Baaghi TV

Category: سکھر

  • گھوٹکی: سیلاب سے سینکڑوں گاؤں زیرِ آب، متاثرین کا احتجاج، انتظامیہ پر غفلت کا الزام

    گھوٹکی: سیلاب سے سینکڑوں گاؤں زیرِ آب، متاثرین کا احتجاج، انتظامیہ پر غفلت کا الزام

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)گھوٹکی میں سیلاب سے سینکڑوں گاؤں زیرِ آب، متاثرین کا احتجاج، انتظامیہ پر غفلت کا الزام
    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی میں حالیہ سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں گاؤں پانی میں ڈوب گئے، درجنوں مکانات تباہ ہوئے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔ متاثرین نے انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی امداد نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا۔

    گاؤں جاڑو خان شیخ کے متاثرین نے مقامی رہنماؤں کمال مہر، نظیر احمد شیخ، جسقم شہید بشیر خان، اور میر حسن لاشاری کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ کے خلاف بھرپور مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ سیلاب کو کئی دن گزر جانے کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے ابھی تک کوئی امدادی کارروائی شروع نہیں کی۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی سے بچوں میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، اور مچھروں کی کثرت کے باعث ملیریا کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مویشی بھی بیمار ہو رہے ہیں، لیکن کوئی ڈاکٹر علاج کے لیے نہیں پہنچا۔ اس صورتحال نے ان کے مالی اور جانی نقصان کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    متاثرین نے حکومت سے فوری امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ
    * سیلاب زدہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں۔
    * متاثرین کو ادویات، خوراک اور عارضی رہائش فراہم کی جائے۔
    * جانوروں کے لیے بھی فوری طبی امداد کا بندوبست کیا جائے تاکہ ان کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

  • خانپور مہر: سکول کی چھت گرنے سے متعدد طلبہ زخمی

    خانپور مہر: سکول کی چھت گرنے سے متعدد طلبہ زخمی

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری)گھوٹکی کے علاقے خانپور مہر کے گاؤں احمد آباد میں ایک پرائمری اسکول کی چھت کا ایک حصہ گرنے سے کئی معصوم طلبہ زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے معمول کے مطابق کلاس میں مصروف تھے۔

    تفصیلات کے مطابق اچانک چھت کا ایک حصہ گر گیا جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ ملبے تلے دب گئے۔ فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور زخمی بچوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    سماجی رہنماؤں نے اس واقعے کو محکمہ تعلیم کی شدید غفلت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس سانحے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے اور انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واقعہ اسکولوں کی بوسیدہ عمارتوں اور ان کی دیکھ بھال میں غفلت جیسے اہم مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

  • گھوٹکی:سرکاری ایس اوز پیز نظرانداز،سکول پرنسپل نے بچوں کو گیٹ سے نکال دیا، والدین کا احتجاج

    گھوٹکی:سرکاری ایس اوز پیز نظرانداز،سکول پرنسپل نے بچوں کو گیٹ سے نکال دیا، والدین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار، مشتاق علی لغاری) انگلش پیپلز سکول (نزدِ وابڈا آفس، جی ٹی روڈ، رحمن والی پارک، گھوٹکی) جو موون فاؤنڈیشن اور سیف سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام چل رہا ہے، میں پرنسپل ایاز گل میمن کی SOP کی پاسداری کے نام پر تاخیر کرنے والے بچوں کو اسکول کے گیٹ کے باہر نکال دینے کے واقعے نے والدین میں تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    والدین کے مطابق آج پرنسپل نے بغیر والدین کو آگاہ کیے متعدد بچوں کو اسکول گیٹ سے باہر نکال دیا، جن میں تیسری کلاس کی ایک چھوٹی بچی، چھٹی کلاس کا ایک لڑکا اور آٹھویں کلاس کے دیگر بچے شامل ہیں۔ والدین نے بتایا کہ بچوں کو واپس بھیجنے کے وقت اسکول کے باہر رکشہ والا موجود نہیں تھا جو بچوں کو لے کر گیا تھا، جس کی وجہ سے بچے خطرناک سڑکیں اور ریلوے ٹریک کراسنگ کرکے گھر گئے۔ راستے میں بھٹکتا کتا یا کسی شرپسند کے حملے کا خدشہ نمایاں ہے۔

    والدین نے سوال اٹھایا کہ اگر سکول انتظامیہ والدین کو مطلع کیے بغیر بچوں کو باہر نکال دے تو کسی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ سکول کے روزگار قوانین یا SOP میں بچوں کی حفاظت اور والدین کو پیشگی اطلاع کے ضوابط شامل ہونے چاہئیں۔

    مقامی والدین نے پرنسپل ایاز گل میمن، اسکول مینجمنٹ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کڑی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، تا کہ بچوں کی حفاظت کو مقدم رکھا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ بچوں کو گیٹ کے باہر نہ چھوڑا جائے اور تاخیر کی صورت میں والدین کو فوری طور پر مطلع کرنے کا ضابطہ وضع کیا جائے۔

    اس واقعہ سے متعلق سکول پرنسپل کا مؤقف جاننےکیلئے رابطہ کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ سکا،اور سکول انتظامیہ واضح جواب نہ دے سکی.

  • گھوٹکی: آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو اضافہ، عوام سڑکوں پر آگئے

    گھوٹکی: آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو اضافہ، عوام سڑکوں پر آگئے

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار باغی ٹی وی مشتاق علی لغاری) گھوٹکی ضلع کے تمام تعلقوں میں آٹے کی قیمت میں 60 روپے فی کلو کے ظالمانہ اضافے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ خانپور مہر، میرپور ماتھیلو، ڈہرکی، اوباڑو، سرحد، گھوٹکی، جروار، یارو لنڈ اور داد لغاری میں شہریوں نے فلور ملوں کے سامنے مظاہرے کیے۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے آٹے کی قیمت 60 روپے فی کلو تھی، لیکن اب یہ بڑھ کر 120 سے 125 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے غریب اور مزدور طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

    شہریوں نے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی قلت اور ناجائز منافع خوری نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ایکشن لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔

  • گھوٹکی،سیلاب سے قادرپورگیس فیلڈ کے 10کنویں متاثر،گیس کی سپلائی معطل

    گھوٹکی،سیلاب سے قادرپورگیس فیلڈ کے 10کنویں متاثر،گیس کی سپلائی معطل

    ملک کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور دریائے سندھ میں پانی کے غیر معمولی اضافے کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ لاڑکانہ، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع میں ہزاروں افراد متاثر اور وسیع رقبہ زیرِ آب آگیا۔

    لاڑکانہ میں زمینداری بند میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے نتیجے میں سیلابی پانی کا تیز ریلا درگاہ ملوک شاہ بخاری میں داخل ہوگیا، جس کے بعد پانی تیزی سے زرعی زمینوں اور آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مقامی زمینداروں اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر شگاف بند نہ ہوا تو مزید سینکڑوں ایکڑ رقبہ اور درجنوں دیہات متاثر ہوسکتے ہیں۔ادھر گھوٹکی میں قادرپور گیس فیلڈ کے 10 کنویں سیلابی پانی سے متاثر ہوکر بند ہوگئے، جس کے باعث علاقے میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق گیس کی بندش سے ملکی سطح پر بھی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں آتے ہی متاثرہ کنوؤں کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    کشمور میں دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں اس وقت اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ فلڈ کنٹرول ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں پانی کا دباؤ سکھر بیراج تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گڈو بیراج کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔انتظامیہ کے مطابق اب تک کچے کے علاقوں سے 30 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں، تاہم درجنوں دیہات اب بھی زیرِ آب ہیں اور وہاں کے باسی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھوٹکی کی تحصیل جان محمد علی کے گردونواح میں کئی بستیاں ڈوب گئی ہیں جبکہ متاثرین کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر انخلا کا عمل تیز نہیں ہوا، جس کی وجہ سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو نہ صرف زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ گیس اور بجلی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • گھوٹکی اور اوباڑو کا کچا زیرِ آب آنے کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ کا الرٹ جاری

    گھوٹکی اور اوباڑو کا کچا زیرِ آب آنے کا خدشہ، ضلعی انتظامیہ کا الرٹ جاری

    گھوٹکی ایٹ میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی اور اوباڑو کے کچے کے علاقے میں سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گڈو اور سکھر بیراج سے پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔

    پاک نیوی کی ٹیم کشتیوں کے ذریعے کچے کے علاقوں میں جا کر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کچے کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ضروری سامان اور مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات یا ضلعی انتظامیہ کے قائم کردہ ریلیف کیمپس میں چلے جائیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ ریلیف کیمپوں میں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہیں۔ متاثرین کو خیمے، مچھردانیاں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ حفاظتی بندوں پر پاک نیوی، ریسکیو 1122 اور ریونیو کا عملہ موجود ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے کشتیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں رہائشی کنٹرول روم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اوباڑو کے کچے کے رہائشیوں کے لیے کنٹرول روم کا نمبر 0723667187 ہے جبکہ گھوٹکی کے رہائشیوں کے لیے نمبر 0723924020 ہے۔ اس کے علاوہ ضلعی کنٹرول روم کے نمبر 0723661799 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  • پنجاب کے عوام ابھی تک امداد کے منتظر ہیں،بلاول

    پنجاب کے عوام ابھی تک امداد کے منتظر ہیں،بلاول

    چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بات ہونے کے باوجود سیلاب متاثرین کی امداد میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    سکھر میں میڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے وزیرا‏عظم شہباز شریف سے بات کی تھی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد پہنچائی جائے لیکن 2 ہفتے گزرنے کے بعد بھی پنجاب کے عوام ابھی تک امداد کے منتظر ہیں،میں وفاق سے سندھ کےعوام کے لیے بھی یہی درخواست دہراؤں گا، سیلاب سے ڈيڑھ ارب ڈالرز کا نقصان ہوگا لہٰذا ملک بھر میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے، پیپلزپارٹی ڈیمز کی حمایت کرتی ہے لیکن دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کے شوشے کیوں چھوڑے جا رہے ہيں ، سیلاب گزرنے کے بعد متنازع ایشوز پر بات کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے بجلی بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

  • گھوٹکی :ڈی سی کا حفاظتی بندوں کا دورہ، سیلابی صورتحال کا جائزہ

    گھوٹکی :ڈی سی کا حفاظتی بندوں کا دورہ، سیلابی صورتحال کا جائزہ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ضلع کے مختلف حفاظتی بندوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ ان کے دورے میں قادرپور لوپ بند، کچو بنڈی، شینک بند، اوباوڑو کنٹرول روم اور فون لانڈھی حفاظتی بند شامل تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی کہ کچے کے علاقے سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے خیمے، مچھر دانیاں اور دیگر بنیادی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فلڈ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گڈو بیراج پر 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے، لہٰذا کچے کے رہائشی اپنی حفاظت کی خاطر فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ ان کی دیکھ بھال اور سہولتوں کی فراہمی کی مکمل ذمہ داری لے گی۔

    منظور احمد کنرانی نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی کاموں کے لیے پاک نیوی اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ہمہ وقت تیار رہیں گی تاکہ متاثرین کو بروقت ریسکیو کیا جا سکے۔

    اپنے دورے کے دوران، ڈی سی گھوٹکی نے متاثرہ خاندانوں اور ان کے مویشیوں کے لیے قائم کردہ میڈیکل اور ویٹرنری کیمپس کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹروں اور لائیو اسٹاک کے عملے کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ متاثرین اور ان کے مویشیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔

    انہوں نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ بارشوں اور سیلابی ریلے سے حفاظتی بندوں کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر 24 گھنٹے کڑی نگرانی یقینی بنائیں۔

  • گھوٹکی: بارش ایمرجنسی نافذ، تمام محکموں کی چھٹیاں منسوخ

    گھوٹکی: بارش ایمرجنسی نافذ، تمام محکموں کی چھٹیاں منسوخ

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری) ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے ضلع میں متوقع شدید بارشوں کے پیشِ نظر ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کے تمام افسران اور عملے کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ محکمہ موسمیات کی اس پیشگوئی کے بعد کیا گیا ہے جس میں آئندہ چند دنوں میں گھوٹکی اور اس کے گرد و نواح میں تیز اور مسلسل بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق، محکمہ آبپاشی، لوکل گورنمنٹ، صحت، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، زراعت، اور سوشل ویلفیئر کا تمام عملہ اپنی ڈیوٹی پر موجود رہے گا اور کسی کو بھی ہیڈ کوارٹر سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    ڈی سی گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے واضح کیا ہے کہ بارش ایمرجنسی کے دوران کسی بھی افسر یا ملازم کی لاپرواہی کو سخت بدانتظامی سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داری سے گریز کرنے والوں کے خلاف نہ صرف انتظامی بلکہ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختلف محکموں کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

    آبپاشی محکمہ کو حفاظتی بندوں اور نہروں کے پشتوں کی کڑی نگرانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ سیلاب سے بچاؤ یقینی ہو۔

    لوکل گورنمنٹ کو نکاسی آب، صفائی ستھرائی اور مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    محکمہ صحت کو تمام اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ایمرجنسی میڈیکل سہولیات، ادویات اور عملہ ہر وقت تیار رکھنے کا کہا گیا ہے۔

    پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور متاثرہ علاقوں میں فوری ٹیمیں تعینات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    محکمہ زراعت کو فصلوں کو نقصان سے بچانے اور سوشل ویلفیئر کو متاثرین کی بحالی اور ریلیف سرگرمیوں کے لیے تیار رہنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو اطلاع دی جائے۔

  • میرپورماتھیلو: بارش کے بعد کئی دیہات کے راستے تباہ، عوامی نمائندے خاموش

    میرپورماتھیلو: بارش کے بعد کئی دیہات کے راستے تباہ، عوامی نمائندے خاموش

    میرپورماتھیلو ( باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق لغاری) حالیہ بارشوں نے ضلع گھوٹکی، تحصیل میرپورماتھیلو اور شہر جروار کے دیہی علاقوں کا نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ خاص طور پر کوپر کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری سمیت متعدد دیہات میں کچے راستے اور سڑکیں بارش کے پانی میں ڈوب گئی ہیں، جس سے آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

    عوام کا غصہ اور احتجاج
    علاقہ مکینوں نے مقامی نمائندوں کی نااہلی پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں، ایم این اے سردار علی گوہر خان مہر اور ایم پی اے سردار محمد بخش خان مہر نے بارش کے بعد عوامی مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ عوام کے مطابق، سڑکیں اور گاؤں کے راستے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں، مگر نمائندے عملی اقدامات کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    عوام کی مشکلات اور مطالبات
    سکول جانے والے بچے، مریض اور بزرگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ گاؤں کے لوگ کئی کئی گھنٹے گھروں میں محصور رہے، جبکہ کھیتوں اور گلیوں میں پانی جمع ہونے سے دیہی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اہل علاقہ نے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت سے فوری طور پر نکاسیٔ آب اور راستوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے منتخب نمائندوں نے اسی طرح چشم پوشی جاری رکھی تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔