Baaghi TV

Category: سکھر

  • میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپورماتھیلو:ریاست کہاں ہے؟ جروار تھانے پر قبائلی قبضے کے دعوے، دھرنے اور احتجاج جاری

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری):جروار تھانے پر بالادستی کے دعوؤں نے علاقے کی صورتحال کو تشویشناک حد تک کشیدہ بنا دیا ہے، جہاں بوزدار اور گبول برادری آمنے سامنے آ گئی ہیں اور دونوں جانب سے تھانے پر اپنی اپنی “حکومت” قائم ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال نے نہ صرف پولیس کی غیر جانبداری بلکہ ریاستی رٹ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    علاقائی ذرائع کے مطابق، بوزدار برادری کا مؤقف ہے کہ جروار تھانے پر ان کا اثر و رسوخ تسلیم کیا جائے، جبکہ گبول برادری بھی یہی دعویٰ کر رہی ہے کہ تھانے کا کنٹرول ان کے پاس ہونا چاہیے۔ اس کشمکش نے علاقے میں بے چینی کو جنم دے دیا ہے اور عوام میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ آیا تھانے قانون کے ماتحت ہیں یا قبائلی جاگیروں میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ اگر ہر برادری اپنی مرضی کا نظام نافذ کرے گی تو قانون کی حکمرانی کہاں باقی رہے گی؟

    دوسری جانب، گاؤں میر خان گبول کے رہائشیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں نے جروار کے مین چوک پر کئی گھنٹوں سے دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ جب تک متعلقہ پولیس اہلکار دھرنے کی جگہ پر آ کر عوام سے معافی نہیں مانگتے، اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

    دھرنے کے باعث جروار مین چوک پر ٹریفک مکمل طور پر جام ہو چکی ہے، جبکہ کاروباری سرگرمیاں معطل اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ حالات میں مسلسل کشیدگی بڑھ رہی ہے، جس کے باعث کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    علاقے کے باشعور شہریوں، وکلا اور سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی گھوٹکی اور ضلعی انتظامیہ سے فوری اور سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی گئی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

    عوامی حلقوں نے زور دیا ہے کہ تھانے کو ہر قسم کے قبائلی اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے قانون کی بالادستی قائم کی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ریاستی رٹ پر اٹھنے والے سوالات کا عملی جواب دیا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: جروار میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروباری طبقہ اور عوام سراپا احتجاج

    میرپور ماتھیلو: جروار میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروباری طبقہ اور عوام سراپا احتجاج

    میرپور ماتھیلو سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار مشتاق علی لغاری کی رپورٹ کے مطابق، تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور قریبی دیہی علاقوں میں بجلی کی مسلسل اور طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں اور کاروباری طبقے کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ علاقے میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ روزانہ سات گھنٹے تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث نہ صرف مارکیٹیں اور صنعتی یونٹس غیر فعال ہو چکے ہیں بلکہ گھریلو زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی غیر منظم بندش کی وجہ سے اسکول، اسپتال اور دفاتر میں کام کاج ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ تاجر برادری نے دہائی دی ہے کہ روزانہ کی آمدنی متاثر ہونے سے وہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جروار شہر سمیت سندھ کے دیگر بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی اسی طرز کی بدترین لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔

    مقامی شہریوں اور تاجروں نے اس سنگین صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی گھوٹکی، ایس ڈی او میرپور ماتھیلو اور سیپکو (SEPCO) حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جروار اور مضافاتی علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سات گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے اور اگر فوری طور پر اصلاحِ احوال نہ کی گئی تو عوام سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مظاہرین نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ سرکاری اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی من مانیوں کا نوٹس لیں اور کاروباری و شہری طبقے کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

  • خانپور مہر کے قریب خونی واردات، رشتہ داری اور زمینی تنازع پر 3 افراد قتل، 3 زخمی

    خانپور مہر کے قریب خونی واردات، رشتہ داری اور زمینی تنازع پر 3 افراد قتل، 3 زخمی

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)خانپور مہر کے قریب لِنڈی ٹوڑی کے علاقے میں پرانے خاندانی (سگاوَتی/خونی رشتہ داری) اور زمینی تنازع کے باعث مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پتافی برادری کے تین افراد کو قتل اور تین کو شدید زخمی کر دیا۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ گزشتہ رات دیر گئے پیش آیا، جس میں دودو پتافی، حضور بخش پتافی اور اصغر پتافی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ زبیر پتافی، حبیب اللہ پتافی اور علی نواز پتافی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔

    اطلاع ملتے ہی خانپور مہر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو تحصیل اسپتال شیخ حمدان بن محمد، خانپور مہر منتقل کیا۔ بعد ازاں زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں سکھر اسپتال ریفر کر دیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقتولین اور زخمیوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں لاہور، رحیم یار خان اور صادق آباد سے بتایا جا رہا ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد انہیں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے ایمبولینسوں کے ذریعے لاشیں اپنے آبائی علاقوں کو منتقل کر دیا۔

    آخری اطلاعات تک واقعے کا مقدمہ درج نہیں ہو سکا تھا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • سکھر میں بھینس چوری کی کوشش، فائرنگ سے دو افراد جاں بحق، ایک زخمی

    سکھر میں بھینس چوری کی کوشش، فائرنگ سے دو افراد جاں بحق، ایک زخمی

    سکھر: شہر کے نواحی علاقے روہڑی کے قریب ایک گاؤں میں مبینہ بھینس چوری کی کوشش دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق اہلخانہ کی مزاحمت پر چوروں نے فائرنگ کی، جس سے گاؤں کے دو افراد موقع پر ہی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ چور گھر میں داخل ہوئے اور گائے نکال کر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن مزاحمت پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔واقعے کے فوری بعد ایس ایس پی اظہر مغل نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ سرچ کے دوران پولیس اور چوروں کے درمیان مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک مشتبہ چور ہلاک ہو گیا۔ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ دو زخمی چور ابھی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے مقامی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشتبہ افراد کے بارے میں فوری اطلاع دیں تاکہ انہیں جلد گرفتار کیا جا سکے۔

  • گھوٹکی: سیاہ کاری کے غیر قانونی جرگے پر پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ملزم گرفتار

    گھوٹکی: سیاہ کاری کے غیر قانونی جرگے پر پولیس کی بڑی کارروائی، ایک ملزم گرفتار

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کی جانب سے سیاہ کاری کے نام پر منعقدہ غیر قانونی جرگے کا نوٹس لیے جانے کے بعد ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں واقع گاؤں سمندر بھیو میں وڈیرے شاہنواز بھیو، جانب بھیو، معشوق بھیو، احمد بھیو، محمد علی بھیو اور غلام حسین بھیو کی جانب سے ایک غیر قانونی جرگہ منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد مبینہ طور پر سیاہ کاری کے معاملے کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس سنگین صورتحال کا علم ہوتے ہی ایس ایس پی گھوٹکی نے ایس ایچ او میرپور ماتھیلو کو سخت احکامات جاری کیے کہ اس غیر قانونی عمل میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    جرگے کے حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق نامزد ملزمان نے وسیم بھیو نامی نوجوان پر ثانیہ بھیو نامی لڑکی کے ساتھ سیاہ کاری کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا اور اس کے بدلے میں دو لڑکیوں، شمیلا اور انیسہ بھیو کو بطور ‘عیوضہ’ دینے سمیت 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا غیر انسانی فیصلہ سنایا تھا۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلع میں کسی کو بھی متوازی عدالتی نظام چلانے یا انسانی حقوق کی پامالی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور جرگہ کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    پولیس حکام کے مطابق ایس ایس پی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو بدر دین برڑو نے پولیس نفری کے ہمراہ فوری کارروائی کی اور جرگے کے مرکزی ملزم شاہنواز ولد غلام محمد بھیو کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے جرگے میں ملوث 6 نامزد ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 268/2025 کے تحت دفعہ 310A، 120B، 506/2 اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ جرگے میں ملوث دیگر مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو اور گردونواح میں مسافروں کا گاڑیوں کی چھتوں پر خطرناک سفر، حکام خاموش

    میرپور ماتھیلو اور گردونواح میں مسافروں کا گاڑیوں کی چھتوں پر خطرناک سفر، حکام خاموش

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو سے یارو لنڈ، جروار، گھوٹکی، خیرپور اور رِشتي گھوٹکی کے مختلف روٹس پر چلنے والی ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں ٹریفک قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جہاں ویگنوں اور ہائیس گاڑیوں کی چھتوں پر مسافروں کو بٹھا کر سفر کروانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ خطرناک عمل کسی بھی وقت کسی بڑے جانی سانحے کا سبب بن سکتا ہے، مگر انتظامیہ اس سنگین صورتحال سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان روٹس پر سفر کرنے والے مسافر اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    واضح رہے کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی رِشتي گھوٹکی، جروار اور گھوٹکی–خیرپور روٹس پر گاڑیوں کی چھتوں سے گرنے اور حادثات کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں افراد عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ ان المناک حادثات کے باوجود نہ تو ٹریفک پولیس نے ان جان لیوا خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر ناکہ بندی کی ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کی یہ مجرمانہ خاموشی اور غفلت شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حادثات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں اور مسافروں نے ضلع گھوٹکی کے اعلیٰ حکام اور بالخصوص ڈی آئی جی اور ایس ایس پی گھوٹکی سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ان ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری اور بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی چھتوں پر مسافر بٹھانے کے عمل پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی جیسے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بڑے حادثے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

  • سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی  بازیاب

    سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی بازیاب

    سکھر (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں سندھ پنجاب بارڈر پر ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی گئی، جس میں چار اغوا شدہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو دھوکے سے بلا کر اغوا کر لیا گیا تھا، جن کی ویڈیو بھی ڈاکوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھی اور ان سے تاوان طلب کیا جا رہا تھا۔ اغوا ہونے والے افراد کا ذریعہ معاش کھوجی کتوں کے ذریعے مجرموں کی نشاندہی کرنا بتایا جاتا ہے، جبکہ ان کے اغوا کا مقدمہ صادق آباد میں درج تھا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج کی نگرانی میں ہونے والی اس ٹارگٹڈ کارروائی میں ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتراں کی قیادت میں پنجاب پولیس، ڈی پی او راجن پور، ایس ایس پی کشمور اور سندھ رینجرز کے باہمی تعاون سے پولیس مقابلے کے دوران مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق جرائم پیشہ ڈاکوؤں کے گروہوں کے خلاف جاری آپریشن منطقی انجام تک جاری رکھا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • میرپورماتھیلو،جروار میں زونگ نیٹ ورک کی بندش، صارفین پریشان

    میرپورماتھیلو،جروار میں زونگ نیٹ ورک کی بندش، صارفین پریشان

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور گردونواح میں زونگ نیٹ ورک کی طویل بندش کے باعث ہزاروں صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مقامی شہریوں اور کاروباری طبقے کے مطابق گزشتہ کئی گھنٹوں سے موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نجی روابط منقطع ہو چکے ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ہزاروں صارفین کے ڈیٹا پیکجز اور آن لائن کام رک جانے سے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے اس تعطل کو کمپنی کی نااہلی قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں نیٹ ورک کی دو سے تین گھنٹے کی بندش بھی کسی بڑی ایمرجنسی سے کم نہیں کیونکہ اس سے ہنگامی حالات میں کسی سے رابطہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے جو جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ متاثرہ صارفین اور سماجی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ ورک کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے اور سروس میں خلل ڈالنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیکنیکل فالٹ دور کر کے کمیونیکیشن کا نظام درست نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ اس تعطل سے انہیں مالی و ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • گھوٹکی: گاؤں خدا بخش لغاری بنیادی سہولیات سے محروم

    گھوٹکی: گاؤں خدا بخش لغاری بنیادی سہولیات سے محروم

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے گاؤں خدا بخش لغاری میں انتظامی، سرکاری اور سیاسی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ گاؤں، جو یو سی جروار کے قریب واقع ہے، برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جس پر ضلعی و تحصیل انتظامیہ، یو سی جروار، متعلقہ سرکاری محکموں اور سیاسی نمائندوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    مقامی آبادی کے مطابق گاؤں میں پینے کا صاف پانی، صحت کی سہولیات، معیاری تعلیمی ادارے، سڑکیں، نکاسی آب اور صفائی کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔ بنیادی صحت مرکز نہ ہونے کے باعث مریض بروقت علاج سے محروم ہیں جبکہ خواتین اور بچے پانی کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اسکول خستہ حالت کا شکار ہیں اور اساتذہ و سہولیات کی کمی سے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

    گاؤں میں ٹوٹی سڑکیں، ناکارہ نکاسی آب اور کچرے کے ڈھیر انتظامی غفلت کا واضح ثبوت ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب میں ترقی کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر بعد ازاں گاؤں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر بھی شفافیت نظر نہیں آتی۔

    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی گاؤں کا فوری دورہ کریں، اسسٹنٹ کمشنر جروار تفصیلی رپورٹ تیار کریں، صحت و تعلیم کے محکمے فوری سہولیات فراہم کریں، صاف پانی کی مستقل اسکیم شروع کی جائے اور سڑکوں، صفائی و نکاسی آب کے منصوبے ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماضی کے ترقیاتی فنڈز کا شفاف آڈٹ کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مقامی لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ اور سیاسی نمائندوں پر عائد ہوگی۔

  • گھوٹکی،بس سے اغوا 19 میں سے 11 مسافر بازیاب

    گھوٹکی،بس سے اغوا 19 میں سے 11 مسافر بازیاب

    سندھ کے ضلع گھوٹکی میں گڈوکشمور روڈ پر بس سے اغوا کیے گئے 19 میں سے 11 مسافر بازیاب کرا لیے گئے۔

    ڈی ایس پی اوباڑو کا کہنا ہے کہ مغویوں کو سومیانی میں مقابلے کے بعد بازیاب کرایا گیا، مزید مغویوں کی بازیابی کے لیےعلاقے کی ناکہ بندی کردی گئی۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے، ڈرون کی مدد سے کارروائی کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پیر کی شب گھوٹکی میں ڈاکوؤں نے 19 مسافروں کو اغوا کرلیا تھا۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مرید شاخ کے قریب گڈو کشمور روڈ پر مسافر بس پر حملہ کیا اور مسافروں کو اغوا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس میں خواتین سمیت 25 افراد سوار تھے، ڈاکو خواتین کو چھوڑ کر 19 مردوں کو اپنے ساتھ لےگئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مسافر بس صادق آباد سے کوئٹہ جارہی تھی۔ مسافروں کے اغوا کے بعد پولیس اور رینجرز کو ڈاکوؤں کے تعاقب میں روانہ کیا گیا۔