٹ کالج ہے جس کا قیام 2021 میں عمل میں آیا۔ کالج میں 400 لیڈی کیڈٹس کی تربیت کی گنجائش ہے اور اب تک دو بیچز میں 131 لیڈی کیڈٹس کامیابی کے ساتھ فارغ التحصیل ہو چکی ہیں۔ یہ کالج نہ صرف بچیوں کو معیاری تعلیم اور تربیت فراہم کر رہا ہے بلکہ بلوچستان میں خواتین کی ترقی اور فلاح و بہبود میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

    شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت خواتین کی تعلیم اور تربیت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف لڑکیوں کو تعلیمی لحاظ سے مضبوط کرتا ہے بلکہ ان میں قائدانہ صلاحیتوں اور جسمانی قوت کو بھی بڑھاتا ہے، تاکہ وہ معاشرتی سطح پر مضبوط اور خودمختار خواتین کے طور پر اُبھر سکیں۔شیخہ فاطمہ بنت مبارک گرلز کیڈٹ کالج کی کامیاب پاسنگ آؤٹ پریڈ ایک اور کامیاب قدم ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی تعلیم اور ان کی ترقی کے لئے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    انسانی سمگلنگ میں ملوث گینگ بے نقاب، ایف آئی اے کی کارروائیاں

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست شپنگ روٹ، مثبت نتائج

  • گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی

    گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی

    گوادر کی بیٹی زینب سعید بخش کی تعلیمی میدان میں کامیابی.گوادر سے تعلق رکھنے والی زینب سید بخش نے عالمی سطح پر تاریخ رقم کی.

    ریکوڈک مائننگ کمپنی کے انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) 2024 میں زینب کی شمولیت قابل فخر ہے.زینب سعید بخش سول انجینئر ہیں اور اپنے خاندان کی پہلی خاتون ہیں جو اس عالمی معیار کے پروگرام کا حصہ بنی.زینب سید بخش کی کامیابی نے گوادر کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا اور اپنے علاقے اور خاندان کے لیے قابل فخر مثال قائم کی.”انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) ایک غیر معمولی موقع ہے جو علم اور مہارت میں اضافہ کرے گا.

    زینب سعید بخش کا کہنا ہے کہ ریکوڈک پروگرام میں شمولیت سے نہ صرف اپنا خواب پورا کیا بلکہ نئی تاریخ رقم کی.ایسے عالمی مواقع مقامی خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا بہترین ذریعہ ہیں.یہ پروگرام میرے کریئر اور مقامی خواتین کے خواب پورے کرنے کا ذریعہ بنے گا.محنت اور لگن سے دنیا کے کسی بھی کونے میں کامیابی ممکن ہے،

    زینب نے اپنی کامیابی کو خواتین کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا،زینب سید بخش کی کامیابی خواتین کی ترقی کے لیے مشعل راہ بن گئی،زینب سید بخش کی محنت اور عزم نے ان کی کامیابی کو پورے پاکستان کے لیے تاریخی بنا دیا

  • نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 30 دسمبر 2024 کو نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو باقاعدہ طور پر آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس کا افتتاحی کمرشل پرواز قومی ائیرلائن پی آئی اے کی طرف سے چلائی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے پی آئی اے کی انتظامیہ اور ائیرپورٹس اتھارٹی کے درمیان ایک پانچ گھنٹے تک طویل اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ائیرپورٹ کی آپریشنلائزیشن سے متعلق تمام تکنیکی اور انتظامی معاملات کو طے کر لیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی آئی اے آئندہ چند دنوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اپنے عملے کو تعینات کرے گا اور ائیرپورٹ پر چیک ان کے لیے کمپیوٹرز سمیت دیگر اہم سامان بھی نصب کرے گا۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک سال تک قومی ائیرلائن پی آئی اے سے کوئی ائیرپورٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ائیرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ائیرلائن کو ائیرپورٹ چارجز کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور انہیں اس حوالے سے سہولت فراہم کی جائے گی۔

    گوادر میں ڈیپ سی پورٹ کے قریب چین کی 246 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر کا یہ جدید ائیرپورٹ نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک (CPEC) کے تحت چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی فعالیت سے نہ صرف بلوچستان میں سیاحت اور کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے بھی یہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کی جانب سے اس ائیرپورٹ کو فعال کرنے کا فیصلہ، اور پی آئی اے کی طرف سے اس میں اہم کردار، پاکستان کے اسٹریٹجک تجارتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • پنجگور، ہرنائی اور خاران میں فائرنگ، مقامی سیاسی رہنما جاں بحق

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں فائرنگ، مقامی سیاسی رہنما جاں بحق

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں کئی افراد زخمی ہوگئے، جبکہ نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔

    پنجگور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغفور بلوچ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں عبدالغفور بلوچ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس واقعے نے مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑادی ہے اور پولیس حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عبدالغفور بلوچ کی موت کے بعد نیشنل پارٹی اور ان کے حامیوں نے مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کیا جائے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں نامعلوم افراد نے سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا اور ساتھ ہی فائرنگ کی۔ اس حملے میں پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    خاران کے علاقے میں بھی ایک اور حملہ ہوا، جہاں ملزمان نے زیر تعمیر عمارت کے قریب دو دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے بموں کے پھٹنے سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام کا محاصرہ کر لیا اور مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پنجگور، ہرنائی اور خاران میں پیش آنے والے ان واقعات نے بلوچستان میں جاری سیکیورٹی چیلنجز کو مزید اجاگر کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ان حملوں میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرے تاکہ علاقے میں امن و سکون بحال ہو سکے۔ مقامی عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے حکومت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کرے اور عوام کی حفاظت کے لیے مزید سیکیورٹی فورسز تعینات کرے۔

  • انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ میں پروقار تقریب

    انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کوئٹہ میں پروقار تقریب

    انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین، سول و ملٹری حکام، مقامی افراد اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کا مقصد بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور دہشتگردی کے واقعات کے اثرات کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کی جانب سے مقامی بلوچوں اور نہتے شہریوں پر کیے گئے انتہائی سفاکانہ ظلم کی مذمت کی گئی۔ تقریب میں حاضرین کو دہشتگردوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک خصوصی ڈاکومنٹری دکھائی گئی، جس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے شکار افراد کی دردناک کہانیاں پیش کی گئیں۔تقریب میں بچوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے انسانی حقوق کی اہمیت اور ان کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ دہشتگردی اور اس کے اثرات کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور اس خطے کے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ بچوں کی تقاریر نے حاضرین کے دلوں میں انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

    تقریب کے دوران، لواحقین نے اپنی شہادتوں اور قربانیوں کا تذکرہ کیا۔ ایک متاثرہ خاندان کی طرف سے خطاب کرتے ہوئے شائستہ رفیق کے بھائی نے کہا:”میری بہن شائستہ رفیق ایک اسکول ٹیچر تھی، جو دہشتگردی کے ایک وحشیانہ واقعے میں اپنی جان سے گئی۔ ہمارے بچے دہشتگردوں کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کے قاتلوں اور سہولتکاروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے عہد کے ساتھ ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔”

    حاضرین نے یکجان ہو کر دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عہد کیا۔ سول و ملٹری حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں متحد ہیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔اس موقع پر موجود دیگر شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ عالمی برادری دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھائے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے۔تقریب کا اختتام امن، بھائی چارے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے عہد کے ساتھ ہوا، اور حاضرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی اور ظلم کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی، تاکہ بلوچستان میں امن قائم ہو سکے اور ہر شہری کے حقوق کا احترام کیا جا سکے۔

  • قلعہ عبداللہ: موٹر سائیکل دھماکہ، 2 دہشتگرد ہلاک

    قلعہ عبداللہ: موٹر سائیکل دھماکہ، 2 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ(باغی ٹی وی رپورٹ)قلعہ عبداللہ میں قومی شاہراہ پر ایک چلتی ہوئی موٹر سائیکل میں زور دار دھماکے سے دو مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک مصروف سڑک پر اس وقت پیش آیا جب مبینہ دہشتگرد موٹر سائیکل پر ممکنہ ہدف کی جانب جا رہے تھے۔

    ڈی پی او کے مطابق دھماکہ راستے میں ہی ہوگیا، جس کے نتیجے میں دونوں مشتبہ افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشتگرد اپنے ہدف کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق دھماکے کے مقام سے ایک پستول برآمد ہوا ہے جو ان کے ممکنہ ارادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ علاقے کو فوری طور پر سیل کرکے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ دھماکے کی نوعیت اور دیگر ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والے مشتبہ افراد کی شناخت اور ان کے ممکنہ نیٹ ورک کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی ادارے علاقے میں سرچ آپریشنز کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی مزید خطرے کو روکا جا سکے۔

  • نامعلوم شرپسندوں نے تاریخی قلات مونومنٹ کو آگ لگا دی

    نامعلوم شرپسندوں نے تاریخی قلات مونومنٹ کو آگ لگا دی

    قلات: بلوچستان کے علاقے قلات میں نامعلوم شرپسندوں نے تاریخی قلات مونومنٹ کو نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ گزشتہ رات پیش آیا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق قلات مونومنٹ سی اینڈ ڈبلیو (کمیونیکیشن اینڈ ورکس) کے تحت چند برس قبل تاریخی قلعہ (مِیری) کے قریب تعمیر کیا گیا تھا۔

    قلات مونومنٹ ایک اہم تاریخی مقام تھا، جسے سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے تاریخی ورثے کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ مونومنٹ میں قلات کی تاریخ اور اس کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن اس وقت پیش آنے والے اس افسوسناک واقعہ سے یہ مقام جزوی طور پر متاثر ہوا ہے۔پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی ہے اور شرپسندوں کی تلاش کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق، یہ واقعہ شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    قلات کے مقامی افراد اور مختلف سماجی تنظیموں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ تاریخی ورثہ کی حفاظت کی جا سکے۔بلوچستان میں اس قسم کے واقعات کا تسلسل تشویش کا باعث بن رہا ہے، جس سے مقامی عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل کر اس واقعے کے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • گوادر میں ایجوکیشنل گالا کا انعقاد، 50 سے زائد تعلیمی اداروں کی  شرکت

    گوادر میں ایجوکیشنل گالا کا انعقاد، 50 سے زائد تعلیمی اداروں کی شرکت

    پاکستان کے خوبصورت ساحلی شہر گوادر میں ایک شاندار ایجوکیشنل گالا کا انعقاد کیا گیا، جس میں 50 سے زائد تعلیمی اداروں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس گالا کا مقصد تعلیمی ترقی، ماحولیاتی آگاہی، اور ثقافتی اظہار کو فروغ دینا تھا۔ گالا تین دن تک جاری رہا اور شہر میں ایک نیا جوش و خروش پیدا کر دیا۔

    گالا میں آرٹ کارنور نے خاصی مقبولیت حاصل کی۔ اس میں بچوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کیا۔ بچوں کی پینٹنگز، ڈرائنگز اور دیگر فنون کو دیکھ کر حاضرین نے خوب لطف اٹھایا۔ آرٹ کارنور نے گالا کی رونق کو دوبالا کیا اور شہر میں ثقافتی اظہار کا ایک نیا منظر پیش کیا۔اس گالا کا مرکزی موضوع موسمیاتی تبدیلی اور "گرین گوادر” تھا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے آگاہی پیدا کرنا اس گالا کا اہم مقصد تھا۔ مختلف سیشنز اور ورکشاپس میں ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل پر روشنی ڈالی اور اس کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ "گرین گوادر” کے تحت شہر میں ماحولیاتی بہتری کے لیے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    کتاب گھر میلہ اس ایجوکیشنل گالا کا ایک اور اہم حصہ تھا، جہاں مختلف کتابوں کے اسٹالز لگائے گئے تھے۔ بچوں اور بڑوں نے اس میلے میں بھرپور دلچسپی دکھائی اور کتابوں کے ذریعے علم کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس میلے نے گالا کو ایک تعلیمی فضاء فراہم کی اور لوگوں میں مطالعہ کے فروغ کے لیے ایک نیا جذبہ پیدا کیا۔

    اس گالا میں بچوں کی بھرپور شرکت نے اس کو ایک خوشگوار اور رنگین تجربہ بنا دیا۔ بچوں نے نہ صرف آرٹ کارنور میں حصہ لیا بلکہ مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ ان کی موجودگی نے ایجوکیشنل گالا میں ایک نیا جوش اور توانائی بھر دی۔گوادر میں منعقد ہونے والا ایجوکیشنل گالا ایک کامیاب ایونٹ ثابت ہوا، جس نے شہر کی تعلیمی، ثقافتی اور ماحولیاتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ تین دن تک جاری رہنے والے اس گالا نے گوادر کے شہریوں، خاص طور پر بچوں کو تعلیمی اور ماحولیاتی مسائل کے بارے میں آگاہ کیا اور ایک نئے شعور کو جنم دیا۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انسداد اسمگلنگ کی کامیاب کارروائیاں

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انسداد اسمگلنگ کی کامیاب کارروائیاں

    نومبر 2024 کے دوران ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے دیگر اداروں کے ہمراہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسمگلنگ کے خلاف کامیاب کارروائیاں انجام دیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد ملک کی معیشت کو مستحکم بنانا اور غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔ ایف سی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے یہ کارروائیاں ڈیرہ مرادجمالی، بارکھان، پشین، چمن، ژوب اور نوشکی کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جہاں اسمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔

    ضبط شدہ اشیاء میں شامل:
    چینی 40 میٹرک ٹن
    بیٹل نٹس 12 میٹرک ٹن
    ٹائرز 728 عدد
    سگریٹس 1223 عدد
    ان کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی اشیاء کی اسمگلنگ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی گئی، جن میں چینی، بیٹل نٹس، ٹائرز اور سگریٹس شامل ہیں۔ ان اشیاء کی اسمگلنگ کو روک کر نہ صرف غیر قانونی تجارت کے راستے بند کیے گئے بلکہ ان اشیاء کی مارکیٹ میں قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔

    ایف سی کی جانب سے بلوچستان کے بین الصوبائی سرحدوں پر قائم چیک پوسٹوں پر منظم چیکنگ کے نتیجے میں 122096 لیٹر ڈیزل کی اسمگلنگ کو بھی ناکام بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد قومی خزانے کو نقصان سے بچانا اور ملک کی اقتصادی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو اقتصادی مشکلات سے نکالا جا سکے اور غیر قانونی تجارت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اہم ہیں بلکہ ان سے عوامی سطح پر آگاہی بھی بڑھ رہی ہے۔

    حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاکہ ملک کی معیشت کو مزید نقصان پہنچانے والی اس غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ ایف سی بلوچستان اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں اسمگلنگ کے خلاف مسلسل کامیاب کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی یہ کارروائیاں ملک بھر میں اسمگلنگ کے خلاف بڑھتے ہوئے عزم کی عکاسی کرتی ہیں اور اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے۔

  • مغربی ہواؤں کا سسٹم بلوچستان میں داخل

    مغربی ہواؤں کا سسٹم بلوچستان میں داخل

    کراچی: مغربی ہواؤں کا سسٹم بلوچستان میں داخل ہوگیا ہے، جس کے باعث صوبے کے بیشتراضلاع میں بارش کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی ابرآلودرہنے کے علاوہ کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، زیارت، لورالائی، گوادر، کیچ، پنجگور، آواران، قلات،خضداراورلسبیلہ میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش و پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے، کوئٹہ اور گردونواح میں سردی کی شدت برقرار ہے-

    دوسری جانب رواں سال نومبر کے دوران ملک بھر میں 47 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق نومبر میں دن اور رات کے دوران درجہ حرارت بھی دو، دو ڈگری زیادہ رہا، آنے والے دنوں میں ہواؤں کا نیا سلسلہ پاکستان کے بالائی علاقوں کا رخ کرے گا جس کے باعث بلوچستان میں بارش اور گلگت بلتستان میں برفباری کا امکان ہے رواں سال نومبر میں لاہور سمیت پنجاب کے زیادہ تر علاقوں میں اسموگ کا راج رہا جبکہ خیبر پختونخوا کے بعض علاقے بھی اسموگ کی زد میں آئےمعمول سے کم بارشیں ہونے کے سبب اسموگ میں خاطر خواہ کمی نہیں آسکی جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے مصنوعی بارش برسانے کا تجربہ بھی نہیں کیا گیا۔