Baaghi TV

Category: سکھر

  • معصوم جنید لنڈ کے قاتل تاحال آزاد، جروار تھانے کے خلاف شدید احتجاج

    معصوم جنید لنڈ کے قاتل تاحال آزاد، جروار تھانے کے خلاف شدید احتجاج

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)میرپور ماتھیلو کے قریب یارو لنڈ کے گاؤں واحد بخش لنڈ کے مکینوں نے 14 سالہ معصوم جنید احمد لنڈ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر جروار تھانے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے پولیس کی مبینہ غفلت اور ملزمان کو تحفظ دینے کے خلاف نعرے بازی کی۔

    تفصیلات کے مطابق ایک ماہ قبل جروار تھانے کی حدود میں واقع گاجی مائنر کے قریب معصوم جنید احمد لنڈ کو اس کے والد کے سامنے بے رحمی سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    احتجاج کے دوران مقتول کے والد طالب حسین لنڈ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نامزد ملزمان اختر لنڈ اور دیگر افراد بااثر ہونے کے باعث یارو لنڈ شہر میں کھلے عام گھوم رہے ہیں، جبکہ گھوٹکی پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور گرفتاری سے گریز کر رہی ہے۔

    اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما خیر محمد لنڈ، جو خیرپور میرس سے تعلق رکھتے ہیں، نے مظاہرین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم بچے کا قتل گھوٹکی کے سرداروں اور ایس ایس پی گھوٹکی کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم جنید کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

    خیر محمد لنڈ نے خالد خان لنڈ، ایس ایس پی گھوٹکی اور دیگر بااثر افراد کو سات دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں انصاف فراہم نہ کیا گیا تو مولانا راشد محمود سومرو کی قیادت میں ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے سامنے بڑا دھرنا دیا جائے گا اور نیشنل ہائی وے کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔

  • سندھ بینک اوباڑو میں رشوت و تشدد کے الزامات، ہاری کا احتجاج

    سندھ بینک اوباڑو میں رشوت و تشدد کے الزامات، ہاری کا احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو سندھ بینک کے آپریشن منیجر اصغر ڈھر کے خلاف کرپشن، رشوت خوری اور تشدد کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ ہاری خان محمد لاڑک نے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ہاری کارڈ کے اجرا کا پیغام موصول ہونے کے بعد انہوں نے اوباڑو سندھ بینک سے رجوع کیا۔

    خان محمد لاڑک کے مطابق بینک کے آپریشن منیجر اصغر ڈھر نے ہاری کارڈ کی رقم دلوانے کے عوض 15 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ متاثرہ ہاری نے غربت اور مجبوری کا واسطہ دیا، تاہم منیجر نے واضح الفاظ میں کہا کہ رشوت دیے بغیر رقم نہیں ملے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ مجبوری کے تحت ادھار لے کر پہلے 10 ہزار روپے ادا کیے، مگر منیجر مطمئن نہ ہوا اور مزید رقم کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں مزید 4 ہزار روپے دینے پر کام ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی، لیکن رشوت لینے کے باوجود ایک ماہ تک بینک کے چکر لگوائے گئے۔

    متاثرہ ہاری کا کہنا ہے کہ جب تاخیر کی وجہ پوچھی گئی تو اصغر ڈھر نے سیکیورٹی گارڈ کو بلا کر انہیں دھکے دے کر بینک سے باہر نکلوا دیا، جس سے وہ زخمی بھی ہوئے۔

    خان محمد لاڑک نے سندھ حکومت، اعلیٰ حکام، بینک انتظامیہ، نیب اور اینٹی کرپشن اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اوباڑو سندھ بینک میں جاری مبینہ کرپشن کا فوری نوٹس لیا جائے، آپریشن منیجر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اسے فوری طور پر برطرف کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • سکھر: بدامنی کے خلاف جے یو آئی کی “امن بحال کرو تحریک”، احتجاجی مظاہرے

    سکھر: بدامنی کے خلاف جے یو آئی کی “امن بحال کرو تحریک”، احتجاجی مظاہرے

    خبر:
    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر کے امیر اور صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا ہے کہ ضلع سکھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، لاقانونیت اور قتل و غارتگری کے خلاف “امن بحال کرو تحریک” کا آغاز حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاجی تحریک کسی صورت ختم نہیں ہوگی اور ضلع میں امن و امان کی مکمل بحالی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر کی جانب سے تحریک “امن بحال کرو” کے سلسلے میں تھرمل پاور ہاؤس سٹی سکھر میں منعقد احتجاجی مظاہرے اور دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا محمد صالح انڈھڑ نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع سکھر میں بدامنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سڑکوں، بازاروں، گھروں، عوام و خواص حتیٰ کہ ججز اور پولیس اہلکار بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ احتجاجی مظاہرے ضلع سکھر کے 14 مختلف چھوٹے بڑے مقامات پر منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان کی بحالی کے لیے ایک مؤثر اور منظم عوامی آواز بلند کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ یہ تحریک فروری کے ابتدائی ایام میں دوسرے مرحلے میں داخل ہوگی اور احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

    احتجاجی مظاہرے اور دھرنے میں جمعیت علماء اسلام کے دیگر رہنماؤں میں حافظ عبد الحمید مہر، مولانا محمد عابد سندھی، قاری لیاقت علی مغل، مولانا امان اللہ سکھروی، قاری رفیق احمد بندھانی، قاری عبد الوحید مہر، مولانا عبدالرشید ٹانوری، مفتی عزیز اللہ چوہان، مفتی محمد اعظم مہر سمیت دیگر علماء کرام اور کارکنان نے شرکت کی۔

    شرکاء نے حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹھوس اور نتیجہ خیز کارروائیاں عمل میں لاتے ہوئے ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

  • میرپورماتھیلو:ٹنڈوٹبائی میں نواسی کا جہیز نذرِ آتش، محنت کش انصاف کے منتظر

    میرپورماتھیلو:ٹنڈوٹبائی میں نواسی کا جہیز نذرِ آتش، محنت کش انصاف کے منتظر

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی کے محلہ ٹنڈوٹبائی میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم شرپسندوں نے ایک گھر میں داخل ہو کر نواسی کا جہیز جلا دیا۔

    محنت کش عرفان عاربی کے مطابق نواسی کی مہندی اور رخصتی سے ایک دن قبل وہ تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر دیکھا تو گھر آگ کی لپیٹ میں تھا۔ شرپسند نواسی کے جہیز کے ساتھ ساتھ گھر میں موجود نقد رقم بھی لے اڑے۔

    متاثرہ محنت کش نے واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو درج کرا دی ہے اور اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ واقعے کے باوجود آج نواسی کی رخصتی ہے، جبکہ محنت کش شدید صدمے کی حالت میں انصاف کے لیے فریاد کر رہے ہیں۔

  • محمد پور روڈ پر یو ٹرن کی کمی، ٹریفک حادثہ، نوجوان شدید زخمی

    محمد پور روڈ پر یو ٹرن کی کمی، ٹریفک حادثہ، نوجوان شدید زخمی

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) محمد پور روڈ پر یو ٹرن نہ ہونے کے باعث ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کولاہی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان شدید زخمی ہو گیا۔

    ذرائع کے مطابق تیز رفتاری اور غلط موڑ کے دوران گاڑی کی ٹکر سے حادثہ پیش آیا۔ واقعے کے فوراً بعد زخمی نوجوان کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ محمد پور روڈ پر یو ٹرن نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز حادثات ہو رہے ہیں، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سڑک پر یو ٹرن، رفتار کنٹرول اور ٹریفک سیفٹی کے جامع انتظامات کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • میرپورماتھیلو:کچے کے جرائم پیشہ عناصر کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    میرپورماتھیلو:کچے کے جرائم پیشہ عناصر کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری)ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران نے کچے کے علاقے میں سرگرم جرائم پیشہ عناصر کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مقررہ وقت کے اندر تمام مغویوں کو رہا کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران نے کہا کہ کچے کے جرائم پیشہ عناصر پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر کی گئی تمام پوسٹس فوری طور پر ڈیلیٹ کریں، ورنہ قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور قانون شکن عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

    ایس ایس پی انور کھیتران کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف جلد فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف انڑ برادری اور شہریوں کا ایس ایس پی گھوٹکی آفس کے سامن احتجاج

    میرپور ماتھیلو: ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف انڑ برادری اور شہریوں کا ایس ایس پی گھوٹکی آفس کے سامن احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)میرپور ماتھیلو میں تنویر انڑ پر موٹر سائیکل چھیننے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے خلاف انڑ برادری اور شہر کے شہریوں نے ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے سامنے زوردار احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی، سڑک بلاک کر کے پولیس کی مبینہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ میرپور ماتھیلو اور اس کے گرد و نواح میں ڈکیتی، چوری اور مسلح جرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ پولیس امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ مظاہرین کے مطابق دن دیہاڑے مسلح ملزمان شہریوں سے موٹر سائیکلیں، موبائل فون اور نقدی چھین کر باآسانی فرار ہو جاتے ہیں، مگر پولیس انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

    انڑ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ تنویر انڑ پر فائرنگ کا واقعہ پولیس کی غفلت اور مؤثر گشت کے فقدان کا واضح ثبوت ہے۔ اگر شہر میں مناسب پولیس گشت اور چیکنگ کا نظام مؤثر ہوتا تو ایسے افسوسناک واقعات پیش نہ آتے۔ مظاہرین نے زخمی تنویر انڑ کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

    احتجاج میں شریک شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس واقعات کے بعد صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہے، جبکہ اصل ملزمان آزاد گھومتے رہتے ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اور شہر میں امن و امان بحال نہیں ہوتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

    مظاہرین نے ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ میرپور ماتھیلو میں بڑھتے ہوئے جرائم کا فوری اور سخت نوٹس لیا جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے اعلیٰ حکام تک آواز پہنچائی جائے گی۔

    دھرنے کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پولیس حکام مظاہرین سے مذاکرات کر کے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

  • ڈھرکی  میں پولیس مقابلہ، ایک ملزم زخمی حالت میں اسلحہ سمیت گرفتار، تین ساتھی فرار

    ڈھرکی میں پولیس مقابلہ، ایک ملزم زخمی حالت میں اسلحہ سمیت گرفتار، تین ساتھی فرار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)تھانہ ڈھرکی کی حدود میں پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ ڈھرکی صفیع اللہ انصاری پولیس اسٹاف کے ہمراہ دورانِ گشت مھانہ پل کے قریب گاؤں سائینڈنو ملک کے نزدیک پہنچے، جہاں واردات کی نیت سے کھڑے چار مسلح ڈکیتوں سے سامنا ہوا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔

    دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک ملزم شفیق احمد ولد منظور احمد چاچڑ، مستقل رہائشی گاؤں نورل چاچڑ تعلقہ پنو عاقل، حال رہائش رحموں والی گھوٹکی کو پولیس نے حکمتِ عملی کے تحت ایک پسٹل سمیت زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے دیگر تین ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔

    زخمی ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم چوری، رہزنی، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم کے قبضے سے بوقتِ گرفتاری ایک پسٹل برآمد کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سخت سرچ آپریشن جاری ہے۔

    گرفتار ملزم کا کرمنل ریکارڈ درج ذیل ہے:کرائم نمبر 165/2025، دفعات 450، 380 تعزیراتِ پاکستان، تھانہ ڈھرکی،کرائم نمبر 142/2025، دفعات 397، 392 تعزیراتِ پاکستان، تھانہ ڈھرکی،اس کے علاوہ ملزم ضلع سکھر کے تین مقدمات اور تھانہ اوباوڑو کے ایک مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔

    پولیس نے گرفتار اور فرار ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 07/2026، دفعات 324، 353 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ گرفتار ملزم سے اسلحہ برآمد ہونے پر اس کے خلاف کرائم نمبر 08/2026، دفعہ 24 سندھ آرمز ایکٹ کے تحت علیحدہ مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

  • جعلی پولیس مقابلہ، ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا

    جعلی پولیس مقابلہ، ایس ایچ او سمیت 10 اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا

    عدالت نے جعلی پولیس مقابلے کے ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے واضح پیغام دے دیا ہے۔ سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت جعلی پولیس مقابلہ کیس میں جرم ثابت ہونے پر بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او سمیت 10 پولیس اہلکاروں کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنا دی گئیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او کو 7 سال قید کے ساتھ 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جبکہ مقدمے میں نامزد ایک اے ایس آئی پر 7 سال قید کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ اسی کیس میں شامل دیگر 8 پولیس اہلکاروں کو بھی 7،7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ جعلی پولیس مقابلہ سنگین جرم ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد ایس ایچ او سمیت تمام سزا یافتہ پولیس اہلکار عدالت سے فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے اہلکاروں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ مقدمہ سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ پولیس اہلکاروں نے ایک شہری کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا۔ مقتول کی والدہ کی مدعیت میں بی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سخت سزا سنائی، جسے انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • نوجوان وکلا عدلیہ اور قوم کا مستقبل ہیں، کامیابی محنت اور ایمانداری سے ممکن ہے: چیف جسٹس سندھ

    نوجوان وکلا عدلیہ اور قوم کا مستقبل ہیں، کامیابی محنت اور ایمانداری سے ممکن ہے: چیف جسٹس سندھ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) چیف جسٹس آف سندھ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ڈسٹرکٹ بار گھوٹکی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان وکلا عدلیہ اور قوم کا مستقبل ہیں۔ آج میں چیف جسٹس ہوں، کل کوئی اور ہوگا، یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ کامیابی کے لیے نوجوان وکلا کو ایمانداری، محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

    اس موقع پر باغی ٹی وی کے نامہ نگار مشتاق علی لغاری بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس سندھ نے کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹل دور ہے اور نوجوان وکلا کے پاس ہمارے وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مواقع موجود ہیں۔ گوگل کے اس دور میں قانونی مواد موبائل فون پر دستیاب ہے، اس لیے وقت کی قدر کریں اور مسلسل سیکھتے رہیں، کیونکہ مستقبل نوجوانوں کا ہے۔

    چیف جسٹس سندھ نے کہا کہ سرحدی اضلاع میں امن و امان کے مسائل درپیش ہیں، اور جہاں بدامنی ہو وہاں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے اور نہ ہی سرمایہ کاری آتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی کو ہدایت کی کہ امن و امان کی صورتحال پر انتظامیہ کے ساتھ اجلاس منعقد کریں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل افسران کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے اور بہت جلد ججز کی کمی پوری کر دی جائے گی۔ چیف جسٹس سندھ نے حکم دیا کہ گھوٹکی ضلع کی عدالتوں میں ایک ہفتے کے اندر کلرک اور لوئر اسٹاف کی بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے۔

    چیف جسٹس نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے وژن کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میرپور ماتھیلو، ڈہرکی اور اوباوڑو کی سول کورٹس، ڈسٹرکٹ بار اور تعلقہ بار کو دو مراحل میں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں آر او پلانٹ، ای لائبریری اور 6، 6 کلو واٹ کے سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ڈسٹرکٹ بار کو بھی بنیادی سہولیات مہیا کی جائیں گی تاکہ وکلا کو بہتر اور سازگار ماحول میسر آ سکے۔