Baaghi TV

Category: سکھر

  • خیرپور: غیرقانونی سیمینٹ فیکٹری پر چھاپہ، جعلی سیمینٹ اور سامان برآمد، فیکٹری سیل

    خیرپور: غیرقانونی سیمینٹ فیکٹری پر چھاپہ، جعلی سیمینٹ اور سامان برآمد، فیکٹری سیل

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری)خیرپور میں غیرقانونی سیمینٹ فیکٹری پر چھاپہ، جعلی سیمینٹ اور سامان برآمد، فیکٹری سیل

    تفصیل کے مطابق خیرپور میں ببرلو کے قریب مختیارکار خیرپور وقار سومرو کی سربراہی میں حساس اداروں اور محکمہ روینیو کی مشترکہ کارروائی میں نجی فیکٹری پر چھاپہ مارا گیا۔

    چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں جعلی سیمینٹ کی بوریاں اور سیمینٹ بنانے والا سامان برآمد کر لیا گیا۔ مختیارکار خیرپور نے بتایا کہ یہ جعلی اور غیرمعیاری سیمینٹ سندھ اور ملک کے مختلف علاقوں میں سپلائی کی جارہی تھی۔

    خفیہ اطلاع پر کی جانے والی اس کارروائی کے نتیجے میں غیرقانونی فیکٹری کو سیل کر دیا گیا، جبکہ فیکٹری مالک چھاپے کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس کی جانب سے اس کی تلاش جاری ہے۔

  • سکھر: ڈی آئی جی پولیس کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کا ڈسٹرکٹ بار کا دورہ

    سکھر: ڈی آئی جی پولیس کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کا ڈسٹرکٹ بار کا دورہ

    سکھر(باغی ٹی وی ،مشتاق لغاری کی رپورٹ) ڈی آئی جی پولیس کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کا ڈسٹرکٹ بار کا دورہ

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سکھر رینج، کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے ڈسٹرکٹ بار کا دورہ کیا۔ سابق صدر اور ممبر سندھ بار کونسل ایڈووکیٹ شفقت رحیم، جنرل سیکرٹری سندر خان چاچڑ، اور دیگر عہدیداران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈی آئی جی سکھر نے بار کے اراکین سے ملاقات کے دوران متعدد اہم امور پر گفتگو کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وکلا کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آرز میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور تمام متاثرین کی ایف آئی آر بلا تاخیر درج کی جائے۔ انہوں نے تفتیشی عمل کو میرٹ کی بنیاد پر شفاف بنانے اور تھانوں و دفاتر میں وکلا کے ساتھ بہتر رویہ اپنانے کی بھی تاکید کی۔

    ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ وکلا کے خلاف جھوٹی یا بوگس ایف آئی آر درج کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    انہوں نے سکھر رینج میں امن و امان کی بہتر ہوتی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن میں تیزی سے کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

    کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے ایڈووکیٹ شفقت رحیم، ایڈووکیٹ سندر خان چاچڑ، ایڈووکیٹ مختیار کٹپر، ایڈووکیٹ لالا آصف ذیشان، اور دیگر وکلا کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے استقبال کے ساتھ بہترین ماحول میں وکلا کے مسائل سننے اور بار کی جدید لائبریری کا دورہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔

    انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ڈسٹرکٹ بار اور پولیس مل کر مظلوم عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب کا انعقاد

    میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب کا انعقاد

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار) باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کے موقع پر میرپور ماتھیلو میں ایک شاندار کیک کٹنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر باغی ٹی وی کے نامہ نگار مشتاق علی لغاری، سید رحم شاہ، سید مظہر شاہ، حاجی شہزادو خان ،محمد لغاری، مہربان لغاری اور جبار لغاری نے شرکت کی اور سالگرہ کا کیک کاٹا۔

    تقریب کے شرکاء نے باغی ٹی وی کے سی ای او اور مشہور اینکر مبشر لقمان، ایڈیٹر ممتاز حیدر اعوان، انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی اور ہیڈ آفس کی پوری ٹیم کی صحافتی خدمات کو سراہا۔ مقررین نے کہا کہ باغی ٹی وی نے ہمیشہ کٹھن حالات میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر باغی ٹی وی کی جانب سے تحصیل رپورٹر مشتاق علی لغاری کو بہترین کارکردگی پر سرٹیفکیٹ دیا گیا جو مہربان لغاری کے ہاتھوں وصول کیا گیا۔ شرکاء نے باغی ٹی وی کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کیا اور مزید ترقی کی دعا کی۔

  • گھوٹکی: اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک مسائل، حل کے لیے تجاویز پیش

    گھوٹکی: اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک مسائل، حل کے لیے تجاویز پیش

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی( نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی،اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک مسائل، حل کے لیے تجاویز پیش

    تفصیل کے مطابق گھوٹکی کے اسٹیشن روڈ اور مہر بازار میں ٹریفک کے بڑھتے مسائل کے حل کے لیے شہریوں اور دکانداروں کی جانب سے قابل عمل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

    ون وے روڈ کے نفاذ کے ذریعے ٹریفک کے بہتر بہاؤ کے لیے اسٹیشن روڈ اور مہر بازار کو ون وے روڈ میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ واضح نشانات اور ہدایات فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام آسانی سے اس نظام کی پابندی کر سکیں۔

    رکشہ، کار، یا موٹر سائیکل چلانے والے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں، ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جرمانے سے حاصل ہونے والی رقم کو عوامی آگاہی مہمات پر خرچ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دکانداروں کو اپنی دکانوں کے سامنے پارکنگ یا غیر قانونی قبضے سے باز رکھنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فٹ پاتھ کو عوام کے لیے خالی رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ راہگیروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    اہم چوراہوں اور بازاروں میں ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    شہریوں کو ون وے نظام اور دیگر ٹریفک قوانین کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مہمات چلانے کی ضرورت ہے، تاکہ عوامی تعاون سے ٹریفک کے مسائل کو کم کیا جا سکے۔

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ گھوٹکی میں ٹریفک مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور شہریوں کو ایک محفوظ اور آرام دہ سفر فراہم کیا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی کارروائی، چوری شدہ بھینس اصل مالک کے حوالے

    میرپور ماتھیلو: گھوٹکی پولیس کی کارروائی، چوری شدہ بھینس اصل مالک کے حوالے

    میرپور ماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس کی کارروائی، چوری شدہ بھینس اصل مالک کے حوالے

    تفصیلات کے مطابق گھوٹکی میں تھانہ اے سیکشن پولیس نے ایک بہترین کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ بھینس برآمد کر کے قانونی کارروائی کے بعد اصل مالک کے حوالے کر دی۔

    ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ اے سیکشن گل محمد مہر اور ان کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے قادر پور کے علاقے سے چوری شدہ بھینس برآمد کی۔ یاد رہے کہ 24 نومبر 2024 کی رات نامعلوم چوروں نے تھانہ اے سیکشن کی حدود سے خان محمد ولد نور محمد کولاچی کی بھینس چوری کر لی تھی، جس کی رپورٹ متاثرہ شخص نے تھانے میں درج کروائی تھی۔

    پولیس ٹیم نے آرمی پبلک اسکول کے قریب سے چوری شدہ بھینس کی تلاش شروع کی اور کامیاب کارروائی کے بعد اسے بازیاب کر لیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد بھینس اصل مالک خان محمد کولاچی کے حوالے کر دی گئی۔

    مسروقہ بھینس کی واپسی پر مالک نے گھوٹکی پولیس کی کارکردگی کو سراہا اور ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور ایس ایچ او گل محمد مہر کا شکریہ ادا کیا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی نے پولیس ٹیم کی محنت اور کامیاب کارروائی پر شاباشی کا پیغام دیتے ہوئے ان کی کارکردگی کو سراہا۔ یہ کارروائی گھوٹکی پولیس کی عوامی مسائل کے حل میں ذمہ داری اور مستعدی کی عکاسی کرتی ہے۔

  • یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    یونان کشتی حادثہ،وزیراعظم، وزیر داخلہ،خارجہ کو نوٹس جاری

    سکھر،یونان میں حالیہ کشتی حادثے میں پاکستانی شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے ایڈیشنل سیشن جج نے اہم فیصلہ کیا ہے۔

    درخواست گزار کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومتی لاپرواہی کے سبب بے روزگار پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں 75 پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے، اور اس حادثے کے ذمہ دار حکومتی افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا کہ روہڑی تھانے میں حکومتی ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔اس معاملے پر ایڈیشنل سیشن جج ٹو سکھر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایس ایس پی سکھر کو 15 جنوری 2025 کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری کیا۔

    یونان کشتی حادثہ میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش میں کشتی کے حادثے کا شکار ہوئے۔ اس حادثے میں 75 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، جس کے بعد پورے ملک میں سوگ کی لہر دوڑ گئی اور عوامی سطح پر حکومت کی ذمہ داریوں کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے اس سنگین معاملے کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور دیگر متعلقہ حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق، اس فیصلے سے حکومتی سطح پر اس حادثے کی تحقیقات کی رفتار میں تیزی آ سکتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کی کوششیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں۔

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    یونان کشتی حادثہ،انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 10 گرفتار

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

  • گھوٹکی: بازار سکڑ گئے، ٹریفک پولیس غائب، شہری مشکلات کا شکار

    گھوٹکی: بازار سکڑ گئے، ٹریفک پولیس غائب، شہری مشکلات کا شکار

    گھوٹکی(باغی ٹی وی) بازار سکڑ گئے، ٹریفک پولیس غائب، شہری مشکلات کا شکار

    میرپورماتھیلو سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار مشتاق علی لغاری کی رپورٹ کے مطابق گھوٹکی کے بازار اور شاہراہیں بڑھتے ہوئے ٹریفک مسائل کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ٹریفک پولیس کی غیر موجودگی اور ناقص انتظامات کی وجہ سے بازاروں میں خریداری اور گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    چوراہے اور اہم راستے گھنٹوں جام رہتے ہیں، جس سے پیدل چلنے والے، ایمرجنسی مریض، اور ملازمت پیشہ افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ چوراہوں پر ٹریفک اہلکار تعینات کیے جائیں اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

  • سجاول: غیر ملکی سیاح جوڑے سے لوٹ مار کرنے والے ملزمان گرفتار

    سجاول: غیر ملکی سیاح جوڑے سے لوٹ مار کرنے والے ملزمان گرفتار

    سجاول میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ لوٹ مار کرنے والے دو ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ واقعہ پانچ روز قبل سجاول کے بائی پاس پر پیش آیا، جہاں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک غیر ملکی جوڑے کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیا گیا تھا۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیرِ داخلہ سندھ ضیاء لنجار، وزیرِ ثقافت و سیاحت ذوالفقار علی شاہ اور ڈی آئی جی حیدرآباد نے اس واردات کا سخت نوٹس لیا تھا۔ بعد ازاں، پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی اور دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان سے متاثرہ جوڑے کے دونوں موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں۔ تاہم، ایک ملزم ابھی تک مفرور ہے، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ایس ایس پی سجاول نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور امید ہے کہ مفرور ملزم کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری اور متاثرہ غیر ملکی جوڑے کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    یہ واردات سجاول کے ایک مشہور سیاحتی مقام پر پیش آئی، جہاں غیر ملکی جوڑا تفریحی مقاصد کے لیے آیا تھا۔ لوٹ مار کے بعد، متاثرہ جوڑے نے فوراً پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش شروع کی۔ پولینڈ سے تعلق رکھنے والے متاثرہ سیاح جوڑے نے واردات کے حوالے سے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سائیکلوں پر سجاول کی سڑکوں پر جا رہے تھے، جب اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار افراد نے انہیں گن پوائنٹ پر روکا اور ان سے موبائل فون چھین لیے۔ اس دوران ان کی تلاشی بھی لی گئی، جس سے وہ سخت پریشان ہو گئے۔ اس واردات کے بعد، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سجاول اور ٹھٹہ کے ڈی آئی بی انچارج کو معطل کر دیا تھا۔ ان کی معطلی کا فیصلہ اس بات پر مبنی تھا کہ اس کیس میں پولیس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تھی۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کی تلاش جاری ہے اور اس کیس میں مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے اس واردات کے پس منظر میں صوبے کے سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایات بھی دی ہیں تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    معلوم ہے ملک دشمنوں کو کون سے ممالک سہولت فراہم کررہے ہیں،وزیراعظم

  • میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    میرپور ماتھیلو: باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق علی لغاری) باغی ٹی وی کی خبر پر ڈی آئی جی سکھر کا فوری نوٹس، بااثر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے تھانہ سرحد میں مرتضیٰ کھوسو کے اغوا اور بہیمانہ تشدد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    گزشتہ روز باغی ٹی وی نے خبر شائع کی تھی کہ "مرتضیٰ کھوسو اغوا، بہیمانہ تشدد، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا، مقدمہ درج نہ ہوسکا”۔ اس خبر کے بعد ڈی آئی جی سکھر نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا۔

    ایف آئی آر میں کاشف ملک، سحر آفتاب نائچ، سلامت کلوڑ، مختیاراں شیخ، نادر مگنھار اور تین نامعلوم افراد کو ملزمان قرار دیا گیا ہے۔ گل کالونی کے رہائشی اور بینک ملازم مرتضیٰ کھوسو کو چند دن قبل اغوا کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی اور آدھی زبان کاٹ دی گئی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ابھی تک زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سحر آفتاب نائچ جو ایک پرائیویٹ ڈاکٹر ہیں اور میرپور ماتھیلو میں اپنا ہسپتال چلاتی ہیں، نے مرتضیٰ سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ مرتضیٰ کے انکار کے بعد ملزمہ نے اسے سبق سکھانے کے لیے یہ سنگین اقدام کیا۔

    مرتضیٰ کے اہل خانہ اور علاقے کے لوگوں نے مقدمہ درج نہ ہونے پر پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیاتھا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    میرپورماتھیلو: مرتضیٰ کھوسو اغوا، تشدد سے آنکھ ضائع، زبان کاٹ دی، مقدمہ درج نہ ہوا

    باغی ٹی وی کی خبر کے بعد ڈی آئی جی سکھر نے فوراً نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ عوام نے اس اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    یہ واقعہ علاقے میں خوف و ہراس کا باعث بن چکا ہے۔ شہریوں نے حکومت اور پولیس سے درخواست کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

  • میرپورماتھیلو: مرتضیٰ کھوسو اغوا، تشدد سے آنکھ ضائع، زبان کاٹ دی، مقدمہ درج نہ ہوا

    میرپورماتھیلو: مرتضیٰ کھوسو اغوا، تشدد سے آنکھ ضائع، زبان کاٹ دی، مقدمہ درج نہ ہوا

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری): مرتضیٰ کھوسو اغوا، بہمانہ تشدد، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا،مقدمہ درج نہ ہوسکا

    تفصیل کے مطابق میرپورماتھیلوکی گل کالونی کے رہائشی مرتضی کہوسہ، جو بینک میں کام کرتے تھے، چند دن قبل ایک بااثر شخص کے ہاتھوں اغوا ہو گئے۔ اغوا کے بعد انہیں بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور آدھی زبان بھی کاٹ دی گئی۔

    مرتضی کھوسو کو اغوا کے بعد شدید زخمی حالت میں کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ان کے علاج کے لئے میڈیکل لیٹر بھی فراہم کیا گیا ہے، لیکن گھوٹکی پولیس نے تاحال ان کے اغوا اور تشدد کے واقعے پر مقدمہ درج نہیں کیا۔

    مقامی ذرائع کے مطابق مرتضی کھوسوپر ہونے والا یہ ظلم کسی ذاتی تنازعے یا کاروباری مخالفت کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنا سوالات اٹھا رہا ہے۔

    مرتضی کے اہل خانہ اور مقامی افراد نےاحتجاج کرتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں انصاف کا حصول مشکل بن رہا ہے، خاص طور پر جب بااثر افراد اس طرح کے جرائم میں ملوث ہوں۔

    مرتضی کھوسو کےلواحقین نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہاور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متاثرہ شخص کو انصاف دلایا جائے۔