Baaghi TV

Category: سکھر

  • میرپورماتھیلو:جروار کے گاؤں میں بارش بنی ابر زحمت،راستے بند، عوام محصور،نمائندے غائب

    میرپورماتھیلو:جروار کے گاؤں میں بارش بنی ابر زحمت،راستے بند، عوام محصور،نمائندے غائب

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں حالیہ بارشوں کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ موسلادھار بارش کے باعث گاؤں کی تمام کچی گلیوں اور سڑکوں میں ایک سے ڈیرھ فٹ پانی کھڑا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور وہ گھروں میں محصور ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے بتایا کہ سردی کے موسم میں کھڑا پانی چلنے پھرنے میں شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ بزرگ، بچے اور خواتین روزمرہ ضروریات کے لیے بھی گھروں سے نکلنے سے قاصر ہیں۔ گندے پانی کی موجودگی سے نزلہ، بخار، کھانسی اور دیگر خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے والدین خوف زدہ ہیں۔

    مقامی لوگوں کے مطابق کچی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور کیچڑ، بدبو اور گندگی نے ماحول کو مزید آلودہ کر دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، میونسپل ادارے اور منتخب نمائندوں پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ شکایات اور درخواستوں کے باوجود کسی بھی ذمہ دار نے گاؤں کا دورہ نہیں کیا۔

    گاؤں خدا بخش لغاری کے رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی اور صورتحال ناقابلِ برداشت ہو جائے گی۔

  • میرپور ماتھیلو: نو روز سے اندھیرا، جروار سے بجلی مستقل غائب کردی گئی، شہری شدید متاثر

    میرپور ماتھیلو: نو روز سے اندھیرا، جروار سے بجلی مستقل غائب کردی گئی، شہری شدید متاثر

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)گھوٹکی تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور گرد و نواح میں بجلی کے بحران نے ایس ڈی او واپڈا کے ظالمانہ رویے کے باعث سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ نو روز سے مسلسل اندھیرے میں ڈوبے ہوئے شہریوں کو اس وقت شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا جب بجلی بحال کرنے کے بجائے محض چند لمحوں کے لیے بجلی کے جھٹکے دے کر دوبارہ بند کر دی گئی۔ اس صورتحال پر ایس ڈی او میرپور ماتھیلو کی جانب سے مبینہ طور پر یہ تکبرانہ پیغام دیا گیا کہ بجلی ان کی ذاتی مرضی سے چلے گی اور جب وہ چاہیں گے تب ہی فراہم کی جائے گی۔ افسران کی اس کھلی من مانی اور عوامی حقوق کی پامالی نے جروار کے شہریوں کا صبر لبریز کر دیا ہے، جو پہلے ہی کاروبار کی بندش، پانی کی قلت اور زرعی نقصانات کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔

    نو دن گزرنے کے باوجود بجلی کی مستقل بحالی نہ ہونا محکمہ واپڈا کی نااہلی اور عوامی دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس نے جروار کی مارکیٹوں کو ویران اور صنعتی یونٹس کو بنجر بنا دیا ہے۔ رات کے وقت مکمل بلیک آؤٹ کے باعث شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ اعلیٰ حکام کی خاموشی نے ایس ڈی او جیسے افسران کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ عوام نے سندھ حکومت اور سکھر ڈویژن کے اعلیٰ بجلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ڈی او میرپور ماتھیلو کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے اور بجلی کی فراہمی کو فی الفور یقینی بنایا جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ناروا سلوک بند نہ ہوا تو وہ ضلعی ہیڈ کوارٹر گھوٹکی میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور دھرنا دیں گے جس کی ذمہ داری براہ راست انتظامیہ پر ہوگی۔

  • میرپور ماتھیلو: ایس ڈی او کی غفلت سے جروار اور مضافات 8 روز سے اندھیرے میں ڈوب گئے

    میرپور ماتھیلو: ایس ڈی او کی غفلت سے جروار اور مضافات 8 روز سے اندھیرے میں ڈوب گئے

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری( ایس ڈی او کی غفلت سے جروار اور مضافات 8 روز سے اندھیرے میں ڈوب گئے

    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو میں محکمہ بجلی کے افسران کی مبینہ غفلت اور نااہلی کے باعث شہر جروار اور اس کے گرد و نواح کے درجنوں دیہات گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بجلی سے محروم ہیں، جس نے عوامی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ آٹھ روز گزرنے کے باوجود بجلی کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کیے جانے پر شہریوں اور دیہاتیوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو چکا ہے اور علاقے میں شدید اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بجلی کی طویل بندش کے باعث جروار شہر کی مارکیٹیں ویران اور کاروباری مراکز بند ہو چکے ہیں، جبکہ دیہاتوں میں پانی کی شدید قلت اور زرعی سرگرمیاں معطل ہونے سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ رات کے وقت مکمل اندھیرے کے باعث عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، مگر ایس ڈی او میرپور ماتھیلو اور دیگر متعلقہ حکام نے اس سنگین صورتحال پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

    علاقہ مکینوں اور تاجر برادری نے ضلعی انتظامیہ گھوٹکی اور بجلی حکام کے خلاف سخت احتجاج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افسران کی ناکامی کی سزا عوام کو دی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تحصیل میرپور ماتھیلو سے جروار کو آنے والی بجلی کی فراہمی فوری بحال کی جائے اور آٹھ روز تک عوام کو اذیت میں رکھنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر بجلی بحال نہ ہوئی تو وہ ضلعی ہیڈکوارٹر گھوٹکی میں مرکزی شاہراہوں پر دھرنا دیں گے اور احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ سندھ، چیف سیکریٹری اور صوبائی وزیر توانائی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین بحران کا فوری نوٹس لیں اور میرپور ماتھیلو کے بجلی افسران کو عوام کی جان بوجھ کر تذلیل کرنے پر جوابدہ ٹھہرائیں۔

  • طلبہ نے عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے،بلاول

    طلبہ نے عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، سندھ کے تعلیمی اداروں میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

    شہید بےنظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے 7ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صرف اسناد کی تقسیم کا دن نہیں، بلاتعطل علاج کی فراہمی بھی ہے، فارغ التحصیل طلبہ نے اب عملی زندگی میں قوم کی خدمت کرنی ہے، آپ نے اپنے صوبے کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینی ہیں، مشکل گھڑی میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف قوم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں، آپ نے بلاتفریق انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہے، ہمیں صحت کے شعبے میں مکمل تیار رہنا چاہیے، ملک کو جب بھی کسی دباؤ کا سامنا ہوا ہمارے ڈاکٹرز اور نرسوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، ادارے صرف بلڈنگ اور جدید مشینری سے کامیاب نہیں ہوتے، جب آپ آئیں گے اور کام کریں گے تو ادارے کامیاب ہوں گے، آپ اچھے ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بننے کے لیے بھی محنت کریں،لاڑکانہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ یہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے، صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، ہیلتھ کیئر سسٹم میں بہتری ہماری ترجیح ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں اقدامات کیے گئے۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بےنظیر بھٹو نے 1989 میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا تھا جو 2009 میں مکمل ہوا۔ چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد 1973 میں رکھی گئی تھی، چیئرمین پیپلز پارٹی کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنی والدہ کے خواب کو پورا کیا، ڈاکٹرز کی کمٹمنٹ سے علاج ممکن ہے، صرف انفرا اسٹرکچر سے علاج ممکن نہیں، یہ ڈگری صرف آپ کی نہیں ان مریضوں کی اُمید ہے جن کا آپ علاج کریں گے۔

  • بینظیر بھٹو کی برسی،ن لیگی وفد سکھر پہنچ گیا

    بینظیر بھٹو کی برسی،ن لیگی وفد سکھر پہنچ گیا

    سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر شرکت کے لیے اعلیٰ سطح کا حکومتی وفد سکھر پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر یہ وفد برسی کی مرکزی تقریب میں شرکت کرے گا اور شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرے گا۔

    حکومتی وفد کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں، جبکہ وفد میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور متعدد اراکین قومی اسمبلی شامل ہیں۔ وفد اپنے دورے کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سے ملاقاتیں بھی کرے گا، جن میں ملکی سیاسی صورتحال، جمہوری استحکام اور قومی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔برسی کی تقریب کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ہم پاکستان کی عظیم بیٹی، پہلی خاتون وزیراعظم اور جمہوریت کی علمبردار محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں خواتین کے کردار کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور سیاست میں خواتین کی نمائندگی کو ایک نئی جہت دی۔

    سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو شہید نے پاکستان میں رواداری، برداشت، قانون کی حکمرانی اور عوامی فلاح کے اصولوں کو فروغ دیا۔ انہوں نے جمہوری اقدار کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور ہمیشہ عوامی حقوق، سماجی انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی۔ برسی کی تقریبات کے دوران قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے شہید رہنما کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا جا رہا ہے۔

  • میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری):جروار تھانے پر بالادستی کے دعوؤں نے علاقے کی صورتحال کو تشویشناک حد تک کشیدہ بنا دیا ہے، جہاں بوزدار اور گبول برادری آمنے سامنے آ گئی ہیں اور دونوں جانب سے تھانے پر اپنی اپنی “حکومت” قائم ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے نہ صرف پولیس کی غیر جانبداری بلکہ ریاستی رٹ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق، بوزدار برادری کا مؤقف ہے کہ جروار تھانے پر ان کا اثر و رسوخ تسلیم کیا جائے، جبکہ گبول برادری بھی یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ تھانے کا کنٹرول ان کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کشمکش نے علاقے میں بے چینی کو جنم دے دیا ہے اور عوام میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ آیا تھانے قانون کے ماتحت ہیں یا قبائلی جاگیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ اگر ہر برادری اپنی مرضی کا نظام نافذ کرے گی تو قانون کی حکمرانی کہاں باقی رہے گی؟

    دوسری جانب، گاؤں میر خان گبول کے رہائشیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں نے جروار کے مین چوک پر کئی گھنٹوں سے دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ جب تک متعلقہ پولیس اہلکار دھرنے کی جگہ پر آ کر عوام سے معافی نہیں مانگتے، اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

    دھرنے کے باعث جروار مین چوک پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو چکی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حالات میں مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    علاقے کے باشعور شہریوں، وکلا اور سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی گھوٹکی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

    عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ تھانے کو ہر قسم کے قبائلی اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے قانون کی بالادستی قائم کی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ریاستی رٹ پر اٹھنے والے سوالات کا عملی جواب دیا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: جروار میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروباری طبقہ اور عوام سراپا احتجاج

    میرپور ماتھیلو: جروار میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروباری طبقہ اور عوام سراپا احتجاج

    میرپور ماتھیلو سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار مشتاق علی لغاری کی رپورٹ کے مطابق، تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور قریبی دیہی علاقوں میں بجلی کی مسلسل اور طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں اور کاروباری طبقے کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ علاقے میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ روزانہ سات گھنٹے تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث نہ صرف مارکیٹیں اور صنعتی یونٹس غیر فعال ہو چکے ہیں بلکہ گھریلو زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی غیر منظم بندش کی وجہ سے اسکول، اسپتال اور دفاتر میں کام کاج ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ تاجر برادری نے دہائی دی ہے کہ روزانہ کی آمدنی متاثر ہونے سے وہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جروار شہر سمیت سندھ کے دیگر بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی اسی طرز کی بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔

    مقامی شہریوں اور تاجروں نے اس سنگین صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی گھوٹکی، ایس ڈی او میرپور ماتھیلو اور سیپکو (SEPCO) حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جروار اور مضافاتی علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سات گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور اگر فوری طور پر اصلاحِ احوال نہ کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مظاہرین نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ سرکاری اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی من مانیوں کا نوٹس لیں اور کاروباری و شہری طبقے کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

  • خانپور مہر کے قریب خونی واردات، رشتہ داری اور زمینی تنازع پر 3 افراد قتل، 3 زخمی

    خانپور مہر کے قریب خونی واردات، رشتہ داری اور زمینی تنازع پر 3 افراد قتل، 3 زخمی

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)خانپور مہر کے قریب لِنڈی ٹوڑی کے علاقے میں پرانے خاندانی (سگاوَتی/خونی رشتہ داری) اور زمینی تنازع کے باعث مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پتافی برادری کے تین افراد کو قتل اور تین کو شدید زخمی کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ گزشتہ رات دیر گئے پیش آیا، جس میں دودو پتافی، حضور بخش پتافی اور اصغر پتافی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ زبیر پتافی، حبیب اللہ پتافی اور علی نواز پتافی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔

    اطلاع ملتے ہی خانپور مہر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو تحصیل اسپتال شیخ حمدان بن محمد، خانپور مہر منتقل کیا۔ بعد ازاں زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں سکھر اسپتال ریفر کر دیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقتولین اور زخمیوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں لاہور، رحیم یار خان اور صادق آباد سے بتایا جا رہا ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد انہیں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے ایمبولینسوں کے ذریعے لاشیں اپنے آبائی علاقوں کو منتقل کر دیا۔

    آخری اطلاعات تک واقعے کا مقدمہ درج نہیں ہو سکا تھا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • سکھر میں بھینس چوری کی کوشش، فائرنگ سے دو افراد جاں بحق، ایک زخمی

    سکھر میں بھینس چوری کی کوشش، فائرنگ سے دو افراد جاں بحق، ایک زخمی

    سکھر: شہر کے نواحی علاقے روہڑی کے قریب ایک گاؤں میں مبینہ بھینس چوری کی کوشش دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق اہلخانہ کی مزاحمت پر چوروں نے فائرنگ کی، جس سے گاؤں کے دو افراد موقع پر ہی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ چور گھر میں داخل ہوئے اور گائے نکال کر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن مزاحمت پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔واقعے کے فوری بعد ایس ایس پی اظہر مغل نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ سرچ کے دوران پولیس اور چوروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ چور ہلاک ہو گیا۔ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ دو زخمی چور ابھی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ افراد کے بارے میں فوری اطلاع دیں تاکہ انہیں جلد گرفتار کیا جا سکے۔

  • گھوٹکی: سیاہ کاری کے غیر قانونی جرگے پر پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ملزم گرفتار

    گھوٹکی: سیاہ کاری کے غیر قانونی جرگے پر پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ملزم گرفتار

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کی جانب سے سیاہ کاری کے نام پر منعقدہ غیر قانونی جرگے کا نوٹس لیے جانے کے بعد ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں واقع گاؤں سمندر بھیو میں وڈیرے شاہنواز بھیو، جانب بھیو، معشوق بھیو، احمد بھیو، محمد علی بھیو اور غلام حسین بھیو کی جانب سے ایک غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر سیاہ کاری کے معاملے کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس سنگین صورتحال کا علم ہوتے ہی ایس ایس پی گھوٹکی نے ایس ایچ او میرپور ماتھیلو کو سخت احکامات جاری کیے کہ اس غیر قانونی عمل میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    جرگے کے حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق نامزد ملزمان نے وسیم بھیو نامی نوجوان پر ثانیہ بھیو نامی لڑکی کے ساتھ سیاہ کاری کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا اور اس کے بدلے میں دو لڑکیوں، شمیلا اور انیسہ بھیو کو بطور ‘عیوضہ’ دینے سمیت 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا غیر انسانی فیصلہ سنایا تھا۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلع میں کسی کو بھی متوازی عدالتی نظام چلانے یا انسانی حقوق کی پامالی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور جرگہ کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    پولیس حکام کے مطابق ایس ایس پی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو بدر دین برڑو نے پولیس نفری کے ہمراہ فوری کارروائی کی اور جرگے کے مرکزی ملزم شاہنواز ولد غلام محمد بھیو کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے جرگے میں ملوث 6 نامزد ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 268/2025 کے تحت دفعہ 310A، 120B، 506/2 اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ جرگے میں ملوث دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔