Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر کیوں؟ عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    ینگ ڈاکٹرز کی سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    سماعت چیف جسٹس ہائی کورٹ نعیم اخترافغان اورجسٹس عبدالحمید بلوچ نے کی ، صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ڈاکٹراحمد عباس اور دیگر عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے، ہائی کورٹ نے ینگ ڈاکٹرزکی سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال پر سرزنش کی اور برہمی کااظہار کیا، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹر فوری طورپر اپنی ہڑتال ختم کریں، اگر ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم نہ کی تو کارروائی کریں گے،صوبے کے تمام سرکاری اسپتال 24 گھنٹے خدمات فراہم کریں، جو اس حکم کی خلاف ورزی کرے گا،اس کےخلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ، ینگ ڈاکٹرز آئندہ سماعت پر تحریری مطالبات کےساتھ پیش ہوں،

    چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے سیکرٹری صحت نورالحق سے استفسار کیا کہ ینگ ڈاکٹرز نے ہڑتال کی تھی،اس پر آپ نے کیا کیا،سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ نے عدالت میں کہا کہ ہماری کوشش تھی کہ معاملےکو حل کریں،دوران سماعت عدالت میں موجود سینئر ڈاکٹرز نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے آج سے سرکاری اسپتالوں کی اوپی ڈیز میں بیٹھنے کےلئے آمادگی کا اظہارکیا

    دوسری جانب نگ ڈاکٹرز کا احتجاج جاری ہے سرکاری اسپتالوں میں 34 روز سے او پی ڈیز بند ہیں غریب اور نادار مریضوں کی مشکلات میں اضافہ ہو چکا ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے مزاکرات کے لیے4 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی ہے کمیٹی میں اراکین صوبائی اسمبلی میر ظہور بلیدی ،میر نصیب اللہ مری اصغر ترین اور ملک نصیر احمد شاہوانی شامل ہیں۔ کمیٹی YDA سے مذاکرات کرکے 3 دن میں رپورٹ وزیراعلی کو پیش کریگی

  • کوئٹہ: موٹر سائیکل میں نصب دھما کہ ، 12 افراد زخمی

    کوئٹہ: موٹر سائیکل میں نصب دھما کہ ، 12 افراد زخمی

    کوئٹہ: خاران میں موٹر سائیکل میں نصب دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خاران پولیس کے مطابق دھماکا چیف چوک کے قریب ہوا، دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا دھماکے کے بعد زخمیوں کو فوری اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں دھماکے میں ایک گاڑی اور قریبی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    بلوچستان کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے خاران میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی گئی ہے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر صوبے کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔

    پنجگور میں دھماکہ،2 افراد جاں بحق

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں سے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل 31 اکتوبرکو بلوچستان کے ضلع پنجگور کے ایک بازار میں دھماکہ ہوا تھا جس میں 2 افراد جاں بحق ہو ئے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے پنجگور دھماکے کی مذمت کی تھی انہوں نے دھماکے میں 2 افراد کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد بے چینی اور بد امنی پیدا کرنا ہے۔

  • یونیورسٹی آف تربت کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کی کورکمانڈر کوئٹہ سے ملاقات

    یونیورسٹی آف تربت کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کی کورکمانڈر کوئٹہ سے ملاقات

    یونیورسٹی آف تربت کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کی کورکمانڈر کوئٹہ سے ملاقات

    یونیورسٹی آف تربت کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے کوئٹہ کا دورہ کیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے کورکمانڈر کوئٹہ سے ملاقات کی ،طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے وفد نے کمانڈ اینڈ ا سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا،طلبہ نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی،انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنس کا دورہ کیا،طلبہ نے تاریخی مری قلعہ اور ہنہ جھیل کی سیر بھی کی،وفد نے کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سے ملاقات کی،کورکمانڈر کوئٹہ نے نوجوانوں بالخصوص خواتین کے کردار کواجاگر کیا ،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وفد نے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سے بھی بات چیت کی جنہوں نے قوم کی تعمیر میں نوجوانوں بالخصوص خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی ،کورکمانڈرلیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی کا کہنا تھا کہ نوجوان بالخصوصی خواتین پاکستان کا مستقبل ہیں، وفد نے بلوچستان میں امن اور خوشحالی کے لیے مسلح افواج کی جانب سے عزم کو سراہا،

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

  • بریکنگ،تبدیلی آ گئی، بلوچستان کا نیا وزیراعلیٰ منتخب

    بریکنگ،تبدیلی آ گئی، بلوچستان کا نیا وزیراعلیٰ منتخب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی اسپیکرسرداربابر موسیٰ خیل کی زیرصدارت بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے

    اجلاس میں شرکت کے لیے اراکین بلوچستان اسمبلی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں بلوچستان اسمبلی اجلاس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا ایوان میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریکارڈ قائم مقام اسپیکر کو پیش کیا گیا ،قدوس بزنجو کو 39 ووٹ مل گئے، بلا مقابلہ نئے قائد ایوان منتخب ہو گئے

    قائد ایوان کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کے دوران ایوان کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیئے گئے تھے،وزیراعلیٰ کی حمایت کرنے والے ووٹرز نے رجسٹر پر دستخط کئے اسپیکر بلوچستان اسمبلی بابر موسی خیل نے اعلان کیا کہ عبدالقدوس بزنجو کو 39 ووٹ ملے

    قبل ازیں وزارت اعلیٰ کے امیدوار قدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی پہنچ گئے عبدالرحمان کھیتران صالح بھوتانی و دیگر اراکین بھی اسمبلی پہنچ گئے قائد ایوان اعتماد کاووٹ لینے کے بعد خطاب کریں گے

    رکن قومی اسمبلی اصغر خان اچکزئی نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدوس بزنجو کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں،امید ہے قدوس بزنجو سب کو ساتھ لے کر چلیں گے، یار محمد رند نے کہا کہ امید ہے نئے قائد ایوان جام کمال کے رویہ کواختیار نہیں کریں گے، بی اے پی کے اتحادی ہیں ، مل کر کام کریں گے ،جو فیصلہ عوام کے حق میں نہ ہوا ، ہم ساتھ نہیں ہونگے،سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ قدوس بزنجو کی حمایت کرونگا،جب وزیر اعلیٰ بنا تو مجھ پر اپوزیشن کا بہت پریشر تھا، بلوچستان روایات کی سرزمین ہے ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی ایم پی اے اختر حسین لانگو ایم پی اے احمد نواز بلوچ ایم پی اے بابو رحیم مینگل و دیگر نے نو منتخب وزیراعلیٰ کو مبارکباد دی ہے

    ظہور بلیدی نے کہا کہ قدوس بزنجو کووزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں،تحریک عدم اعتماد میں کسی کی ہار یا جیت نہیں جمہوری عمل ہے،جام کمال کے دور میں 162 بلین کے پروجیکٹس منظور کیے گئے،جام کمال کے دور حکومت میں 105 بل منظور کیے گئے،نئے قائد ایوان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،

    عبدالقدوس بزنجوآج وزیراعلیٰ بلوچستان کا حلف اٹھائیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں کسی نے کاغذات جمع نہیں کرائے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے بلامقابلہ انتخاب کے بعد کو گورنر ہاﺅس میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ گورنر بلوچستان سید ظہورآغا قدوس بزنجو سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں گے۔حلف برداری کی تقریب میں اراکین اسمبلی، سیاسی جماعتوں کے رہنما اور سول و ملڑی حکام شرکت کریں گے۔

    گورنرپنجاب چودھری سرور سے نومنتخب وزیراعلیٰ بلوچستان کا رابطہ ہوا ہے عبدالقدوس بزنجونے چودھری سرورکوتقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی گورنرپنجاب چودھری سرورحلف برداری تقریب میں شرکت کریں گے

    سال 2018 کے عام انتخابات میں عبدالقدوس بزنجو آواران سے بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ انہیں سپیکربلوچستان اسمبلی کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔عبدالقدوس بزنجونے کہا ہے کہ بلوچستان کی تمام پارٹیوں کا اعتماد پر مشکور ہوں، اب منانے کیلئے کوئی نہیں رہ گیا، حلف لینے کے بعد باتیں نہیں عملی کام نظر آئے گا

    وزیراعلیٰ بلوچستان نےواقعی اپنے عہدے سے استعفی دے ہی دیا:پشین گوئی بھی عین پوری ہوئی

    بلوچستان کابینہ تحلیل، غفور حیدری مٹھائی کھانے پہنچ گئے، نیا وزیراعلیٰ ہو گا کون؟

    بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ کہ جام کمال کے مشکور ہیں کہ انہوں نے استعفی دے کر پارٹی کو بچا لیا جام کمال اب بھی ہمارے بڑے ہیں ہم ان سے مشاورت جاری رکھیں گے ایک نئی طرز کی حکومت قائم کریں گے جس کا مظاہرہ جلد ہوگا

  • بلوچستان سے ایک اور استعفیٰ آ گیا

    بلوچستان سے ایک اور استعفیٰ آ گیا

    پارلیمانی سربراہ پاکستان تحریک انصاف سردار یار محمد رند کوئٹہ پہنچ گئے

    سردار یار محمد رند نے پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کرلیا

    دوسری جانب نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لیے عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کر لیا گیا گیا ہے اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے اسپیکر کے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے،آئندہ حکومت میں بی اے پی کے ان ارکان اسمبلی کو  اہم وزارتیں دی جائیں گی جو سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ رہے۔

    جام کمال حکومت کی اتحادی جماعت اے این پی کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مخالفت کے باعث نئی حکومت میں شمولیت کھٹائی میں پڑ گئی ہے، اے این پی کو آئندہ حکومت کا حصہ بنانے سے متعلق مشاورت کی جارہی ہے بلوچستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام (ف)، بی این پی (مینگل) اور پشتونخواملی عوامی پارٹی آئندہ حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے وہ بدستور بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھیں گے۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ کہ جام کمال کے مشکور ہیں کہ انہوں نے استعفی دے کر پارٹی کو بچا لیا جام کمال اب بھی ہمارے بڑے ہیں ہم ان سے مشاورت جاری رکھیں گے ایک نئی طرز کی حکومت قائم کریں گے جس کا مظاہرہ جلد ہوگا اسپیکر عبدالقدوس بزنجو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے ،اسمبلی میں نیا اسپیکر بنایا جائے گا جو بہت تجربہ کار ہوگا

    وزیراعلیٰ بلوچستان نےواقعی اپنے عہدے سے استعفی دے ہی دیا:پشین گوئی بھی عین پوری ہوئی

    بلوچستان کابینہ تحلیل، غفور حیدری مٹھائی کھانے پہنچ گئے، نیا وزیراعلیٰ ہو گا کون؟

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ناراض اراکین اسمبلی کس کے ڈیرے پر؟

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ناراض اراکین اسمبلی کس کے ڈیرے پر؟

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ناراض اراکین اسمبلی کس کے ڈیرے پر؟

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، پولیس سروس ملک کے امن و امان کو برقرار رکھنے میں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں امن و امان کو بہت اہمیت حاصل ہے جس میں پولیس کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے زیرتربیت پولیس افسران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں یہاں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان سے ملاقات کی۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر رائے اور کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں کمانڈ نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد نے بتایا کہ کوئٹہ کا مطالعاتی دورہ پی ایس پی افسران کی ٹریننگ کا حصہ ہے۔وزیر اعلی نے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دشمن بہت سمارٹ ہے جس سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے پولیس میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اصلاحات متعارف کرانا ضروری ہیں، عوام کے دلوں کو جیتنے کے لئے پولیس کی جانب سے محفوظ ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے اور عوام کی جان و مال پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو اپنے کیریئر میں کئی چیلنجز کا سامنا رہے گا جیسے کہ دہشت گردی اور ففتھ جنریشن وار سمیت دیگر نوعیت کے چیلنجز شامل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے آپ کو بلا خوف و خطر تیاررہنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ یہ مطالعاتی دورہ یقیناً آپ کی کیپسٹی بلڈنگ اور ٹریننگ میں کارآمد ثابت ہوگا۔ اس موقع پر مطالعاتی دورے پر آئے ہوئے پولیس افسران نے وزیراعلی سے بلوچستان سے متعلق مختلف نوعیت کے سوالات پوچھے جس پر وزیر اعلی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں ترقی کا عمل جاری ہے جب سے ہماری حکومت وجود میں آئی ہے ہم نے یکساں ترقیاتی عمل ہر ضلع میں شرع کیا ہے۔ جس میں تمام اضلاع میں تعلیم،صحت اور بنیادی ڈھانچے پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں تمام انٹر کالجوں کو ڈگری کی سطح پر اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کی ترقی کے لئے بھی خاطر خواہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کے لیے ٹیلی میڈیسن کا آغاز کیا گیا ہے جسے صوبے بھر میں وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے سکل ڈویلپمنٹ پروگرام فیز ٹو کا آغاز کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان ایک وسیع رقبے کا حامل صوبہ ہے جس کا زیادہ تر حصہ بی ایریا میں آتا ہے جو لیویز کے زیر انتظام ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی حکومت نے لیویز فورس کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک میں گوادر کو کلیدی اہمیت حاصل ہے 2013 سے لے کر 2018 تک اس پر خاطر خواہ کام نہیں ہوا لیکن موجودہ حکومت سی پیک اور خصوصا اس پراجیکٹ سے منسلک بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور گوادر شہر کی ترقی کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی سمیت دیگر اہمیت کے منصوبے جاری ہیں۔

    وزیراعلی نے کہا کہ بدقسمتی سے بلوچستان کے مثبت تشخص کو اس انداز سے اجاگر نہیں کیا گیا جیسے کرنا چاہیے تھا ہماری کوشش ہے کہ دنیا کے سامنے بلوچستان کا ایک مثبت اور تعمیری چہرہ پیش کریں۔وزیر اعلی نے نئے زیرتربیت پولیس افسران کو پاکستان پولیس سروس میں شامل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پولیس میں ٹریننگ اور نئی ریکروٹمنٹ سے ایک مثبت تبدیلی آئے گی اور مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال کو مزید بہترکرنے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مشکلات اور چلینجز پر قابو پانے کے لیے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر رہے ہیں صوبے میں پہلی مرتبہ ڈیٹا کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی کی عفریت کے خاتمے کے لیے کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے عہد حاضر کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلی نے زیر تربیت پولیس افسران کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پوری جانفشانی سے اپنے فرائض نبھائیں گے۔ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال اور بلوچستان کی جغرافیائی اہمیّت سمیت دیگر اہم نوعیت کے امور سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں پولیس میں مثبت اصلاحات متعارف کرانے پر صوبائی حکومت کو سراہا۔ بعد ازاں وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کے کمانڈنٹ کو حکومت کی گزشتہ تین سالہ کارکردگی سے متعلق بک بھی دی۔ اس موقع پر دونوں جانب سے یادگاری شیلڈز کا بھی تبادلہ کیا گیا۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ناراض اراکین اسمبلی نے اسپیکر قدوس بزنجو کی رہائش گاہ پر ڈیرے ڈال لئے ہیں، ناراض اراکین گزشتہ رات سے قدوس بزنجو کی رہائش گاہ پر موجود ہیں ناراض گروپ کے 4 اراکین کے مبینہ غائب ہونے کے بعد سے ناراض اراکین اسپیکر کے گھر موجود ہیں، 25 اکتوبر تک ناراض اراکین میں سے زیادہ تر کو قدوس بزنجو کی رہائش پر رکھا جائے گا ، قدوس بزنجو کی رہائش گاہ پر روکنے کا مقصد مبینہ دباؤ سے بچنا ہے، ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ لاپتا اراکین سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، مزید اراکین پر دباؤ کے حربے استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے ظہوربلیدی نے آئی جی بلوچستان سے سکیورٹی فراہم کرنے اور لاپتا اراکین کو بازیاب کرانے کی اپیل بھی کی ہے

    دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے جبکہ اس پر رائے شماری کا عمل 25 اکتوبر کو ہوگا وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد صوبائی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے، 33 ارکان نے تحریک کی حمایت کردی، رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھتیران نے تحریک پیش کی، تحریک میں جام کمال کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • جام کمال کے استعفیٰ بارے اہم اعلان ہو گیا

    جام کمال کے استعفیٰ بارے اہم اعلان ہو گیا

    جام کمال کے استعفیٰ بارے اہم اعلان ہو گیا

    ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال استعفیٰ نہیں دیں گے،

    ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا تھا کہ رائے شماری کے روزاکثریت سامنے آ جائے گی،بی اے پی،اے این پی،پی ٹی آئی اوردیگراتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ایوان میں اکثریت ہمارے ساتھ ہے،مخالف اراکین کے پاس اکثریت نہیں ہے ،جام کمال خان کے ساتھ اکثریت اراکین اسمبلی کی تعداد موجود ہے

    دوسری جانب جام کمال کے ظہرانے میں شریک 4 وزرا کھانا کھائے بغیر چلے گئے ،وزرا کا کہنا تھاکہ جام کمال نے تحریک عدم اعتماد کی صورتحال کو بہترانداز میں کنٹرول نہیں کیا،دوسری جانب اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اور حکومتی رکن سید احسان شاہ نے اپوزیشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے

    دوسری جانب وزیراعلی ٰبلوچستان جام کمال نے پی ڈی ایم کا بی اے پی سے مدد مانگنے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ پی ڈی ایم بلوچستان عوامی پارٹی سے مدد مانگ رہی ہے،بلوچستان جان جمالی کے لیے کھیل ہوگا، میرے لیے نہیں،جان جمالی اپنا کھیل جاری رکھیں،جان جمالی کے پہلے اور اب کے بیانات میں تبدیلی آئی ہے ،خدمت کے لیے آئے ہیں اور آخری وقت تک کرتے رہیں گے، اپوزیشن کے چند ممبران عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے ،اپوزیشن کے چند ممبران کا مقصد بلوچستان کو تباہی کی طرف لے جانا ہے، اپوزیشن ہمیشہ اپنے بل بوتے پر سیاست کرتی ہے،پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں کہ اپوزیشن حکومتی ارکان کے بل بوتے پر سیاست کررہی ہے،

    دوسری جانب قائمقام صدر بی اے پی ظہور پلیدی کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل ارکان آج ہمارے ساتھ شامل ہو جا ئیں گے ،پارٹی کو منظم کرنے اور عوام کی خدمت کا وقت آگیا ہے ،ہمارے پاس 40سے زیادہ ارکان بلوچستان اسمبلی ہیں ،جام کمال کے پاس استعفٰی کے بغیر کوئی راستہ نہیں

    پارلیمانی لیڈر جمعیت علمائے اسلام (ف) سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، جام کمال فوری مستعفی ہوجائیں۔اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ جام صاحب کی ناکامی کی وجہ لالچ اور قول و فعل میں تضاد ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے استعفی دیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد آج اجلاس چار بجے ہے بلوچستان اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 65 ہے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت جس کی تعداد33 ہے ۔حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ تحریک پر نواز لیگ کے منحرف رکن نواب ثناءاللہ زہری کی حمایت حاصل ہے

  • ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ہرنائی زلزلہ: پاک فوج کی امدادی کاروائیاں جاری

    ‏پاک فوج کے دستے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقے ہرنائی پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے-

    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے ضلع ہرنائی کی زلزلے سے متاثرہ آبادی کے لیے ضروری خوراک اور پناہ گاہیں منتقل کی گئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ‏آرمی ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف نے طبی سہولتیں فراہم کیں،طبی سہولتوں کیلئے شہری انتظامیہ نے بھی معاونت کی 9 زخمیوں کو آرمی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا-

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ بھی ہرنائی پہنچ گئے ‏آئی جی ایف سی نے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا راولپنڈی سے اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو موقع پر بھجوایا جائے گا-

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہےہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان:ہرنائی زلزلے میں شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ منتقل،جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں خوفناک زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہو گئی، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں زلزلے سے متاثرہ شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، آفٹر شاکس کے باعث بوسیدہ مکانات کے گرنے کا خطرہ ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہرنائی میں زلزلے کے باعث آج تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔

    ہرنائی میں زلزلے کے باعث سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اسپتال میں ڈاکٹرز اور عملہ ہنگامی بنیادوں پر طلب کر لیا گیا۔

    ہرنائی کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین لاؤڈ اسپیکرز پر دی جانے والی ہدایات پر عمل کریں، لوگ متاثرہ گھروں میں جانے سے گریز کریں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر کے مطابق ہرنائی میں زلزلے سے جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے، دور دراز پہاڑی علاقوں میں زخمی موجود ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں ادویات کی قلت کا سامنا ہے، ایمرجنسی ڈرگ اور سرجری آلات کی فوری فراہمی کے لیے حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔

    ڈی ایچ او نے بتایا کہ متاثرین میں فریکچرز اور ہیڈ انجری کے زخمی زیادہ ہیں، سرجن ڈاکٹرز کی فراہمی کے لیے صوبائی محکمۂ صحت کے ساتھ رابطہ ہے۔

    ہرنائی انتظامیہ کے مطابق شدید زخمیوں کی کوئٹہ منتقلی کے لیے ہیلی کاپٹر پہنچ گیا ڈی ایچ او ڈاکٹر رشید ناصر نے بتایا کہ 10 شدید زخمی ہیلی کاپٹر سے کوئٹہ روانہ کئے گئے ہیں کوئٹہ منتقل کئے گئے تمام زخمی مرد اور بعض عمر رسیدہ ہیں۔

    ڈی ایچ او نے یہ بھی بتایا ہے کہ زخمیوں کے سر پر چوٹیں، ہاتھوں اور پاؤں میں فریکچرز آئے ہیں جبکہ کچھ زخمی کومے میں ہیں۔

    دوسری جانب اس سے قبل ڈی جی پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق زلزلے کے مرکز میں 15 کلو میٹر کے دائرے میں مکانات گرے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں 15 کی حالت تشویشناک ہے، سول اسپتال کوئٹہ میں طبی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ 4 زخمیوں کو ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے اور پہاڑی تودے گرنے سے کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ہرنائی سنجاوی روڈ کی بحالی کیلئے لیویز اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، طورغر میں لورالائی ہرنائی شاہراہ بھی بند ہے جس کی وجہ سے ہرنائی میں آج تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں۔

    قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللّٰہ لانگو اور چیئرمین این ڈی ایم اے کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ہرنائی زلزلے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

    بلوچستان کے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللّٰہ لانگو نے ہرنائی زلزلے کے حوالے سے کہا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کی جانب سے ہرطرح کےتعاون کا وعدہ کیا گیا ہے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے اس موقع پر کہا کہ میڈیکل ٹیمز، ادویات، ہیلی کاپٹر، نان فوڈ آئٹمز جلد ہرنائی بھیجے جائیں گے۔

    وزیرداخلہ نے بتایا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اورضلعی انتظامیہ کو الرٹ کردیا گیا ہے، ہنگامی بنیادوں پرامدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیجنےکی تیاریاں مکمل ہیں۔

    میر ضیاء اللّٰہ لانگو کا مزید کہنا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ، سبی، ہرنائی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رات گئے شدید زلزلے کے باعث 20 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی اور شاہرگ میں 70 سے زائد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 اور گہرائی 15 کلومیٹر زیرِ زمین تھی جبکہ اس کا مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔

    مختلف علاقوں میں کئی افراد ملبے تلے دب کر زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے، تمام علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں-

  • بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    بلوچستان: زلزلے نے ہرنائی میں تباہی مچا دی 15 افراد جاں بحق 150 سے زائد زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلے کے باعث 15 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب 3 بجکر 2 منٹ پر آیا جس نے ہرنائی میں تباہی مچا دی۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 9 ریکارڈ کی گئی جبکہ زمین میں اس کی گہرائی پندرہ کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز بلوچستان کے علاقے ہرنائی کے قریب تھا۔

    زلزلے کے باعث کئی مکانات گر گئے جن کے ملبے تلے پھنسے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا جبکہ حکومتی مشینری پہنچنے کے بعد بھی ریسکیو کا کام جاری رہا زلزلے سے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    زلزلے کے بعد بلوچستان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچنے پر طبی عملے کو مشکلات کا سامنا رہا۔

    ہرنائی کوئٹہ شہر کے مشرق میں واقع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں ہیں۔

    بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کی وجہ سے ہرنائی میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور ضلع میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وزیر داخلہ نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کو متحرک کرکے ہیوی مشینری ہرنائی کے لیے روانہ کردی گئی ہے۔

    ہرنائی میں مقامی صحافی یزدانی ترین نے بتایا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے بہت شدید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہرنائی شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ہرنائی میں لیویز فورس کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے ہرنائی، شاہرگ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ متعدد علاقوں میں زلزلے سے گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض مقامات پر گھروں کے گرنے سے جانی نقصان ہوا ہے۔

    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکل گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

    اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پشین، سبی اور متعدد دیگر علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے تاہم ہرنائی کے علاوہ دیگر علاقوں سے تاحال جانی اور مالی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں۔