سورج نے7 گھنٹوں کےاندر 2 طاقتور ایکس 2.5 درجے کےشمسی شعلے خارج کیے، جو گزشتہ 78 دنوں میں سب سےشدید شمسی سرگرمی سمجھی جا رہی ہے دونوں دھماکے سورج کے ایک غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن اے آر 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر واقع ہےپہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کو رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کو صبح 4:14 بجے ظاہر ہوا۔
طبیعیات دان ریان فرنچ کے مطابق، یہ گزشتہ 78 دنوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شعلے ہیں ان دھماکوں سے خارج ہونے والی شعاعوں نے زمین کے روشن حصے میں شدید ریڈیو بلیک آؤٹس پیدا کیے پہلا بلیک آؤٹ بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا، جبکہ دوسرے نے مشرقی ایشیا کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔
23 اپریل کو ان ایکس درجے کے شعلوں سے قبل درمیانے درجے کے ایم کلاس شمسی شعلوں کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس کے ساتھ ایک نایاب ‘سمپیتھیٹک فلیئر’ بھی سامنے آیا، جس میں سورج کے 2 مختلف حصوں میں بیک وقت دھماکے ہوئے۔
ماہرین کے مطابق، ان شعلوں کے ممکنہ راستوں کا تجزیہ جاری ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے اثرات زمین کو جزوی طور پر متاثر کریں ایسی صورت میں جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں اور آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ شمسی شعلے سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جو روشنی اور توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ان میں ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں شامل ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں جب یہ شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں تو فضا کی بالائی تہہ یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں عام حالات میں، طویل فاصلے تک جانے والے ریڈیو سگنلز آئنوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتے ہیں، لیکن شمسی شعاعوں کے اثر سے یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈیوسگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب کی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم پیشرفت، ‘شمس’ سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا-
سعودی خلائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی سیٹلائٹ ‘شمس’ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا گیا ہے اور اس سے ابتدائی رابطہ بھی قائم کر لیا گیا ہے، یہ سیٹلائٹ آرٹیمس ٹو مشن کے تحت سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا جس کے بعد سعودی عرب ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے، اس پروگرام کا مقصد خلائی تحقیق میں جدت کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔
آرٹیمس II اس پروگرام کا دوسرا مرحلہ ہے، جس میں چار خلا بازوں کو اورین سپیس کرافٹ کے ذریعے چاند کے گرد مدار میں بھیجا جا رہا ہے یہ گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جائے گا، اور مستقبل میں مریخ مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔
سعودی سیٹلائٹ "شمس” اس مشن کے سائنسی آلات میں شامل ہے، جو ایک بیضوی مدار (HEO) میں کام کرے گا یہ مدار زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے لے کر 70 ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوگا، جس کے ذریعے شمسی سرگرمیوں اور خلائی شعاعوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی ممکن ہوگی۔
"شمس”کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے یہ آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب مشن ہے اور سعودی عرب کا پہلا باقاعدہ خلائی موسمیاتی (Space Weather) مشن بھی ہے اس سیٹلائٹ کو مقامی ماہرین نے تیار کیا، جسے وژن 2030 کے تحت نیشنل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ لاجسٹکس پروگرام (این آئی ڈی ایل پی) کی معاونت حاصل رہی۔
یہ مشن چار اہم سائنسی شعبوں میں تحقیق کرے گا، جن میں خلائی شعاعیں، شمسی ایکس ریز، زمین کا مقناطیسی میدان اور شمسی توانائی کے حامل ذرات شامل ہیں اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مواصلات، فضائی سفر اور نیویگیشن جیسے اہم شعبوں میں بہتری لانے میں مدد دے گا، جبکہ حساس بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور تیاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔
سعودی خلائی ایجنسی کے قائم مقام سربراہ محمد التمیمی کے مطابق یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کی عکاس ہے، جسے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کی قیادت حاصل ہے، یہ کامیابی اس عزم کی عکاس ہے کہ مملکت جدت، مہارت کی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے مستقبل کی خلائی تحقیق میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔
این آئی ڈی ایل پی کے سربراہ جمیل الغامدی کا کہنا ہے کہ ‘شمس’ کی مقامی سطح پر تیاری اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی کو مقامی بنانے اور قومی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں چاروں خلا باز زمین اور چاند کے درمیان نصف سے زیادہ فاصلہ طے کرتے ہوئے اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔
ناسا کے مطابق خلائی جہاز اورائن اس وقت زمین سے تقریباً 154300 میل دور جبکہ چاند سے لگ بھگ 122500 میل کے فاصلے پر موجود ہے،مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور اس کی سطح سے متعلق سائنسی مشاہدات جمع کریں گےخلائی جہاز چاند کے گرد گھومنے کے بعد بغیر رکے واپس زمین کی جانب روانہ ہوجائے گا۔
اورائن کیپسول چاند کے عقب میں تقریباً 4000 میل مزید سفر کرے گا، جہاں سے چاند کے اُس حصے کا نظارہ ممکن ہوگا جو زمین سے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکا، اس مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو پیر کے روز چاند کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں-
یہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا انسانی مشن ہےمشن کی تکمیل کے بعد اورائن خلائی جہاز کی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ متوقع ہے، جہاں اس کی بحفاظت واپسی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس II مشن کے دوران خلا بازوں کی جانب سے کھینچی گئی زمین کی پہلی دلکش تصاویر جاری کر دی ہیں-
ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔
ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں-
ویڈیو میں شئیر کی گئیں تصاویر آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اورائن کیپسول میں موجود اپنے ذاتی کمپیوٹنگ ڈیوائس، یعنی ایک کیمرہ سے لیس ٹیبلیٹ کے ذریعے کھینچیں۔ تصاویر میں خلا سے نظر آنے والی زمین کا ایسا حسین منظر دکھایا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔
ناسا کے مطابق ایک تصویر میں سورج کے غروب ہونے کے وقت زمین کے کناروں پر روشنی کی خوبصورت جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شمالی روشنیاں (Auroras) بھی نمایاں ہیں اسی کے ساتھ زوڈیاکل لائٹ کی روشنی بھی ایک خاص انداز میں نظر آتی ہے، جو خلا سے زمین کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
ایک اور تصویر، جو چند منٹ بعد لی گئی، زمین کے رات کے منظر کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مختلف شہروں کی روشنیاں ستاروں کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سورج کی روشنی سیارے کے کنارے پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔
اورائن خلائی جہاز کی کھڑکی سے لی گئی ایک تصویر کو ناسا نے ’’خلا بازوں کی آنکھوں سے دیکھی گئی نیلی زمین‘‘ قرار دیا ہے، جو انسان اور اس کے سیارے کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔
earth
مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زمین کو ایک ہی منظر میں دیکھنا ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہے۔ ان کے مطابق دن کی روشنی میں چمکتی زمین اور رات میں چاندنی کی روشنی میں اس کا نظارہ بے حد دلکش ہے، اور اب وہ چاند کے اسی طرح کے مناظر دیکھنے کے لیے مزید پرجوش ہیں۔
اسی دوران کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب خلائی جہاز کو اس زاویے پر موڑا گیا کہ پوری زمین ایک ساتھ نظر آنے لگی، جس میں افریقہ اور یورپ واضح دکھائی دے رہے تھے اور شمالی روشنیاں بھی جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ قرار دیا۔
کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے بھی کہا کہ اس قدر خوبصورت مناظر دیکھ کر عملہ کھانے تک بھول گیا اور سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں۔
ناسا کے مطابق خلا باز مسلسل تصاویر لینے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا مشترکہ خلائی کھانا بھی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا تاکہ اس نادر منظر کو محفوظ کیا جا سکے-
اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔
’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
اے آئی ڈیٹا سینٹرز اتنی گرمی پیدا کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کی زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں ،د ڈیٹا سینٹر ہیٹ آئی لینڈز بناتے ہیں جو پہلے ہی 340 ملین لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں بنائے گئے ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ JLL، ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی، کا تخمینہ ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی گنجائش 2025 اور 2030 کے درمیان دوگنی ہو جائے گی جس کی توقع ہے کہ AI اس طلب سے نصف ہو گی۔
کیمبرج یونیورسٹی، برطانیہ میں اینڈریا مارینونی اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ ڈیٹا سینٹر کو چلانے کے لیے درکار توانائی کی مقدار میں دیر سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کے "پھٹنے” کا امکان ہے، اس لیے وہ اس کے اثرات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے۔
تحقیق کے مطابق سطح کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ 2 ° C کے قریب ہوتا ہے، انتہائی صورتوں میں، خاص طور پر بعض ماحول میں، 9.1 ° C تک اضافہ دکھایا گیا ہے،گرمی صرف عمارت کے نشانات تک ہی محدود نہیں ہے، مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ 10 کلومیٹر (تقریباً 6.2 میل) دور تک کے علاقوں کو متاثر کرتا ہے۔
محققین کا اندازہ ہے کہ 340 ملین سے زیادہ لوگ ڈیٹا سینٹرز کے اتنے قریب رہتے ہیں کہ ان بڑھتے ہوئے مقامی درجہ حرارت سے متاثر ہوں،AI کی تیز رفتار نشوونما کے لیے ایسے پروسیسرز کے ریک کی ضرورت ہوتی ہے جو روایتی سرورز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، جس سے بڑی مقدار میں گرمی پیدا ہوتی ہے جسے روایتی ایئر کنڈیشنگ اب سنبھال نہیں سکتا۔
ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں توانائی کا استعمال کرتے ہیں اور سرورز سے گرمی کو دور کرنے کے لیے، وہ گرم ہوا کو براہ راست ماحول میں خارج کرتے ہیں، بہت سے ڈیٹا سینٹرز گرم علاقوں میں بنائے گئے ہیں (مثال کے طور پر، میکسیکو کا باجیو علاقہ، اسپین میں آراگون)، جہاں گرمی کا انتظام زیادہ مشکل ہے، یہ مقامی درجہ حرارت بڑھنے کا اثر خاص طور پر مقامی علاقوں میں گرمی اور گرمی کے دوران پہلے سے ہی خراب ہو سکتا ہے-
گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ اے سی کا استعمال بھی عام ہو چکا ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک عام عادت آپ کے اے سی کی عمر کم کر سکتی ہے اور بجلی کے بل میں بھی اضافہ کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اکثر لوگ اے سی کو ہمیشہ کم ترین درجہ حرارت پر چلاتے ہیں، جو کہ ایک بڑی غلطی ہے۔ اس سے مشین پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور اسے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔
اس عمل کے باعث اے سی کا آؤٹ ڈور یونٹ بار بار بند اور دوبارہ چلتا ہے، جس سے نہ صرف مشین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کی عمر بھی کم ہو جاتی ہے۔
خاص طور پر شدید گرمی اور حبس کے دنوں میں اگر اے سی کو 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم پر چلایا جائے تو سسٹم زیادہ محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کا ضیاع اور بل میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی کو مسلسل 24 گھنٹے چلانے کے بجائے وقفے دینا چاہیے تاکہ مشین کو آرام مل سکے اور اوور ہیٹنگ سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ اگر باہر کا درجہ حرارت 34 سے 38 ڈگری کے درمیان ہو تو اے سی کو اس سے تقریباً 8 سے 10 ڈگری کم پر رکھنا کافی ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 26 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت نہ صرف آرام دہ ہوتا ہے بلکہ یہ بجلی کی بچت اور اے سی کی لمبی عمر کے لیے بھی بہترین ہے۔
مسجد عثمان بن عفان سعودی شہر جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع ہے اور اسے شہر کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے اس مسجد کی بنیاد 33 ہجری (654 عیسوی) میں رکھی گئی تھی، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
حالیہ کھدائی کے دوران ماہرین نے انکشاف کیا کہ یہ مقام گزشتہ 1300 سال سے مسلسل استعمال میں رہا ہے تحقیق کے دوران مختلف ادوار کے آثار سا منے آئے جن میں اموی دور، عباسی دور اور مملوک دور شامل ہیں، کھدائی کے دوران ایک جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام بھی دریافت ہوا، جو اس دور کی انجینئرنگ مہارت کو ظاہر کرتا ہے اس کے علاوہ محراب میں نصب نایاب آبنوسی ستون بھی ملے، جن کے بارے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ لکڑی قدیم سری لنکا سے لائی گئی تھی، جو جدہ کے قدیم بحری تجارتی روابط کا ثبوت ہے۔
ماہرین نے مسجد کی تعمیر کے سات مختلف ادوار کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا ہے، اس میں روایتی ساحلی طرزِ تعمیر، جیسے مرجانی پتھر اور لکڑی کے استعمال کو نمایاں کیا گیا ہے، جو اس علاقے کی مخصوص تعمیراتی پہچان ہے۔
کھدائی کے دوران ہزاروں نوادرات بھی دریافت ہوئے، جن میں ابتدائی چینی مٹی کے برتن شامل ہیں یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسجد صدیوں سے جدہ کی ثقافتی اور تجارتی تاریخ کا اہم حصہ رہی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب حضرت عثمان بن عفان نے جدہ کو اسلامی دنیا کی مرکزی بندرگاہ قرار دیا تھا، آج یہ مسجد جدہ کے ثقافتی راستوں کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے، جہاں اسلامی تاریخ اور جدید سرگرمیوں کو یکجا کر کے سعودی عرب کی مذ ہبی اور تعمیراتی شناخت کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں چند کم عمر لڑکوں اور ایک بالغ شخص نے ٹیکنالوجی کمپنی ایکس اے آئی اور اس کے مالک ایلون مسک کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی کے چیٹ بوٹ گروک نے ان کی تصاویر کو غیر اخلاقی انداز میں تبدیل کر کے بچوں سے متعلق فحش مواد تیار کرنے کی اجازت دی گزشتہ دسمبر میں گرفتار ایک شخص نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام سے حاصل کردہ تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے گروک کے ذریعے کم عمر افراد کی جعلی اور نامناسب تصاویر بنائیں،یہ تصاویر بعد ازاں ڈسکورڈ اور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر پھیلائی گئیں اور بعض کیسز میں انہیں دیگر غیر قانونی مواد کے تبادلے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی مصنوعی ذہانت کا ماڈل بالغ افراد کی جنسی نوعیت کی تصاویر بنا سکتا ہے تو اسے کم عمر بچوں کے ایسے مواد بنانے سے روکنا ممکن نہیں رہتا مدعیان کے وکیل نے کہا کہ یہ بچے زندگی بھر اس صدمے کا سامنا کریں گے کیونکہ ان کی جعلی مگر نامناسب تصاویر انٹر نیٹ پر موجود رہیں گی۔
مقدمے میں شامل ایک متاثرہ لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ جب ان کی بیٹی کو معلوم ہوا کہ اس کی جعلی تصاویر آن لائن پھیل چکی ہیں تو اسے شدید ذہنی دباؤ اور گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا بیٹی کی تعلیمی سال کی خوشیاں اب خوف میں بدل چکی ہیں کہ اس کی کوئی بھی تصویر دوبارہ غلط استعمال ہو سکتی ہے۔
کیس کی مرکزی وکیل انیکا مارٹن نے کہا کہ وہ ایلون مسک سے یہ سوال پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا وہ بطور والد اس صورتحال کو قبول کر سکتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے کی تصویر یا آواز کو اس طرح غلط اور غیر اخلاقی مواد میں استعمال کیا جائے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ایلون مسک اور ان کے اے آئی ٹول گروک کو مختلف ممالک میں تنقید کا سامنا ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی خواتین اور لڑکیوں کی بغیر اجازت ڈیپ فیک تصاویر بنانے کے لیے استعمال ہو رہی تھی،تنقید کے بعد کمپنی نے تصاویر بنانے کی سہولت محدود کر دی اور 15 جنوری کو گروک کے ذریعے تصاویر میں لوگوں کو برہنہ بنانے کی صلاحیت بند کرنے کا اعلان کیا،برازیل، برطانیہ اور اسپین سمیت کئی ممالک ان الزامات پر تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔
واٹس ایپ بچوں کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹس کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے اس فیچر کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے اکاؤنٹس پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق یہ نیا سسٹم خاص طور پر 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہےاس میں بچوں کا اکاؤنٹ والدین کے اکاؤنٹ سے منسلک ہوگا تاکہ والدین یہ طے کر سکیں کہ ان کا بچہ کن افراد سے چیٹ کر سکتا ہے، کن گروپس میں شامل ہو سکتا ہے اور کن سیٹنگز کو استعمال کر سکتا ہےاس کے علاوہ بچوں کی پرائیویسی سیٹنگز اور چیٹ سے متعلق کئی آپشنز بھی والدین کے کنٹرول میں ہوں گے۔
اس فیچر کے تحت ان خصوصی اکاؤنٹس میں بچوں کو صرف پیغامات بھیجنے اور کال کرنے کی سہولت دی جائے گی جبکہ اشتہارات بھی نہیں دکھائے جائیں گےاگرچہ ایپ اسٹورز پر اس ایپ کی عمر کی حد 13 سال یا اس سے زیادہ رکھی گئی ہے، تاہم بہت سے کم عمر بچے اپنے والدین سے رابطے کے لیے پہلے ہی اس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام میں بچے کا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین یا سرپرست کو اپنے فون اور بچے کے فون دونوں کی ضرورت ہوگی سیٹ اپ کے دوران اکاؤنٹ کو کیو آرکوڈ کے ذریعے تصدیق کیا جائے گا اور والدین کو اکاؤنٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں مختلف الرٹس بھی موصول ہوں گے، مثال کے طور پر اگر بچہ کسی نئے کانٹیکٹ کو شامل کرے، بلاک کرے یا رپورٹ کرے تو والدین کو فوری اطلاع ملے گی۔
اگر کسی نامعلوم یا مشکوک شخص کی طرف سے پیغام آئے تو اسے الگ فولڈر میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں والدین اسے دیکھ کر بلاک یا اجازت دینے کا فیصلہ کر سکیں گے اس کے علاوہ والدین چاہیں تو اضافی نوٹیفکیشنز بھی فعال کر سکتے ہیں، جیسے کہ بچے کی پروفائل تصویر یا نام تبدیل کرنا، کسی نئے چیٹ ریکوئسٹ کا آنا، کسی گروپ میں شامل ہونا یا اسے چھوڑنا۔ یہ تمام سیٹنگز والدین کے مقرر کردہ چھ ہندسوں کے پن کے ذریعے محفوظ ہوں گی۔
کمپنی کے مطابق ان اکاؤنٹس میں کئی فیچرز دستیاب نہیں ہوں گےمثال کے طور پر میٹا کی میٹا اے ائی، چینلز اور اسٹیٹس جیسی سہولیات بچوں کے لیے بند رہیں گی۔ اسی طرح پرائیویٹ چیٹس میں ڈزاپیئرنگ کا آپشن بھی دستیاب نہیں ہوگا، اگر کسی نامعلوم نمبر سے بچے کو پیغام موصول ہو تو ایپ اس کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کرے گی، جیسے کہ وہ شخص کس ملک سے ہے یا کیا وہ کسی مشترکہ گروپ میں موجود ہے، نامعلوم افراد کی تصاویر بھی خودکار طور پر دھندلی دکھائی جائیں گی تاکہ بچے محفوظ رہیں۔
کمپنی کے مطابق جب بچے کی عمر بڑھ جائے گی تو انہیں اطلاع دی جائے گی کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کو عام اکاؤنٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم والدین چاہیں تو اس تبدیلی کو مزید 12 ماہ تک مؤخر بھی کر سکیں گے اس فیچر کو ابتدائی طور پر چند ممالک میں متعارف کرایا جا رہا ہے اور آئندہ مہینوں میں اسے مرحلہ وار دیگر ممالک میں بھی پھیلا دیا جائے گا۔
وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ فائیو جی سروسز پہلے مرحلے میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں دستیاب ہوں گی، جبکہ ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی تکمیل کے بعد مکمل طور پر فراہم کی جائیں گی۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور چیئرمین پی ٹی اے کی زیر صدارت فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی پر بریفنگ دی گئی جس میں ڈی جی لائسنسنگ پی ٹی اے عامر شہزاد نے بتایا کہ کل 10 مارچ کو صبح 10 بجے فائیو جی اسپیکٹرم کی آکشن ہوگی، جو الیکٹرونک آکشن سسٹم کے ذریعے پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں ہوگی پہلے مرحلے میں یوفون، زونگ اور جیز کے لیے 6 بینڈز کی نیلامی ہوگی، جبکہ شام 4 بجے تک مزید 5 بینڈز پر بڈنگ ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے بتایا کہ نیلامی کے دوران موک ٹرائل کرایا جا چکا ہے اور تینوں موبائل نیٹ ورک کمپنیز کو بڈنگ کے طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا گیا ہے آکشن میں اوپن بڈنگ نہیں ہوگی کیونکہ ہر بینڈ کی الگ نیلامی ہوگی فائیو جی کے آغاز سے ڈیٹا کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور صارفین پر اضافی بوجھ نہیں آئے گا۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کا سب سے سستا موبائل ڈیٹا دستیاب ہے اگر کسی صارف کے موبائل ڈیٹا کی آٹومیٹک ایکٹیویشن ہو جائے یا کمپنی ناجائز پیسے کاٹے، تو پی ٹی اے فوری کارروائی کرے گا صارفین کی شکایات کے حل کے لیے چیئرمین کے دروازے 24/7 کھلے ہیں، پچھلے چند ماہ میں 5 لاکھ فائیو جی موبائلز تیار کیے جا چکے ہیں اور 5 موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیز نے فائیو جی موبائلز کی پیداوار شروع کر دی ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائیو جی موبائلز استعمال کریں۔ پاکستان میں 95 فیصد موبائل فون لوکل مینوفیکچرڈ ہیں اور صرف آئی فون اور گوگل پکسل درآمد ہوتے ہیں،فائیو جی سروسز پہلے مرحلے میں اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں دستیاب ہوں گی، جبکہ ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی تکمیل کے بعد مکمل طور پر فراہم کی جائیں گی پاکستان میں 1987 سے 274 میگا ہرٹس اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے، اور کل 600 میگا ہرٹس سپیکٹرم نیلام ہوگی، آکشن سافٹ ویئر کے ذریعے لائیو ہوگی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈی جی لائسنسنگ نے بتایا کہ پاکستان ریجن میں سب سے کم اسپیکٹرم رکھنے والا ملک ہے، اور فائیو جی رول آؤٹ کے لیے 9 سالہ پلان دیا گیا ہےہر سال 3 ہزار سائٹس ٹیلی کام آپریٹرز بڑھائیں گے اور فائیو جی کی آغاز کی سپیڈ 50 ایم بی پی ایس ہوگی۔