Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 176ہو گئی

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 176ہو گئی

    بلوچستان میں بارشوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے، صوبے میں بارش اور سیلاب کے باعث مزید 6افراد لقمہ اجل بن گئے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 176ہوگئی۔

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، سیلاب متاثرین کیلئے5 ارب روپےکی منظوری

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں مزید 6 افراد بارشوں کی نذر ہوگئے، جن میں 5 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

    جاں بحق ہونے والے 176افراد میں 77 مرد، 44 خواتین اور 55 بچے شامل ہیں ،اموات بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں ہوئی ہیں ۔بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 75 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 48 مرد،11 خواتین اور 16 بچے شامل ہیں۔

    لاہوراور کراچی پھرپانی پانی ہوگئے:مزید بارشوں کی پیشن گوئی

     

    مجموعی طور پر صوبے بھر میں 18 ہزار 87 مکانات منہدم اور جزوی نقصان پہنچا ہے، بارشوں میں 670 کلو میٹر پر مشتمل 6 مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں جبکہ مختلف مقامات پر 16 پل ٹوٹ چکے ہیں۔

    بارشوں اور سیلابی صورتحال سے 23 ہزار 13 مال مویشی مارے گئے ہیں تو وہیں مجموعی طور پر 1 لاکھ 98 ہزار 461 ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں، سولر پلیٹس، ٹیوب ویلز اور بورنگ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بهر میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کى تفصيلات جارى کردیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارشوں سے 552اموات ہوئیں جبکہ 628افراد زخمی ہوئے جبکہ سیلاب اور بارشوں کے باعث 49ہزار 778مکانات کو نقصان پہنچا۔

    اين ڈى ايم اے کے مطابق ملک بھر کے تمام دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

  • 6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے پیش نظرضروری اقدامات کرلئے،ڈپٹی کمشنر گوادر

    6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کے پیش نظرضروری اقدامات کرلئے،ڈپٹی کمشنر گوادر

    ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کے زیر صدارت ضلع میں حالیہ مون سون بارشوں کے صورتحال ، نقصانات ،اور امدادی سرگرمیوں سمیت انکاسی اب سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا .اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ذاکر علی بلوچ پی پی ایچ ائی کے ڈسٹرکٹ اسپورٹ مینجر ڈاکٹر منیر احمد بلوچ،محکمہ مواصلات و تعمیرات ایکسیںن روڈ/ بلڈنگ سیکٹر ثنا اللہ بلوچ ، محکمہ صحت ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ،ایرگیش، لوکل گورنمنٹ، زراعت ،محکمہ امور حیوانات کے افسران سمیت ضلع کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی.

    پنجاب،مشرقی اور جنوبی بلوچستان میں بارش کا امکان

    اجلاس میں تمام محکموں کے سربراہان نے حالیہ مون سون بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اپنے اپنے محکوں کی اب تک کی پیش رفت اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے معتلقہ محکموں کے افسران کو ضروی ہدایات بھی جاری کیں جبکہ کئی فیصلے بھی کیے گئے.

     

    ڈیرہ غازی خان – سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کا نوٹس

     

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنرنے متوقع 6 اگست سے شروع ہونے والی بارشوں کی پیش نظر مربوط و جامع حکمت عملی اپنانے کی ہدایت کی ،ضلعی انتظامیہ،میونسپل کمیٹی سمیت۔ادارہ ترقیات کے رینز رسپانس ٹیموں کو فوری طور پر متحرک کردیا گیا اور ضروری عملہ و مشنری کا دوبارہ ازسرنو جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق اضافی تعنیاتیاں کی گٸ ہیں جبکہ کنٹرول روم بھی قائم کیاگیا ھے .ڈپٹی کمشنرنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر فوری و موثر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں ، پیشگی اقدامات کے طور پر نکاسی آب کی لاٸنز اور نالوں کی صفاٸی شروع کردی گئی ہے. اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے حالیہ بارشوں کے دوران شپ روز مصروف عمل ریسپانس ٹیموں اور دیگر عملہ کی کارکردگی پر اظہارکا اطمینان کرتے ہوئے ان کی حواصلہ افزائی کی.

  • سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

    سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم

    وزیر اعظم شہباز شریف کی کوئٹہ آمد ہوئی ہے

    کوئٹہ پہنچنے پر چیئرمیں این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بریفنگ دی وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم کو امدادی کاموں سے متعلق ہدایات دیں اور کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو فوری ریسکیو کریں،سیلابی پانی اترنے کے بعد فوری طور پر تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ریسکیو کے فیز میں 70 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے، بارشوں اور سیلاب سے 1100لوگ معمولی زخمی ہوئے بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 136اموات ہوئیں اور 70افراد زخمی ہوئے

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت قومی جذبے سے بحالی اور آبادکاری کے لیے پرعزم ہیںغیر معمولی بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصان ہوئے بحالی اور امداد کے لیے این ایچ اے کی کوششیں لائق تحسین ہیں، 13جون کو بارش کا سلسلہ شروع ہوا،رواں برس500 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں بارش کا 30سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ,بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے اموات ہوئیں اور مواصلاتی نظام متاثر ہوا چیلنج بڑا ہے ملکر مقابلہ کریں گے جب تک آخری گھرآباد نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے ،

    وزیراعظم شہباز شریف نے بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ 24 گھنٹے میں ادا کرنے کا حکم دے دیا وزیراعظم شہباز شریف نے جزوی یا مکمل تباہ مکانوں کا معاوضہ بھی بڑھا کر 5لاکھ روپے کردیا

    وزیراعظم شہباز شریف کی بلوچستان آمد،وزیراعلیٰ قدوس بزنجو ،مولانا واسع ہمراہ ہیں،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بعض کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں، ہم فی الفور ایکشن لیں گے، میڈیکل کیمپس میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا،سارا عملہ موجود ہے ریکارڈ موجود نہ ہونے پر دکھ ضرور ہوا، لوگ دور دراز علاقوں سے آئے ہیں،بچوں اور لوگوں سے ملا، یہاں اموات بھی ہوئیں میرے ساتھ وزیر اعلی ٰموجود تھے، کسی کیمپ میں کھانے ملنے کی توثیق نہیں ملی انہوں نے خود کہا ہمیں کھانا نہیں ملا،ایک چھوٹے بچے سے ملا اس کی باتیں 20 سال کے نوجوان جیسی تھیں، بچہ سب بتا رہا تھا، میں نے اس کی تعلیم کے بارے میں بھی کہا ہے آج سے کھانا ملنا چاہیے، صبح اور رات کا کھانا دیا جائے،آج ہی ایکشن لیں گے، تمام کمزوریاں ختم کریں گے،امید ہے وزیراعلیٰ بلوچستان کمزوریوں کا سدباب کریں گے، امدادی کیمپوں میں کھانے کی فراہمی نہ ہونا افسوسناک ہے، وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو کہا ہے کیمپوں میں کھانا ملنا چاہیے،

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ایک ماہ کا راشن دیا گیا ہے جو کہ نہیں دیا،چیف سیکریٹری تمام متعلقہ افراد کو معطل کریں اور انکوائری کی جائے، راشن اور کھانا فراہم کرنے کیلئے کہا تھا جسے کیوں نظر انداز کیا گیا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ادویات کی فراہمی کے لیے انتظامات کیے جارہے ہیں ،این ڈی ایم اے کو کہا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کورقم ادا کی جائے جاں بحق افرادکے لواحقین کو رقوم پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ،متاثرین خود کوئی لفظ کہیں اس کی نوبت نہیں آنی چاہیے، چیئرمین این ڈی ایم اے آج قلعہ سیف اللہ میں چیکس دے کر آئے ہیں کچے اور پکے گھروں کی تمیز ہم نے ختم کرنی ہے، یہ جائنٹ وینچر ہوگی، جائنٹ وینچر میں کسی بھی بحث کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے،

    وزیراعظم شہباز شریف کی چمن آمد ہوئی، چمن آمد پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان سیلاب کی زد میں ہے بلوچستان میں بارشوں کی تباہ کاری اتنی ہوئی جو ناقابل بیان ہے،بلوچستان میں تباہ کاریاں ہوئیں ،اموات ہوئیں اورلوگ زخمی ہوئے قلعہ سیف اللہ، لسبیلہ، جھل مگسی اورکوئٹہ میں بارشوں سے 142لوگ جاں بحق ہوئے سیلاب اوربارشوں سے مکمل اور جزوی مکانات تباہ ہوئے ،سیلاب اور بارشوں سے کھڑی فصلوں کا نقصان ہوا، سڑکیں متاثر ہوئیں ،مصیبت کے وقت میں وفاقی حکومت اور ادارے حاضر ہیں خوراک، ادارے، کیمپس اور ٹینٹ لگائے جارہے ہیں مویشیوں کے علاج معالجے کے لیے بھی ٹینٹس لگائے گئے ہیں،خامیاں بھی ہیں، انہیں دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے غفلت پر عملے کو معطل کیا گیا تاکہ بلوچستان بھر میں امدادی کام میں لاپرواہی نہ ہو،سب کے کان اب کھڑے ہوجائیں گے، ہوش کے ناخن لیں گے،اچھا کام کرنے والوں کو میری اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے شاباش ملے گی،اگلے 24 گھنٹے میں سب چیکس تقسیم کرنے کا حکم دیا اور کہاہے شفافیت برقرار رہے،10لاکھ اور 20 لاکھ روپےکے چیکس ان کے آنسو کبھی بھی نہیں پونچھ پائیں گے،جو زخمی ہوئے ہیں انہیں 2،2 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ رقم دی جائے گی،

    دوسری جانب محکمہ تعلیم بلوچستان نے گرم علاقوں میں اسکولوں کی تعطیلات میں14اگست تک اضافہ کردیا تعطیلات میں اضافہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث کیا گیا،

    قبل ازیں بلوچستان میں بارش اور سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی گئی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 136 اموات ہوچکی ہیں جن میں 56 مرد، 47 بچے اور 33 خواتین شامل ہیں جب کہ بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں 70 افرادزخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں سے 13 پزار 5 سو 35 مکانات کو نقصان پہنچا اور 3 ہزار 4 سو 6 مکانات مکمل تباہ ہوگئے، مختلف اضلاع میں 16 پُلوں اور 640 کلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں میں بہہ کر 23 ہزار13مویشی ہلاک ہوئے، سیلابی ریلوں سے 8 ڈیم اورکئی حفاظتی بند متاثرہوئے جب کہ بارشوں سے ایک لاکھ 98 ہزار ایکڑ پر کاشت فصلوں کو نقصان پہنچا۔

    ملک بھر میں سیلاب کے باعث سیکڑوں دیہات ڈوب گئے، بستیاں اجڑ گئیں، لاکھوں افراد بے یار و مددگار ہو گئے ہزاروں جانور سیلابی ریلوں میں بہہ گئےلاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی زیر آب آ گئیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک روز میں 10 افراد دم توڑ گئےسندھ میں ٹھٹھہ، خیرپور سمیت دیگر علاقوں میں سیلابی پانی سب بہا لے گیا۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    باغی ٹی وی: گلستان، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے-

    اس حوالے سے لیویز کنٹرول کا کہنا ہے کہ زلزلے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی میں ہائی الرٹ جاری کر دیاگیا ہے –

    زلزلےکی شدت 4.1 جبکہ گہرائی 11 کلو میٹر زیر زمین تھی، زلزلے کا مرکز چمن سے 11 کلو میٹر جنوب مشرق میں تھا۔

  • ایرانی وفد کا ڈپٹی کمشنرگوادر سےملاقات: سرحدی علاقوں میں مزید تجارتی مراکزکھولنے پر مشاورت

    ایرانی وفد کا ڈپٹی کمشنرگوادر سےملاقات: سرحدی علاقوں میں مزید تجارتی مراکزکھولنے پر مشاورت

    گوادر:پاکستان اور ایران کی سرحدی علاقوں میں مزید تجارتی مراکز کھولنے پر مشاورت ہوئی ہے اس سلسلے میں مزید پیش رفت کے لیےاسلامی جمہوریہ ایران کا اعلیٰ سطح کا حکومتی وفد گوادر پہنچ گیا، اجلاس میں بارڈر ٹریڈ سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

    سرکاری حکام کے مطابق 12 ارکان پر مشتمل ایرانی وفد کا ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن (ر) جمیل احمد نے گبد 250 بارڈر پر استقبال کیا اور انہیں بلوچی راویتی اور ثقافتی چادر پہنائی۔

    ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ایرانی وفد کا جوائنٹ بارڈر ٹریڈ سے متعلق مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں پاک ایران سرحد پر دوطرفہ تجارت کے منصوبوں پر غور، بارڈر ٹریڈ سے متعلق گبد 250 بارڈر پر جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے پائلٹ منصوبوں سے متعلق دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدوں، سیکیورٹی امور، سرحدی تجارت اور دیگر مختلف مشترکہ امور بھی زیر غور آئے، اجلاس میں سیکیورٹی امور اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کے فروغ پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ سرحدی علاقوں میں مزید تجارتی مراکز کھولے جائیں گے، پاکستان اور ایران نے اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔

    اجلاس میں فریقین نے معیشت، تجارت، روابط، سلامتی، توانائی، تعلیم اور لوگوں کے تبادلے سمیت تمام شعبوں میں تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خطے کے حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، پاکستان اور ایران کے درمیان ہونیوالی بات چیت میں سرحدی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے امور سرفہرست رہے۔

    اجلاس میں گزشتہ سال ہونیوالے معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا، بتایا گیا کہ دونوں پڑوسی ممالک سرحدی سیکیورٹی کے حوالے سے مسلسل رابطے میں رہیں گے، اجلاس میں کہا گیا ہے کہ متعدد معاملات پر پاکستان اور ایران کے خیالات یکساں ہیں اور مشاورت، تعاون اور مشترکہ معاونت سے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی ختم ہوجائیں گی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کپٹن (ر) جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاک ایران دو طرفہ تجارت سے گوادر میں تجارت اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، ہمسایہ ملک ایران سے تجارت سے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

  • بلوچستان:بارشوں کے بعد امراض پھوٹ پڑے، 7 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد متاثر

    بلوچستان:بارشوں کے بعد امراض پھوٹ پڑے، 7 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد متاثر

    کوئٹہ :بلوچستان میں بارشوں کے بعد امراض پھوٹ پڑے جس سے 10 روز میں 7 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق بلوچستان میں مون سون سے متاثرہ علاقوں میں پیٹ اور آنتوں کی بیماریاں پھیل گئی ہیں، بلوچستان کے 16 اضلاع میں اکیوٹ واٹری ڈائریا کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔

    محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ژوب میں گزشتہ دس دنوں میں سات افراد ڈائریا سے ہلاک اور 1300 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں ، پری مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ان بیماریوں کا دائرہ 16 اضلاع تک پھیل گیا ہے اور صرف ایک ماہ میں 6312 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    ماہرین صحت نے بتایا کہ کئی اضلاع میں ڈائریاکی خطرناک شکل کالرا (ہیضہ) پہلے سے پھیلی ہوئی تھی ، بارشوں اور سیلابوں کے بعد ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ بیماری میں ماہانہ 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    دوسری جانب حکومت بلوچستان نے حالیہ بارشوں کے بعد صوبے کے 10 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ، ان اضلاع میں لورالائی، قلات، مستونگ، کچھی، سبی ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان، دکی، پنجگور اور لسبیلہ شامل ہیں ، حکومت بلوچستان نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسلام آباد نے بتایا کہ بلوچستان کے سیلاب زدگان کیلئے این ڈی ایم اے اور کے ایس ریلیف کی جانب سے امدادی کھیپ روانہ کردی گئی ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور کنگ سلمان امدادی ریلیف سنٹر(کے ایس ریلیف) کے تعاون سے بلوچستان کے سیلاب زدگان کیلئے ہنگامی امدادی کھیپ آج اسلام آباد سے روانہ کی گئی ہے۔

    امدادی کھیپ 3000 بنیادی اشیائے خورونوش کے راشن پیکس پر مشتمل ہے ، مذکورہ کھیپ 30 ٹرکوں کے قافلے کے ذریعے روانہ کی گئی ، اس موقع پر سعودی سفارتخانے کے ناظم الامور نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلقات ہیں اور سعودیہ نے ہمیشہ قدرتی آفات کے دوران پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے ممبر ادریس محسود نے سعودی حکومت اور ایمبیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی اشیائے خورونوش پر مشتمل راشن بیگز کی یہ امداد بلوچستان کے سیلاب زدگان کی سپورٹ کیلئے آفت کی اس گھڑی میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    اس موقع پر این ڈی ایم اے اور کے ایس ریلیف کے حکام نے شرکت کی ، مذکورہ امداد پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ذریعے سیلاب زدگان میں تقسیم کی جائے گی۔

  • بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670  مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے تباہی،اموات میں اضافہ،670 مکانات کو پہنچا نقصان

    بلوچستان میں طوفانی بارش سے بڑی تباہی کئی افراد جان کی بازی ہار گئے بلوچستان میں پچھلے تین ہفتوں سے مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے

    بلوچستان 24 گھنٹے کے دوران مزید 7 افراد بارشوں سے جاں بحق ہو گئے ہیں ،اموات کی مجموعی تعداد 56 ہو گئی ہے، گزشتہ روز تک جاں بحق افراد میں 10 مرد، 22 خواتین اور 24 بچے شامل ہیں،بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 48 افراد زخمی ہوئے، بارشوں سے 670 مکانات کو نقصان پہنچا،بارش سے کوئٹہ، لورالائی، سبی، ہرنائی، دکی، کوہلو، بارکھان اور ژوب زیادہ متاثر ہوئے ہیں بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بارش کے ںاعث کچے دیوار گرنے سے ملبے تلے تب کر چار بچے جانبحق ہوگئے۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے حالیہ بارشوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں ڈیمزاور کینالز کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ایم آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ متاثر ہونے والے بندات کی فوری طور پر تحقیقات کریں اور بتایا جائے کہ نقصانات محض بارشوں کی وجہ سے ہوا ہے یا ان ڈیموں کی تعمیر میں نقائص موجود تھے انہوں نے کہا کہ نقائص کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا

    بلوچستان پنجاب شاہراہ مختلف مقامات پر بند ہوگئی ہے رابطہ پل بہہ جانے سے کوہلو سے کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور لیویز کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مارگلہ ہلز میں آگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے 3 ساتھی گرفتار کر لئے گئے ہیں

  • ہرنائی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ ،پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند

    ہرنائی میں بارشوں اور سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ ،پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند

    بلوچستان :مون سون بارشیں، ہرنائی میں سیلاب کے باعث ایمرجنسی نافذ کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : ہرنائی میں بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث پنجاب شاہراہ ٹریفک کےلیے بند کر دی گئی۔سیلابی ریلوں سے ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کے دوبڑے رابطہ پل متاثر ہوئے۔

    لاہور،کراچی اوراسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے

    ہرنائی کےلیے بنائے گئے حفاظتی بند بھی سیلاب ریلوں سے متاثر ہوئے ہرنائی کے مرزا کلی ،لعل خان حفاظتی بند سیلاب میں بہہ گئے چھوٹے حفظاطتی بند کی ٹوٹنے سے سیلابی پانی ہرنائی میں داخل ہو گیا۔

    ہرنائی میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی تباہ کر دیا۔ سیلابی ریلے بجلی کے کھمبے بھی بہا کر لے گئے۔سیلابی پانی کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے ہرنائی کے کچے مکانات متاثر ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نثار احمد مستوئی ،اسسٹنٹ کمشنر لیویز فورس نےمتاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر ہرنائی کی جانب سے ضلع میں بارشوں اور سیلاب کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

    قبل ازیں کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی تھی پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات کا کہنا تھا بارشوں سےاب تک 39 افراد جاں بحق ہوئے،جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 16 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 47 افراد زخمی ہوئے بارشوں سے سب سے زیادہ کوئٹہ، لسبیلہ، سبی،ہرنائی،دکی متاثر کوہلو ،بار کھان ،ژوب اور ڈیرہ بگٹی بھی بارشوں سے متاثر ہوئے مجموعی طور پر صوبے بھر میں 241 مکانات منہدم ہوئے ۔

    واضح رہے کہ خلیج بنگال سے ملک میں داخل ہونے والا مون سون سسٹم پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشوں کا باعث بن رہا ہےمحکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشیں ہورہی ہیں اور یہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہے گا۔

    حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر) کی 23 ویں برسی

  • ٹھٹھہ میں برساتی پانی کوئلے کی کان میں داخل، 8مزدور وں کی لاشیں نکال لی گئیں

    ٹھٹھہ میں برساتی پانی کوئلے کی کان میں داخل، 8مزدور وں کی لاشیں نکال لی گئیں

    ٹھٹھہ کے قریب کوئلے کی کان میں پھنسے 8 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ کے قریب جھمپیر میں کوئلے کی کان میں 12 فٹ بارش کا پانی موجود ہے اور نکاسی کی کوشش جاری ہے ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان سے44 گھنٹے بعد 8 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں ریسکیو ٹیموں کی جانب سے 2 مزدوروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

    بنی گالہ ،عمران خان کے گھر کے قریب پی ٹی آئی کارکنوں نے گولیاں چلا دیں، ایک شخص زخمی

    جھمپیر میں کوئلے کی کان میں برساتی پانی داخل ہونے سے 10 مزدور پھنس گئےتھے جن کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائی جاری ہے۔

    ڈپٹی کمشنرکا کہنا ہے کہ کان میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے کوشش کی جا رہی ہے ۔ موسم کے حوالے سے انتباہ بھی جاری کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب ٹانک میں سیلابی ریلے میں پھنسے 34افراد کو بچالیا گیا جب کہ ایک شخص تاحال لاپتا ہےاس کے علاوہ مانسہرہ میں جل کھڈ کے مقام پر 36 گھنٹوں سے بند ایم این جے روڈ پر ٹریفک بحال ہوگئی۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں مون سون کے پہلے اسپیل میں ہی شدید بارشوں نے تباہی مچادی ہے جب کہ 3 روز میں صرف بلوچستان میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں خلیج بنگال سے ملک میں داخل ہونے والا مون سون سسٹم پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں وقفے وقفے سے بارشوں کا باعث بن رہا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارشیں ہورہی ہیں اور یہ سلسلہ جمعرات کی صبح تک جاری رہے گا۔

    شرقپور سے ایک سال قبل غائب ہوئی لڑکی تاحال لاپتہ،پولیس ڈھونڈنے میں ناکام،جدید ٹیکنالوجی بھی فیل