Baaghi TV

Category: سکھر

  • میرپور ماتھیلو اور گردونواح میں مسافروں کا گاڑیوں کی چھتوں پر خطرناک سفر، حکام خاموش

    میرپور ماتھیلو اور گردونواح میں مسافروں کا گاڑیوں کی چھتوں پر خطرناک سفر، حکام خاموش

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کے شہر میرپور ماتھیلو سے یارو لنڈ، جروار، گھوٹکی، خیرپور اور رِشتي گھوٹکی کے مختلف روٹس پر چلنے والی ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں ٹریفک قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جہاں ویگنوں اور ہائیس گاڑیوں کی چھتوں پر مسافروں کو بٹھا کر سفر کروانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ خطرناک عمل کسی بھی وقت کسی بڑے جانی سانحے کا سبب بن سکتا ہے، مگر انتظامیہ اس سنگین صورتحال سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان روٹس پر سفر کرنے والے مسافر اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    واضح رہے کہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی رِشتي گھوٹکی، جروار اور گھوٹکی–خیرپور روٹس پر گاڑیوں کی چھتوں سے گرنے اور حادثات کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں افراد عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ ان المناک حادثات کے باوجود نہ تو ٹریفک پولیس نے ان جان لیوا خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر ناکہ بندی کی ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کی یہ مجرمانہ خاموشی اور غفلت شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حادثات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں اور مسافروں نے ضلع گھوٹکی کے اعلیٰ حکام اور بالخصوص ڈی آئی جی اور ایس ایس پی گھوٹکی سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ان ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری اور بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی چھتوں پر مسافر بٹھانے کے عمل پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی جیسے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بڑے حادثے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

  • سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی  بازیاب

    سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی بازیاب

    سکھر (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں سندھ پنجاب بارڈر پر ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی گئی، جس میں چار اغوا شدہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو دھوکے سے بلا کر اغوا کر لیا گیا تھا، جن کی ویڈیو بھی ڈاکوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھی اور ان سے تاوان طلب کیا جا رہا تھا۔ اغوا ہونے والے افراد کا ذریعہ معاش کھوجی کتوں کے ذریعے مجرموں کی نشاندہی کرنا بتایا جاتا ہے، جبکہ ان کے اغوا کا مقدمہ صادق آباد میں درج تھا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج کی نگرانی میں ہونے والی اس ٹارگٹڈ کارروائی میں ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتراں کی قیادت میں پنجاب پولیس، ڈی پی او راجن پور، ایس ایس پی کشمور اور سندھ رینجرز کے باہمی تعاون سے پولیس مقابلے کے دوران مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق جرائم پیشہ ڈاکوؤں کے گروہوں کے خلاف جاری آپریشن منطقی انجام تک جاری رکھا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • میرپورماتھیلو،جروار میں زونگ نیٹ ورک کی بندش، صارفین پریشان

    میرپورماتھیلو،جروار میں زونگ نیٹ ورک کی بندش، صارفین پریشان

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے شہر جروار اور گردونواح میں زونگ نیٹ ورک کی طویل بندش کے باعث ہزاروں صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مقامی شہریوں اور کاروباری طبقے کے مطابق گزشتہ کئی گھنٹوں سے موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر معطل ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نجی روابط منقطع ہو چکے ہیں بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ہزاروں صارفین کے ڈیٹا پیکجز اور آن لائن کام رک جانے سے شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انہوں نے اس تعطل کو کمپنی کی نااہلی قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں نیٹ ورک کی دو سے تین گھنٹے کی بندش بھی کسی بڑی ایمرجنسی سے کم نہیں کیونکہ اس سے ہنگامی حالات میں کسی سے رابطہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے جو جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ متاثرہ صارفین اور سماجی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ ورک کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے اور سروس میں خلل ڈالنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیکنیکل فالٹ دور کر کے کمیونیکیشن کا نظام درست نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ اس تعطل سے انہیں مالی و ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  • گھوٹکی: گاؤں خدا بخش لغاری بنیادی سہولیات سے محروم

    گھوٹکی: گاؤں خدا بخش لغاری بنیادی سہولیات سے محروم

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے گاؤں خدا بخش لغاری میں انتظامی، سرکاری اور سیاسی ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ گاؤں، جو یو سی جروار کے قریب واقع ہے، برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جس پر ضلعی و تحصیل انتظامیہ، یو سی جروار، متعلقہ سرکاری محکموں اور سیاسی نمائندوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    مقامی آبادی کے مطابق گاؤں میں پینے کا صاف پانی، صحت کی سہولیات، معیاری تعلیمی ادارے، سڑکیں، نکاسی آب اور صفائی کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔ بنیادی صحت مرکز نہ ہونے کے باعث مریض بروقت علاج سے محروم ہیں جبکہ خواتین اور بچے پانی کے حصول کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری اسکول خستہ حالت کا شکار ہیں اور اساتذہ و سہولیات کی کمی سے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

    گاؤں میں ٹوٹی سڑکیں، ناکارہ نکاسی آب اور کچرے کے ڈھیر انتظامی غفلت کا واضح ثبوت ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب میں ترقی کے وعدے کیے جاتے ہیں مگر بعد ازاں گاؤں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر بھی شفافیت نظر نہیں آتی۔

    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی گاؤں کا فوری دورہ کریں، اسسٹنٹ کمشنر جروار تفصیلی رپورٹ تیار کریں، صحت و تعلیم کے محکمے فوری سہولیات فراہم کریں، صاف پانی کی مستقل اسکیم شروع کی جائے اور سڑکوں، صفائی و نکاسی آب کے منصوبے ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماضی کے ترقیاتی فنڈز کا شفاف آڈٹ کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

    مقامی لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ اور سیاسی نمائندوں پر عائد ہوگی۔

  • گھوٹکی،بس سے اغوا 19 میں سے 11 مسافر بازیاب

    گھوٹکی،بس سے اغوا 19 میں سے 11 مسافر بازیاب

    سندھ کے ضلع گھوٹکی میں گڈوکشمور روڈ پر بس سے اغوا کیے گئے 19 میں سے 11 مسافر بازیاب کرا لیے گئے۔

    ڈی ایس پی اوباڑو کا کہنا ہے کہ مغویوں کو سومیانی میں مقابلے کے بعد بازیاب کرایا گیا، مزید مغویوں کی بازیابی کے لیےعلاقے کی ناکہ بندی کردی گئی۔ پولیس اور رینجرز کی جانب سے ڈاکوؤں کا تعاقب جاری ہے، ڈرون کی مدد سے کارروائی کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ پیر کی شب گھوٹکی میں ڈاکوؤں نے 19 مسافروں کو اغوا کرلیا تھا۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مرید شاخ کے قریب گڈو کشمور روڈ پر مسافر بس پر حملہ کیا اور مسافروں کو اغوا کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بس میں خواتین سمیت 25 افراد سوار تھے، ڈاکو خواتین کو چھوڑ کر 19 مردوں کو اپنے ساتھ لےگئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مسافر بس صادق آباد سے کوئٹہ جارہی تھی۔ مسافروں کے اغوا کے بعد پولیس اور رینجرز کو ڈاکوؤں کے تعاقب میں روانہ کیا گیا۔

  • شکارپور: پولیس مقابلے میں جاں بحق صابر شیخ کے ورثاء اور خواتین کا احتجاج، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    شکارپور: پولیس مقابلے میں جاں بحق صابر شیخ کے ورثاء اور خواتین کا احتجاج، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    شکارپور (نامہ نگار مشتاق علی لغاری)شکارپور کے منچھر شاہ قبرستان میں پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے صابر شیخ کے ورثاء اور اہلِ خانہ نے زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ صابر شیخ کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا اور واقعے کی حقیقت چھپائی جا رہی ہے۔

    ورثاء کے مطابق صابر شیخ موٹر سائیکل پر پیٹرول ڈالنے کے لیے پمپ آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں نے اسے بغیر کسی وضاحت کے گرفتار کر لیا اور بعد ازاں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ پولیس نے لاش دینے سے انکار کیا اور صابر شیخ کو مجرم کے طور پر درج کرنے پر زور دیا، جسے انہوں نے قطعی طور پر مسترد کیا۔

    احتجاج میں خواتین نے بھی بھرپور حصہ لیا اور پاک کتاب لے کر انصاف کے لیے مظاہرہ کیا، جس سے مظاہرے کا پیغام مزید پراثر اور جذباتی انداز میں سامنے آیا۔ ورثاء اور خواتین نے واضح کیا کہ وہ صابر شیخ کے قتل کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے حق میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

    مظاہرین نے شکارپور انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ واقعے کے فوری بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی اور مقامی پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ صابر شیخ ایک عام شہری تھا اور اس کے قتل سے مقامی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    اس دوران مقامی میڈیا نے بھی واقعے کی کوریج شروع کر دی ہے اور شہریوں کی جانب سے پولیس کے رویے پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ورثاء نے یقین دلایا کہ وہ صابر شیخ کے قتل کے معاملے کو انصاف تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔

  • گھوٹکی پولیس کی بڑی کامیاب کارروائی، بھاری مقدار میں شراب کی کھیپ برآمد

    گھوٹکی پولیس کی بڑی کامیاب کارروائی، بھاری مقدار میں شراب کی کھیپ برآمد

    گھوٹکی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس نے منشیات اور غیر قانونی شراب کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں شراب کی کھیپ برآمد کر لی۔ یہ کارروائی پولیس سربراہ محمد انور کھیتران کی ہدایت اور حساس ادارے کی نشاندہی پر انجام دی گئی۔

    ڈی ایس پی اوباوڑو عبدالقادر سومرو اور ایس ایچ او تھانہ ڈھرکی منظور احمد چانڈیو کی قیادت میں پولیس بمہ اسٹاف نے مٹھا خان مارکیٹ میں ایک گھر ماڑی پر چھاپہ مار کر شراب کی بڑی مقدار برآمد کی۔ اس موقع پر ایک ملزم بیشم ولد کرشن لعل کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق برآمد ہونے والی شراب کی تفصیل درج ذیل ہے:03 کارٹون بیئر سائے رنگ کے (ہر کارٹون میں 60 عدد بیئر)،03 کارٹون ملینیم بیئر نیلے رنگ کے (ہر کارٹون میں 60 عدد بیئر)،01 کارٹون بیئر (20 عدد بیئر)
    ،45 آدھیہ شراب ڈرائیجن کے،55 پوے شراب ڈرائیجن کے،10 آدھیہ شراب واٹ ون کے،25 پوے شراب واٹ ون کے،10 بڑی بوتلیں رائیل ایمبسٹر شراب کی،03 بڑی بوتلیں مریئرس ایمپئر شراب کی،ایک بڑی بوتل نیلے رنگ کی

    گرفتار ملزم نے شراب کی یہ بڑی مقدار فروخت کرنے کے لیے گھر میں چھپا رکھی تھی۔ پولیس نے برآمد شدہ شراب کو تھانے منتقل کر دیا اور ملزم کے خلاف کرائم نمبر 233/2025، دفعہ 3/4 منشیات حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس پارٹی کو شاباشی دی اور تعریفی سرٹیفکیٹ کا اعلان کیا۔

  • میرپور ماتھیلو: بی آئی ایس پی کے سنٹر انچارج کا خواتین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ، حکام سے نوٹس کا عوامی مطالبہ

    میرپور ماتھیلو: بی آئی ایس پی کے سنٹر انچارج کا خواتین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ، حکام سے نوٹس کا عوامی مطالبہ

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) بی آئی ایس پی کے سنٹر انچارج کا خواتین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ، حکام سے نوٹس کا عوامی مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق میرپور ماتھیلو میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سنٹر انچارج محمد اسحاق نائچ کی من مانی، خواتین کے ساتھ غصہ اور بدتمیزی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف عوام شدید اضطراب پایا جارہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اسحاق نائچ کے خلاف فوری اخلاقی اور قانونی کارروائی کی جائے اور اسے عہدے سے ہٹایا جائے۔

    دفتر کے باہر خواتین کھڑی ہیں، جہاں نہ پانی ہے اور نہ کوئی بنیادی سہولت موجود ہے، جس سے عوام کی پریشانی اور غصہ مزید بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ ناقابل قبول ہے اور سرکاری عہدوں پر ایسے افسران کا رہنا سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔

    عوام نے انتظامیہ، گورنمنٹ کے تمام متعلقہ ادارے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے، فوری کارروائی کی جائے، اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔ عوام نے واضح کیا ہے کہ ایسے رویے رکھنے والے افسران کے خلاف کسی بھی قسم کی نرمی ناقابل قبول ہے۔

    شہریوں اور خواتین نے زور دیا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کی فوری حفاظت کو یقینی بنائیں۔

  • سکھر: کمشنر کی نگرانی میں سول ہسپتال کے اطراف تجاوزات کے خلاف تیز آپریشن

    سکھر: کمشنر کی نگرانی میں سول ہسپتال کے اطراف تجاوزات کے خلاف تیز آپریشن

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی کی ہدایت پر سول ہسپتال کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ کمشنر نے خود موقع پر پہنچ کر آپریشن کی رفتار، عملے کی کارکردگی اور مریضوں کی سہولت کو یقینی بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر احمد مجتبیٰ میمن اور پرنسپل جی ایم ایم سی ڈاکٹر صالح چنہ بھی موجود تھے اور انہوں نے آپریشن کے دوران طبی خدمات کی روانی برقرار رکھنے کے لیے رہنمائی فراہم کی۔

    اسسٹنٹ کمشنر سارہ فراز اور مختیارِ کار سکھر سٹی بابر بلو نے آپریشن ٹیم کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے تجاوزات کے خاتمے کے مراحل، متبادل پارکنگ اور مریضوں کے لیے مخصوص راستوں کو برقرار رکھنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آپریشن مرحلہ وار کیا جا رہا ہے تاکہ ہسپتال میں داخلہ اور ایمبولینس سروس متاثر نہ ہو۔

    کمشنر عابد سلیم قریشی نے کہا کہ وہ مریضوں اور ایمبولینس کی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو انسانیت کے خیرخواہ قرار نہیں دیتے اور شہر بھر میں تجاوزات کے خاتمے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم سے نہ صرف سول اسپتال کی سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ شہر کی مرکزی سڑکیں اور راستے عوام کے لیے کھلے، منظم اور محفوظ بن جائیں گے۔

    اس آپریشن کے دوران متعلقہ محکموں نے ہدایات کے مطابق نوٹسز جاری کیے اور بعض غیرقانونی ڈھانچوں کو سیل یا ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا گیا ہے کہ عارضی تجاوزات کو ہٹانے کے ساتھ مریضوں، معذور افراد اور ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے مخصوص راستے ہر صورت برقرار رکھے جائیں گے۔

    ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ہسپتال کے اطراف میں داخلے کے راستے، پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ مریضوں کو آسانی اور محفوظ طبی رسائی میسر ہو سکے۔

  • میرپور ماتھیلو:یارولنڈمیں رشتہ تنازع پر فائرنگ، نوجوان  قتل

    میرپور ماتھیلو:یارولنڈمیں رشتہ تنازع پر فائرنگ، نوجوان قتل

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)یارولنڈ میں رشتہ داری کے تنازع نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کے دوران نوجوان جنید احمد گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق دونوں خاندانوں کے درمیان کئی روز سے تکرار اور تلخ کلامی جاری تھی، جو اچانک مسلح جھگڑے میں بدل گئی۔ فائرنگ کی آوازوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں میں محدود ہو گئے۔

    واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین شدید غم و غصے میں یارولنڈ تھانے کے سامنے جمع ہوگئے، جہاں انہوں نے نوجوان کی لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا۔ ورثاء نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، شفاف تحقیقات کی جائیں اور مقتول کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بظاہر واقعہ رشتہ داری کے فیصلے پر پیدا ہونے والے تنازع کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔