Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • میکسیکو میں مویشیوں کی متروکہ چراگاہ پر شجرکاری کا 17 سالہ تجربہ، 5 ہزار کے قریب پودے اُگ آئے

    میکسیکو میں مویشیوں کی متروکہ چراگاہ پر شجرکاری کا 17 سالہ تجربہ، 5 ہزار کے قریب پودے اُگ آئے

    میکسیکو میں سائنسدانوں نے 17 سال تک جاری رہنے والے ایک تجربے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ مویشیوں کی متروکہ چراگاہوں پر مقامی درخت لگانے سے جنگلات کی قدرتی بحالی کے عمل کو نمایاں طور پر تیز کیا جاسکتا ہے، جبکہ جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں کی شجرکاری سے جنگلات کی نئی اقسام کے دوبارہ پنپنے میں خاص طور پر مدد ملتی ہے۔

    یہ طویل المدتی تجربہ 2006 میں میکسیکو کے علاقے لاس توکسٹلاس، ریاست ویراکروز میں شروع کیا گیا تھا۔ محققین نے مویشیوں کی متروکہ چراگاہ کے کچھ حصوں کو باڑ لگا کر محفوظ کیا اور وہاں مختلف طریقوں سے مقامی درخت لگائے، جبکہ بعض حصوں کو قدرتی طور پر دوبارہ جنگل بننے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

    جولائی 2023 میں، تجربہ شروع ہونے کے 17 سال بعد، محققین نے بحالی کے مختلف پلاٹس کا دوبارہ جائزہ لیا۔ سروے کے دوران مجموعی طور پر 4 ہزار 847 پودے اور درخت ریکارڈ کیے گئے، جن کا تعلق 109 مختلف حیاتیاتی گروہوں سے تھا۔ تحقیق میں 40 سے 225 سینٹی میٹر تک بلند لکڑی دار پودوں اور کھجوروں پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ بحال ہوتے جنگل کی نچلی نباتاتی سطح کا جائزہ لیا جاسکے۔

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن علاقوں میں درخت لگائے گئے تھے وہاں قدرتی طور پر بحالی کے لیے چھوڑے گئے علاقوں کے مقابلے میں پودوں اور انواع کی تعداد زیادہ تھی۔

    جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں والے پلاٹس میں اوسطاً 253 پودے اور 33.5 اقسام فی پلاٹ ریکارڈ ہوئیں، جبکہ ہوا کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں کے پلاٹس میں اوسطاً 219 پودے اور 29.1 اقسام موجود تھیں۔ قدرتی طور پر بحالی کے لیے چھوڑے گئے علاقوں میں اوسطاً 134 پودے اور 20 اقسام ریکارڈ کی گئیں۔

    محققین نے جب ان پودوں کو تجزیے سے نکال دیا جو ابتدا میں خود لگائے گئے درختوں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، تب بھی جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے درختوں والے علاقوں میں نئے پودوں کی تعداد قدرتی بحالی والے علاقوں سے زیادہ رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لگائے گئے درختوں نے دیگر جنگلاتی انواع کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں وہ خود بھی پہنچ کر نشوونما پاسکیں۔

    تحقیق کے مطابق جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے پلاٹس میں 21 منفرد نباتاتی گروہ پائے گئے، جبکہ ہوا کے ذریعے بیج پھیلانے والے پلاٹس میں 20 اور قدرتی بحالی والے علاقوں میں صرف 10 منفرد گروہ ریکارڈ ہوئے۔

    محققین کے مطابق جانوروں کے ذریعے بیج پھیلانے والے پلاٹس میں ایسی غیر ابتدائی جنگلاتی انواع کے نئے پودے بھی زیادہ تعداد میں سامنے آئے جو دوسرے طریقوں سے بحال ہونے والے علاقوں میں کم تھے۔

    تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ قدرتی طور پر بحال ہونے والے علاقوں میں چند مخصوص ابتدائی اقسام کے پودوں کا غلبہ زیادہ تھا، جبکہ شجرکاری والے علاقوں میں مختلف جنگلاتی انواع کے لیے بہتر ماحول پیدا ہوا اور وہ وہاں قائم ہونے میں کامیاب رہیں۔

    تاہم، جب ابتدائی طور پر لگائی گئی انواع کو تجزیے سے نکالا گیا تو مختلف بحالی طریقوں کے درمیان مجموعی نباتاتی ساخت کافی حد تک ایک جیسی ہوگئی۔ محققین کے مطابق بحالی کی حکمت عملی نے نباتاتی برادری میں مجموعی فرق کا صرف 3.7 فیصد واضح کیا۔

    یہ تحقیق ScienceDirect پر شائع ہونے والے مطالعے "Understory contrasts across experimental tropical forest restoration” میں پیش کی گئی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تجربہ استوائی جنگلات کی بحالی کے حوالے سے 17 سالہ مشاہدات فراہم کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ مناسب مقامی درختوں کی شجرکاری تباہ شدہ زمین پر پودوں کی تعداد اور تنوع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

    محققین کے مطابق درخت لگانے کا فائدہ صرف نئی سبزہ کاری تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ ایسا قدرتی ماحول بھی تشکیل دے سکتا ہے جہاں مزید جنگلاتی انواع پہنچ کر مستقل طور پر نشوونما پاسکیں، جس سے متروکہ مویشیوں کی چراگاہوں کو دوبارہ گھنے استوائی جنگلات میں تبدیل کرنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔

  • ڈرائیور کی چھٹی، ٹیسلا کی بغیر اسٹیئرنگ وہیل ’سائبر کیب‘ سڑکوں پر آگئی

    ڈرائیور کی چھٹی، ٹیسلا کی بغیر اسٹیئرنگ وہیل ’سائبر کیب‘ سڑکوں پر آگئی

    الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی معروف امریکی کمپنی ٹیسلا نے آسٹن، ٹیکساس کے مخصوص علاقوں میں سٹیئرنگ اور پیڈل کے بغیر چلنے والی دو سیٹوں کی سائبر کیب کی سواریاں شروع کردی ہیں۔

    ٹیسلا کی جانب سے سائبر کیب کو سڑکوں پر لانے کے فوراً بعد امریکی آٹو سیفٹی ریگولیٹر نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) نے بھی اس اقدام کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ امریکی قوانین کے تحت بغیر سٹیئرنگ والی گاڑیوں کے استعمال پر بعض پابندیاں عائد ہیں۔

    ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک سائبر کیب کو عملی طور پر سڑکوں پر لانے کے لیے پرعزم ہیں، تاہم آسٹن میں سروس کی لانچنگ تقریب میں وہ خود شریک نہیں ہوئے۔

    تقریب میں شریک سرمایہ کاروں اور سوشل میڈیا شخصیات نے سائبر کیب کے منفرد ڈیزائن، خصوصاً پروں کی طرح کھلنے والے سنہری دروازوں (Butterfly Doors) کو سراہا۔

    ابتدائی طور پر ٹیسلا نے سائبر کیب کی سروس مفت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم کمپنی کے مطابق آنے والے دنوں میں صارفین سے ڈائنامک پرائسنگ کے تحت کرایہ وصول کیا جائے گا۔

    ٹیسلا کا مقصد ڈرائیور لیس روبوٹیکسی سروس کو وسعت دے کر عالمی سطح پر خصوصاً چینی کمپنیوں کی جانب سے ملنے والے بڑھتے ہوئے مقابلے کا جواب دینا ہے۔

  • صرف 799 گرام وزنی جدید لیپ ٹاپ متعارف

    صرف 799 گرام وزنی جدید لیپ ٹاپ متعارف

    ایسر نے سوئفٹ بلیڈ 14 کے نام سے نیا لیپ ٹاپ متعارف کرایا ہے، جسے کمپنی نے اب تک کا سب سے ہلکا 14 انچ لیپ ٹاپ قرار دیا ہے۔ اس کا وزن صرف 799 گرام ہے، جو ایک کلوگرام سے کم وزن رکھنے والے دیگر 14 انچ لیپ ٹاپس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

    کمپنی کے مطابق سوئفٹ بلیڈ 14 کی ہلکی ساخت کے لیے الٹرا لائٹ کاربن فائبر اور میگنیشیم ایلومینیم الائے استعمال کیا گیا ہے، جبکہ ڈیزائن میں مضبوطی اور پائیداری کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔

    لیپ ٹاپ میں انٹیل کور سیریز 3 کے نئے پروسیسرز دیے گئے ہیں، جن میں کور 3 304، کور 5 315، کور 5 320 اور کور 7 350 کے آپشنز شامل ہیں۔ یہ پروسیسرز 12 جی بی LPDDR5 ریم اور ایک ٹی بی تک SSD اسٹوریج کے ساتھ دستیاب ہوں گے۔

    سوئفٹ بلیڈ 14 میں 3K OLED ڈسپلے کا آپشن بھی دیا گیا ہے، جو 100 فیصد DCI-P3 کلر کوریج اور 90 ہرٹز ریفریش ریٹ فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ 1200p OLED 60Hz اور IPS 1200p 60Hz ڈسپلے کے آپشنز بھی دستیاب ہوں گے۔

    لیپ ٹاپ میں 50Wh بیٹری دی گئی ہے، جس کے بارے میں ایسر کا دعویٰ ہے کہ یہ تقریباً 20 گھنٹے تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    ایسر نے سوئفٹ بلیڈ 14 کی قیمت کا اعلان نہیں کیا، تاہم مارکیٹ میں موجود اسی نوعیت کے نئے لیپ ٹاپس کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے اس کے ٹاپ ماڈل کی قیمت تقریباً 1200 ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • آسٹریلیا میں دیوہیکل کٹل فش کی تعداد میں خطرناک کمی، صرف 44 مچھلیاں دیکھی گئیں

    آسٹریلیا میں دیوہیکل کٹل فش کی تعداد میں خطرناک کمی، صرف 44 مچھلیاں دیکھی گئیں

    آسٹریلیا کے جنوبی حصے میں ہر سال افزائش نسل کے موسم کے دوران ہزاروں بلکہ بعض برسوں میں ایک لاکھ سے زائد دیوہیکل کٹل فش جمع ہوتی ہیں، تاہم رواں سال ان کی تعداد میں غیر معمولی کمی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

    جنوبی آسٹریلیا کی اسپینسر گلف میں واقع پوائنٹ لوولی کے ساحل پر ہر سال موسم سرما میں دیوہیکل کٹل فش افزائش نسل کے لیے جمع ہوتی ہیں۔ اسے دنیا میں کٹل فش کا سب سے بڑا اجتماعی افزائشی اجتماع سمجھا جاتا ہے، جہاں نر کٹل فش رنگ اور جسمانی شکلیں بدل کر ماداؤں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔

    تاہم رواں سال غوطہ خوروں کے ایک سروے کے دوران صرف 44 کٹل فش دیکھی گئیں، جبکہ معمول کے برسوں میں اس مقام پر دسیوں ہزار سے لاکھوں کٹل فش موجود ہوتی ہیں۔ سروے کے دوران صرف 440 انڈے بھی ملے، حالانکہ عام طور پر ان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق گزشتہ برس جنوبی آسٹریلیا میں پھیلنے والی شدید زہریلی الجی نے سمندری ماحول کو بری طرح متاثر کیا، جس کے اثرات کٹل فش کی افزائش نسل پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کٹل فش کی تعداد میں اچانک ہونے والی اس غیر معمولی کمی کی حتمی وجوہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    ماہرین کے مطابق کٹل فش کی یہ مخصوص آبادی اپنی مختصر زندگی کے باعث ہر سال کامیاب افزائش نسل پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، کیونکہ بالغ کٹل فش افزائش نسل کے بعد عموماً مر جاتی ہیں۔ ایسے میں رواں سال افزائشی موسم کے دوران کٹل فش کی انتہائی کم تعداد آئندہ نسل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

  • ناسا کا نیا ٹیلی اسکوپ خلا میں روانہ

    ناسا کا نیا ٹیلی اسکوپ خلا میں روانہ

    ناسا کی جدید ’’نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘ کامیابی سے خلا میں روانہ ہوگئی ہے، جہاں یہ دور دراز کہکشاؤں، نئے سیاروں اور کائنات کی ساخت سے متعلق اہم سوالات کا جائزہ لے گی۔

    رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے امریکا کی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کمپلیکس 39A سے روانہ کیا گیا، راکٹ نے تقریباً 4 بج کر 57 منٹ پر پرواز کی اور اس کے ساتھ رومن ٹیلی اسکوپ نے بھی زمین سے اپنے طویل خلائی سفر کا آغاز کردیا۔

    یہ مشن ناسا کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ رومن دوربین کا مقصد صرف کسی ایک ستارے، سیارے یا کہکشاں کو تفصیل سے دیکھنا نہیں بلکہ آسمان کے انتہائی وسیع حصے کا سروے کرنا ہے اس کے ذریعے سائنس دان کائنات کی ایک بڑی تصویر تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔

    رومن ٹیلی اسکوپ کا اگلا اہم مرحلہ سورج اور زمین کے درمیان موجود دوسرے لاغرینج پوائنٹ تک پہنچنا ہے، جسے ’ایل ٹو‘ کہا جاتا ہےیہ مقام زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے عام سیٹلائٹس کی طرح زمین کے گرد چکر لگانے کے بجائے رومن ٹیلی اسکوپ زمین کے گرد گردش نہیں کرے گی بلکہ سورج اور زمین کے اس مخصوص خطے کے گرد اپنے مقررہ مدار میں کام کرے گی۔

    ‘ایل ٹو‘ کے مقام کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہاں سے دوربین کو کائنات کا نسبتاً وسیع اور کم رکاوٹ والا منظر مل سکے گا رومن کو اس مقام تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہےوہاں پہنچنے کے بعد دوربین اپنے اندر موجود نظامِ حرکت کی مدد سے ضروری سمت اور مدار میں آنے کے لیے مختلف مراحل مکمل کرے گی۔

    تاہم ’ایل ٹو‘ تک پہنچ جانا اس مشن کا اختتام نہیں ہوگا ناسا کے مطابق دوربین کو سائنسی مشاہدات شروع کرنے سے پہلے تقریباً تین ماہ کی تیاری کے مرحلے سے گزرنا ہوگا اس دوران انجینئرز اس کے مختلف آلات اور نظام فعال کریں گے، ان کی جانچ کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ دوربین سائنسی کام کے لیے درست طریقے سے تیار ہے۔

    رومن ٹیلی اسکوپ کی خاص بات اس کا وسیع میدانِ نظر ہے اس کا بنیادی آئینہ 2.4 میٹر چوڑا ہے، جو حجم کے اعتبار سے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے آئینے کے قریب ہے تاہم رومن کا وائیڈ فیلڈ انسٹرومنٹ ایک ہی مشاہدے میں ہبل کے مقابلے میں کم از کم 100 گنا زیادہ وسیع آسمانی علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔

    یہ صلاحیت رومن کو کائنات کا وسیع سروے کرنے کے لیے انتہائی اہم بناتی ہے سائنس دان اس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کہکشائیں وقت کے ساتھ کس طرح وجود میں آئیں اور تبدیل ہوئیں، کائنات میں موجود ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کیا کردار ادا کرتے ہیں اور ہماری نظامِ شمسی سے باہر کتنے نئے سیارے موجود ہیں۔

    سائنس دانوں کو امید ہے کہ رومن کے مشاہدات سے کائنات کے پھیلاؤ، ڈارک انرجی، کہکشاؤں کی ارتقائی تاریخ اور نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوں گی خاص طور پر نئے سیاروں کی تلاش میں یہ دوربین ایسی دنیاؤں کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتی ہے جو موجودہ طریقوں سے تلاش کرنا مشکل ہیں۔

    تین ماہ کے کمیشننگ اور آلات کی جانچ کے مرحلے کے بعد رومن اپنے باقاعدہ سائنسی مشاہدات شروع کرے گی، سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس مشن سے ملنے والی معلومات علم فلکیات کے کئی بڑے سوالوں کے جواب فراہم کرے گی۔

  • اگلے سال اے آئی ’’سپرہیومن‘‘بن کر انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائے گی،ایلون مسک

    اگلے سال اے آئی ’’سپرہیومن‘‘بن کر انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائے گی،ایلون مسک

    ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ اے آئی اگلے سال کے اختتام تک ڈیجیٹل دنیا کے تقریباً ہر کام کو انسانوں سے بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہو سکتی ہے۔

    ایلون مسک نے یسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک گفتگو کے دوران کہا کہ 2027 کے اختتام تک اے آئی ’’ڈیجیٹل دنیا میں ہر کام سپرہیومن سطح‘‘ پر کرنے کے قابل ہو سکتی ہے، ان کا یہ تبصرہ ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ کی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا۔

    اے آئی ماڈلز گزشتہ چند برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کر رہے ہیں آج کے جدید ماڈلز نہ صرف سوالات کے جواب دے سکتے ہیں بلکہ کمپیوٹر کوڈ لکھنے، فائلوں کا جائزہ لینے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں مسک کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے عرصے میں یہ نظام ان کاموں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔

    انہوں نے اپنی پیش گوئی میں ایک اہم وضاحت بھی کی ان کے مطابق اے آئی کا ممکنہ ’’سپرہیومن‘‘ مرحلہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگا یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی فوری طور پر حقیقی دنیا میں ہر جسمانی کام انسان سے بہتر کرنے لگے گی۔

    یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی ایجنٹس کی سائبر سکیورٹی صلاحیتوں کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے گیلرمو راخ نے ایک معروف سافٹ ویئر سروس ’آرٹیفیکٹری‘ میں سامنے آنے والی ایک سنگین سکیورٹی خامی کو حالیہ دعوؤں سے جوڑا تھا، جن میں بتایا گیا کہ اے آئی ایجنٹس نے سافٹ ویئر میں ایسی کمزوریاں تلاش کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے جنہیں سائبر حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    راخ نے اس امکان پر بھی توجہ دلائی کہ مستقبل میں اے آئی ایجنٹس خودکار طور پر کمزور کمپیوٹر سسٹمز تلاش کرکے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ان کے مطابق انٹرنیٹ کے نئے دور میں وہ نظام جو قابلِ ہیک ہوں، ان کے خودکار طور پر نشانہ بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آرٹیفیکٹر ی کی مذکورہ خامی خود کسی اے آئی ایجنٹ نے دریافت یا استعمال کی تھی۔

    مسک نے اسی بحث کے دوران گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ اپنی ایک پرانی گفتگو کا حوالہ بھی دیا مسک کے مطابق پیج تقریباً ایک دہائی قبل بار بار یہ پیش گوئی کرتے تھے کہ اے آئی ہیکنگ کے معاملے میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔

    اے آئی کے خودمختار رویے سے متعلق خدشات صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہے حالیہ مہینوں میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے اے آئی ماڈلز کی جانچ کے دوران ایسے واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کی۔

    اوپن اے آئی نے حال ہی میں ایک سکیورٹی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کی داخلی جانچ کے دوران تقریباً 1200 اے آئی ایجنٹس نے آرٹیفیکٹری نامی اندرونی سروس کو ایک دوسرے سے رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔

    رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے 70 ہزار سے زیادہ پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا، جبکہ تقریباً 700 ایجنٹس نے بعد میں ’ہگنگ فیس‘ کے سسٹمز کو ہدف بنایا اسی طرح اینتھروپک اور میٹا نے بھی حالیہ عرصے میں اپنے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے دوران ایسے رویوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں کمپنیوں نے توقع سے ہٹ کر یا ’’روگ‘‘ رویہ قرار دیا۔

    ان واقعات کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اے آئی اگلے سال واقعی ہر ڈیجیٹل کام میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔ مسک کی بات ایک پیش گوئی ہے، حتمی سائنسی نتیجہ نہیں۔

  • جنوبی امریکا میں دیوہیکل بکتر بند مخلوق کی نئی نسل دریافت

    جنوبی امریکا میں دیوہیکل بکتر بند مخلوق کی نئی نسل دریافت

    ماہرینِ حیاتیات نے جنوبی امریکا میں پائی جانے والی دیوہیکل بکتر بند مخلوق کی ایک نئی نسل دریافت کرلی

    ڈنمارک کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں 19ویں صدی سے محفوظ ایک نامکمل فوسل کھوپڑی کے نئے سائنسی تجزیے سے گلیپٹوڈونٹ کی ایک غیر شناخت شدہ نسل سامنے آگئی ہے، جسے Glyptotherium deuterophractum کا نام دیا گیا ہے۔

    تحقیق کے مطابق یہ نئی نسل تقریباً 60 ہزار سے 17 ہزار سال قبل جنوبی امریکا میں موجود تھی اور اس کا پھیلاؤ برازیل سے وینزویلا تک تھا۔ گلیپٹوڈونٹ دیوہیکل اور سخت بکتر سے ڈھکے ایسے قدیم جانور تھے جو موجودہ دور کے آرمڈیلو کے رشتہ دار سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض کا حجم ایک چھوٹی گاڑی جتنا ہوتا تھا۔

    اس نئی نسل کی بنیادی فوسل کھوپڑی ڈنمارک کے ماہرِ قدرتی تاریخ پیٹر ولہلم لُنڈ نے 19ویں صدی میں برازیل کی مشہور لاگوآ سانتا غاروں سے دریافت کی تھی۔ بعد میں 1875 میں ڈینش سائنس دان جوہانس رائن ہارٹ نے اسے ایک دوسری نسل سے منسوب کردیا تھا۔

    حالیہ تحقیق میں ماہرین نے کھوپڑی، دانتوں، ٹخنے کی ہڈیوں اور بکتر کی ہڈیوں کا برازیل اور وینزویلا سے ملنے والے فوسلز کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا۔ ماہرین کے مطابق جسمانی ساخت میں نمایاں فرق کی بنیاد پر یہ جانور ایک الگ نسل قرار دینے کے لیے کافی منفرد تھا۔

    تحقیق کے مطابق Glyptotherium deuterophractum برازیل کی متعدد ریاستوں سمیت شمالی جنوبی امریکا اور وینزویلا کے علاقے فالکون میں بھی پایا جاتا تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عجائب گھروں میں کئی دہائیوں سے محفوظ قدیم فوسلز میں اب بھی اہم سائنسی دریافتیں پوشیدہ ہوسکتی ہیں اور پرانی درجہ بندیوں پر نظرثانی سے ماضی کی حیاتیاتی تنوع کے بارے میں نئی معلومات سامنے آسکتی ہیں۔

    یہ تحقیق رواں ماہ Journal of Mammalian Evolution میں شائع ہوئی۔

  • اوپن اے آئی کا ایلون مسک کی  کمپنی "کرسر” کو اے آئی ماڈلز کی فراہمی روکنے کا فیصلہ

    اوپن اے آئی کا ایلون مسک کی کمپنی "کرسر” کو اے آئی ماڈلز کی فراہمی روکنے کا فیصلہ

    اوپن اے آئی نے ایلون مسک کی ملکیت میں جانے والی کوڈنگ کمپنی کرسر کو اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے بعد دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    اوپن اے آئی کے مطابق کرسر کو مستقبل کے اے آئی ماڈلز تک رسائی دینے کا موجودہ معاہدہ 12 نومبر 2026 کو ختم کردیا جائے گا۔ اس تاریخ کے بعد کرسر کو اوپن اے آئی کے نئے ماڈلز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    کمپنی نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ اسپیس ایکس کی ملکیت میں آنے کے بعد کرسر اوپن اے آئی کی ٹیکنالوجی کو طے شدہ شرائط کے مطابق استعمال نہیں کرے گی۔ اوپن اے آئی کے مطابق کرسر کے ساتھ معاہدے میں ملکیت تبدیل ہونے کی صورت میں مخصوص مدت کے اندر معاہدہ ختم کرنے کا اختیار موجود ہے۔

    یہ فیصلہ اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان جاری طویل تنازع کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات پہلے ہی قانونی جنگ کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ایلون مسک کی جانب سے اوپن اے آئی کے خلاف تقریباً 150 ارب ڈالر کا مقدمہ بھی دائر کیا جا چکا ہے۔

    ایلون مسک نے اوپن اے آئی کے تازہ اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس فیصلے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے سام آلٹمین اور اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی اپنے ابتدائی غیر منافع بخش مقصد سے ہٹ چکی ہے۔

    دوسری جانب کرسر کے شریک بانی اور اب اسپیس ایکس کے عہدیدار مائیکل ٹروئل نے کہا ہے کہ کمپنی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اوپن اے آئی کی ٹیم سے رابطے میں ہے اور مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    اسی دوران اوپن اے آئی کی حریف کمپنی اینتھروپک نے کرسر کے لیے اپنے کلاڈ ماڈلز کی کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے رسائی محدود کیے جانے کی صورت میں کرسر دیگر اے آئی ماڈلز پر زیادہ انحصار کرسکتی ہے۔

    اسپیس ایکس نے رواں سال جون میں کرسر کی پیرنٹ کمپنی اینی سفیئر کو تقریباً 60 ارب ڈالر کے حصص پر مبنی معاہدے کے تحت خریدنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ یہ حصول رواں ماہ مکمل ہوا۔

    اوپن اے آئی کے تازہ فیصلے کے بعد کرسر کے لیے اے آئی ماڈلز کی دستیابی، اسپیس ایکس کی ٹیکنالوجی حکمت عملی اور سام آلٹمین و ایلون مسک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر ٹیکنالوجی کی دنیا میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

  • کراچی کے طلبہ کا کمال، ڈرائیونگ کے دوران نیند سے بچانے والا سمارٹ نظام تیار کرلیا

    کراچی کے طلبہ کا کمال، ڈرائیونگ کے دوران نیند سے بچانے والا سمارٹ نظام تیار کرلیا

    کراچی سمیت ملک بھر میں ڈرائیونگ کے دوران نیند اور شدید تھکن کے باعث پیش آنے والے حادثات کی روک تھام کے لیے علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کے شعبہ الیکٹریکل کے طلبہ نے جدید ’’اینٹی سلیپ کار الارم سسٹم‘‘ تیار کرلیا ہے، جو ڈرائیور کی آنکھوں کی حرکات پر مسلسل نظر رکھ کر غنودگی کی صورت میں فوری طور پر خبردار کرے گا۔

    خضر شیخ اور کامران علی کی جانب سے تیار کیے گئے اس سمارٹ نظام میں انفراریڈ سینسر نصب کیا گیا ہے، جو ڈرائیور کی آنکھوں کی حالت اور حرکات کو مسلسل مانیٹر کرتا ہے۔ اگر ڈرائیور کی آنکھیں مقررہ وقت تک مسلسل بند رہیں تو نظام اسے نیند یا شدید غنودگی کی ممکنہ علامت سمجھتے ہوئے فوری طور پر بزر الارم بجا دیتا ہے، جس کا مقصد ڈرائیور کو خبردار کرنا اور اس کی توجہ دوبارہ سڑک کی جانب مرکوز کرنا ہے۔

    طلبہ کے تیار کردہ اس نظام کی اہمیت طویل فاصلے تک سفر کرنے والی بڑی گاڑیوں، خصوصاً ٹرالرز، آئل ٹینکرز اور دیگر بھاری گاڑیوں کے لیے مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ کئی گھنٹے مسلسل ڈرائیونگ اور مناسب آرام نہ ملنے کی صورت میں ڈرائیور کی توجہ، ردعمل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں سنگین ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اس سمارٹ نظام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ غنودگی کی نشاندہی ہونے پر اسے گاڑی کو خودکار طور پر روکنے کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس فیچر کا مقصد اس صورتحال میں ممکنہ حادثے کے خطرے کو کم کرنا ہے جب ڈرائیور نیند یا شدید غنودگی کے باعث گاڑی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کھو دے۔

    نظام میں موجود مائیکرو کنٹرولر سینسر سے حاصل ہونے والی معلومات کو مسلسل پراسیس کرتا ہے اور ڈرائیور کی حالت پر حقیقی وقت میں نظر رکھتا ہے۔ یہ سسٹم 9 وولٹ کی بیٹری سے چل سکتا ہے، کم جگہ گھیرتا ہے اور اسے گاڑی کے ڈیش بورڈ میں نصب کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    منصوبے کے ایڈوائزر عمران اختر کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد مہنگے حفاظتی نظام کا کم لاگت اور مقامی متبادل تیار کرنا ہے، جسے عام گاڑیوں کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے تک چلنے والی بھاری گاڑیوں میں بھی استعمال کیا جاسکے۔

    انہوں نے کہا کہ مزید بہتری، ٹیسٹنگ اور بڑے پیمانے پر استعمال کی صورت میں یہ نظام ڈرائیوروں کی غنودگی کے باعث پیش آنے والے حادثات کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور بالخصوص بڑی گاڑیوں کے حادثات میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

    علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کی پروجیکٹ ایگزیبیشن 2026 میں پیش کیا جانے والا یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی نوجوان ملک کو درپیش حقیقی مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر جدید، کم لاگت اور قابلِ استعمال ٹیکنالوجی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    طلبہ کی یہ کاوش مستقبل میں ٹیکنالوجی کو ٹریفک سیفٹی کے ساتھ جوڑنے اور کراچی سمیت ملک بھر کی شاہراہوں پر ڈرائیونگ کے دوران نیند سے ہونے والے حادثات میں کمی لانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔

  • دنیا کے پہلے الیکٹرک طیارے کی کامیاب آزمائشی اُڑان

    دنیا کے پہلے الیکٹرک طیارے کی کامیاب آزمائشی اُڑان

    دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے الیکٹرک طیارے نے پہلی مرتبہ کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی-

    گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق سویڈن میں قائم اور امریکا میں کام کرنے والی کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس نے 12 اگست 2026 کو نیویارک کے پلاٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے مکمل جسامت والے ایکس ون طیارے کو پہلی بار فضا میں اڑایا۔

    کمپنی کے مطابق طیارہ تقریباً 27 منٹ تک فضا میں رہا اور اس دوران 335 میٹر یعنی تقریباً 1100 فٹ کی بلندی تک پہنچا۔ 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والے اس طیارے میں بیٹری سے چلنے والے چار برقی موٹرز نصب ہیں، جو ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتی ہیں۔

    اس آزمائشی پرواز کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ طیارے نے تقریباً 5 ڈالر کی بجلی استعمال کی، تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف اس پرواز میں استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت ہے، اس میں پائلٹ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری کی قیمت یا طیارے کے دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں۔

    ایکس ون دراصل مسافروں کو لے جانے کے لیے تیار کیا جانے والا حتمی طیارہ نہیں بلکہ ایک تجرباتی طیارہ ہے، اسے اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ کمپنی بیٹری، برقی موٹرز، طیارے کے دیگر نظام اور تیاری کے طریقوں کو حقیقی پرواز میں جانچ سکے۔

    ہارٹ ایرو اسپیس کا اصل ہدف 30 نشستوں والا ای ایس-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے کمپنی کے منصوبے کے مطابق ای ایس-30 تقریباً 200 کلومیٹر تک مکمل طور پر بجلی سے پرواز کر سکے گا، جبکہ ہائبرڈ نظام کے ذریعے اس کی پرواز کی حد 800 کلومیٹر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

    کمپنی کے مطابق ای ایس-30 کو خاص طور پر مختصر فاصلے کے سفر اور چھوٹے شہروں کو آپس میں ملانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایسے روٹس پر روایتی ایندھن سے چلنے والے طیاروں کا متبادل فراہم کرنا ہے جہاں کم فاصلے کی پروازیں ہوتی ہیں۔

    ہارٹ ایرو اسپیس نے کئی سال کی تیاری کے بعد اس مرحلے تک رسائی حاصل کی ہےکمپنی نے 2021 میں 35 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، جبکہ 2024 میں مزید 107 ملین ڈالر جمع کیے گئے اسی سرمایہ کاری سے ایکس ون سمیت برقی طیارے کی ٹیکنالوجی پر کام آگے بڑھایا گیا،2026 میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے ایکس ون کو خصوصی پرواز کا سرٹیفکیٹ جاری کیا، جس کے بعد کمپنی کو اس کی آزمائشی پرواز شروع کرنے کی اجازت ملی۔

    اب کمپنی کا اگلا بڑا ہدف ای ایس-30 کے پری پروڈکشن مرحلے کی پروازیں شروع کرنا ہے۔ ہارٹ ایرو اسپیس 2028 میں مزید بڑے آزمائشی مراحل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جبکہ ای ایس-30 کو 2031 کے قریب سروس میں شامل کرنے اور اس کی باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق ایکس ون کی پہلی پرواز کا مقصد فوری طور پر بڑے مسافر طیاروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر آزمانا ہے جو مستقبل میں علاقائی ہوابازی کو تبدیل کرسکتی ہے، پہلی بار 11 ٹن سے زیادہ وزن رکھنے والا اور 32 میٹر پروں کے پھیلاؤ والا بیٹری سے چلنے والا طیارہ مکمل جسامت میں فضا میں گیا ہے،اس پرواز سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے برقی اور ہائبرڈ طیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا۔