Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ڈان نیوز کاکوئٹہ میں دفتر بند

    ڈان نیوز کاکوئٹہ میں دفتر بند

    پاکستان کے تاریخی اخبار ڈان نیوز نے اپنا کوئٹہ دفتر بند کر دیا

    ڈان نیوز پاکستان کا نامور اور معروف اخبار ہے، ڈان گروپ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے تشکیل دیا تھا ڈان گروپ ان چند اور پہلے پاکستانی صحافتی اداروں میں سے ایک ہے جو اردو و انگریزی اخبار بھی چھاپتے ہیں۔ڈان گروپ نے 2007 میں ٹی وی چینلز کی نشریات کا آغاز کیا تھا، ڈان نیوز اخبار بھی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سےشائع ہوتا ہے تا ہم اب خبر آئی ہے کہ ڈان نیوز نے کوئٹہ میں اپنا دفتر بند کر دیا ہے

    صحافی حافظ اللہ شیرانی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "ڈان نیوز پیپر نے اپنا کوئٹہ،بلوچستان دفتر مستقل طور پر بند کر دیا ہے، جو کہ صحافت اور بلوچستان کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔ برسوں پہلے ڈان ٹی وی بیورو کی بندش کے بعد، اب اخبار کا دفتر بند ہو گیا ہے۔ ہارون حمید کی قیادت میں، یہ واقعی ڈان تھا، لیکن محترمہ ناز آفرین سہگل کے بعد یہ افسوسناک طور پر ڈان نہیں بلکہ زوال ہے۔

    ڈان نیوز کی کوئٹہ میں بندش سے مقامی صحافی بھی بے روزگار ہو گئے ہیں،مہنگائی کے دور میں صحافیوں کے لئے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں

    واضح رہے کہ 26 اکتوبر 1941ء کو قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتی سر پرستی میں مسلم لیگ کے ترجمان کی حیثیت سے ہفت روزہ کے طور پر جاری کیا گیا۔ 1942ء میں یہ روزنامہ ہو گیا۔ اس نے مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے سر انجام دیے۔ روزنامہ ڈان کے پہلے ایڈیٹر پاتھن جوزِف تھے جو اپنے صحافتی کیریئر اور تجربے کے باعث کافی مقبولیت رکھتے تھے۔ 1945ء میں الطاف حسین کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت روزنامہ ڈان اور اس قسم کے دیگر اخبارات کے روزانہ اشاعت کا اندازہ تقریباً 50 ہزار پرچے تھے۔

  • بلوچستان کے وزیر بلدیات سرفراز چاکر ڈومکی چل بسے

    بلوچستان کے وزیر بلدیات سرفراز چاکر ڈومکی چل بسے

    کوئٹہ: وزیر بلدیات بلوچستان سرفراز چاکر ڈومکی وفات پا گئے

    سردار سرفراز چاکر ڈومکی علیل تھے اور گزشتہ دس دنوں سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے، وہ پھیپھڑوں اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے،آج ان کی موت ہو گئی ہے،سرفراز چاکر ڈومکی کے نماز جنازہ کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا

    فروری 2024 کے انتخابات میں سرفراز چاکر ڈومکی پی بی 8 سبی سے پیپلزپارٹی کی ٹکٹ پر رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے تھے، بعد ازاں انہیں وزیر برائے بلدیات مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا اور بلوچستان کابینہ کا حصہ تھے

    سرفراز چاکر ڈومکی کی وفات پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر نے افسوس کا اظہار کیا ہے ،دعائے مغفرت کی ہے اور لواحقین کےلیے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • کچلاک میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ، دو اہلکار شہید

    کچلاک میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ، دو اہلکار شہید

    کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں2 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے

    پولیس حکام کے مطابق کچلاک میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کے نتیجے میں دو زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ دونوں کی موت ہو گئی،دھماکے سے پولیس وین مکمل تباہ ہو گئی ہے، دھماکے کے بعد علاقے بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق کچلاک میں پولیس گاڑی کو سڑک کنارے نصب بارودی مواد سے اڑایا گیا،ریموٹ کنٹرول دھماکہ میں پشین کا رہائشی اے ایس آئی زین اللہ ترین اور کچلاک کلی آٹوزئی پولیس جوان محمد طاہر شہید ہوئے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کچلاک میں بوستان روڈ پر پولیس موبائل کے قریب دھماکے کی مذمت کی ہے،اور کہا ہے کہ شہید اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،بلوچستان پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں

    وسیم ،کامران،ایاز،شمائلہ،ماہ نور،سرٹیفائڈ فراڈیئے،مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    5 سے 7 ارب کا فراڈ،لاہور کا پراپرٹی سیکٹر لرز اٹھا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

  • ژوب، بس کھائی میں گر گئی،4 افراد کی موت،24 زخمی

    ژوب، بس کھائی میں گر گئی،4 افراد کی موت،24 زخمی

    ژوب ، دانہ سر کے مقام پربس کھائی میں گرنے سے 4افرادجاں بحق،24زخمی ہو گئے

    بس اسلام آبادسےکوئٹہ جارہی تھی ،تیزرفتاری کے باعث حادثہ پیش آیا،ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ میں 15زخمیوںکی حالات تشویشناک ہے ،زخمیوں کو سول ہسپتال ژوب منتقل کیا گیا ہے، ریسکو حکام کے مطابق مسافر بس اسلام آباد سے براہ راست ڈیرہ اسماعیل خان کوئٹہ جاری رہی تھی۔حکومت بلوچستان نےدانہ سر کے مقام پر بس حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے اور ترجمان حکومت کے مطابق بس حادثے کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے ، تمام زخمیوں کو پولیس اور لیویز کی گاڑیوں میں ژوب ہسپتال پہنچا یا گیا،جہاں انکو طبی امداد دی جا رہی ہے.لاشوں کو بھی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے،

  • غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث ڈی ایس پی معطل

    غیر قانونی اسمگلنگ میں ملوث ڈی ایس پی معطل

    بلوچستان میں غیر قانونی ڈیزل کی اسمگلنگ میں ملوث ڈی ایس پی وندر کو آئی جی بلوچستان نے معطل کر دیا .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی بلوچستان نے ڈی ایس پی وندر کو معطل کر دیا ، ڈی ایس پی عارف بلوچ کو سی پی او بلوچستان کلوز کر دیا گیا ،ڈی ایس پی وندر پر ڈیزل اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے اور اسی بارے آئی جی بلوچستان نے محمد عارف بلوچ کی معطلی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کروا دیا. یاد رہے کہ مقامی ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے صلاحیت سے کم استعمال اور فروخت میں کمی کی شکایت کے دوران ہر روز تقریباً ایک کروڑ لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل زمینی اور سمندری راستوں سے پاکستان میں اسمگل کیا جا رہا ہے، جس سے سالانہ 227 ارب روپے سے زائد کی آمدنی کا نقصان ہوتا ہے۔

    کراچی مٰیں پولیس اور رینجرز کا فلیگ مارچ

    پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ، ملک کو سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان

    اس سے قبل تقریباً ایک درجن اہلکاروں کی ان کے ناموں، فون نمبرز، شناختی کارڈز وغیرہ کے ساتھ غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے یا سہولت فراہم کرنے پر شناخت کی گئی ہے۔تجارت اور کاروبار میں کسٹم انٹیلی جنس، بارڈر مینجمنٹ پولیس، اسسٹنٹ اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر، سول ڈیفنس، پولیس، کسٹم انفورسمنٹ، لیویز، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، سی آئی اے پولیس اور محکمہ پولیس شامل ہیں۔

  • توہین مذہب کے  ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار دی

    توہین مذہب کے ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار دی

    کوئٹہ میں تھانے میں بند ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خود کر سرینڈر کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق توہین رسالت کے الزام میں زیرِ حراست ایک ملزم کو ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ملزم عبدالعلی کو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد تھانے کی پولیس کی جانب سے حراست میں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی تھی اور یہ ہجوم ملزم کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔کوئٹہ پولیس کے ایک سینیئر افسر نےبتایا کہ ’خروٹ آباد پولیس سٹیشن مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے غیرمحفوظ تھا اس لیے ملزم کو کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا تھا۔‘

    پولیس اہلکار کے مطابق کینٹ تھانے میں ہی ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے ملزم عبدالعلی کو ہلاک کیا ہے۔‘خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ عبدالعلی پر گولی چلانے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے تفتیش کی عمل جاری ہے۔پولیس کے مطابق عبدالعلی کی لاش کو سول ہسپتال منتقل کرنے کی بجائے متعلقہ پولیس سرجن کو پوسٹ مارٹم کے لیے ایک محفوظ مقام پر بلا لیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاکستان میں توہین مذہب کے معاملے میں ملزم کے خلاف قانون ہاتھ میں لیا گیا ہو۔ رواں برس جون میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کو مشتعل ہجوم نے پولیس کی حراست سے زبردستی نکال کر قتل کر دیا تھا۔

    عبدالعلی کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام کی وجہ بننے والی مبینہ ویڈیو ایک چلتی گاڑی میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کے مواد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ملزم کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق گاڑی عبدالعلی خود چلا رہے تھے اور اس دوران گاڑی میں سوار ایک شخص ان سے تحریک انصاف کے ایک رہنما کی گرفتاری پر ان کا ردِعمل پوچھتا ہے۔اس گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اب لوگوں کو ہر علاقے میں سرکاری اہلکاروں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ وہ حالات کو کس جانب لے جا رہے ہیں۔‘ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے اسی گفتگو کے دوران مذہبی اعتبار سے ’نازیبا‘ الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بدھ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں جبل نورالقرآن کے قریب مغربی بائی پاس پر جمع ہو گئی تھی۔

    لوگوں نے مغربی بائی پاس اور اسپنی روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کر دی تھی اور وہ ملزم کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔تاہم ملزم کی گرفتاری کے بعد بھی مظاہرین منتشر نہیں ہوئے بلکہ خروٹ آباد پولیس سٹیشن کے باہر جمع ہو گئے تھے اور وہ پولیس سے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ایس پی صدر پولیس شوکت مہمند کے مطابق ’ہجوم کی جانب سے یہ غیر قانونی مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے۔‘ انھوں نے ہجوم کے مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ اسے گرفتار بھی کیا گیا۔بدھ کی شام ہجوم کی جانب سے تھانے پر پتھراؤ کیا گیا اور مشتعل افراد نے تھانے کے مرکزی دروازے کو توڑ کر تھانے کی حدود میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی تھی جس پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔مظاہرین کی جانب سے تھانے کا گھیراؤ اور اس پر پتھراؤ کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا اور اسی دوران ملزم کو کینٹ تھانہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

  • 3 سال بعد بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں کیتھ لیب فعال

    3 سال بعد بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں کیتھ لیب فعال

    3 سال بعد بی ایم سی ہسپتال کوٸٹہ میں کیتھ لیب کو فعال کیا

    کوئٹہ ( آغا نیاز مگسی ) محکمہ صحت بلوچستان نے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ میں عرصہ تین سال سے زائد غیر فعال کیتھ لیب کو عوام کے لئے مکمل طور پر فعال کر دیا ہے بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں کیتھ لیب چھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے مرمت کے بعد عوام کے لیے اب مکمل طور پر فعال کرکے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر افضل زرکون نے باقاعدہ طور پر افتتاح کردیا ہے،افتتاحی تقریب میں ہیڈ آف کارڈیالوجی ڈاکٹر ہما نعیم ترین نے بتایا کہ عرصہ تین سال سے بی ایم سی ہسپتال میں تنصیب کیتھ لیب فنی خرابی کے باعث غیر فعال ہوگیا تھا، محکمہ صحت بلوچستان نے چھ کروڑ روپے کی لاگت سے فلپس کمپنی کے تعاون سے مشین کو فعال بنایا ہے اور اگلے تین سال تک مشین کی دیکھ بھال فلپس کمپنی سے ایگریمنٹ کیا گیا ہے اب بلوچستان کے عوام پانچ ہزار کے معمولی فیس ادا کرکے اینجو گرافی اور اینجو پلاسٹی کراسکیں گے، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر افضل زرکون نے کہا کہ صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال میں کیتھ لیب کی سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔افتتاحی تقریب میں کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر عبدالباری، ڈاکٹر فرہان فیصل، ڈاکٹر قادر بخش بلوچ، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ عنایت اللہ پانیزئی اور دیگر موجود تھے۔

  • زمینی تنازع،مستونگ میں صحافی قتل

    زمینی تنازع،مستونگ میں صحافی قتل

    بلوچستان میں فائرنگ کر کے صحافی کو قتل کر دیا گیا

    مستونگ؛ مسلح افراد کی فائرنگ سے سینئر صحافی سراوان پریس کلب کے آفس سیکرٹری وائس آف مستونگ اور سراوان پریس کلب سوشل میڈیا ایڈمن نثار احمد لہڑی جاں بحق ہو گئے، اطلاع پرپولیس موقع پر پہنچ گئی، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ایس پی مستونگ عابد خان بازئی نے واقعہ بارے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا صحافی نثار احمد اپنے گھر سے زمینوں کی طرف جا رہے تھے جب ان پر گولیاں چلائی گئیں، نثار احمد کو قبائلی رنجش پر قتل کیا گیا، قاتلوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے، قاتلوں کو گرفتار کر کے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کریں گے۔

    صحافی نثار احمد نیوز ایجنسی میں بطور رپورٹر کام کرتے تھے ،مقتول صحافی کے کزن نے اس بات کی تصدیق کی کہ نثار احمد کا زمینوں کا تنازعہ تھا، مقدمہ نامزد افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا

    عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے نامناسب ترین امیدوار قرار

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے وی سی کا الیکشن ،پی ٹی آئی کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان کو آکسفورڈ کا نہیں اڈیالہ جیل کے قیدیوں کا الیکشن لڑنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

  • بلوچستان کے کئی اضلاع میں بارشوں سے مکانات تباہ،شہری بے گھر

    بلوچستان کے کئی اضلاع میں بارشوں سے مکانات تباہ،شہری بے گھر

    بلوچستان میں شدید بارشیں، سیلاب نے تباہی مچادی، مکانا ت تباہ ہو گئے، شہری کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں،بلوچستان میں طوفانی بارش کے بعد مختلف واقعات میں 29 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوئے ہیں
    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے کہیں مکانات کو نقصان پہنچا تو کہیں برساتی ندی نالوں کو اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، دکی، زیارت، سنجاوی، لورالائی، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوژک ٹاپ، شیلاباغ، گلستان اور خواجہ عمران میں موسلادھار بارشیں ہوئیں جس دوران قلعہ سیف اللہ کےعلاقے تلری اور موسیٰ زئی میں بڑے پیمانے پر مکانات کو نقصان پہنچا،شدید بارشوں کے باعث دیگر مختلف شہروں کے پہاڑی برساتی ندی نالوں میں اونچے درجے کاسیلاب ہے جب کہ دکی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں 6 افراد ریلوں میں بہہ گئے جن کی تلاش جاری ہے،شدید بارشوں کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں3 گاڑیاں بہہ گئیں تاہم لوگ محفوظ رہے،

    جھل مگسی میں مسافر گاڑی سیلاب میں بہہ گئی جس کے بعد گاڑی میں سوار 5 افراد نے درختوں پر پناہ لی جنہیں بعد میں ریسکیو کر لیا گیا،جھل مگسی میں ہی کار ریلےمیں بہہ گئی جس دوران ڈرائیور کو بچالیاگیا، ہرنائی کی کھوسٹ ندی کے ریلے میں 2 افراد پھنس گئے، سیلابی ریلوں کی وجہ سےہرنائی کوئٹہ روڈ پر ٹریفک معطل ہوگیا

    بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں ڈیرہ مراد جمالی سول اسپتال اور پولیس تھانہ بارش کے بعد زیرِ آب آ گئے ،ڈیرہ بگٹی سے آنے والا 1500 کیوسک سیلابی پانی پٹ فیڈر میں داخل ہو چکا، سندھ بلوچستان سرحد سنٹ کے مقام پر لیویز چیک پوسٹ سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے، ضلع نصیر آباد میں 36 گھنٹے کی مسلسل بارش میں تقریباً 20 مکانات گر گئے ہیں،شاہ پور گاؤں میں تقریباً 20 مکانات گر کے تباہ ہو گئے ہیں،ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک بارش کے پانی میں ڈوب گیا، پنجگور میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے موبائل اور لینڈ لائن فون سروس معطل ہے لیکن اس کے برعکس انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لینے میں ناکام رہی ہے

    صوبائی حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی روانگی، متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں کا قیام، اور خوراک و دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق وہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

  • بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    بیلہ کیمپ میں حملہ کرنے والا ایک مسنگ پرسن نکلا

    لاپتہ افراد کے نام پر بلوچ لبریشن آرمی کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا،دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کی ملکی اداروں کو بدنام کرنے کی ایک اور سازش بے نقاب ہو گئی،رواں سال اپریل میں جس شخص کے نام سے مسنگ پرسن کی ایف آئی آر درج کرائی گئی آج اسی شخص کی شناخت ہوئی،دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے طیب بلوچ عرف الیاس لالا ولد مولا بخش کو لاپتہ شخص قرار دے کر ایف آئی آر درج کرائی تھی، بیلہ میں ایف سی کیمپ پر خودکش حملے میں طیب بلوچ کی شناخت ہو گئی،طیب بلوچ عرف الیاس لالا نوشکی کا رہائشی تھا،بلوچ لبریشن آرمی کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اپنے سرکردہ دہشتگردوں کو لاپتہ افراد کی فہرست میں ڈال کر اپنے مکروہ مقاصد حاصل کرتی ہے،اس سے قبل بھی بی ایل اے لاپتہ افراد کے نام پر اپنی سیاست چمکا چکی ہے،دہشتگرد کریم جان ولد فضل بلوچ تربت کا رہائشی تھا جو 25مئی 2022کو لا پتہ بتایا گیا،وہی دہشت گرد کریم جان گوادر حملے میں دہشت گردی کرتے ہُوئے مارا گیا ،اس سے قبل بھی دہشتگرد امتیاز احمد ولدرضا محمد بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا جو سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں مارا گیا ،عبدالودود ساتکزئی جس کی بہن 12اگست2021سے بھائی کی گمشدگی کا راگ الاپ رہی تھی، وہ بھی مچھ حملے میں مارا گیا،لاپتہ افراد کے نام پر سیاست کرنے والے عناصر بیرونی قوتوں کی ایماء پر ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں ،بلوچستان کی دہشتگرد تنظیمیں بلوچ عوام اور نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہیں ،ملک دشمن عناصر کے مکروہ چہرے سے پردہ اب ہٹ چکا ہے لہٰذا دہشتگردوں کو اب ملک میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ان اجراتی قاتلوں کی شناخت اب ہو چکی ہے ، اب یہ بات آشکار ہو گئی ہے کہ مسنگ پرسن کا ڈرامہ رچا کر یہ اجراتی قاتل دہشت گردی کرتے ہیں

    لسبیلہ اپریشن میں جہنم واصل ہونے والا دہشت گرد طیب بلوچ مسنگ پرسن نکلا ۔طیب بلوچ جو 5اپریل 2024 سے لاپتہ تھا اس کی ایف ائی آر بھی کرائی گئی تھی وہ 26 اگست بیلہ ایف سی کیمپ حملے میں ملوث نکلا ،بی ایل اے کا دہشت گرد طیب بلوچ کو ایک طرف مسنگ پرسن میں لکھا گیا جبکہ دوسری طرف ان کو دہشت گرد تنظیم بی ایل اے میں بھرتی کر کے معصوم شہریوں کے قتل کرنے کے لیے پہاڑوں پرلے جایا گیا ۔ دہشت گرد طیب بلوچ کے لاپتا ہونے پہ ایف آئی ار بھی درج کی لیکن اس کے باوجود لواحقین کو کوئی خبر نہیں دی گئی بلکہ ماہرنگ بلوچ اور انکی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ایک طرف طیب بلوچ کو دہشت گرد تنظیم کے پاس بھیجا دوسری جانب ریاست مخالف پروپگینڈا کرنے کے لیے ان کو لاپتا بتا کے مزید ڈرامہ رچایا گیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پر انسانی حقوق کے علمبردار جواب دینا پسند کریں گےجس دہشت گرد کو مظلوم بتا کر ریاست کے خلاف جھوٹ بول رہے تھے حقیقت میں وہ معصوم شہریوں کاقاتل نکلا ۔

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل