Baaghi TV

Category: سکھر

  • موبائل فون کمپنیوں کی لوٹ مار،عوام نے جاز اور زونگ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی

    موبائل فون کمپنیوں کی لوٹ مار،عوام نے جاز اور زونگ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری)موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے پیکیجز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ناقص سروس کے باعث عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ جاز اور زونگ نیٹ ورکس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے پیکیجز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے اور غیر معیاری خدمات نے شہریوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔

    جاز کا ویکلی میکس پیکیج، جو پہلے 478 روپے کا تھا اور ٹیکس ملا کر 550 روپے میں آتا تھا، اب مہنگا کر کے 521 روپے کا کر دیا گیا ہے۔ اس پر ٹیکس شامل کرنے کے بعد یہ پیکیج 600 روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اسی طرح دیگر تمام پیکیجز کی قیمتوں میں بھی بے دریغ اضافہ کیا گیا ہے، لیکن ان کی سروس کا معیار پہلے سے بھی بدتر ہے۔

    زونگ نیٹ ورک کے my 5 پیکیج کی قیمتیں بھی حیرت انگیز طور پر بڑھائی گئی ہیں۔ یہ پیکیج پہلے 1600 روپے کا تھا، جو مرحلہ وار بڑھتا ہوا 2500، 2700، 3000، 3300 اور اب 4400 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافے کسی طور پر قابل قبول نہیں اور ان کمپنیوں کی جانب سے عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہے۔

    شہریوں نے ان حالات کے پیش نظر سوشل میڈیا پر جاز اور زونگ نیٹ ورکس کے خلاف بائیکاٹ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کب تک ان کمپنیوں کے پیکیجز کے نام پر لٹتے رہیں گے۔ عوام کی یہ مہم اربابِ اختیار کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور ان کمپنیوں کی لوٹ مار کو روکنے کے لیے ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں، ان کی قیمتوں کو کنٹرول کریں اور صارفین کو معیاری خدمات فراہم کرنے کا پابند بنائیں۔ عوامی ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر ان کمپنیوں نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو ان کا بائیکاٹ وسیع پیمانے پر ہو سکتا ہے۔

  • خالد سومرو قتل کیس،فیصلہ آ گیا،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    خالد سومرو قتل کیس،فیصلہ آ گیا،ملزمان کو عمر قید کی سزا

    سکھر،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری)جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس کا فیصلہ عدالت نے سنا دیا ہے

    سکھر کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج عبدالرحمٰن قاضی نے مختصر فیصلہ سنایا ،عدالت نے ملزمان کو قتل اور دہشت گردی کے الزام میں عمر قید جبکہ اسلحے کے الزام میں 7، 7 سال قید کی سزا سنائی ہے،انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 13 دسمبر کو قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا،جو آج سنایا گیا ہے،عدالت نے ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس کی 450 سے زائد سماعتیں کیں جن کے دوران مجموعی طور پر 17 گواہان پیش ہوئے۔قتل کیس میں 6 ملزمان حنیف بھٹو، سارنگ ٹوٹانی، مشتاق مہر، دریا خان جمالی، لطف جمالی اور الطاف جمالی نامزد تھے، ملزمان دسمبر 2014ء سے سینٹرل جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ 29 نومبر 2014ء کو جے یو آئی رہنما ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو سکھر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا،فجر کی نماز کے دوران ان پر حملہ کیا گیا تھا،

    جرم ثابت، عمر قیدنہیں سزائے موت ہونی چاہئے تھی،مولانا راشد سومرو
    دوسری جانب مرحوم کے بیٹے مولانا راشد محمود سومرو نے عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہونی چاہیے تھی، جس کے لیے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے،سکھر عدالت سے ادھورا انصاف ملا ہے ، سزا موت تک ہم قانونی جنگ جاری رکھیں گے، فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے ، جمعیت علماء اسلام کے کارکنان پرامن رہیں،کیس کا فیصلہ سنا ہم عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں،پہلا جملہ عدالت نے کہا کہ جرم ثابت ہو رہا، جب جرم ثابت ہو رہا تو یہ سندھ کی تاریخ کا ہائی پروفائل کیس ہے، ہم دس سال عدالت میں انصاف کے لئے عدالت آتے رہے، انصاف کی امید ہے، میں بحیثیت بیٹے کے، چھ بھائیوں جماعت سمیت مطالبہ کرتا ہوں کہ جرم ثابت ہونے کے بعد عمر قید نہیں سزائے موت ہونی چاہئے، ہم ہائیکورٹ جائیں گے، جب تک ان کو سزائے موت نہیں آتی آگے بڑھیں گے، امن کے ساتھ آگے بڑھیں گے، قانون کی پیروی کریں گے، عدالت عظمیٰ کے سامنے پھانسی کی استدعا رکھیں گے،

    کرم میں قیام امن اولین ترجیح ،محسن نقوی اور گنڈا پور ملاقات میں اتفاق

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

  • گھوٹکی شوگر مل انتظامیہ پر الزامات، کسانوں اور تاجروں کا احتجاج

    گھوٹکی شوگر مل انتظامیہ پر الزامات، کسانوں اور تاجروں کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار باغی ٹی وی مشتاق علی لغاری) گھوٹکی شوگر مل غلام محمد مہر کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کسانوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ مل کے کین افسران پنو خان اور عبدالفتاح کی جانب سے بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے، جس نے گنے کی خریداری کے عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔

    کسانوں اور تاجروں کے مطابق، کین افسران کا کہنا ہے کہ اگر 5000 روپے رشوت دی جائے تو گنے سے بھری گاڑی کو مل کے اندر داخل ہونے دیا جائے گا، چاہے اس میں گند اور کچرا ہی کیوں نہ ہو۔ بصورت دیگر، گاڑی کو یا تو مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر 25 سے 35 فیصد کٹوتی کے ساتھ اندر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

    مزید براں، ان افسران کے مبینہ بروکر کسانوں کو دھمکاتے ہیں اور ناقص معیار کے گنے کو اندر بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ کسانوں نے شکایت کی ہے کہ یہ صورتحال ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے اور وہ مالی نقصان اٹھانے پر مجبور ہیں۔

    کسانوں اور تاجروں نے شوگر مل کے مالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو وہ مزید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    یہ صورتحال نہ صرف کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ علاقے کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ کسانوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور کسانوں کو ان کے حقوق دلانے میں مدد فراہم کریں۔

  • گھوٹکی: پولیس کا جواریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 گرفتار

    گھوٹکی: پولیس کا جواریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 گرفتار

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری کی رپورٹ) ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایت پر گھوٹکی پولیس نے جرائم پیشہ افراد اور جواریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی۔

    تھانہ اے سیکشن پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تاش کے پتوں پر جواء کھیلنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں کلیم اللّٰہ ولد صفی اللّٰہ کولاچی، عیدن ولد پیر بخش سانگی، عبدالشکور ولد عبدالواحد سانگی، نصیر ولد وارث پھٹان، اور محمد یوسف ولد خان محمد ملک شامل ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 52 پتے تاش اور 2500 روپے نقد برآمد کیے۔

    تمام گرفتار ملزمان کو تھانے منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف کرائم نمبر 503/2024 کے تحت دفعہ 5 سندھ جواء ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو عوامی حلقوں نے سراہا ہے۔

  • سندھ حکومت ائیر ایمبولینس، مرٰیض سکھرسے کراچی منتقل

    سندھ حکومت ائیر ایمبولینس، مرٰیض سکھرسے کراچی منتقل

    سندھ حکومت کی ائیر ایمبولینس کے زریعے مریض کو فوری سکھر سے کراچی منتقل کر دیا گیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ حکومت کی ائیر ایمبولینس کی شہریوں کے لیے خدمات کا سلسلہ جاری ہے، سکھر کے رہائشی محمد زمان نے بتایا کہ میری والدہ کو اچانک طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر نے کراچی منتقل کرنے کا کہا جس وجہ ہمیں بہت پریشانی ہوئی لیکن پتا چلنے پر سندھ حکومت کی ائیر ایمبولینس کے لیے درخواست دی تو فوری طور پر ہمارے مریض کو ائیر ایمبولینس کے زریعے کراچی منتقل کر دیا گیا جس پر ہم چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ، مراد علی شاہ ، ناصر حسین شاہ اور ڈسٹرکٹ چئیرمین سید کمیل حیدر شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں.واضح رہے کہ سندھ حکومت کی ائیر ایمبولینس کے لیے کوئی شخص درخواست دے سکتا ہے جس کے بعد بل تفریق ائیر ایمبولینس کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے.

    محض شک کے بنا پرشوہر نے حاملہ بیوی کو نہر میں پھینک دیا

    مزید آئی پی پیز سے معاہدے ختم ہونے سےسینکڑوں ارب کی بچت

    چار دنوں میں43 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

  • ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس،دلائل مکمل، فیصلہ 20 دسمبر کو سنایا جائے گا

    ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس،دلائل مکمل، فیصلہ 20 دسمبر کو سنایا جائے گا

    سکھر (باغی ٹی وی،مشتاق لغاری کی رپورٹ) انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے قتل کیس کی 11 سالہ طویل سماعت مکمل کر لی ہے۔ عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جو 20 دسمبر کو سنایا جائے گا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت میں جج عبدالرحمان قاضی نے کیس کی سماعت کی۔ فریادی فریق کے وکیل ایڈووکیٹ اطہر عباس سولنگی نے عدالت میں چار گھنٹوں کے دلائل پیش کیے جبکہ گزشتہ سماعت میں ملزمان کے وکیل مرتضیٰ شاہ اور پراسیکیوٹر عبدالحلیم قریشی کے دلائل مکمل ہو چکے تھے۔ کیس کی کارروائی کے دوران 11 سال میں 450 سے زائد سماعتیں ہوئیں، 17 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے اور 6 ججز تبدیل ہوئے۔

    ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو 2014 میں سکھر کے علاقے گلشن اقبال کی مسجد میں فجر کی نماز کے دوران فائرنگ کر کے شہید کیا گیا تھا۔ قتل کیس میں 6 ملزمان، جن میں حنیف بھٹو، مشتاق مہر، الطاف جمالی، لطف جمالی اور سارنگ توتانی شامل ہیں جوکہ گرفتار اور جیل میں قید ہیں۔

    فریادی مولانا راشد محمود سومرو اور ناصر محمود سومرو نے عدالت سے انصاف کی امید کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کے قتل کیس کی 11 سال تک پیروی کرتے رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عدالت سے انصاف ملے گا۔

    فریادی وکلا نے گواہان کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں دلائل پیش کیے اور عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اس دوران مولانا محمد صالح انڈھڑ، مفتی سعود افضل ہالیجوی، حافظ عبدالحمید مہر اور دیگر اہم شخصیات بھی عدالت میں موجود تھیں۔ 20 دسمبر کو اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

  • گھوٹکی:4 لاکھ 77 ہزار بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے جائیں گے

    گھوٹکی:4 لاکھ 77 ہزار بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے جائیں گے

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق لغاری)ضلع گھوٹکی میں 4 لاکھ 77 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سید محمد علی نے مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچ کر بچے کو پولیو کے قطرے پلائے اور فنگر مارکنگ کی۔ اس موقع پر انہوں نے پولیو واک میں بھی شرکت کی اور عوامی آگاہی فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سید محمد علی نے کہا کہ پولیو واک کا مقصد لوگوں میں پولیو وائرس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے، اور انہوں نے ضلع کے باشعور افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں پولیو وائرس کے خلاف عوام کو آگاہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کا مشترکہ مقصد پولیو سے پاک پاکستان ہے، اور یہ قومی فریضہ ہے کہ تمام شہری اور متعلقہ ادارے اس مہم میں اپنے کردار کو اہمیت دیں۔

    پولیو واک میں اے ڈی ای لیاقت علی کلہوڑو، اے سی میرپور ماتھیلو بابر علی، ڈی ایچ او ڈاکٹر راؤ آفتاب، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر نیاز، یونیسیف کے ڈاکٹر رحیم گڈانی اور پولیو ورکرز نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ان تمام افراد نے پولیو کے خلاف جنگ میں عوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

  • سکھر: کچہ میں ڈی آئی جی کا دورہ، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم

    سکھر: کچہ میں ڈی آئی جی کا دورہ، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم

    میرپورماتھیلو،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری)سکھر کے کچہ میں ڈی آئی جی کا دورہ، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن تیز کرنے کا حکم

    تفصیلات کے مطابق سکھر ڈی آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ فیصل عبداللہ چاچڑ نے ایس ایس پی گھوٹکی سمیع اللہ سومرو کے ہمراہ سب ڈویژن رونتی کے کچہ ایریا کا دورہ کیا اور پولیس افسران و جوانوں کے ساتھ وقت گزارا۔ ایس ایس پی گھوٹکی نے کچہ ایریا میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر اے ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پی رونتی، ڈی ایس پی اباڑو، ڈی ایس پی کچو بنڈی، ایس ایچ او تھانہ شہید دین محمد لغاری اور کچہ ایریا میں اگلے مورچوں پر تعینات افسران و جوان بھی موجود تھے۔

    ڈی آئی جی اور ایس ایس پی نے تھانہ شہید دین محمد لغاری کے کچہ ایریا کی مختلف پولیس پیکٹس کا دورہ کیا، جن میں پولیس پکٹ بھیا 02، پولیس پکٹ بھیا 04، اور پولیس پکٹ فون لانڈھی شامل ہیں۔ انہوں نے پیکٹس کا معائنہ کرتے ہوئے تعینات افسران کو ہدایت دی کہ وہ دلیری اور حوصلے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور عوام کو ڈاکوؤں سے تحفظ فراہم کریں۔

    پولیس افسران کو ہدایت دی گئی کہ کچہ ایریا کی طرف آمدورفت کے تمام راستوں پر سخت نگرانی کرتے ہوئے سنیپ چیکنگ کی جائے اور مشکوک گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور افراد کو تلاش کیا جائے۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے مسائل کے فوری حل اور درکار وسائل کی فراہمی کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔ پیکٹس کی مضبوطی اور مرمت کے لیے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

    ڈی آئی جی فیصل عبداللہ چاچڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے پولیس شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن قربانی دی جائے گی، اور علاقے میں بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

  • ایم ڈی کیٹ 2024 ری ٹیک کے لیے سندھ میں امتحانی مراکز کا روٹ پلان جاری

    ایم ڈی کیٹ 2024 ری ٹیک کے لیے سندھ میں امتحانی مراکز کا روٹ پلان جاری

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری)ایم ڈی کیٹ 2024 ری ٹیک ٹیسٹ کے لیے روٹ پلان کا اعلان کر دیا گیا ہے، جو 8 دسمبر 2024 کو سندھ کے مختلف شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کا اہتمام آئی بی اے ٹیسٹنگ سروسز نے کیا ہے اور امیدواروں کی سہولت کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ٹیسٹ سندھ کے چھ شہروں میں منعقد ہو گا اور ہر شہر میں مخصوص امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

    کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی کا مین گراؤنڈ امتحان کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ خواتین امیدواروں کے لیے مہمانوں کے گیٹ اور مرد امیدواروں کے لیے یونیورسٹی کا مین گیٹ داخلے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ والدین کے لیے رائل کورٹ میرج ہال میں بیٹھنے کی مناسب سہولت فراہم کی گئی ہے جو یونیورسٹی کے وزیٹرز گیٹ سے متصل ہے۔

    جامعہ کراچی میں امتحان شعبہ قانون کے قریب مسکان گراؤنڈ میں ہوگا، جہاں امیدوار مسکان گیٹ یا میٹرو ویل گیٹ سے داخل ہو سکتے ہیں۔ میٹرو ویل گیٹ سے گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت ہے، تاہم مسکان گیٹ پر گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مزید برآں والدین کے لیے جامعہ کراچی کے مختلف مقامات پر بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے امتحان کے دوران آرام سے بیٹھ سکیں۔

    آئی بی اے پبلک سکول سکھر میں گیٹ نمبر 03 بشیر آباد کے قریب کھیر تھر کینال پر اولڈ ایئرپورٹ روڈ کے ذریعے امیدوار داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو میں گیٹ نمبر 02، جو شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز کے قریب واقع ہے سے امیدوار داخل ہوں گے۔ مہران یونیورسٹی میں بھی والدین کے لیے امتحانی مقام کے دائیں جانب مخصوص نشست کا انتظام کیا گیا ہے۔

    پولیس ٹریننگ سکول لاڑکانہ کے لیے امیدوار مین گیٹ کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں جو شیل پٹرول پمپ کے قریب واقع ہے۔ پبلک اسکول حیدرآباد میں امیدوار الائیڈ بینک کے قریب مین گیٹ سے داخل ہوں گے اور والدین کے لیے بھی بیٹھنے کی جگہ فراہم کی گئی ہے جو اسکول کے مین گیٹ کے قریب ہوگی۔ قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (QUEST) شہید بے نظیر آباد میں امیدوار QUEST کے مرکزی دروازے سے داخل ہوں گے۔

    امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ داخلے کے لیے مخصوص گیٹ استعمال کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔ مزید برآں امیدواروں کو موبائل فون، سمارٹ ڈیوائسز، گھڑیاں یا کوئی بھی الیکٹرانک گیجٹ امتحانی مرکز میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امیدواروں کو اپنی اصل ایڈمٹ سلپ، CNIC، میٹرک اور انٹرمیڈیٹ مارک شیٹس ہمراہ لانی ہوں گی تاکہ ان کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے۔ امیدواروں اور والدین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس روٹ پلان پر عمل کریں تاکہ داخلے کا عمل ہموار ہو سکے اور امتحانی دن میں کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔

  • سیاسی استحکام یا تو بات چیت سے یا لاٹھی سے لانا پڑے گا ، بلاول

    سیاسی استحکام یا تو بات چیت سے یا لاٹھی سے لانا پڑے گا ، بلاول

    سکھر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مسلم امہ میں شہید بی بی کی قیادت کو سب نے قبول کیا، پاکستانی تاریخ میں تمام سیاستدان ایک طرف اور محترمہ کی سیاسی تاریخ ایک طرف ہے۔

    باغی ٹی وی : سکھر میں پیپلز پارٹی کے 57ویں یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ جلسے میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بلا و ل بھٹو نے کہا کہ پی پی کے یوم تاسیس پر بیک وقت پاکستان کے 150 علاقوں سے مخاطب ہوں، تمام اضلاع، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی براہ راست خطاب کررہا ہوں، پیپلز پارٹی کی پوری جدوجہد عوام کے سامنے ہے، ہمارا سفر ذوالفقارعلی بھٹو سے شروع ہوا، ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی بنیاد رکھی، قائدِ عوام ذوالفقار بھٹو نے ملک کو آئین دیا، ذوالفقار بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا، ذوالفقار بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دلوایا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے تمام تر سازشوں کا مقابلہ کیا، بےنظیر بھٹو عوام کے تعاون سے پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، بےنظیر بھٹو پاکستان کے غریب عوام کی نمائندہ تھیں، بےنظیر کی پالیسیوں سے غریب عوام کو فائدہ ہوتا تھا، مشہور تھا کہ بےنظیر آئے گی روزگار لائے گی، بےنظیر بھٹو نے ایک نہیں دو آمروں کا مقابلہ کیا، بےنظیر بھٹو نے بہادری سے آمریت کا مقابلہ کیا، بےنظیر دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارتی تھیں، بےنظیر بھٹو دہشتگردوں سے ڈر کر بھاگ سکتی تھیں، لیکن شہید بےنظیر بھٹو ایک حملے کے باوجود عوام کے درمیان رہیں، اگر محترمہ شہید نہ ہوتیں تو وہ تیسری مرتبہ بھی وزیر اعظم ہوتیں، محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ روزگار کی اور عوام کی بات کی، مسلم امہ میں شہید بی بی کی قیادت کو سب نے قبول کیا، پاکستانی تاریخ میں تمام سیاستدان ایک طرف اور محترمہ کی سیاسی تاریخ ایک طرف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی سوچ تھی کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی ختم ہوجائے گی مگر پھر صدر زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی متحد ہوئی اور پھر ہم نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو ماضی میں نہیں کرسکے تھے، اٹھارہویں ترمیم منظور کروا کے ہم نے بے نظیر کی دیرینہ خواہش پوری کی اور وعدہ پورا کیا، صوبوں کو حقوق دیے، این ایف سی ایوارڈ قائم کیا، یہ سارے خواب زرداری کی صدارت کے دوران ہوئے، زرداری نے پاکستان کو سی پیک جیسا تحفہ دیا، انہوں نے سرحد کو پختونخوا کا پروگرام دلوایا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کر کے روٹی کپڑے اور مکان کے وعدے کو پورا کیا جس سے غربت کا مقابلہ کیا جارہا ہے جبکہ وسیلہ روزگار سے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا‘۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو توڑنے کے لئے کئی بار حملے کیے گئے، پی ٹی آئی کو جگہ دینے کیلئے پیپلز پارٹی کو توڑا گیا، پیپلز پارٹی کو سیاست سے دور کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن پیپلز پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اب اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، غربت کا خاتمہ پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے، پیپلز پارٹی نے ہر موقع پرعوام اور ملک کا سوچ کر فیصلے کیے، ہم ملک میں امن و امان اور بڑھتا ہوا روزگار دیکھنا چاہتے ہیں، ملک میں سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے، دہشتگردی اور معاشی بحران کے مقابلے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے، لیکن سیاسی استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ اپوزیشن ہے، وہ نہ جمہوری اور نہ سیاسی اپوزیشن کررہے ہیں، کچھ جماعتیں سیاست کے دائرے میں رہ کرسیاست نہیں کررہیں، ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے، چاہے اس کے لیے حکومت اور اپوزیشن بات چیت کرے یا پھر لاٹھی کا استعمال کرنا ہو، 9 مئی کا حملہ سیاست کے دائرے میں نہیں آتا، اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ سیاست کے دائرے میں نہیں آتا، ہمیں بطور سیاستدان سیاست کے دائرے میں آنا پڑے گا، سیاسی استحکام پیدا کرنا اور ریاست کو چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ذمہ دار ہوتی ہے، غیرجمہوری اپوزیشن کرنے والے جمہوری کردار اپنائیں، غیر سیاسی اپوزیشن غیرجمہوری کردار ادا کر رہی ہے، غیر سیاسی اپوزیشن سیاسی رویے کی امید کیسے رکھ سکتی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی استحکام قائم کرنا ہوگا، چاہے اس کے لیے بات چیت کرنی پڑے یا لاٹھی کی ضرورت ہو تاکہ ریاست کی رٹ بحال ہو اور معاشی صورت حال بھی بہتر ہو ہم ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت کی بات کرتے ہیں مگر اپوزیشن سیاست جماعتوں سے نہیں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتی ہے، اگر یہی طرز سیاست رہا تو پی ٹی آئی اور ملک دونوں کو نقصان ہوگا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ ملک اور عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ بلاول نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے اور ہمیشہ پیپلزپارٹی نے اس معاملے پر آواز بلند کی اور اپنے دور میں اسٹیٹ کی رٹ بحال کی من و امان کے مسئلے پر سیاست کی جارہی ہے، جب ماضی میں ہم دہشت گردوں کو شکست دے سکتے ہیں تو پھر ایک بار پھر متحد ہوکر ملک سے دہشت گردوں کو شکست دے سکتے ہیں، ملک کے عوام کو زندگی کا تحفظ ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات بہت سنگین ہیں، امن و امان کی وجہ سے ایمرجنسی بحران پیدا ہوتا جارہا ہے، پارا چنار کے حالات کو سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا دکھا رہا ہے، صوبائی حکومت رٹ بحال کرنے کے بجائے وفاق پر چڑھائی کررہا ہے وزیراعلیٰ آج بھی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وفاق پر گولی چلانے کی دھمکی دے رہا ہے، ہم کب تک یہ برداشت کریں کہ پاکستان کے اصل مسائل کچھ اور ہیں، پختونخوا میں 100 سے زیادہ لاشیں موجود ہیں اور یہ اسلام آباد میں اپنی 100 لاشیں تلاش کررہے ہیں تاریخ میں کبھی اتنی غیرذمہ دارانہ صوبائی حکومت نہیں دیکھی، یہ صوبائی حکومت ذمہ داری ادا کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے، ان کا ایک ہی کام ہے کہ اپنے لیڈر کو جیل سے نکلوانا ہے، مجھے امید ہے صوبائی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اب عوامی مسائل پر توجہ دے گی اور اب ہر دوسرے دن احتجاج کے نام پر انتشار پھیلائیں گے، احتجاج کا پاکستانی کا حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینا اور لشکر کشی کی اجازت کسی صورت نہیں ہے۔

    بلاول نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے مسائل میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے، اپوزیشن کی یہی سیاست رہی تو ان کا اور ملک کا نقصان ہوگا، سیاسی جماعتوں کا کردار مثبت ہو تو مسائل حل ہوسکتے ہیں، پیپلز پارٹی مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے، پیپلز پارٹی عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہےدہشت گردی کاخاتمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    بلاول نے کہا کہ مجھے امید ہے صوبائی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کرکے اب عوامی مسائل پر توجہ دے گی اور اب ہر دوسرے دن احتجاج کے نام پر انتشار نہیں پھیلائے گی، احتجاج کا پاکستانی کا حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینا اور لشکر کشی کی اجازت کسی صورت نہیں ہے حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ کسی واقعے میں کوئی شہری کی جان جائے، ہمیں امید ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت ملکی مفاد کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، ہمیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان 2.0 لانا پڑے گا اور ایک متفقہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردوں یا ناراض لوگوں کو انگیج کرنے کے لیے بھی پالیسی بنانی ہوگی، ہمیشہ منصوبہ بندی کے ذریعے ہی دہشت گردی کو شکست دی جاسکتی ہے کسانوں کا معاشی قتل عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہوگا، زراعت کی ترقی سے ملک ترقی کرتا ہے، ہم زراعت کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے، زراعت کے زریعے ملک میں معاشی انقلاب لایا جاسکتا ہے پانی کے معاملے پر عوام کا ردعمل بہت زور سے آئے گا، پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم سے مسائل بڑھیں گےملک میں آئی ٹی کا شعبہ بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، پوری دنیا کا مستقبل آئی ٹی شعبے سے جڑا ہوا ہے، حکومت کو آئی ٹی سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئیے۔