Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے 5 ہزار سال پرانی ممی کےخمیر کی مدد سے روٹی تیارکر لی

    سائنسدانوں نے ایک حیران کن تجربے میں 5 ہزار سال پرانی ممی سے حاصل کیے گئے خمیر کی مدد سے کھٹی روٹی (سورڈو بریڈ) تیار کر لی ہےمحققین اب اسی قدیم خمیر کو استعمال کرتے ہوئے بیئر بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

    یوراک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ برائے ممی اسٹڈیز میں کام کرنے والے ماہرِ حیاتیات محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی سے حاصل شدہ خمیر کے نمونوں پر تحقیق کے بعد روٹی تیار کی محمد سرحان کے مطابق تجربات کے دوران بالآخر ایسا آٹا تیار کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جو 24 گھنٹوں کے اندر عام خمیر کی طرح اچھی طرح پھول گیا، انہوں نے اس سے قبل کبھی روٹی نہیں بنائی تھی، اس لیے ابتدائی نتائج میں مزید بہتری کی گنجائش موجود تھی، تاہم یہ تجربات اپنی نوعیت کے پہلے تجربات تھے اور ان کے نتائج حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔

    محققین اب جرمنی کی معروف بریونگ کمپنی کے ماہرین خوراک کے ساتھ مل کر یہ جانچنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا یہی قدیم خمیر بیئر کی تیاری میں بھی استعما ل کیا جا سکتا ہے یا نہیں یہ مخصوص خمیر سرد ماحول میں بہتر نشوونما پاتا ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ خمیر ممی کے جسم میں اس کی زندگی کے دورا ن نہیں بلکہ موت کے کچھ عرصے بعد داخل ہوا تھا۔

    یہ ممی، جسے ’اوٹزی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یورپ کی قدیم انسانی زندگی کے بارے میں اہم معلومات کا خزانہ سمجھی جاتی ہے تقریباً 5 ہزار سال پرانی یہ لاش غیر معمولی طور پر محفوظ حالت میں دریافت ہوئی تھی، اس کے جسم پر 61 ٹیٹو کے نشانات موجود ہیں، جو اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ٹیٹوز میں شمار ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اوٹزی کو پہاڑوں میں ایک تیر مار کر قتل کیا گیا تھا، جس کے باعث اس کی موت کو دنیا کے قدیم ترین حل طلب قتل کے واقعات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ نئی تحقیق قدیم مائیکرو آرگینزمز اور خوراک کی تاریخ کے مطالعے میں ایک دلچسپ پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن آکسیجن لیکیج سے ہنگامہ،اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال

    انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کے روسی ماڈیول میں ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک دگنی ہونے اور روس کی جانب سے مرمت کے متنازع طریقہ کار کے باعث اسٹیشن پر اچانک ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پانچ خلابازوں کو فوری طور پر اسٹیشن خالی کرنے کی تیاری اور ’سیف ہیون‘ پروٹوکول کے تحت خلائی جہاز میں پناہ لینے کی ہدایت جاری کر دی تاہم، تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والے اس ہنگامی الرٹ کو بعد میں واپس لے لیا گیا ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے خلابازوں نے ’زویزدا سروس ماڈیول‘ میں موجود دراڑ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک ’آری‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ناسا کے اعلیٰ حکام نے روس کے اس خطرناک طریقہ کار سے شدید اختلاف کیا، جس کے بعد ناسا نے فوری طور پر خلابازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا حکم دیا ایک سینیئر ناسا عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ چند ماہ سے یہ لیکج معمولی تھی، لیکن جمعہ کے روز ہوا کے اخراج کی رفتار اچانک 1 پاؤنڈ روزانہ سے بڑھ کر 2 پاؤنڈ روزانہ تک پہنچ گئی، جس نے تشویش میں اضافہ کیا۔

    دوسری جانب روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسٹیشن پر دو مختلف جگہوں پر معمولی لیکج کا پتا لگایا تھا، جن میں سے پہلی کو فوری طور پر سِیل کر دیا گیا جبکہ دوسری پر کام جاری ہے۔ روسی حکام کا مؤقف ہے کہ اس سے عملے یا اسٹیشن کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔

    ناسا کی ترجمان کے مطابق، جیسے ہی روسی عملے نے آری کی مدد سے مرمت کا کام عارضی طور پر روکا، ناسا نے اپنا ہنگامی الرٹ منسوخ کر دیا اور خلابازوں کو دوبارہ اسٹیشن میں داخل ہونے کی اجازت دے دی وہ اب اس مسئلے کے مستقل اور محفوظ حل کے لیے روسی خلائی ایجنسی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن کی 27 سالہ تاریخ میں آج تک کبھی ایسی نوبت نہیں آئی کہ خلابازوں کو واقعی اسٹیشن چھوڑ کر زمین پر بھاگنا پڑا ہوخلائی ملبےکے ٹکراؤ کے خطرے یا ہوا کے دباؤ میں تبدیلی کے باعث ایسے الرٹس ماضی میں بھی انتہائی کم مواقع پر جاری کیے جاتے رہے ہیں یہ خلابازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے طے شدہ بین الاقوامی قوانین کا حصہ ہیں۔

  • 5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں یہ انکشاف سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

    اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔

    اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلوما ت فراہم کرتا ہے اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔

    ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیو ں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔

    تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔

  • دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے عالمی پیشگوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکا ن 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیا تی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے، بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکا میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے،ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر 2سے7 سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • 31 مئی کو آسمان پر  ایک منفرد اور کمیاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا

    31 مئی کو آسمان پر ایک منفرد اور کمیاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 31 مئی کو آسمان پر ایک منفرد اور کمیاب فلکیاتی واقعہ رونما ہو گا جب ایک ہی وقت میں بلیو مون اور مائیکرو مون کا نظارہ کیا جا سکے گا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق مئی 2026 کے آغاز پر یکم مئی کو مکمل چاند طلوع ہوا تھا جبکہ 31 مئی کو اسی مہینے کا دوسرا مکمل چاند نمودار ہو گا فلکیاتی اصطلاح میں ایک ہی کیلنڈر مہینے میں ظاہر ہونے والے دوسرے مکمل چاند کو “بلیو مون” کہا جاتا ہے اس سال کا بلیو مون ایک اور وجہ سے بھی منفرد ہو گا کیونکہ یہ 2026 کا “مائیکرو مون” بھی ہو گا اس دوران چاند اپنے مدار میں زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہو گا جس کے باعث وہ عام مکمل چاند کے مقابلے میں قدر ے چھوٹا دکھائی دے سکتا ہے۔

    ماہرین نے واضح کیا ہے کہ نام کے برعکس بلیو مون کا رنگ نیلا نہیں ہو گا بلکہ یہ اپنی معمول کی سفید اور چمکدار شکل میں ہی نظر آئے گا بلیو مون دراصل ایک فلکیاتی اصطلاح ہے جس کا تعلق چاند کے رنگ سے نہیں بلکہ اس کے ظہور کے وقت سے ہےچاند 31 مئی کو اپنی مکمل ترین حالت میں ہو گا اور مشرقی افق پر طلوع ہوتے وقت سرخ رنگ کے روشن ستارے Antares کے قریب دکھائی دے گا، جس سے یہ منظر مزید دلکش بن جائے گا۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بلیو مون کا انسانی صحت، قسمت یا کسی غیر معمولی روحانی اثر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ محض ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے ان کے مطابق ایسا منظر عموماً ہر دو سے تین سال بعد دیکھنے کو ملتا ہے، جبکہ اگلا بلیو مون دسمبر 2028 سے پہلے متوقع نہیں-

  • زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    زمین سے چاند تک سفر کے لیے نیا راستہ دریافت

    سائنسدانوں نے زمین سے چاند تک سفر کے لیے ایک ایسا نیا راستہ دریافت کیا ہے جس سے خلائی مشنز میں ایندھن کی بڑی بچت ممکن ہوسکے گی ماہرین کے مطابق یہ راستہ کششِ ثقل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے، جس سے مستقبل میں چاند تک کم خرچ اور زیادہ آسان سفر کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق سائنسدان ہمیشہ ایسے راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں ایندھن کا استعمال کم ہو، کیونکہ ایندھن کی تھوڑی سی بھی بچت سے کروڑوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں حال ہی میں بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی مدد سے زمین اور چاند کے درمیان لاکھوں ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔

    ایسٹرو ڈائنامکس نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے دوران تقریباً 3 کروڑ مختلف راستوں کی کمپیوٹر اسمولیشنز تیار کی گئیں، جن میں سے ہزاروں نتائج کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر کے دوران خلائی جہاز ہر وقت ایندھن استعمال نہیں کرتے بلکہ کئی مراحل پر زمین اور چاند کی کششِ ثقل سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے ماہرین نے ایک ایسا ”پوشیدہ راستہ“ دریافت کیا جو پہلے سامنے نہیں آیا تھاماضی میں چاند تک پہنچنے کے لیے زمین کے قریب والے راستے کو زیادہ موزوں سمجھا جاتا تھا، لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مخالف سمت سے داخل ہونے والا راستہ زیادہ فائدہ مند اور کم خرچ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس نئے راستے سے خلائی جہازوں کے ایندھن میں نمایاں کمی آئے گی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طریقے سے پہلے کے مقابلے میں مزید ایندھن بچایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل کے خلائی مشنز پر آنے والے اخراجات کم ہوسکتے ہیں یہ نیا راستہ زمین اور خلائی جہاز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے بعض اوقات خلائی جہاز چاند کے پیچھے جانے کی وجہ سے زمین سے عارضی طور پر رابطہ کھو دیتے ہیں، تاہم نئی تجویز کردہ سمت اس مسئلے کو کم کرسکتی ہےتاہم یہ راستہ ابھی حتمی حل نہیں بلکہ ابتدائی پیش رفت ہے۔ مستقبل میں سورج کی کششِ ثقل کو بھی تحقیق میں شامل کرکے مزید بہتر اور کم خرچ راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

  • دبئی میں کھولا جانے والا دنیا کا پہلا اے آئی اسمارٹ بس اسٹیشن

    دبئی میں کھولا جانے والا دنیا کا پہلا اے آئی اسمارٹ بس اسٹیشن

    دبئی میں دنیا کے پہلے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اسمارٹ بس اسٹیشن کا افتتاح کردیا گیا-

    دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) کی جانب سے ’مال آف دی ایمریٹس‘ کے مقام پر قائم کیا گیا یہ جدید اسٹیشن جدید ڈیجیٹل سہولیات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور 24 گھنٹے فعال اسمارٹ سروسز سے لیس ہے،یہ اسمارٹ بس اسٹیشن براہِ راست مال آف دی ایمریٹس میٹرو اسٹیشن سے منسلک ہے اور دبئی کے رہائشی، تجارتی اور سیاحتی علاقوں کو ملانے والی 11 بس روٹس کو سہولت فراہم کرے گا۔

    حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ تیز، محفوظ اور آسان بنانا ہے تاکہ شہری نجی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کو ترجیح دیں،اسٹیشن میں جدید اے آئی کیمروں کے ذریعے ہجوم کی نگرانی، بسوں میں مسافروں کی تعداد کا حقیقی وقت میں اندازہ، ڈیجیٹل معلوماتی اسکرینیں اور اسمارٹ کیوسک نصب کیے گئے ہیں، مسافر ان اسکرینوں پر بس اور میٹرو کی آمد کے اوقات، ٹیکسیوں کی دستیابی، اسٹیشن کا نقشہ اور قریبی مقامات کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

    آر ٹی اے کے مطابق اسمارٹ کیوسک میں موجود ورچوئل اسسٹنٹ سفر کی منصوبہ بندی، سوالات کے جواب اور ’لاسٹ اینڈ فاؤنڈ‘ خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ مسافر ڈیجیٹل طریقے سے ٹکٹ خریدنے اور ’نول کارڈ‘ ری چارج کرنے کی سہولت بھی استعمال کرسکتے ہیں اسٹیشن میں نصب سولر پینلز بجلی پیدا کرتے ہیں جبکہ ہوا کے معیار پر نظر رکھنے کے لیے اسمارٹ سینسر بھی نصب کیے گئے ہیں یہ منصوبہ دبئی کو دنیا کے جدید ترین اور ماحول دوست شہروں میں شامل کرنے کے وژن کا حصہ ہے۔

  • چیٹ جے پی ٹی کے سربراہ  نے بڑی غلطی پر معافی مانگ لی

    چیٹ جے پی ٹی کے سربراہ نے بڑی غلطی پر معافی مانگ لی

    اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے کینیڈا میں پیش آنے والے ایک ہولناک فائرنگ کے واقعے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ ان کی کمپنی کو حملہ آور کی مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔

    رپورٹس کے مطابق 18 سالہ نوجوان جیسی وان نے 10 فروری کو ٹمبلر رڈج میں فائرنگ کر کے 8 افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں اس کی والدہ، سوتیلا بھائی اور ایک اسکول کے طلبہ بھی شامل تھے بعد ازاں حملہ آور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    کمپنی کے مطابق حملہ آور کا چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ گزشتہ سال جون میں مشتبہ سرگرمیوں کے باعث معطل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس کی سرگرمیوں کو پرتشدد مقاصد سے جوڑا جا رہا تھا تاہم اس وقت اوپن اے آئی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع نہیں کیا کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ سرگرمیاں فوری خطر ے کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔

    اپنے ایک خط میں سیم آلٹمین نے کہا کہ ہمیں اس اکاؤنٹ کی معطلی کے بارے میں حکام کو اطلاع دینی چاہیے تھی، اور اس پر ہمیں گہرا افسوس ہے،انہوں نے متاثرہ کمیونٹی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

    برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ای بے اور مقامی حکام نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور کمپنی سے وضاحت طلب کی تھی، جس کے بعد یہ معذرت سامنے آئی، ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری، صارفین کی نگرانی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔

  • نظام شمسی میں ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ کی موجودگی  کا انکشاف

    نظام شمسی میں ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ کی موجودگی کا انکشاف

    سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری کائنات کو چلانے والی چار معلوم قوتوں کے علاوہ ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے پیچھے چھپا اصل محرک ہو سکتی ہے۔

    یہ خیال موجودہ فزکس کے لیے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہماری کائنات کی سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے ناسا کے ماہرین کے مطابق، اس دریافت کے لیے ہمیں دور دراز کی کہکشاؤں کے بجائے اپنے نظامِ شمسی میں موجود شواہد پر توجہ دینی ہوگی۔

    یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہم اب تک فطرت کی چار بنیادی قوتوں کو جانتے ہیں، کششِ ثقل، برقی مقناطیسیت ، مضبوط نیوکلیئر قوت اور کمزور نیوکلیئر قوت، یہ چاروں قوتیں کائنات کے زیادہ تر نظام کو کنٹرول کرتی ہیں، لیکن سائنس دانوں کے مطابق یہ کائنات کی مکمل وضاحت نہیں کرتیں۔

    سائنسی ویب سائٹ سائنس ڈیلی کے مطابق ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کا کہنا ہے کہ، کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جسے آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا، یہ ممکنہ پانچویں قوت دراصل اس پراسرار مادے اور ہمارے نظر آنے والے مادی جہان (ستاروں اور سیاروں) کے درمیان ایک ’پل‘ کا کام کر سکتی ہے اس کا سراغ ملنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کی تشکیل کے اصل مراحل کیا تھے۔

    ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کی تجویز ہے کہ اس قوت کو ثابت کرنے کے لیے چاند اور زمین کے درمیان لیزر شعاعوں کے ذریعے فاصلے کی انتہائی درست پیمائش کی جائےاگر کششِ ثقل کے روایتی حساب کتاب اور تجرباتی نتائج میں معمولی سا فرق بھی پایا گیا، تو یہ اس پانچویں قوت کی موجودگی کا حتمی ثبوت ہوگا۔

    تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی مشنز جیسے ’اقلیدس‘ اربوں کہکشاؤں کا معائنہ کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ پانچویں قوت کی تصدیق کے لیے ہمیں اپنے پڑوس یعنی نظامِ شمسی میں تجربات کرنے ہوں گے یہ دریافت نہ صرف طبیعیات کے نقشے کو بدل دے گی بلکہ ہمیں کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کے بارے میں بالکل نئی بصیرت فراہم کرے گی۔

    ماضی میں بھی اس حوالے سے دلچسپ تجربات سامنے آئے ہیں 2015 میں ہنگری کے سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی مشاہدہ کیا تھا جس میں ایک ممکنہ نئے ذرے کا اشارہ ملا، جبکہ بعد میں کچھ نظریات میں اسے ’ایکس بوسون‘ کہا گیا جو ممکنہ طور پر ایک نئی قوت کی علامت ہو سکتا ہےمزید حالیہ تجربات جیسے میں بھی کچھ ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جو موجودہ سائنسی ماڈل سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے، جس سے یہ سوال مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ کیا واقعی کائنات میں کوئی اضافی قوت موجود ہے؟

    ڈاکٹر ٹوری شیف کے مطابق اگرچہ بڑے پیمانے پر مشاہدات نئی معلومات دے سکتے ہیں، لیکن اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے سب سے اہم قدم ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں انتہائی درست اور کنٹرولڈ تجربات ہوں گے اگر یہ ’پانچویں قوت‘ ثابت ہو گئی تو یہ نہ صرف طبیعیات کے بنیادی اصولوں کو بدل دے گی بلکہ ہمیں کائنات کے آغاز، اس کی ساخت اور اس کے مستقبل کو سمجھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ بھی فراہم کرے گی۔

  • پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی پروگرام میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے، مقامی سطح پر تیار کردہ ’ای او تھری‘ سیٹلائٹ خلا میں روانہ کردیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ ‘الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ’ (ای او3) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کردیا ہے اس تاریخی سیٹلائٹ کو چین کے تائی یوآن سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام میں خود انحصاری اور تکنیکی مہارت کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    ای او تھری سیٹلائٹ کا کامیاب مشن پاکستان کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہے، جو ملک میں شہری منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے انتظام (ڈیزاسٹر مینجمنٹ)، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دے گایہ سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے کے ایک مربوط نظام کی بنیاد بنے گا، جس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا قومی ترجیحات کو سہارا دینے اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    اس تاریخی موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے سپارکو کے انجینیئرز اور سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے ساتھ ہی انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کے دیرینہ اور ہر موسم کے آزمودہ دوست ملک چین کے تعاون کو بھی سراہا، جس نے اس اہم منصوبے کی تکمیل میں بھرپور مدد فراہم کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کی مدد سے اب پاکستان خلا سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ڈیٹا کے لیے غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کر سکے گا۔