Baaghi TV

Category: سیالکوٹ

  • میرے گھر پر حملہ خواجہ آصف نے کرایا،عثما ن ڈار کی والدہ کا الزام

    میرے گھر پر حملہ خواجہ آصف نے کرایا،عثما ن ڈار کی والدہ کا الزام

    سیالکوٹ: عثمان ڈار کی والدہ نے اپنے گھر پر حملے کا لیگی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف پر عائد کر دیا،جس پر لیگی رہنما نے بھی ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عثمان ڈار کی والدہ نے ایک ویڈیو بیان میں مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف پر اپنے گھر پر حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں ان کے گھر پر چھاپہ ن لیگی رہنما خواجہ آصف کی ایما پر مارا گیا تھا جس میں نہ صرف ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی بلکہ پولیس نے گھر کی خواتین کو بھی زدوکوب کیا تھا کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا سن کر 20 لوگ میرے گھر بھیجے گئے ، حملہ آوروں نے گھر کا مین دروازہ توڑ دیا، میری قیمض کو پھاڑ ڈالا

    انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے یہ سب اُنہیں الیکشن لڑنے سے روکنے کیلئے کیا، الیکشن کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے ضرور جاؤں گی، کوئی مجھے زد و کوب کر کے من مانی نہیں کرا سکتا، میں جیل میں بھی جا کر الیکشن لڑوں گی،انہوں نے اپنے ویڈیو بیان مین چیف جسٹس سے معاملے کا نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ۔

    دوسری جانب عثمان ڈار کی والدہ کے بیان کی خواجہ آصف نے تردید کی کہا کہ ایسی انتقامی سیاست سے میرا کوئی تعلق نہیں، میں نے ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین اور ان کے خاندان کا احترام کیا ہے، میری بیوی 3 درجن بار عدالتوں کی پیشیاں بھگت چکی ہیں،میرا بیٹا جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اس کے خلاف بھی جھوٹے مقدمے بنائے گئے میرے ان سیاسی مخالفین نے مشرف اور پی ٹی آئی حکومتوں میں میرے خلاف درخواست بازی کی میں نے دونوں ادوار میں 6، 6 ماہ قید کاٹی لیکن کچھ ثابت نہ ہو سکا، میری ذات کی سیاست عوام سے کمٹمنٹ، اصولوں اور وفاداری پر ہے۔

  • آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    سابق وزیراعظم مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف سیالکوٹ پہنچ گئے۔

    نواز شریف کے سیالکوٹ پہنچنے پر سابق وفاقی وزرا خواجہ آصف اور احسن اقبال نے استقبال کیا،مریم نواز، شہباز شریف بھی نواز شریف کے ہمراہ ہیں، استقبال کے موقع پر امیدوار مسلم لیگ (ن) برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے 60 جہلم بلال اظہر بھی موجود تھے،

    سیالکوٹ میں‌ ن لیگی رہنما خواجہ آصف کے گھر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ سے میری بڑی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں،خواجہ آصف سے میرا تعلق کالج کے زمانے سے جو اب تک چل رہا ہے، ،اقتدار کیساتھ مشکل وقت بھی بہت دیکھا،ہم اقتدار میں بھی رہے اور اپوزیشن میں بھی،ہمیں بلاوجہ سزائیں دی گئیں،بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر میری چھٹی کر دی گئی،جیلوں، ملک بدری، مقدمات کے باوجود ہمت نہیں ہاری،2017سے آج تک مسلسل ہمارے خلاف سزاؤں کا سلسلہ چلتا رہا، جہاں آئے دن وزیراعظم کو ہٹایا جائے، جیلوں میں بھیجا جائے،جھوٹے مقدمات بنائے جائیں پھر ملک کیسے چلے گا،پاکستان کو بلاوجہ پٹری سے اتار دیا گیا،بلکہ پٹری کو ہی اکھاڑ دیا گیا،آج مجھے اس چیمبر میں سے ھی لوگ بتا رہے تھے کہ اب پاکستان ایسے کسی تجربے کا متحمل نہیں،ہمارے پاس غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے اب بھی ہم نے سبق نا سیکھا تو علامہ اقبال نے کیا کہا ہے ” تمھاری داستاں نہیں رہے گی داستانوں میں ۔

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں تو یہ سوچتا ھوں کہ آپ بلاوجہ ہمیں نکال کے لاتے کس کو ہیں؟ جس کو سوائے گالیاں نکالنے کے کچھ نہیں آتا، اس نے ہمارے معاشرے اور کلچر کو تباہ کیا ہماری قوم تو ایسی نہیں تھی میں سارا وقت یہ سوچتا رہتا ھوں کہ قوم کو اس گندے کلچر سے کیسے نکالا جائے،جو 70 سال سے ملک کے ساتھ ہوا اللہ نہ کرے کسی اور ملک کے ساتھ ہو،اپنی قوم کے ساتھ بھی تعلق نبھا رہا ہوں ،ہم کیا بننے جا رہے تھے اور ہم کیا بن گئے ہیں ، اس ملک کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے وہ بہت بھاری نقصان ہے ، اب اس ملک کو ریپئر کرنا ہماری زمہ داری ہے ۔ہم اپنا پاکستان کسی ایسے بندے کے حوالے نہیں کرنے دیں گے، جس نے کلچر تباہ کیا ،نسلیں تباہ کی، انکی اخلاقیات برباد کی،وہ آیا نہیں تھا وہ لایا گیا تھا،اس تباہی کے لانے والے بھی اتنے ہی زمہ دار ہیں جتنا وہ ذمہ دار ہے،ججز کو ہمارے خلاف فیصلہ دینے کی کیا ضرورت تھی ہم 2018 کا الیکشن ہارے نہیں تھے ہمارے ووٹ دوسروں کے ڈبوں میں ڈالے گئےہماری حکومت بلاوجہ ختم کی ہمیں بلاوجہ سزائیں دی گئیں ہمارے خلاف سازش کی گئی ملک پر کلہاڑا چلادیا گیا .الیکشن میں ہیرا پھیری کیوں کی ؟کیوں آر ٹی ایس سسٹم کو بند کرنا پڑا ؟مجھے دیکھ کر خوشی ہوئی کہ میں آج سیالکوٹ اس موٹر وے سے آیا ھوں جسکی بنیاد میں ڈال کر گیا تھا،اگر میری سرپرستی میں بنتی تو زیادہ بہتر بناتا میں نے دیکھا ریسٹورنٹس نہیں ہیں،موٹر وے بھی اوپر نیچےہے لیکن فکر نا کریں اب میں آ گیا ہوںَ،ہم نے لوڈ شیڈینگ دہشتگردی کا خاتمہ کر دیا تھا ،

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ انشااللہ پاکستان کو ازسر نو تعمیر کرینگے،پاکستان جتنا خوبصورت ملک ہے اسے ہم جنت بنا سکتے تھے،میری حکومتوں سے زیادہ میری جیلوں اور ملک بدری کی مدت لمبی ہے، مگر میں نے ہمت کبھی نہیں ہاری،

    نواز شریف نے سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے تاجر برادری سے ملاقات کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف وفا کا استعارہ ہیں۔ آپ جلاوطن ہوئے ملک سے آپکو باہر رکھا گیا لیکن مسلم لیگ ن میں ایسے لوگ موجود رہے جو وفادار رہے مشکل وقت کاٹا۔ پچھلے دور میں مسلم لیگ ن کے 84 ایم این اے تھے لیکن ایک بھی نہیں ٹوٹا۔ یہ سب نواز شریف کی وفا ہے کہ انکے ساتھیوں نے انکے ساتھ وفا کی،مشکل ترین وقت میں پارٹی کے ساتھ لوگ کھڑے رہے،یہ کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے، یہ نواز شریف کی وفا ہے کہ ساتھیوں نے وفا کی، جیلیں کاٹیں، نیب بھگتا، خاندان کے خاندان جیل گئے، جب نوازشریف گرفتار ہوئے، آپکی بیٹی گرفتار ہوئی، بھائی گرفتار ہوا، بھتیجا گرفتار ہوا، ایک ایسی مثال قائم کی جس کی تاریخ نہیں ملتی.

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میرا قائد 8 فروری کو ان شا اللہ پھر وزیراعظم بنے گا۔ میرے قائد میاں نواز شریف آپکو مٹانے والےخود مٹ گئے جو ہماری تاریخ کا انمٹ حصہ ہے۔ میں نے کچھ برس قبل اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہا تھا میرا قائد آئیگا اسکو مٹانے والے مٹ گئے۔ ایسا کہنا گمان یا سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ وہ میرا یقین تھا

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

  • کھبی کسی مخالف کے خلاف کیس نہیں بنایا،خواجہ آصف

    کھبی کسی مخالف کے خلاف کیس نہیں بنایا،خواجہ آصف

    خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف وفا کا نام ہے اس لئے ہر بار کامیاب ہوئے، نواز شریف کے ساتھیوں نے وفا کا ثبوت دیا، نواز کا ایک آدمی نہیں ٹوٹا، عمران کے ساتھ اس کا کوئی ساتھی کھڑا ہے؟ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں کبھی کسی مخالف کے خلاف مقدمات نہیں بنائے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ عمران کے وکیل ٹی وی پر پروگرام کر رہے ہیں، اس کے بندے ہمیں گالیاں دیتے اور اس کی مالش کرتے تھے، 9 مئی کو انہوں نے ہمارے دفاعی اداروں کی بے حرمتی کی۔

    انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں ان کے لوگ 4 سال حکمران رہے، ایک اینٹ نہیں لگا سکے، ان کی وفاداریاں اقتدار سے مشروط تھیں، ان کے دور میں نشہ عام تھا۔
    خواجہ آصف نے کہا کہ 2018ء میں میرے خلاف درخواست دی گئی، معلوم تھا کہ گرفتار ہو جاؤں گا لیکن چھپا نہیں، میں نے پارٹی اور قائد کی لاج رکھی، 6 ماہ کی قید بھگتی، میرے خلاف کوئی ریفرنس نہیں بنا سکے، کبھی آرٹیکل 6 لگاتے، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن بلاتے تھے۔

  • فلسطین کے لئے آواز اٹھانے کا یہی وقت ہے،امیر جماعت اسلامی

    فلسطین کے لئے آواز اٹھانے کا یہی وقت ہے،امیر جماعت اسلامی

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ فلسطینکے عوام کو بچانے کا یہی وقت ہے، 25 لاکھ کی آبادی اسرائیل اور امریکا کے سامنے کھڑے ہے،سیالکوٹ میں "لبیک یا فلسطین یوتھ کنونشن” سے خطاب میں سراج الحق نے کہا کہ آج سے 76 سال قبل اسرائیل کا وجود نہیں تھا غزہ کا وجود تھا۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جتنی بمباری امریکا نے افغانستان میں کئی سالوں میں کی، اُتنی اسرائیل نے چند دنوں میں کی ہے۔ سداُن کا کہنا تھا کہ یہ اہل فلسطین ہی ہیں، جنہوں نے پتھر اور غلیل اٹھا کر اسرائیل کا مقابلہ کیا۔دوسری جانب سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس سے عملاً ثابت ہوگیا یہ سقوط غزہ کا انتظار ہورہا ہے ۔ اپنے بیان میں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ او آئی سی اجلاس اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کے اعلان کے بغیر ختم ہوگیا۔ تجارتی، سفارتی، معاشی بائیکاٹ تک کا فیصلہ نہ کر سکے۔
    سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں ایران، ترکیہ اور الجزائر کی تجاویز آئیں۔ پوری صورتحال میں واحد مسلم ایٹمی ملک پاکستان غائب ہے، اجلاس میں پاکستان کی کسی تجویز کا ذکر نہیں، پاکستان خاموش ہے۔ مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ نگراں وزیراعظم نے کسی فلسطین ریلی سے خطاب کیا نہ کوئی پریس کانفرنس کی۔

  • مسجد میں فائرنگ کا واقعہ پاکستان میں دہشتگرد حملے کی کوشش تھی،آئی جی پنجاب

    مسجد میں فائرنگ کا واقعہ پاکستان میں دہشتگرد حملے کی کوشش تھی،آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نےڈی پی او سیالکوٹ کے ہمراہ امام مسجد سمیت دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ریکارڈ اور جیوفینسنگ ریکارڈ سمیت دہشتگردوں کا ریکارڈ عدالت پیش کرنے جا رہے ہیں

    آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ سہولت کار ، ریکی کرنے والے اور تین شوٹرز کو پکڑ لیا ہے ،عالمی برادری کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام سیکیورٹی ادارے اور ایجنسیوں نے وہ تمام ثبوت حاصل کیے ہیں جو دہشت گردی کی اس واردات میں سامنے آئے ،پنجاب پولیس سی ٹی ڈی کے ساتھ بیٹھ کر یہ بتانے لگا ہوں، پاکستان کے اندر دہشتگردی کی کاروائی کی گئی ہے ،یہ ہینڈل کی گئی دنیا کی اس بدنام زمانہ ایجنسی کی طرف سے جو پوری دنیا میں لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہی ہے ، پولیس اور آئی ایس آئی سمیت دیگر اہم ایجنسیوں نے دہشتگردی کو 24 گھنٹوں میں ٹریس کی،سیالکوٹ کے اندر امام مسجد کو شہید کیا گیا،ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی نے مل کر فوری دہشتگردوں کو ٹریس کیا ہے،سیالکوٹ کی مسجد میں فائرنگ کا واقعہ پاکستان میں دہشتگرد حملے کی کوشش تھی، پلاننگ باہر بنی، ملوث دہشتگرد پکڑ لئے، جو چوہے پاکستان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں وہ تیار رہیں، پوری دنیا میں آپ کو بے نقاب کرنے جا رہے ہیں،دشمن ملک اپنی بدنام ایجنسی کے ذریعے کارروائی کرنا چاہتا ہے، ،ملزمان کو پکڑ لیا، عدالتوں میں پیش کریں گے،ہمارا واضح پیغام ہے ہمارے ادارے دنیا میں امن کیلئے کام کریں گے،پاکستان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے وہ سب بے نقاب ہوئے،پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی باہر سے فنانس کی جاتی ہے،پاکستان کی ریاست پر حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں،

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار

    فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

    فون پر برا بھلا کہنے کی رنجش پر امام مسجد قتل کر دیا گیا

     خواجہ سرا امام مسجد کیس میں عدالت نے ملزم کو جیل بھجوا دیا

  • نواز شریف کو ہٹایا نہ جاتا تو آج حالات محتلف ہوتے،خواجہ آصف

    نواز شریف کو ہٹایا نہ جاتا تو آج حالات محتلف ہوتے،خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا اور حکومت تباہی کا دور تھا،

    سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف دور میں دہشتگردی ختم ہوئی ، لوڈشیڈنگ پر قابو پایا،نواز شریف کے دور میں کرپشن کا انڈیکس نیچے گیا، نواز شریف واپس آرہے ہیں ، چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، نواز شریف کے راستے میں ہمیشہ دیواریں کھڑی کی گئیں، نواز شریف کی بیٹی کیساتھ جو کچھ ہوا تاریخ کے حوالے کر دیا، نواز شریف ملک کو آئی ایم ایف سے نجات دلائے گا،نواز شریف ایک دو ملکوں سے ہوتے ہوئے آئیں گے، ایجنڈے کا پتہ نہیں،عوام کو بجلی اور گیس کے بحرانوں سے نجات ملے گی،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان تشریف لارہے ہیں ، پورے پاکستان میں تیاریاں جاری ہیں ، عوام اس وقت مہنگائی میں پس رہے ہیں، مہنگائی نے غریب آدمی کا جینا مشکل کردیا ہے ،مسلم لیگ ن کا 13 سے 18 تک کا دور بہترین دور تھا، میاں نواز شریف کو ہٹایا نہ جاتا تو آج حالات محتلف ہوتے ،جن لوگوں نے 18 کا الیکشن مینج کیا ان کو 11 روپے کا بجلی کا یونٹ اچھا نہیں لگتا، سیالکوٹ ۔آج ایک یونٹ 55 روپے کا ہے ،جس کو تحفہ سمجھ کر لائے وہ ان کے گلے پڑگیا،پاکستان کی تاریخ میں نواز شریف سے اپیل کا حق بھی لے لیا گیا،ایسا سلوک تو بدترین ملزموں کیساتھ بھی نہیں کیا گیا،ملک پر کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا تھا، پی ٹی آئی کا 4 سالہ دور تباہی کا تھا،

    شہبازشریف سےحلقے کے عمائدین کی ملاقات ہوئی

    مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کا مشاورتی اجلاس 

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    پارٹی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے اسلام اباد کے بجائے لاہور آنے کا فیصلہ کیا ، ،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • نواز شریف کا استقبال،سیالکوٹ سے ساڑھے سات ہزار بندہ لائینگے،سائرہ افضل تارڑ

    نواز شریف کا استقبال،سیالکوٹ سے ساڑھے سات ہزار بندہ لائینگے،سائرہ افضل تارڑ

    سیالکوٹ۔ن لیگی رہنما سائرہ افضل تارڑ اور خواجہ محمد آصف نے پارٹی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اکیس اکتوبر کو میاں نواز شریف کو خوش آمدید کے حوالے سے جوش و ولولہ بڑھ رہا ہے۔سارے پروگرام کو ملکی سیاست کا بڑا ایونٹ سمجھتے ہیں،اکیس اکتوبر کے حوالے سے گوں مگوں کی کیفیت ختم ہورہی ہے ،جب مشرف نے میاں صاحب کو جلاوطن کیا تو میاں صاحب نے لینڈ کیااور انہیں دوبارہ واپس بھیج دیا گیا ، دوسری بار 2018 کے الیکشن کے وقت میاں نوازشریف بیٹی سمیت واپس آئے،میڈیا کو عوام میں آکر دیکھنا چاہئےکہ عوام میڈیا ہاٶسز میں نہیں گلی محلوں میں بستی ہے۔

    سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ میاں نوازشریف کی آمد کے موقع پر تمام ورکرز کو جلسے میں شرکت کے لیے ٹارگٹ دیا گیا ہے۔اللہ کے فضل سے یہ کلئیر ہے کہ میاں صاحب واپس آرہے ہیں, سیالکوٹ ضلع کو پانچ ہزار کا ٹارگٹ دیا گیا ہے ،فی پی پی حلقہ پانچ سو افراد کا ٹارگٹ دیا گیا ہے ،این اے کے امیدوار کو بھی پانچ پانچ سو افراد کو لیجانا ہوں گے۔اسطرح سیالکوٹ ضلع سے استقبال کے لیے جانیوالے افراد کی تعداد ساڑھے سات ہزار ہو گی۔ پی ڈی ایم کے سابقہ جلسے میں لوگوں کی تعداد پی ٹی آئی کے جلسے سے زیادہ تھی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان واپس پہنچیں گے ، ن لیگ کی جانب سے انکے استقبال کی بھرپور تیاریاں کی جا رہی ہیں، اس ضمن میں کمیٹیاں بھی قائم کر دی گئی ہیں، نواز شریف مینار پاکستان جلسہ کریں گے، ایئر پورٹ سے وہ مینار پاکستان پہنچ کر کارکنان کو نیا بیانیہ دیں گے،

    مینار پاکستان جلسے کے لیے مسلم لیگ ن کی نئی حکمت عملی

    مبشر لقمان کا نواز شریف کو گھر بدلنے کا مشورہ

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

     نوازشریف کی لندن سے پاکستان واپسی کے لیے ٹکٹ بک کرالی گئی

    نواز شریف کی تصویر کے سائز کے برابر کسی اور کی تصویر نہیں لگے گی

  • سارہ شریف قتل کیس: والد، سوتیلی والدہ اور چچا پکڑے گئے

    سارہ شریف قتل کیس: والد، سوتیلی والدہ اور چچا پکڑے گئے

    برطانیہ میں قتل کی جانے والی 10 سارہ شریف کے پاکستان میں روپوش والد عرفان شریف، سوتیلی والدہ بینش بتول اور چچا فیصل پکڑے گئے۔

    باغی ٹی وی: پولیس ذرائع کے مطابق تینوں کو گزشتہ رات سیالکوٹ سے گرفتار کیا گیا، فی الحال پولیس گرفتاری کی تصدیق سے گریزاں ہے پولیس نےگزشتہ روز جہلم میں عرفان کے والد کے گھر سے بازیاب کرائے جانے والے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو لاہور بھیجا تھا۔

    پولیس کو پولش والدہ کی بیٹی سارہ کی لاش 10 اگست کو گھر سے ملی تھی اور اُس نے تصدیق کی تھی کہ خاندان کے تین افراد بچوں کے ہمراہ لاش ملنےسے ایک دن پہلے پاکستان فرار ہو گئے تھے دس سالہ سارہ شریف کو اس کے والد نے ہی قتل کیا جس کی تلاش میں برطانیہ کی ایجنسیز پاکستان کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔

    لیبیا میں طوفان اورسیلاب سےاموات میں اضافہ،سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

    برطانوی پولیس کو سارہ کی موت کے حوالے سے 41 سالہ والد نے فون کیا تھا جو اپنی 29 سالہ اہلیہ بینش بتول اور اپنے 28 سالہ بھائی فیصل مالی کے ساتھ برطانیہ میں پوچھ گچھ کرنے سے پہلے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

    چند دن قبل بینش بتول نے اپنے شوہرعرفان شریف کے ساتھ ایک ویڈیو شیئرکرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سارہ کی موت معمول کا واقعہ تھا بینش کےمطابق پاکستان میں ہماری فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے، ہم اس لیے چھپے ہوئے ہیں کہ پولیس یا تشدد کرے گی یا پھر ہمیں ماردے گی سوتیلی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ قتل کی تحقیقات میں برطانوی اتھارٹیز سے بھی تعاون کرنے کےلیے تیارہیں۔

    خواتین کیلئے مناسب عمرہ لباس کے حوالے سے ضابطہ جاری کر دیا

    قبل ازیں سارہ کے چچا عمران شریف نے بھی پاکستان میں پولیس کو بتایا تھا کہ خاندان کا مؤقف یہ ہے کہ سارہ گھر میں سیڑھیوں سے نیچے گر گئی تھی جس کے سبب اس کی گردن ٹوٹ گئی تھی، بینش نے گھبرا کر عرفان کو فون کیا تاہم سرے پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ سارہ کے جسم پر کئی گہرے زخم تھے جو کہ ممکنہ طور پر طویل عرصے سے موجود تھے۔

  • پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی

    پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی

    پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب، کہانی نویس، ناول نگار، ڈراما نگار، مصنف اور ایڈیٹر گربخش سنگھ پریت لڑی۔(1895ء تا 1977ء)
    سردار گوربخش سنگھ 26 اپریل 1895ء کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر سات برس تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ سیالکوٹ سے میٹرک کے بعد ایف سی کالج، لاہور میں داخلہ لیا۔ معاشی مشکلات کی وجہ سے کالج کے ساتھ ساتھ 15 روپے ماہوار میں ایک مختصر وقت کے لیے کلرک کی نوکری شروع کردی۔ بعد میں 1913 میں تھامسن سول انجینئری کالج، روڑکی سے ڈپلوما حاصل کیا۔ فوج میں بھرتی ہوکر عراق اور ایران گئے۔ 1922 امریکا میں مشی گن یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر واپس آئے اور ایک ریلوے انجینئر کے طور پر ملازم ہوئے۔

    پریت لڑی
    ۔۔۔۔۔۔
    پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب انجینئرہونے کے ساتھ ساتھ انھوں نے پنجابی ادب میں بھی طبع آزمائی کی اور اپنی الگ شناخت بنائی۔ 1933ء میں ماڈل ٹاؤن، لاہور سے پنجابی اور اُردو زبان میں ایک ماہانہ میگزین ‘‘پریت لڑی’’ کی اشاعت شروع کی جو لوگوں میں اتنا مقبول ہوا کہ آپ کا نام ہی ‘‘گربخش سنگھ پریت لڑی ’’پڑ گیا۔

    پریت نگر
    ۔۔۔۔۔۔
    1936ء میں انھوں نے لاہور اور امرتسر کے درمیان ‘‘پریت نگر ’’ یعنی محبت کرنے والوں کا شہر کے نام سے ایک شہر آباد کیا جو صرف ترقی پسند شاعروں، ادیبوں اور انسان دوست دانشوروں اور فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہی مختص تھا۔ برطانوی دور میں ‘‘پریت نگر’’ کو ترقی پسند ادیبوں اور سماجی انقلاب کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم، نُور جہاں (گلوکارہ)، بلراج ساہنی (اداکار)، شوبھاسنگھ (پینٹر)، اُپیندر ناتھ اشک، بلونت کارگی، کرتار سنگھ دُگل اور حمید اختر جیسے ادیب اس شہر کے باسی تھے۔ گربخش سنگھ ہر سال یہاں ادبی اجتماع منعقد کرتے جس میں برصغیر کے کونے کونے سے ادیب، شاعر اور دانشور شریک ہوتے۔ تقسیم ہند کے وقت جب یہ شہر بھی فسادات سے محفوظ نہ رہا تو گربخش سنگھ دل برداشتہ ہوکر دہلی چلے گئے۔ 1950ء کی دہائی میں واپس آئے اور ‘‘پریت لڑی ’’کو دوبارہ شروع کیا۔

    کہانی، ناول، ڈرامے، مضامین اور بچوں کے ادب پر آپ کی پچاس کے زائد کتب شائع ہوئیں۔ میکسم گورکی کے ناول ‘‘ماں ’’ کے پنجابی ترجمہ پر آپ کو سوویت نہرو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پنجابی ادب کا یہ معروف نام 20 اگست 1978ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن پریت لڑی اور پریت نگر ابھی تک پرانی روایات کے امین کے طور پر قائم دائم ہے-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    مجموعہ مضامین
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سانوی پدھری زندگی
    (ہموار زندگی)
    ۔ (2)پرسنّلمی عمر
    (اچھی طویل زندگی)
    ۔ (3)سوے پورنتا دی لگن
    (تکمیلِ خودی کی لگن )
    ۔ (4)اک دنیاں دے تیراں سپنے
    (ایک دنیا کے تیرا خواب)
    ۔ (5)نواں شوالہ
    (نیا شیوالہ)
    ۔ (6)زندگی دی راس
    (زندگی کا لب لباب)
    ۔ (7)پرم منکھ
    (بہترین انسان)
    ۔ (8)میرے جھروکھے چوں
    (میری کھڑکی سے باہر)
    ۔ (9)کھلھا در
    (کھولنے کی شرح)
    ۔ (10)پریت مارگ
    (محبت کے راستے)
    ۔ (11)فیصلے دی گھڑی
    (فیصلے کی گھڑی)
    ۔ (12)زندگی وارث ہے
    (زندگی وارث ہے)
    ۔ (13)خوش حال جیون
    (خوشحال زندگی)
    ۔ (14)نویاں تقدیراں دی پھُلّ کیاری
    (نئی تقدیر کی پھول کیاری)
    ۔ (15)ایہہ جگ ساڈا
    (ہماری جنگ)
    ۔ (16)اسمانی مہانندی (ترجمہ)
    (عظیم آسمانی خوشی)
    ۔ (17)زندگی دے راہ (ترجمہ)
    (زندگی کی راہ)
    خودنوشت اور یادداشتوں
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میریاں ابھلّ یاداں (1959)
    (میری ناقابل فراموش یادیں)
    ۔ (2)منزل دسّ پئی (1964)
    (دیکھی ہوئی منزل)
    ۔ (3)میری جیون کہانی
    (میری زندگی کی کہانی)
    ۔ (4)چٹھیاں جیتاں دے ناں
    (جیت کے نام خطوط )
    ناول
    ۔۔۔۔
    ۔ (1)انویاہی ماں
    (بن بیاہی ماں)
    ۔ (2)رکھاں دی جیراند
    (جیراند کا درخت)
    ۔ (3)ماں (ترجمہ)
    (ماں۔ میکسکم گورکی)
    کہانیوں کے مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ناگ پریت دا جادو (1940)
    (سانپ کی محبت جادو)
    ۔ (2)انوکھے تے اکلے (1940)
    (انوکھے اور اکیلے )
    ۔ (3)اسمانی مہانندی (1940)
    (عظیم آسمانی خوشی)
    ۔ (4)وینا ونود (1942)
    (وینا ونود)
    ۔ (5)پریتاں دی پہریدار (1946)
    (محبت کے پہرے دار)
    ۔ (6)پریت کہانیاں (1950)
    (رومانوی کہانیوں )
    ۔ (7)شبنم (1955)
    (شبنم)
    ۔ (8)بھابی مینا (1956)
    (بھابی مینا )
    ۔ (9)عشقَ جہناں دے ہڈیں رچیا
    (1959)
    (عشق جنوں نے عملی طور پر کیا)
    ۔ (10)زندگی وارث ہے (1960)
    (زندگی وارث ہے )
    ۔ (11)اک رنگ سہکدا دل (1970)
    (ایک رنگ سینکڑوں دل)
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راج کماری لتکا تے ہور پریت ڈرامے
    (شہزادی لتیکا اور دوسرے
    رومانوی ڈرامے)
    ۔ (2)پریت مکٹ (1922-23)
    (محبت کا تاج)
    ۔ (3)پورب-پچھم
    (مشرق و مغرب)
    ۔ (4)ساڈی ہونی دا لشکارا
    (ہمارے ہونے کی شان)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گلابی عینکاں
    (گلابی عینک)
    ۔ (2)پریاں دی موری
    (پریوں کا غار)
    ۔ (3)گلابو
    (گلابو)
    ۔ (4)مراداں پوریاں کرن والا کھوہ
    (مرادیں پوری کرنے والا کنواں)
    ۔ (5)جگاں پرانی گلّ
    (برسوں پرانی بات)

  • اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسلہ رک جاتا،خواجہ آصف

    اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسلہ رک جاتا،خواجہ آصف

    سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ان کی حکومت گئی

    ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ان کی حکومت گئی، اس شخص نے اتنی غلطیاں کیں جس کے ڈپریشن میں اس نے 9 مئی کا پلان بنایا، اس نے ریاست کو للکارا اس نے دشمنوں کی طرح کردار ادا کیا، اس شخص نے دفاع کے ضامن ادارے کو للکارا-

    انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تیاری کا تقریباً آغاز ہو چکا ہے، مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کی تقسیم کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گاہم نے نہایت ہی مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، ہمارے پاس چوائس تھی کہ فوری حکومت سنبھالتے ہی اسمبلیاں تحلیل کر دیتے، اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسلہ رک جاتا اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا، ایک ماہ کے اندر اسمبلی مدت پوری کرکے تحلیل ہو جائے گی۔

    خاکروب کی معمولی غلطی سے امریکی لیبارٹری میں 20 سال کی سائنسی تحقیق ضائع

    انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں ارب روپے کی بجلی، گیس اور ٹیکس چوری ہوتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک معاشی طور پر دربدر ہوتا رہےگا، ایسے ایسے شہر ہیں جہاں 82 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے سیاسی غلطیوں کی اس نے قیمت ادا کی اور حکومت چلی گئی، سیاست دانوں نے بےشمار غلطیاں کیں، اسٹیبلشمنٹ نے بھی غلطیاں کیں لیکن کسی پارٹی کا کوئی ورکر مفرور ہوتے نہیں دیکھا جس طرح ان کے لیڈران مفرور ہوئے، سیاسی ورکر عزت آبرو سے گرفتار ہوتا ہے تو اس کی چادر چار دیواری کا تقدس بھی رہتا ہے۔

    پی ٹی آئی چئیرمین اقتدارمیں رہنے کیلئےکوئی بھی سمجھوتا کرسکتے ہیں،خرم دستگیر