Baaghi TV

Category: شیخوپورہ

  • نارنگ منڈی :سرحدی علاقوں میں پانی اترتے ہی ضلعی انتظامیہ بحالی کے کاموں میں متحرک ہوگئی ہے

    نارنگ منڈی :سرحدی علاقوں میں پانی اترتے ہی ضلعی انتظامیہ بحالی کے کاموں میں متحرک ہوگئی ہے

    نارنگ منڈی (نامہ نگارمحمد وقاص) سرحدی علاقوں میں پانی اترتے ہی ضلعی انتظامیہ بحالی کے کاموں میں متحرک ہوگئی ہے۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما رانا حسیب اور ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ اپنی ٹیم کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔ محکمہ صحت، لائیو اسٹاک، زراعت، ایجوکیشن، آبپاشی، ایل ڈبلیو ایم سی اور ریسکیو 1122 کے اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے۔

    انتظامیہ نے بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور متاثرین میں راشن تقسیم کیا۔ مویشیوں کے لیے ونڈا جات اور سبز چارہ بھی فراہم کیا گیا تاکہ سیلاب زدگان کی مشکلات کم کی جا سکیں۔

  • نارنگ منڈی: سیلاب متاثرین میں تین وقت کا کھانا، راشن اور مویشیوں کیلئے چارہ تقسیم

    نارنگ منڈی: سیلاب متاثرین میں تین وقت کا کھانا، راشن اور مویشیوں کیلئے چارہ تقسیم

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) دریائے راوی میں آنے والے سیلاب سے شدید متاثرہ سرحدی دیہات میں فلاحی تنظیموں اور شہریوں کی جانب سے ہزاروں متاثرین میں راشن تقسیم کیا گیا۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے صبح کا ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانے کے ساتھ ساتھ ادویات کا بھی انتظام کیا گیا جبکہ دریائے راوی کے پار پھنسے سینکڑوں مویشیوں کے لیے چارہ پہنچایا گیا۔

    امدادی کاموں میں اللہ والے ٹرسٹ، منہاج القرآن کی تنظیمات، جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن، تعبیر فاؤنڈیشن سمیت مقامی شہریوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ فلاحی تنظیموں کے ذمہ داران اور شہریوں کا کہنا ہے کہ مخیر حضرات کے تعاون سے متاثرین کو دن میں تین وقت کا کھانا فراہم کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث زرعی رقبہ زیر آب آنے سے جانوروں کے چارے کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے پیش نظر مویشیوں کو سائلیج، ادویات اور خشک چارہ فراہم کیا گیا ہے۔ فلاحی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں دکھی بہن بھائیوں کی خدمت جاری رہے گی اور ان کی آبادکاری تک ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔

  • نارنگ منڈی: سیلابی پانی کی سطح کم، 70 دیہات متاثر، 46 ہزار ایکڑ رقبہ تباہ

    نارنگ منڈی: سیلابی پانی کی سطح کم، 70 دیہات متاثر، 46 ہزار ایکڑ رقبہ تباہ

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ منڈی کے سرحدی دیہات میں سیلابی پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے تاہم تباہی کے اثرات شدید ہیں۔ بی آر بی نہر اور دریائے راوی کے پار 70 کے قریب دیہات متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 46 ہزار ایکڑ زرعی رقبے پر کھڑی فصلیں، جن میں چاول، جوار، مکئی، سبزیاں اور جانوروں کا چارہ شامل ہے، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق نقصانات کی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔

    مسلسل بارشوں نے متاثرہ دیہات کے مکینوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی رانا احمد عتیق انور، رکن صوبائی اسمبلی چوہدری حسان ریاض، سابق ایم پی اے چوہدری واجد علی خاں، ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ، ڈسٹرکٹ ریسکیو آفیسر رانا اعجاز اور اسسٹنٹ کمشنر توصیف حسن نے سیلابی علاقوں کا دورہ کیا۔ اس دوران اہل علاقہ نے انتظامیہ کے سامنے شکایات کے انبار لگا دیے۔

    انتظامیہ کے مطابق دریائے راوی کے پار پھنسے درجنوں افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، مقامی فلاحی تنظیموں اور عوام کی مدد سے متاثرہ افراد کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ہیڈ کوٹ بھیلاں کے مقام پر میڈیکل سمیت مختلف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق پانی کی سطح میں کمی آ رہی ہے تاہم معمولات زندگی بحال ہونے میں مزید کئی دن لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب مسلسل بارشیں متاثرین کے لیے جلتے پر نمک کا کام کر رہی ہیں۔

  • نارنگ منڈی: دریائے راوی کی طغیانی، درجنوں دیہات زیر آب، انتظامیہ غائب

    نارنگ منڈی: دریائے راوی کی طغیانی، درجنوں دیہات زیر آب، انتظامیہ غائب

    نارنگ منڈی (نامہ نگار) دریائے راوی نارنگ کے قریب تباہی مچانے لگا، درجنوں دیہات زیر آب آگئے جبکہ متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔ شتاب گڑھ، برج نواں پنڈ، بریار کہنہ سمیت درجنوں ڈیرہ جات میں پانی داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضاء قائم ہے۔

    پسیانوالہ، میرووال، مقبول پور، پرانا چک، دھیدو پرانا، بریار، جنڈیالہ کلساں، پرانا کوٹلی پیراں مست، چک راج پورہ، منڈھیالی، لونگ والا پرانا سمیت وسیع علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اہل خانہ اور مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر کوئی امداد نہ پہنچنے پر عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

    انتظامیہ نے بی آر بی کے کنارے فلڈ ریلیف کیمپ تو قائم کر دیے ہیں لیکن پانی میں گھرے دیہات تک رسائی نہ ہونے کے باعث متاثرین تک کوئی عملی مدد نہیں پہنچ سکی۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ادارے صرف بیانات تک محدود ہیں جبکہ اصل متاثرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور کو بچانے کے لیے دریائے راوی کو کالا خطائی روڈ، حاجی کوٹ اور شرقپور کے قریب سے توڑنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس کے باعث اہل علاقہ نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ جسٹر کے مقام پر اڑھائی لاکھ کیوسک پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی کے کنارے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

    انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جسٹر میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب نارنگ، فیروزوالہ اور شاہدرہ کے علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تمام محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت محفوظ مقامات پر منتقل ہو کر انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  • نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

    نارنگ منڈی میں مہنگائی کا طوفان، انتظامیہ کی طوطاچشمی

    نارنگ منڈی (نامہ نگارمحمدوقاص) نارنگ منڈی میں مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آٹا، گھی اور چینی جیسی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، آٹے کی قیمت میں 10 فیصد اضافے کے بعد یہ 100 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح، چینی کی قیمت میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 200 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ گھی کی قیمت 3 فیصد اضافے کے بعد 550 سے 560 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔

    شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی نے غریب عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اشیائے خوردونوش کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔

    عوام نے حکومتی ایوانوں سے فوری نوٹس لینے اور اس سنگین صورتحال پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • نارنگ منڈی: بجلی چوروں کا بوجھ ایماندار صارفین پر ڈال دیاگیا، شہری سراپا احتجاج

    نارنگ منڈی: بجلی چوروں کا بوجھ ایماندار صارفین پر ڈال دیاگیا، شہری سراپا احتجاج

    نارنگ منڈی (نامہ نگار، محمد وقاص قمر)نارنگ میں لیسکو انتظامیہ کی جانب سے کالاخطائی روڈ کے درجنوں دیہات کو سٹی فیڈر میں شامل کرنے کے فیصلے کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بجلی چوری کا نقصان ایماندار صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔

    نارنگ پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صارفین نے کہا کہ نئے شامل کیے جانے والے دیہات میں بجلی چوری کی شرح بہت زیادہ ہے، اور اس کا بوجھ ان صارفین کو اٹھانا پڑے گا جو باقاعدگی سے اپنے بل جمع کراتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگا اور کسی بھی فالٹ کی صورت میں بجلی کی بحالی میں بھی گھنٹوں لگیں گے۔ پہلے سے ہی معمولی فالٹ تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے، نئے علاقوں کی شمولیت کے بعد یہ کام مزید دشوار ہو جائے گا۔

    شہریوں نے کہا کہ لیسکو کا یہ فیصلہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چند ماہ قبل بھی اسی طرح کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جسے عوامی احتجاج کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی نمائندے اس فیصلے پر فوری نوٹس لیں اور اسے واپس کرائیں۔

  • لاہور-سیالکوٹ ریلوے سیکشن پر ٹرینوں میں رش، انتظامیہ نےوفاقی وزیر کے احکامات ہوا میں اُڑا دیئے

    لاہور-سیالکوٹ ریلوے سیکشن پر ٹرینوں میں رش، انتظامیہ نےوفاقی وزیر کے احکامات ہوا میں اُڑا دیئے

    نارنگ منڈی (نامہ نگار،محمد وقاص قمر) ریلوے انتظامیہ نے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے لاہور، نارنگ، نارووال، سیالکوٹ سیکشن پر چلنے والی ٹرینوں میں بوگیوں کا اضافہ نہیں کیا۔ اس غفلت کے نتیجے میں مسافر شدید رش میں سفر کرنے پر مجبور ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

    وفاقی وزیر نے 15 اگست سے اس سیکشن کی تمام ٹرینوں کی بوگیوں کی تعداد کم از کم 10 کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا تھا، مگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ شدید رش کی وجہ سے مسافروں کو نہ صرف سخت دشواری کا سامنا ہے بلکہ معمولی بات پر لڑائی جھگڑے بھی معمول بن چکے ہیں۔ شدید گرمی میں متعدد خواتین بے ہوش ہوچکی ہیں۔

    رات کو چلنے والی ٹرینوں پر بھی مسافر اندھیرے میں انجن کے ساتھ لٹک کر اور چھتوں پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں، جو کسی بھی وقت ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ اہل علاقہ نے وفاقی وزیر حنیف عباسی سے فوری طور پر جاری شدہ نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کروانے اور ہر ٹرین کے ساتھ 10 بوگیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے، جن میں سے تین صرف خواتین کے لیے مختص کی جائیں تاکہ ان کا سفر محفوظ اور آسان ہو۔

  • نارنگ منڈی میں منہاج یوتھ لیگ کی جانب سے دعائیہ تقریب

    نارنگ منڈی میں منہاج یوتھ لیگ کی جانب سے دعائیہ تقریب

    نارنگ منڈی (نامہ نگار): چیئرمین سٹی پریس کلب نارنگ، شاہد یوسف کی ہمشیرہ، تحریک منہاج القرآن کے رہنما ساجد سلیم قادری کے ماموں اور محمد یاسین کی بھتیجی کے انتقال پر ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب بیسٹ وے ایجوکیشن اکیڈمی میں منہاج یوتھ لیگ کی جانب سے منعقد کی گئی، جس میں مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔

    تقریب کا آغاز نعت خوانی سے ہوا، جس میں ابوبکر بھٹی اور آویز الحسن نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ اس موقع پر سٹی پریس کلب نارنگ کے چیئرمین شاہد یوسف، صدر میاں محمد معظم نواز، تحریک منہاج القرآن پی پی 136 کے صدر خرم نثار قادری، میاں شرافت علی، ساجد سلیم قادری، چوہدری نثار احمد گجر، شہباز علی قادری، علی اقبال، ابوبکر بھٹی، میاں اسرار علی، واجد سردار اور دیگر افراد نے شرکت کی۔

    تقریب کے دوران منہاج یوتھ لیگ کی جانب سے ایک نئے فلاحی منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا۔ تنظیم کے عہدیداروں نے بتایا کہ جلد ہی مستحق افراد کے لیے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا۔ جو لوگ اپنے پیاروں کے کفن اور دفن کا انتظام نہیں کر سکتے، وہ منہاج یوتھ لیگ سے رابطہ کرکے مفت کفن حاصل کر سکتے ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں، لوگ کفن خرید بھی سکیں گے۔

    ساجد سلیم قادری اور میاں شرافت علی نے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ آج کی تقریب مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کے لیے منعقد کی گئی ہے اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔

  • نارنگ ریلوے اسٹیشن پر خواتین پر تشدد، اوباشوں نے تھپڑوں کی بارش کر دی، ریلوے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی

    نارنگ ریلوے اسٹیشن پر خواتین پر تشدد، اوباشوں نے تھپڑوں کی بارش کر دی، ریلوے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ ریلوے اسٹیشن پر خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں درجن بھر سے زائد نوجوانوں نے ایک خاتون پر وحشیانہ تشدد کیا اور ان پر تھپڑوں کی بارش کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خواتین نے ایک مقامی نوجوان کو چھیڑ چھاڑ کرنے سے منع کیا۔

    تفصیلات کے مطابق، نارنگ ریلوے اسٹیشن پر موجود کچھ خواتین نے ایک نوجوان کی ہراسانی اور بدتمیزی پر اسے منع کیا، جس پر وہ نوجوان آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے فوراً اپنے دوستوں کو فون کر کے اسٹیشن پر بلا لیا۔ جب ٹرین اسٹیشن پر پہنچی اور خواتین اس میں داخل ہونے لگیں تو ان لڑکوں نے حملہ کر دیا اور خواتین کو زدوکوب کیا۔

    حملہ آور نوجوانوں نے صرف اسٹیشن پر ہی نہیں بلکہ ٹرین کے اندر داخل ہو کر بھی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس واقعے نے ریلوے اسٹیشنز پر خواتین کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    مقامی افراد اور مسافروں نے ریلوے کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ عوامی مقامات پر خواتین محفوظ نہیں۔ حکام کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو سکے۔

  • نارنگ منڈی: نوجوان نسل تباہ ،منشیات کی سرعام فروخت جاری،پولیس اور سیکیورٹی ادارے بے بس

    نارنگ منڈی: نوجوان نسل تباہ ،منشیات کی سرعام فروخت جاری،پولیس اور سیکیورٹی ادارے بے بس

    نارنگ منڈی (نامہ نگار: محمد وقاص قمر)نارنگ منڈی شہر اور گردونواح میں آئس سمیت دیگر منشیات کی سرعام فروخت عروج پر ہے۔ منشیات فروش دیدہ دلیری سے اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کے نتیجے میں نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

    شہر میں آئس کے نشے کے ساتھ ساتھ چرس، افیون اور شراب کی فروخت بھی عام ہے۔ منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس میں کم عمر نوجوانوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ منشیات فروشوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ بغیر کسی خوف کے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

    منشیات کی روک تھام کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے پر شہریوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ وہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ روزانہ نئے لوگ اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں، اور کئی ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ پولیس منشیات فروشوں کو پکڑنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ پولیس کی اس ناکامی پر شہری برہم ہیں۔ اہل علاقہ نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سمیت تمام سیاسی نمائندوں اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور شہر کو منشیات کے اس جال سے نجات دلائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پورا شہر اس نشے کی لعنت میں جکڑ جائے گا۔