Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • جام کمال اگر گرفتاری نہیں دیتے تو اپوزیشن مجبور کرے گی، عبدالواسع

    جام کمال اگر گرفتاری نہیں دیتے تو اپوزیشن مجبور کرے گی، عبدالواسع

    کوئٹہ اپنی رہائش گاہ پر بات چیت کرتے ہوئے میں جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعلی بلوچستان جا کر بجلی گھر تھانے میں گرفتاری پیش کریں، اگر وزیراعلی نے خود گرفتاری پیش نہیں کی تو پھر اپوزیشن جماعتیں ان کو گرفتار کرنے پرمجبور کرینگے، گزشتہ تین سالوں سے جام کمال کی حکومت نے جس طریقے سے غیر آئینی اور غیر جمہوری کام کیا ہے، آج ان کو سزا کے طورپر بھگتنا پڑے گی، جمعیت علما اسلام سلیکٹیڈ حکمرانوں کے ہر سازش کو ناکام بنائیں گے.

    عبدالواسع نے مزید کہا کہ جمعیت علما اسلام ہرعدالتی فیصلے کا احترام کرتی ہے اور قانون کا احترام کرتے ہوئے 14 دن ہماری جماعت اور دیگر اپوزیشن اراکین نے بجلی گھر تھانے میں گرفتاری دینے کیلئے وہاں موجود رہے، اب عدالتی حکم کے بعد وزیراعلی بلوچستان کو چاہئے کہ وہ عدالتی حکم کی توہین کرنے کی بجائے بجلی گھر تھانے جا کر اپنی گرفتاری پیش کریں، اگر وزیراعلی نے خلاف توہین عدالت کی تو مقدمے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرینگے، جمعیت علما اسلام ایک سیاسی اور مذہبی جماعت ہے جنہوں نے ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے، اب نا اہل اور سلیکٹیڈ حکمرانوں پر زمہ داری بنتی ہے کہ وہ جمہوری اقدار کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالتی احکامات پر پوری طورپر عمل درآمد کریں، عام شہری کی طرح تھانے میں گرفتاری پیش کریں، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ہم مجبور ہوکر وزیراعلی ہاؤس کا گھیرا کر کے وزیراعلی بلوچستان کو گرفتاری کرنے پر مجبور کرینگے، آج سنجاوی میں جمعیت علما اسلام کے زیر اہتمام پیغام کانفرنس ہے تمام کارکن کانفرنس کی تیاری کیلئے اپنا کردارادا کریں.

  • بلوچستان صوبہ بلوچوں کو مبارک ، پشتون قوم کو پشتونستان چاہیے،محمود خان اچکزئی

    بلوچستان صوبہ بلوچوں کو مبارک ، پشتون قوم کو پشتونستان چاہیے،محمود خان اچکزئی

    بلوچستان صوبہ بلوچوں کو مبارک ، پشتون قوم کو پشتونستان چاہیے ، محمود خان اچکزئی

    سربراہ پی کے میپ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عثمان خان کاکڑ شہید کے چہلم کا اور اس سلسلے کا آخری جلسہ ہے ہم بہت برداشت کرتے ہیں ہم برداشت میں پیدا اور بڑے ہوئے ہیں لیکن پشتونخوا وطن اور جنوبی پشتونخوا میں سیاست کی بنیاد پشتونخوا میپ نے رکھی ہے پشتونخوا میپ نے پشتون قوم کی رہبری اور حقوق کی بات اس وقت کی تھی جب انگریز کے ڈر سے کوئی بات تک نہیں کرسکتا تھا ۔ جنوبی پشتونخوا میپ میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی جس نے بغیر کسی سیاست جولائی 1929میںسنڈیمن ہال میں اپنے بھائی ایوب خان کے ساتھ جنوبی پشتونخوا میپ کے شاہی جرگے کے مشران کے سامنے پیش کئے گئے ان پر الزام تھا کہ جرگہ سے انہوں نے پوچھا کہ ہم نے کونسا کیا گناہ ہے اور ہم پر الزام کیا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ آپ کی گاندھی جی سے تعلقات بنائے ہیں انہیں خطوط لکھتے ہیں اور تب جرگے کے مشران نے انہیں درخواست کی کہ آپ گاندھی جی سے تعلق نہیں رکھیں گے جس پر ایوب خان نے انہیں بتایا کہ آپ ہمارے معتبرین ہیں اور ہم آئندہ گاندھی جی سے تعلق نہیں رکھیں گے مگر مجسٹریٹ نے شاہی جرگے کے سربراہ خدائیداد خان کاسی کو بتایا کہ کہ ایسا نہیں ہوگا انگریز سے پوچھنا ہوگا اور بعد ازاں خان شہید کے مطابق انہیں گھر بھیج دیا گیا اور اگلے دن پیش ہونے کا کہا اور جب ہم پیش ہوئے تو انہوں نے فیصلہ لکھا تھا کہ ان نوجوانوں نے 2سال قید کاٹنی ہے اورپھر 3سال ضمانت دینی ہے تو خدائیداد خان کاسی نے ہم سے کہا کہ اگر ہم آپ کو سزا دیں تو ہم اپنے قوم کے سامنے شرمندہ ہوں گے اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ سرکار سے معافی مانگے اور سرکاری زور آور ہے اور انگریز نے ہمیں بلایا کہ یا تو انہیں معافی مانگی ہوگی یا پھر دو سال قید کاٹنی ہوگی جس پر خان شہید نے کہا کہ انگریز زور آور ہوگا مگر ہم کسی سے معافی نہیں مانگیں گے یہ آج سے 93سال قبل خان شہید نے کسی سے معذرت نہیں کی آج تو پشتونخوا میپ اور بلوچوں کو کسی سے معافی مانگنی کی پالیسی نہیں اپنانی ہوگی ، پشتون قوم کو کسی کا باپ شکست نہیں دے سکتا ۔

    محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ عثمان خان کاکڑ نے کیا گناہ کیا تھا کس کا قتل کیا تھا ۔ اگر ہمیں جمہوری پاکستان کے مطالبے پر شہید کیا جائے گا تو ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ، عثمان خان کاکڑ کی شہادت کے بعد ہمیں اپنے سیاست کی اوراق کا صفحہ تبدیل کرنا ہی ہے یہ ہم نے کب کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔ ہمارے پولیس کے بچے کس نے قتل کئے ، عبیداللہ خان کاسی کون اغواء کرکے لے گئے تھے یہ مذاق نہیں چلے گی کہ پشتون اپنے بچے پیدا کریں گے ان پر خرچے کریں گے اور پھر آپ انہیں ایک جگہ پر شہید کریں گے اور پولیس کے سینکڑوں بچے کئی اور ماردیں گے اور پھر عثمان خان کاکڑ کو گھر میں مار دو گے ہم پاگل نہیں ہیں ہم کسی کے غلام نہیں ہے یہ ایک جمہوری ملک ہے جس کے لئے جدوجہد میں چاہے وہ قید و بند ہو پھر دیگر طرز جدوجہد ہو میں دیگر تمام اقوام سے پشتونوں نے اپنا حصہ زیادہ دیا ہے موسیٰ خیل سے لے کر چمن اور چترال سے لے کر بولان تک پشتونوں نے انگریزوں کے خلاف گائوں گائوں جدوجہد کی اور لڑا ہے اور ہم نے سب سے زیادہ جیل کاٹے ہیں ۔

    محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے پر لوگ ہمیں گالیاں دے رہے ہیں پشتونوں کا وجود ہی نہیں تھا یہاں صرف افغانستان اور ہندوستان ہوا کرتے تھے اس وقت بھی ایک چھوٹا افغانستان مسلمانوں ، ہندو ، سکھوں اور دیگر کے لئے ایک پرامن ملک تھا ، آزادی کے تمام مجاہدین کابل میں بیٹھتے تھے ، افغانستان میں ہمارے ابا واجداد دفن ہیں افغانستان کے وسیع کرنے میں پشتون افغان کی حیثیت نیوکلیس/ مرکز کی ہے ، افغانستان پشتونوں نے بنایا اور دیگر نے پشتونوں کا ساتھ دیا اور افغانستان کا دفاع کرنا اور افغانستان کی ترقی اگر گناہ ہے تو ہم پشتون اس میں حصہ دار ہے اور یہ گناہ ہم کرتے رہیں گے افغانستان کو قبضہ کرنا قیامت کے مترادف ہوگا کسی نے ہمت نہیں ہارنی ہے افغانستان کسی کا باپ بھی قبضہ نہیں کرسکتا ۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ امریکہ ، اسٹریلیا اور دیگر ممالک انگریزوں کی کالونیاں تھیں اور چین جاپان کی کالونی تھی روس در بدر تھا ، جرمن متحد نہیں تھا مگر افغانستان وہ واحد ملک ہے جس کی گواہی پوری دنیا دے رہی ہے کہ اس کی جھنڈا سربلند تھا ۔ پاکستان ہمار املک ہے ہم اسے توڑنا نہیں چاہتے مگر پاکستان کو افغانستان میں مداخلت نہیں کرنی گی ۔میں ایک بزرگ بلوچ سیاسی رہنماء کی عیادت کے لئے گیا تو اس نے اپنے بیٹے اور ایک ساتھی کے سامنے بتایا جو آج ایک پارٹی کا ذمہ داری نمائندہ ہے کہ میں نے جو کچھ سیکھا میرا استاد عبدالصمد خان اچکزئی تھا اور اس نے مجھے اور پشتونخوا میپ کے درخواست کی کہ آپ نے بلوچستان پر ہاتھ ہلکا رکھنا ہے آج ہم ایک خاص حالت کا سامنا کررہے ہیں اور آج ہم بلوچ دوستوں سے کہہ رہے ہیں کہ جیسے آپ کے ایک بزرگ رہنماء نے ہم سے کہا تھا کہ بلوچ اور بلوچستان پر ہاتھ ہلکا رکھنا ہے ہم کہتے ہیں کہ آپ کا بلوچستان آپ کو زندہ آباد ہو میں اور پشتونخوا میپ آپ کا ساتھی ہے تاہم ہم بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ یہ صوبہ ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے پہلا چیف کمشنر صوبہ تھا ، صوبہ سرحد پنجاب کا حصہ تھا اور سندھ صوبہ نہیں تھا ، 1887میں گندمک کے معاہدے میں جن علاقوں پشین ، کوئٹہ ، کچلاک تا بارکھان ، ژوب کو شامل کر تے ہوئے اسے برٹش افغان کی بجائے برٹش بلوچستان کا نام دیا گیا ، خان شہید کی تمام سیاست اس پر تھی کہ اس صوبے کو بھی گورنر صوبہ بنایا جائے جس پر خان شہید کو قائد اعظم محمد علی جناح کی بھی حمایت حاصل تھی ۔ ہم نے ہر وقت آئین کی جنگ لڑی ہے اور آئین کی بالادستی چاہی ہے ، آج ہماری ضرورت ہے ہم پشتونخوا وطن کے سیاسی پارٹیوں اور بلوچ سیاسی پارٹوں سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا آئندہ فیصلہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے عوام کی طاقت اور تنظیم کے بل بوتے پر تمام پشتونوں علاقوں وسطی پشتونخوا ، جنوبی پشتونخوا اور خیبر پشتونخواہ کو پشتونستان بنانا ہے اس لئے ہمیں تیاری کرنی ہے ۔ پوری پشتون قوم نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ ہر گھر پر ایک ایک بندہ انہوں نے ہمیں دینا ہے یہ لاکھوں انسانوں کی طاقت ہے ۔

  • نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پرحلف اٹھا لیا

    نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پرحلف اٹھا لیا

    ایک سادہ مگر خوبصورت حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھا لیا گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ تقریب میں گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا جسٹس نعیم اختر افغان سے حلف لیا-

    حلف برداری کی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، ہائی کورٹ کے ججز ، ارکان پارلیمنٹ ، فوجی اور سول حکام نے شرکت کی-

    واضح رہے کہ سینئر جج جسٹس نعیم اختر افغان چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر کر دیئے گئے ہیں اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی تعیناتی جسٹس جمال مندوخیل کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کا بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بننے تک کا سفر:

    بی ایچ سی گورنمنٹ میں شائع کردہ معلومات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان30ستمبر 1989 کو عدالت عالیہ بلوچستان کے وکیل بنے جسٹس نعیم اختر افغان12 مئی 2001 میں عدالت عظمٰی کے وکیل بنے۔ انہوں نے 21 سال ماتحت عدالتوں ، عدالت عالیہ بلوچستان ، وفاقی شرعی عدالت اور عدالت عظمٰی پاکستان میں بطور وکیل پریکٹس کی۔ وہ بے شمارفوجداری، دیوانی اور آئینی مقدمات میں پیش ہوئے جن میں سے بیشتر قانونی رسالوں میں شائع ہوئے۔ جسٹس نعیم اختر افغان بلوچستان بارکونسل کے ممبر بھی رہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کو کمپنی جج عدالت عالیہ بلوچستان نے سول پٹیشن نمبر 1/1998میں لیکویڈیٹرمقرر کیا تاکہ میسرزپاکستان کرومائٹ لمیٹڈ کو کمپنی آرڈیننس 1984کے تحت لکویڈیٹ کیا جاسکے ۔وہ بطور وکیل سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹد بلوچستان اور پاکستان سٹیل ملز لمیٹڈکے پینل پربھی رہے اور ان کمپنیوں کے بہت سے مقدمات کیے۔ وہ بہت سے مقدمات میں عدالت کی طرف سے بطور ثالث بھی مقرر ہوئے ۔ وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے پینل پر بھی رہے ۔ جسٹس نعیم اختر افغان یونیورسٹی لاء کالج میں اعزازی لیکچر اربھی رہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان12 مئی 2011 کو عدالت عالیہ بلوچستان کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور 11 مئی 2012 کوعدالت عالیہ بلوچستان کے جج مقرر ہوئے۔
    عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس کی ہدایت پر جسٹس نعیم اختر افغان نے سیشن ڈویژن سبی کا انسپکشن کیا اور ایک جامعہ رپورٹ محررہ 20 جولائی 2011 پیش کی جو کہ بعد ازاں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو بھیج دی گئی ۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کو چیف جسٹس عدالت عظمٰی /چیئرمین نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نےبذریعہ نوٹیفکیشن محررہ 7دسمبر 2011 آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کا رکن تعینات کیا تاکہ اے ڈی آر کے ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی جا سکے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کو چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان نے چیئر مین بلڈنگ کمیٹی تعینات کیا 14 نومبر 2011کو انہیں عدالت عالیہ بلوچستان ضلعی کورٹ اور سیشن کورٹ کوئٹہ میں سیکورٹی آلات اور سی سی ٹی وی سسٹم لگانے والی کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا۔

    مورخہ 29اگست 2011کو جسٹس نعیم اختر افغان کو چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان نےپروونشل جوڈیشل ڈویلپمنٹ فنڈ کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا۔وہ منتظم کمیٹی اینوائرنمینٹل لاء 2011کانفرنس جو کہ کوئٹہ میں ہوئی تھی کے بھی ممبر رہے وہ تربت ہائیکورٹ بنچ کی عمارت کے ڈیزائن کی منظوری کے لئے بنائی گئی کمیٹی کےبھی ممبر رہے جبکہ امتحانی کمیٹی 2012 کے بھی ممبر رہے۔

  • محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    آج کوئٹہ میں محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی اجلاس کی صدارت چیئرمین عبدالخبیر آزاد کریں گےصوبائی اور ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے ہیڈ کواٹرز میں ہوں گے۔

    محرم الحرام کا چاند نظر آنے کی اطلاعات مولانا سید محمد عبدالخبیر آزاد اور وزارت مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل (آر اینڈ آر)سید مشاہد حسین خالد ودیگر کو دی جائے گی۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق پیر کی شام کو محرم الحرام 1443ھ کا چاند نظر آنے کے واضح امکانات ہیں، توقع ہے کہ یکم محرم الحرام 1443ھ بروز منگل 10 اگست 2021 کو ہوگی۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے 9 اور 10 محرم الحرام کو لاہور سمیت بڑے شہروں میں موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہےمحکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق موبائل فون سروس کی بندش کا اطلاق ذوالجناح کے جلوسوں کے روٹس پر ہو گا-

    محرم الحرام کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہوگا

    موبائل فون سروس ان مقامات پر بند رکھی جائے گی جو شہر کے حساس علاقے ہیں لاہور میں یوم عاشور کے جلوس کے روٹس اور گردونواح میں موبائل فون سروس بند کی جائے گی جبکہ لاہور کے دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس بحال رہے گی۔

    اسی طرح ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد، جھنگ، بہاو لپور، رحیم یار خان، اٹک، ڈی جی خان سمیت متعدد بڑے اضلاع میں موبائل فون سروس بند ہوگی۔

    پنجاب کے بڑے شہروں میں موبائل فون سروس بند کرنے کا اچانک بڑا فیصلہ، وجہ کیا بنی ؟

  • بلوچستان : ن لیگ ، ق لیگ اور بی این پی کے کئی بڑے ناموں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا

    بلوچستان : ن لیگ ، ق لیگ اور بی این پی کے کئی بڑے ناموں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا

    کوئٹہ : چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ن لیگ ، ق لیگ اور بی این پی کی کئی وکٹیں گرا دیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق بلوچستان سے مسلم لیگ ن کے رہنما ثنااللہ زہری، سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ،سابق رکن بلوچستان اسمبلی کرنل (ر) یونس چنگیزی ، سمیت کئی بڑے ناموں نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

    کوئٹہ کے علاقے سریاب میں پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر علی مدد جتک کی رہا ئش گاہ پر ایک شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ثنااللہ زہری نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیں بےعزت کیا ، اس لیے ہم نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔

    بلاول کا دورہ کوئٹہ، اہم شخصیات پی پی میں شمولیت کا اعلان کریںگی، منور انجم

    انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں شمولیت کا اعلان عزت کی خاطر کیا تھا۔ نوازشریف کو کہا صرف عزت چاہیے اور کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ن لیگ کا بہت مشکل حالات میں ساتھ دیا تھا مگر نواز شریف میں وفا نہیں۔

    ثنا اللہ زہری نے کہا بھٹو کے نواسے سے امید ہے وہ ہمیں عزت دیں گے میرے والد پیپلزپارٹی میں تھے اور آج میں بھی جیالا بن گیا-

    سابق سینیٹر اور ایم این اے نے پیپلزپارٹی سے راہیں جدا کرلیں

    اس موقع پر عبدالقادر بلوچ نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کے شکر گزار ہیں پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں صوبوں کو حقوق دیئے،بلوچستان کو پیپلزپارٹی کی ضرورت ہے۔

    دوسری جانب بلاول بھٹو نے کہا جی نواب ثنااللہ زہری اور عبدالقادربلوچ سمیت تمام رہنماوں کا شکر گزارہوں پیپلزپارٹی میں شامل ہونے والے ارکان کو خوش آمدید کہتاہوں-

    دہشتگردی و انتہاپسندی کا خاتمہ اور رواداری و مساوات کا فروغ پاکستان پیپلز پارٹی کا…

  • بلاول کا دورہ کوئٹہ، اہم شخصیات پی پی میں شمولیت کا اعلان کریںگی، منور انجم

    بلاول کا دورہ کوئٹہ، اہم شخصیات پی پی میں شمولیت کا اعلان کریںگی، منور انجم

    پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منورانجم نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آج بروز اتوار کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے، اہم سیاسی و قبائلی شخصیات پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے، چیف آف جھالاوان نواب ثنااللہ زہری، سابق وزیراعلی بلوچستان شمولیت اختیار کریں گے، جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، سابق گورنر، جنرل ریٹائرڈ یونس چنگیزی، سابق صوبائی وزیر شمولیت اختیار کریں گے، نواب محمد خان شاہوانی، سابق صوبائی وزیر میڈم کشور احمد جتک، سابق مشیر وزیراعلی شمولیت اختیار کریں گے، سردار چنگیز ساسولی، سابق ضلعی ناظم، سردارعمران بنگلزئی، مرکزی رہنما بلوچستان نیشنل پارٹی میرعبدالرحمان زہری، سابق چیئرمین خضدار ن لیگ بھی شمولیت کریں گے، نواب شیرباز نوشیروانی، ن لیگ میرعرفان کرد، ن لیگ آغا عرفان کریم احمد زئی، سابق صوبائی وزیرمیرغازی خان پندرانی، ن لیگ شمولیت کریں گے، سید عباس شاہ، مرکزی رہنما بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ بھی شمولیت اختیار کریں گے.

  • ویمن کرکٹ کو مزید فروغ دینا پی سی بی کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے،وسیم خان

    ویمن کرکٹ کو مزید فروغ دینا پی سی بی کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے،وسیم خان

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئٹہ گلیڈیٹرز اور حکومت بلوچستان کو ویمن ٹی ٹونٹی ٹورنا منٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی ہے. پانچ ٹیموں پر مشتمل ٹورنامنٹ 26 جولائی سے 3 اگست تک کوئٹہ کے بُگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا ہے.

    چیف ایگزیکٹیو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہے کوئٹہ میں کامیاب ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے انعقاد پر میں حکومت بلوچستان اور کوئٹہ گلیڈیٹرز کو مبارک باد دیتا ہوں، ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، ایونٹ میں شریک کھلاڑی پی سی بی کے انڈر18، ایمرجنگ اور نیشنل ٹورنمنٹز میں شریک ہوچکی ہیں، ایونٹ کو کرکٹ کے فینز اور چاہنے والوں نے ملک کے نامور اسپورٹس چینل پردیکھا ہے.

    ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں کی کارکردگی کا ویمن چیف سلیکٹرعروج ممتاز اور ویمن ٹیم ہیڈ کوچ ڈیویڈ ہیمپ نے بھرپور جائزہ لیا ہے، اس ایونٹ سے خواتین کرکٹ میں نئے ٹیلنٹ کی شناخت کرنے میں مدد حاصل ہوگی، ہمارے لیئے یہ ضروری ہے کے ہم ویمن کرکٹ کو اسی طرح سے پروموٹ کریں اور کھلاڑیوں کیلیے کھیلنے کے نئے مواقع پیدا کرتے رہیں تاکہ ملک بھر سے مزید کھلاڑی سامنے آئیں، اس سلسلے میں تمام کرکٹ ایسوسیشنز اور پی سی بی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، ویمن کرکٹ کو مزید فروغ دینا پی سی بی کی پانچ سالہ حکمت عملی کا اہم حصہ ہے اور ہم بھرپور توجہ کیساتھ ویمن کرکٹ پر کام کرتے رہیں گے.

  • بلوچستان میں گرین ٹریکٹرز اسکیم کا افتتاح کردیا گیا

    بلوچستان میں گرین ٹریکٹرز اسکیم کا افتتاح کردیا گیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ میں گرین ٹریکٹراسکیم کا افتتاح کردیا ہے، گرین ٹریکٹرز بلوچستان حکومت کی طرف سے چھوٹے زمینداروں کو سبسڈی پردئیے جارہے ہیں، اسکیم کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ کو یقینی بنانا ہے، گرین ٹریکٹرز بلوچستان میں زرعی شعبہ میں ترقی کی سمت ایک اور انقلابی پیش رفت ہے، ٹریکٹرز قرعہ اندازی کے زریعے دئیے جائیں گے، گرین ٹریکٹرز اسکیم کی منظوری گذشتہ سال دسمبر میں بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں دی گئی تھی، اسکیم کے تحت صوبے کے تمام اضلاع کے زمینداروں کو ٹریکٹرز دئیے جائیں گے، ایک ہزار ٹریکٹرز 50 فیصد رعایتی ریٹس پردئے جائیں گے، زرعی شعبہ کو بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے.

  • صدر پاکستان کے پروٹوکول کی وجہ سے عوام شدید پریشان

    صدر پاکستان کے پروٹوکول کی وجہ سے عوام شدید پریشان

    پاکستان میں پروٹوکول راج کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے، حکومت پروٹوکول کلچر کو ختم کرنے کے دعوے کرتی رہتی ہے، ابھی تک اس دعوے کو عملی جامہ نہیں‌ پہنا سکی ہے.

    آج صدرپاکستان ڈاکٹرعارف علوی شیڈول دورہ کرنے کیلئے کوئیٹہ پہنچے ہیں، ان کے پہنچنے پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا ہے، ٹریفک پولیس نے دورہ کا شیڈول معلوم ہونے کے باوجود کوئی متبادل پلین تیارنہیں‌ کیا ہے، صدرکے پروٹوکول کیلئے مین روڈ بند کیا گیا ہے، عوام کو متبادل راستہ نہیں‌ دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام ہے، گرمی کی وجہ سے بچے، بوڑھے اورخواتین پریشان ہوگئے ہیں، انتظامیہ موقع سے غائب ہے، عوام سراپہ احتجاج ہے، مشکل کی اس گھڑی میں‌ انتظامیہ کی غفلت پر کون ایکشن لیگا.

    پچھلی حکومتوں میں بھی پروٹوکول کلچر بہت زیادہ عروج پر تھا، جب موجودہ حکومت اپوزیشن میں تھی تو بڑے دعوے کرتی تھی کہ اس کلچر کو ختم کردیا جائے گا، ابھی تک اس کلچر کا کوئی سدباب نہیں کیا گیا ہے.

  • بلوچستان  میں پانچ روزہ پولیو مہم کا آغاز

    بلوچستان میں پانچ روزہ پولیو مہم کا آغاز

    بلوچستان میں پانچ روزہ پولیو مہم کا آغاز

    باغی ٹی وی: بلوچستان کے 16اضلاع میں پانچ روزہ پولیو مہم کل سے شروع ہوگی، مہم کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

    کوئٹہ میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹرراشد رزاق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پولیو مہم صوبے کے 16 اضلاع کی 438 یونین کونسلز میں کل سے شروع ہو رہی ہے۔ ان اضلاع میں کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ ، جعفر آباد، نصیرآباد ،لورالائی، خضدار، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، قلعہ سیف اللہ، دکی، موسی خیل، مستونگ، شیرانی، ژوب، اورصحبت پور شامل ہیں۔

    صوبے کے 18اضلاع میں انسداد پولیو مہم جاری ہے جبکہ مہم کے لیے 16 ہزار731 تربیت یافتہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

    کوآرڈینیٹر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ 15ہزار 965 موبائل،708 ٹرانزٹ اور 58رومنگ ٹیمیں شامل ہیں جبکہ 4 ہزار 385ایریا انچارجز بھی تعینات کیے گئے ہیں اور 26ہزار719اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے مامور ہونگے۔

    واضح رہے کہ مہم کے دوران37 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو قطرے پلائے جائیں گے۔