Baaghi TV

Category: سکھر

  • ایم کیو ایم والوں صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں،ناصر شاہ

    ایم کیو ایم والوں صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں،ناصر شاہ

    سندھ کےوزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہےکہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ آئی بی اے سکھر کے کانووکیشن میں آکر فخر محسوس ہوا، میرٹ اور ٹرانسپرنسی کے باعث آئی بی سکھر اے ایک بہترین ادارہ ہے، یہاں کے طلبا کو تعلیم ختم کرنے کے ساتھ ہی جابز آفر ہو جاتی ہیں،سکھر ترقی کرتا شہر ہے جہاں لوگ گھومنے نہیں بلکہ بسنے آتے ہیں، سکھر میں آئندہ سالوں میں پینے کے صاف پانی کی اسکیم شروع ہو جائے گی، اس سال بجٹ میں سب سے زیادہ فنڈز پینے کے صاف پانی کے رکھے ہیں، این ایف سی ایوارڈ بہت اہم ہے، اٹھارویں ترمیم بھی ہم لائے، این ایف سی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    ناصر حسین شاہ کامزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے نوٹیفیکشن پر عجیب باتیں کی گئیں، پی ٹی آئی والے جس دور سے گزر رہے ہے اس کی وجہ یہ منفی پروپیگنڈا ہے، نوٹیفیکشن کے معاملے پر بھی ایسا ہی پروپیگنڈا کیا گیا،کارونجھر منصوبہ سندھ حکومت نے منسوخ کیا، وہاں کسی کی لیز نہیں ہے، ایم کیو ایم کی باتوں کو ہم سنجیدہ نہیں لیتے، سندھ کی تقسیم کی باتیں وہ خود کو زندہ رکھنے کے لیے کرتے ہیں، ایم کیو ایم سندھ کے بلدیاتی نظام میں شامل ہی نہیں ہوئی تھی، سب سے زیادہ بااختیار بلدیاتی نظام اس وقت سندھ میں ہے، ایم کیو ایم والوں صرف شوشے چھوڑتے ہیں، انہیں سنجیدہ مت لیا کریں، سندھ میں امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، پہلے یہاں کانوائے چلا کرتے تھے اب ایسی صورتحال نہیں، قبائلی تصادم روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  • میرپور ماتھیلو: جروار میں ہوائی فائرنگ کی خوفناک آوازیں، شہری شدید دہشت میں مبتلا

    میرپور ماتھیلو: جروار میں ہوائی فائرنگ کی خوفناک آوازیں، شہری شدید دہشت میں مبتلا

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) جروار شہر اور آس پاس کے علاقوں میں گذشتہ شب سے فائرنگ کی خوفناک آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جس نے چھوٹے بچوں، بزرگوں اور خواتین کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں دہشت کی فضا قائم ہے اور لوگ رات بھر گھروں میں محصور ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جروار پولیس کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں آئی، جس سے شہریوں میں بے چینی اور غصہ بڑھ گیا ہے۔

    عوام نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جروار جیسے حساس علاقے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری قدم اٹھائیں اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنائیں۔ شہری خصوصی طور پر آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی گھوٹکی اور ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے تاکہ شہری محفوظ رہ سکیں۔

    حالیہ صورتحال نہ صرف عوام کے لیے خطرناک ہے بلکہ علاقے میں امن و امان کی مجموعی فضا کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔

  • میرپور ماتھیلو: ٹنڈو پھاٹک کے قریب لوڈ ٹریلر الٹ گیا

    میرپور ماتھیلو: ٹنڈو پھاٹک کے قریب لوڈ ٹریلر الٹ گیا

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو کے قریب ٹنڈو پھاٹک کے مقام پر ایک لوڈ ٹریلر حادثے کا شکار ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق ٹریلر ڈرائیور کے کنٹرول سے نکل کر سڑک کنارے پانی کے تالاب میں جا گرا۔

    حادثے کے وقت ٹریلر میں موجود دونوں ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہ گئے، جبکہ ٹریلر کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حادثہ اچانک پیش آیا اور اگر ڈرائیور فوری ردعمل نہ دکھاتے تو جانی نقصان بھی ہوسکتا تھا۔

    ضلع انتظامیہ نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تفصیلات جلد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • سکھر: گولیمار روڈ پر مردہ جانوروں کا گوشت سکینڈل،خطرناک گروہ بے نقاب

    سکھر: گولیمار روڈ پر مردہ جانوروں کا گوشت سکینڈل،خطرناک گروہ بے نقاب

    سکھر (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سکھر میں عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف فوڈ اتھارٹی اور سکھر پولیس کی مشترکہ کارروائی نے تہلکہ مچا دیا۔ شکارپور پھاٹک گولیمار روڈ پر اچانک چھاپے کے دوران مردہ جانوروں کا گوشت فروخت کرنے والے منظم گروہ کو بے نقاب کر دیا گیا۔

    کارروائی کے دوران پولیس اور فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے۔ اس دوران
    بڑی مقدار میں مردہ جانوروں کا سڑا ہوا اور بدبو دار گوشت،گوشت پیکنگ کا سامان،سپلائی میں استعمال ہونے والے تھیلے اور اوزارقبضے میں لیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ گروہ یہ خطرناک گوشت شہر کی مختلف قصاب مارکیٹوں، چھوٹے ہوٹلوں، سستے ڈھابوں اور گوشت کی دکانوں تک سپلائی کر رہا تھا۔

    ذرائع کے مطابق یہ گروہ کافی عرصے سے شہر میں فعال تھا اور مردہ جانوروں کو ذبح خانوں سے باہر لے جا کر ممنوعہ طریقے سے فروخت کے قابل بنا کر مارکیٹ میں پہنچاتا تھا۔گروہ کے مبینہ کارندے سستے داموں مردہ جانور خرید کر انہیں پروسیسنگ کے نام پر صاف کرنے کے بعد صارفین کو دھوکے سے فروخت کرتے رہے۔

    فوڈ اتھارٹی نے موقع سے حاصل کیے گئے گوشت کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں جہاں سے رپورٹ آنے پر مزید مقدمات درج کیے جائیں گے۔

    پولیس حکام کے مطابق گروہ کے مزید افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے اور مزید گرفتاریاں جلد متوقع ہیں۔پولیس ترجمان نے کہا کہ شہریوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
    انہوں نے کہا:”مضرِ صحت، حرام شدہ اور مردہ جانوروں کا گوشت بیچ کر لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والوں کو سخت ترین سزاؤں کا سامنا کرنا ہوگا۔”

    فوڈ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی کہ جہاں کہیں مشکوک گوشت یا غیر معیاری فوڈ آئٹمز فروخت ہوتے دیکھیں، فوراً اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

    یہ کارروائی سکھر میں غیر معیاری اور خطرناک خوراک کی فروخت کے خلاف بڑا قدم تصور کی جا رہی ہے جس سے شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے حکومتی اداروں کی کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے۔

  • گھوٹکی: غیر معیاری کھاد کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانوں پر چھاپے

    گھوٹکی: غیر معیاری کھاد کے خلاف کارروائیاں، متعدد دکانوں پر چھاپے

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کی ہدایات اور اینگرو فرٹیلائزر کمپنی کی شکایت پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کی مشترکہ ٹیم نے شاہ فیصل غلہ منڈی میں مختلف کھاد و بیج فروش دکانوں پر اچانک چھاپے مارے۔

    کارروائی میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن آصف جاوید صدیقی، اسسٹنٹ کمشنر نوید علی کھوکھر، ڈپٹی ڈائریکٹر سعید احمد ملک اور ایگریکلچر افسر صدام حسین سومرو نے حصہ لیا۔ ٹیم نے کھاد اور بیج فروخت کرنے والے مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا، اسٹاک، ریکارڈ اور دستیاب سامان کی جانچ پڑتال کی۔

    چھاپوں کا مقصد مارکیٹ میں غیر معیاری، جعلی یا سرکاری نرخوں سے زائد قیمت پر کھاد کی فروخت کی روک تھام اور حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔

    اس موقع پر محکمہ زراعت کے افسران نے دکانداروں کو سختی سے ہدایات دیں کہ صرف سرکاری طور پر منظور شدہ کھاد فروخت کی جائے،دکان میں قیمتوں کی فہرست نمایاں جگہ پر آویزاں ہو،غیرقانونی ذخیرہ اندوزی یا غیر معیاری سامان کی فروخت سے گریز کیا جائے،خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق زرعی سیزن کے دوران ایسی چیکنگ مہمات مسلسل جاری رہیں گی تاکہ کاشتکاروں کو معیاری اور اصل کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • میرپور ماتھیلو: قوم پرست جماعتوں کا ہنگامی اجلاس، شوگر مل مافیا کے خلاف دھرنے کا اعلان

    میرپور ماتھیلو: قوم پرست جماعتوں کا ہنگامی اجلاس، شوگر مل مافیا کے خلاف دھرنے کا اعلان

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلوں کے انڑ ہاؤس میں قوم پرست جماعتوں کا ایک انتہائی اہم اور ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سندھ یونائیٹڈ پارٹی سکھر ڈویژن کے صدر اُستاد حاتن خان شر نے کی۔ اجلاس میں مختلف قوم پرست جماعتوں کے مرکزی اور ضلعی رہنما شریک ہوئے، جن میں اکرم میتلو، کمال مہر، میر حسن لاشاری، علی شیر کانجھوں، گل منیر شر، منظور شاہ، شرف الدین انڑ اور اعجاز کلہوڑو شامل تھے۔

    اجلاس میں اس بات پر گہری تشویش اور شدید احتجاج کیا گیا کہ شوگر مِل مافیا آبادگاروں کا معاشی قتلِ عام کر رہی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ گنے کا صحیح سرکاری نرخ مقرر نہ ہونااور مل مالکان کی جانب سے کم قیمتوں کی پیشکشہزاروں آبادگاروں کے لیے شدید معاشی بدحالی کا سبب بن رہی ہے۔

    اسی صورتحال کے پیشِ نظر صبحانے جئے سندھ محاذ ہاری فرنٹ کی جانب سے ڈی سی آفس کے سامنے دیے جانے والے دھرنے میں تمام قوم پرست جماعتوں نے مشترکہ شرکت کا اعلان کیا۔

    اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ سندھ پانچ ہزار سالہ تاریخ، تہذیب، زبان اور ثقافت کی حامل دھرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سازشی عناصر سندھ کی تقسیم کی باتیں کر رہے ہیں، جنہیں سخت ترین الفاظ میں مسترد کیا جاتا ہے۔

    رہنماؤں نے ان عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”نفرت اور تعصب پھیلانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔”

    مزید برآں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 7 دسمبر کو ایکتا ڈے ضلع گھوٹکی کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں پوری قوت اور جوش و جذبے سے منایا جائے گا۔علاقے کے نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایکتا ڈے کے پروگراموں میں شرکت کریں۔

    یہ اجلاس علاقے کی سیاسی فضا میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس میں آبادگاروں کے معاشی مسائل اور سندھ کی وحدت کے تحفظ کو یکساں اہمیت کے ساتھ اجاگر کیا گیا۔

  • گھوٹکی:الائنس شوگر مل بند،کاشتکاروں کا ہائی وے پر احتجاج، ٹریفک جام

    گھوٹکی:الائنس شوگر مل بند،کاشتکاروں کا ہائی وے پر احتجاج، ٹریفک جام

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)الائنس شوگر مل کی مبینہ غیر قانونی بندش کے خلاف علاقہ بھر کے کاشتکاروں اور زمینداروں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ مشتعل کاشتکاروں نے نیشنل ہائی وے پر دھرنا دے کر ٹریفک مکمل طور پر معطل کر دی، جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ شوگر مل کی اچانک بندش نے انہیں معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان کے مطابق گنے کی پورے سال کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سینکڑوں مزدور بھی بیروزگار ہو چکے ہیں۔ کاشتکاروں نے الزام عائد کیا کہ مل انتظامیہ جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر مل بند رکھے ہوئے ہے، جس سے انہیں کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    احتجاجی زمینداروں نے سندھ حکومت، کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر گھوٹکی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مل کو فی الفور بحال کیا جائے اور گنے کی خریداری کا عمل شفاف طریقے سے دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ کسان مزید معاشی نقصان سے بچ سکیں۔

    مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • گھوٹکی:اُباڑو الائنس شوگر مل سیل، احتجاج اور سپلائی معطل

    گھوٹکی:اُباڑو الائنس شوگر مل سیل، احتجاج اور سپلائی معطل

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی ضلع میں اباڑو الائنس شوگر مل لمیٹڈ کا مرکزی گیٹ سندھ حکومت کی ہدایات پر پولیس کی بھاری نفری کے ذریعے راتوں رات سیل کر دیا گیا، جس سے علاقے میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اچانک بندش نے نہ صرف کاشتکاروں کو پریشان کر دیا ہے بلکہ مل کے سینکڑوں مزدور بھی روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    گیٹ بند ہونے کے باعث گنے کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی ہے۔ لاکھوں روپے کی تیار کھڑی فصل ضائع ہونے کے قریب ہے جبکہ مزدور، جو روزانہ کی مزدوری پر انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہیں۔

    مل کے باہر آبادگاروں اور مزدوروں نے بھرپور احتجاج کیا اور حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    مزدوروں کا کہنا تھا:”ہماری مزدوری بند کر دی گئی ہے، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ سندھ حکومت کو ہم مزدوروں اور آبادگاروں سے کیا دشمنی ہے؟”

    کاشتکاروں نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا:”ہماری فصل تباہ ہو رہی ہے، معیشت بیٹھ رہی ہے، حکومت اپنی ہی عوام کے راستے کیوں بند کر رہی ہے؟”

    احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ الائنس شوگر مل کا گیٹ فوری طور پر کھولا جائے تاکہ گنے کی ترسیل بحال ہو سکے اور مزدوروں کا روزگار دوبارہ شروع ہو سکے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گیٹ نہ کھولا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

  • گھوٹکی: پولیس کی بروقت کارروائی، شادی کے بہانے اغواء کا منصوبہ ناکام، شہری محفوظ

    گھوٹکی: پولیس کی بروقت کارروائی، شادی کے بہانے اغواء کا منصوبہ ناکام، شہری محفوظ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بنیر خیبرپختونخوا کے رہائشی شہری گل سید ولد جان سید کو اغواء ہونے سے بچا لیا۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی خصوصی ہدایت پر پولیس پکٹنگ اور گشت میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ اہم کارروائی عمل میں آئی۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ کھمبڑا ظہیر حسین بھٹو بمعہ پولیس ٹیم دورانِ چیکنگ موجود تھے۔ پولیس نے مشکوک صورتحال پر شہری سے پوچھ گچھ کی، جس کے دوران انکشاف ہوا کہ گل سید کو چند روز سے نامعلوم نمبروں سے ایک عورت “ثمینہ” کے نام پر کالز آرہی تھیں، جو اسے شادی کا جھانسہ دے رہی تھی۔

    گل سید نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی نے اسے دوستی اور شادی کے وعدوں میں الجھا کر کچے کے علاقے میں بلایا تھا، جہاں اسے اغواء کیے جانے کا منصوبہ تیار تھا۔ پولیس نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے ممکنہ اغواء کو ناکام بنادیا۔

    گل سید نے اپنی جان بچانے پر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران اور پورے پولیس عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    گھوٹکی پولیس نے کارروائی میں حصہ لینے والی ٹیم کے لیے شاباشی کا اعلان بھی کیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کردیا گیا ہے۔

  • گھوٹکی: سندھ کے جزائر اور وسائل کی فروخت بند کی جائے .جے یو آئی رہنما

    گھوٹکی: سندھ کے جزائر اور وسائل کی فروخت بند کی جائے .جے یو آئی رہنما

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، مشتاق علی لغاری)جمعیت علمائے اسلام پاکستان گھوٹکی کے زیرِ اہتمام منعقدہ بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، اور صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے حکومت کی مختلف پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔

    مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے خطاب میں سندھ کے جزائر، وسائل، معدنیات اور دریائی پٹی کی فروخت کو صوبے کے حقوق پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی خود مختاری کا احترام کیا جائے اور یہ عمل فی الفور روکا جائے۔

    صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے نکاح پر پابندی کا قانون قرآن و سنت سے متصادم ہے، اس لیے حکومت کو اس قانون پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

    علامہ راشد محمود سومرو نے اپنے خطاب میں کاشتکاروں کی مشکلات اور زرعی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بدحالی نے کسان کو تباہ کر دیا ہے، لہٰذا گنے کی قیمت فی من 600 روپے مقرر کی جائے تاکہ کسان کو ریلیف مل سکے۔

    رہنماؤں نے حکمرانوں کی جانب سے لی گئی آئینی استثنیٰ، حالیہ منظور شدہ ستائیسویں ترمیم اور مذہبی اداروں کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ملک و قوم کے مفاد کے خلاف قرار دیا۔

    جلسے کی صدارت جے یو آئی سندھ کے صوبائی امیر حجتہ الاسلام مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کی، جبکہ مرکزی سیکریٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری، علامہ راشد محمود سومرو، صوبائی ناظم مولانا اسحاق لغاری، امیر ضلع لاڑکانہ مولانا ناصر محمود سومرو اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔