Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ملازمین کے علاج معالجے کیلئے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ملازمین کے علاج معالجے کیلئے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان میں مواصلاتی اور تعلیمی منصوبوں کے آغاز پر صوبائی کابینہ نے تشکر کا اظہار کیا۔

    بلوچستان کابینہ نے الیکٹرک بائیکس اسکیم عام آدمی کیلئے متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا، انٹر پرائزز ڈیولپمنٹ پروگرام کی گوادر، کیچ، آواران تک توسیع کی منظوری بھی دیدی گئی۔وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے منصوبوں کیلئے تعاون پر وزیراعظم کے مشکور ہیں، عام آدمی کے ٹیکس سے حاصل ہونیوالے وسائل عوام کی امانت ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بائیکس تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے افراد کو آسان اقساط پر دی جائیں گی، بلوچستان کا عام غریب آدمی مشکلات جھیلے اور وسائل کا بڑا حصہ مخصوص طبقے پر خرچ ہو یہ ناانصافی ہے، سرکاری ملازمین کے علاج معالجے کیلئے جامع ہیلتھ انشورنس اسکیم لارہے ہیں۔

    ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حکومتِ بلوچستان صوبے کے تقریباً 2.5 لاکھ سرکاری ملازمین کے علاج معالجے پر سالانہ 6 سے 7 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ عوامی وسائل کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی کابینہ نے جامع ہیلتھ انشورنس سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ اقدام علاج معالجے کی سہولیات کو شفاف، مؤثر اور پائیدار بنانے کے ساتھ ساتھ گڈ گورننس اور عوامی فلاح کے حکومتی وژن کی عکاسی کرتا ہے۔حکومتِ بلوچستان، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں، بہتر صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔

  • ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے سال 2025 میں عوامی خدمت کیلیے مثالی اقدامات

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے سال 2025 میں عوامی خدمت کیلیے مثالی اقدامات

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے سال 2025 کے دوران عوامی خدمت، سماجی ہم آہنگی اور اعتماد سازی کے لیے مثالی اقدامات کیے ہیں۔

    صوبے کے مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے ہزاروں فلاحی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا جن کا مقصد عوام کو درپیش مسائل کا فوری اور مؤثر حل فراہم کرنا تھا۔ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے سال 2025 میں مجموعی طور پر 10,279 فلاحی اقدامات، جرگوں اور کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان اقدامات کے ذریعے عوام اور انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم کرنے اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا گیا۔ 108 کھلی کچہریاں منعقد کی گئیں جہاں عوام نے بلا خوف و جھجھک اپنے مسائل پیش کیے، جبکہ 341 جرگوں کے ذریعے قبائلی و علاقائی تنازعات کو باہمی مشاورت سے حل کیا گیا۔ صحت کے شعبے میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے 659 فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا، جن سے دور دراز علاقوں کے ہزاروں افراد مستفید ہوئے۔شہریوں اور مسافروں کی سہولت کے لیے 3,729 فلاحی اقدامات کیے گئے جن میں راہنمائی، امداد اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے 592 کھیلوں کے مقابلے اور 853 صحت مندانہ سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جس سے نوجوان نسل میں نظم و ضبط اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ ملا۔

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے 212 شہداء کے اہلِ خانہ سے ان کے گھروں میں ملاقاتیں کیں، ان کی خیریت دریافت کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے یہ اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ فورس نہ صرف امن و امان کے قیام بلکہ عوامی فلاح و بہبود میں بھی پیش پیش ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی، صوبائی وزرا اور اراکینِ پارلیمنٹ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    کوئٹہ ایئرپورٹ پر اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے وزیراعظم کو صوبے میں امن و امان اور مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے دورۂ کوئٹہ کا مقصد بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینا، صوبائی قیادت سے مشاورت اور عوامی فلاح کے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی گورنر بلوچستان سے بھی ملاقات ہوگی، جس میں گورنر وزیراعظم کو صوبے میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، گورننس، امن و امان اور معاشی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی آگاہ کریں گے۔وزیراعظم کی وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی اور صوبائی کابینہ کے ارکان سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال، عوامی مسائل، روزگار کے مواقع، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ ملاقاتوں میں وفاق اور صوبے کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے پر بھی غور ہوگا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس موقع پر بلوچستان کے لیے وفاقی سطح پر تعاون اور وسائل کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کریں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ بلوچستان کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • نوکنڈی سے سبی تک 600 کلومیٹر طویل  ریلوے ٹریک منصوبہ

    نوکنڈی سے سبی تک 600 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک منصوبہ

    بلوچستان میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اہم اور طویل المدتی منصوبہ رواں سال اپریل میں شروع کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    اس منصوبے کے تحت ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی سے سبی تک تقریباً 600 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی مکمل اپ گریڈیشن کی جائے گی، جسے صوبے کی تاریخ کا ایک بڑا ریلوے منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے،ذرائع کے مطابق ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا یہ منصوبہ 400 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، جبکہ اس کی مدتِ تکمیل تین سال رکھی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت پرانے اور خستہ حال ریلوے ٹریک کو جدید معیار کے مطابق تبدیل کیا جائے گا، جس سے نہ صرف ٹرینوں کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ سفری حفاظت اور سہولیات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اپ گریڈیشن کے بعد اس ریلوے لائن پر مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا، جس سے بلوچستان کے دور دراز علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے گا۔ خاص طور پر معدنی وسائل سے مالا مال ضلع چاغی اور اس کے گردونواح میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ریلوے حکام کے مطابق منصوبے میں جدید سگنلنگ سسٹم، مضبوط پٹڑی، بہتر پل اور کراسنگز کی تعمیر شامل ہوگی، تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے علاقے کی سماجی و معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • نصیرآباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، ٹرینوں کی آمد و رفت معطل

    نصیرآباد میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، ٹرینوں کی آمد و رفت معطل

    نصیرآباد کی تحصیل ڈیرہ مراد جمالی کے قریب ریلوے ٹریک کو دھماکے سے نقصان پہنچنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد ریلوے حکام اور سیکیورٹی ادارے فوری طور پر حرکت میں آ گئے۔ پولیس کے مطابق دھماکا ریلوے ٹریک پر نصب کسی نامعلوم دھماکا خیز مواد کے باعث ہوا، جس سے ٹریک کا تقریباً دو فٹ کا حصہ متاثر ہوا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ واقعہ ڈیرہ مراد جمالی کے قریب پیش آیا، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم خوش قسمتی سے دھماکے کے وقت کوئی ٹرین وہاں سے نہیں گزر رہی تھی، جس کی وجہ سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام ٹرینوں کو جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ ریلوے ٹریک کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ریلوے اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ دھماکا تخریب کاری کا نتیجہ تھا یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ریلوے ٹریک کی مرمت مکمل ہونے تک ٹرین سروس معطل رہنے کا امکان ہے۔حکام کے مطابق مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد سیکیورٹی کلیئرنس کے ساتھ ٹرینوں کی آمد و رفت بحال کی جائے گی، جبکہ علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • پنجگورجامع مسجد کے قریب دھماکہ،ایک جاں بحق، 9 زخمی

    پنجگورجامع مسجد کے قریب دھماکہ،ایک جاں بحق، 9 زخمی

    بلوچستان میں مرکزی جامع مسجد کے قریب زور دار دھماکہ، ایک شخص جاں بحق، 9 زخمی ہو گئے

    پنجگور کے علاقے چتکان میں مرکزی جامع مسجد کے قریب مین روڈ پر زور دار دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 9 افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • تربت ،غیر قانونی اسلحے کی بڑی کھیپ ضبط

    تربت ،غیر قانونی اسلحے کی بڑی کھیپ ضبط

    بلوچستان کے ضلع کیچ کی تحصیل تربت میں سیکیورٹی فورسز نے اسلحہ اسمگلنگ کے خلاف بڑی اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی اسلحے کی بھاری کھیپ ضبط کر لی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایم-8 شاہراہ پر واقع سمی ناکہ کے قریب کی گئی، جہاں مشتبہ پک اَپ کو روک کر تلاشی لی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران گاڑی سے 400 پستول اور 340 میگزین برآمد ہوئے، جو غیر قانونی طور پر اسمگل کیے جا رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف اسلحہ قبضے میں لیا بلکہ مشتبہ شخص کو گاڑی سمیت گرفتار بھی کر لیا۔گرفتار ملزم کی شناخت احسن اللہ ولد میر باز خان کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ پشاور کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق برآمد ہونے والا اسلحہ مختلف جرائم پیشہ اور شرپسند عناصر تک پہنچایا جانا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی مستعدی کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے تاکہ اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور ممکنہ روابط کا سراغ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے نہ صرف ایک بڑے اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کو نقصان پہنچا ہے بلکہ ممکنہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بھی ناکام بنایا گیا ہے۔سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملکی امن و امان کے قیام، غیر قانونی اسلحے کی ترسیل کی روک تھام اور شرپسند عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دے کر امن کے قیام میں اداروں کا ساتھ دیں۔

  • کیڈٹ کالج جعفر آباد میں یومِ والدین کی شاندار تقریب

    کیڈٹ کالج جعفر آباد میں یومِ والدین کی شاندار تقریب

    کیڈٹ کالج جعفر آباد میں یومِ والدین کی ایک شاندار، باوقار اور یادگار تقریب کا انعقاد کیا گیا. جس میں مہمانِ خصوصی آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ، کیڈٹس اور انکے والدین کے علاوہ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، کمشنر نصیر آباد، مقامی عمائدین اور سول و ملٹری افسران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کے دوران کیڈٹس نے بھرپور نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار پریڈ اور مختلف عملی سرگرمیاں پیش کیں۔ کیڈٹس کی عمدہ کارکردگی، خود اعتمادی اور اعلیٰ تربیتی معیار کو والدین اور دیگر شرکاء نے بے حد سراہا اور بھرپور داد دی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے کیڈٹ کالج جعفر آباد کے تعلیمی و تربیتی معیار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے نوجوان نسل کو نظم و ضبط، اعلیٰ کردار اور حب الوطنی کے جذبے سے آراستہ کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر نوجوان کیڈٹ کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں کیڈٹ کالج جعفر آباد میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں، اور ہمارے والدین کو بھی اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ان کے بچے ایک عظیم ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک اور کیڈٹ کا کہنا تھاکہ آج ہمارا پاسنگ آؤٹ کا دن ہے، جو ہمارے لیے ایک نہایت قابلِ فخر دن ہے۔ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ میں پورے پاکستان کے والدین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کیڈٹ کالج جعفر آباد بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک بہترین ادارہ ہے۔

    تقریب کے اختتام پر کالج انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا گیا اور مستقبل میں بھی اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

  • بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی،پبلک مقامات پر ہر قسم کے اجتماعات اور جلسوں پر بھی پابند ی ہوگی،کسی ایک جگہ 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی ،موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد ہوگی ،خواتین اور بچوں کو استشنیٰ حاصل ہوگا، بلوچستان میں دفعہ 144 کا اطلاق 31 جنوری 2026تک ہوگا۔

    اداکار آغا شیراز کو دل کا دورہ، اسپتال میں زیر علاج

    لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل

    راولپنڈی :دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع

  • بلوچستان گرینڈ الائنس کا مرحلہ وار احتجاجی پروگرام کا اعلان

    بلوچستان گرینڈ الائنس کا مرحلہ وار احتجاجی پروگرام کا اعلان

    کوئٹہ: بلوچستان گرینڈ الائنس (بی جی اے) نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور مبینہ ملازم دشمن پالیسیوں کے خاتمے کے لیے جنوری 2026 میں صوبہ بھر میں مرحلہ وار احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    بی جی اے کے مطابق احتجاج کا بنیادی مطالبہ سرکاری ملازمین سے متعلق مشترکہ سفارشات پر عملدرآمد اور ملازم مخالف فیصلوں کی واپسی ہے۔احتجاجی تحریک کے مراحل کے دوران منتخب نمائندوں اور وزراء کو احتجاجی یادداشتیں پیش کی جائیں گی،5 جنوری کونصیرآباد اور ژوب ڈویژن،6 جنوری کو سبی اور مکران ڈویژن،7 جنوری کو لورالائی اور قلات ڈویژن،8 جنوری کوکوئٹہ اور رخشان ڈویژن میں پروگرام ہوں‌گے،

    دوسرا مرحلہ قومی شاہراہوں کی جزوی بندش (دوپہر 12 سے 2 بجے تک) ہے،12 جنوری کو خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی، اُتھل،13 جنوری کو قلات، پشین (یارو)، لورالائی، دالبندین، تربت، پسنی،14 جنوری کوڈیرہ اللہ یار، حب، خاران، ژوب، گوادر، چمن، راکھنی میں شاہراہیں بند کی جائیں گی

    تیسرا مرحلہ صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہے،15 جنوری کو صوبے بھر میں تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے،آخری مرحلہ لانگ مارچ اور دھرناہے،20 جنوری کو صوبے بھر کے سرکاری ملازمین کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کریں گے اور ریڈ زون میں غیر معینہ مدت کے دھرنے کا آغاز کیا جائے گا۔بی جی اے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ تنظیم کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کو دبانے کی کوشش کی گئی تو "جیل بھرو تحریک” شروع کی جائے گی۔
    مزید برآں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مزدور تنظیموں سے حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے بھی کیے جائیں گے۔بی جی اے کے مطابق حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ملازمین کے مسائل کا سنجیدگی سے حل نکالے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔