Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    ماہرین آثار قدیمہ نے عراق میں اسلامی تاریخ کی ایک اہم ترین جنگ کے درست مقام کو شناخت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ”سی این این“ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی اور عراق کی القادسیہ یونیورسٹی کے ماہرین نے امریکی جاسوس سیٹلائیٹس کی ڈی کلاسیفائی تصاویر کے ذریعے اس مقام کو شناخت کیاانہوں نے جنگ قادسیہ کے مقام کو دریافت کیا اور اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے۔

    636 یا 637 عیسوی میں ہونے والی یہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ ہے جس کے بعد جزیرہ نما عرب سے باہر مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور وہ ایران کی سرزمین کے مالک بن گئےیہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ ہے مگر اب تک اس کے درست مقام کا علم نہیں تھا۔

    تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تاریخی مقامات کا نقشہ بنانے پر کام کر رہے ہیں اور اس دوران یہ دریافت ہوئی، انہوں نے آغاز میں کوفہ سے مکہ مکرمہ کے درمیان سفر کرنے والے عازمین کے راستے کا نقشہ تیار کیا اور اس کے لیے 1970 کی دہائی میں امریکی جاسوس سیٹلائیٹس کی کھینچی گئی تصاویر اور تاریخی مسودوں کو استعمال کیا، اس کام کے دوران انہیں احساس ہوا کہ وہ اسی طریقہ کار کے ذریعے جنگ قادسیہ کے مقام کی شناخت بھی کرسکتے ہیں۔

    ڈرہم یونیورسٹی کے ماہر ولیم ڈیڈمین نے بتایا کہ ‘مجھے لگا تھا کہ یہ کوشش کرکے اس مقام کو دریافت کرنے کا بہترین موقع ہے، سب سے پہلے انہوں نے نقشے پر تاریخی داستانوں میں بیان کیے گئے راستوں کے گرد دائرے بنائے اور پھر ان جگہوں کی سیٹلائیٹ تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا، وہ داستانوں میں بیان کیے گئے ایک قلعے اور دیوار کو دریافت کرکے دنگ رہ گئے اور شروع میں انہیں یقین ہی نہیں آیا۔

    القادسیہ کی لڑائی میں ایک چھوٹی عرب مسلم فوج نے ساسانی سلطنت کی ایک بہت بڑی فوج کو شکست دی تھی جس کا اس خطے پر غلبہ تھا، چند ناکام کوششوں کے بعد، یہ مسلمانوں کی عرب سے باہر پھیلنے کی کوششوں میںپہلی ”واقعی اہم فتح“ تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 6 میل (9.7 کلومیٹر) طویل دیوار کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو چکا ہے یا اسے زرعی حدود میں شامل کر دیا گیا ہے، اور الذہیب میں قدیم فوجی چوکی کی جگہ پر کی گئی کھدائی دکھائی دیتی ہے۔

    یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں اسلامک اسٹڈیز کے لیکچرر مصطفی بیگ، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، انہوں نے اس تلاش کو ”بہت اہم“ قرار دیا بیگ نے سی این این کو بتایا کہ مسلم فوج بہت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود بہادری اور شاندار حکمت عملی کے امتزاج کی بدولت غالب آئی،فیصلہ کن جنگ نے ساسانی سلطنت کے خاتمے اور میسوپوٹیمیا، فارس اور اس سے آگے مسلمانوں کی سرزمین کے پھیلنے کا راستہ بنایا۔‘

    تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ تاریخی جنگ کوفہ کے جنوب میں 19 میل دور ہوئی تھی، اس جنگ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیرقیادت مٹھی بھر مسلمانوں نے ساسانی سلطنت کی بہت بڑی فوج کو شکست دی تھی اب یہ زرعی خطہ ہے اور 6 میل طویل دیوار کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا ہے یا وہ دیوار زرعی زمینوں کا حصہ بن چکی ہے، جنگ کا مقام دریافت کرنے کے بعد محققین نے وہاں جاکر سروے کرنے اور تاریخی آثار کا نقشہ بنانے کی منصوبہ بندی کی مگر مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے باعث ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

  • واٹس ایپ:تصویر فیکٹ چیک فیچر  آزمائشی طور پر شروع

    واٹس ایپ:تصویر فیکٹ چیک فیچر آزمائشی طور پر شروع

    میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے تصویروں کو چیک کرنے کے فیکٹ چیک فیچر کی آزمائش شروع کردی۔

    واٹس ایپ اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق ایپلی کیشن پر بھیجی گئی تصاویر کو ویب سرچ کرنے کے فیچر کی آزمائش کو شروع کردیا گیا۔مذکورہ آزمائشی پروگرام تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، فیچر کےتحت صارفین موصول ہونے والی تصویر پر کلک کرکے اس متلعق مزید معلومات حاصل کر سکیں گے۔مذکورہ فیچر گوگل لینس کی طرح کام کرے گا جو کہ تصاویر کی فیکٹ چیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔واٹس ایپ پر موصول ہونے والی تصویر کو جیسے ہی صارفین کلک کریں گے تو اس سے ملتی جلتی تصاویر یا بھیجی گئی تصویر سے متعلق مزید معلومات گوگل کے ذریعے حاصل کی جا سکے گی۔ابھی مذکورہ فیچر کی آزمائش تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، اس کی کامیاب آزمائش کے بعد اسے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اسے کب تک متعارف کرایا جائے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ نے کچھ عرصہ قبل تحریری میسیجز کے اہم حصوں میں گوگل سرچ لنکس دینے کی آزمائش بھی شروع کی تھی، جس کے تحت صارفین موصول ہونے والی اہم معلومات سے متعلق گوگل پر معلومات کو سرچ کرسکتے ہیں۔

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

    ٹرمپ کی کامیابی کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں‘ آغا سراج

    کراچی : پولیس افسر کے ساتھ ویڈیو بنوانے والی ٹک ٹاکر کیخلاف مقدمہ درج

  • آسٹریلیا کا  بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان

    آسٹریلیا کا بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان

    میلبرن: آسٹریلیا کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا ہے،بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اطلاق 2025 کے آخر تک ہونے کا امکان ہے،جبکہ حزب اختلاف کی جماعت لبرل پارٹی کی جانب سے بھی اس پابندی کی حمایت کا عندیہ دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اے پی کے مطابق 7 نومبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب دنیا میں اس طرح کی پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہےاس مقصد کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے عمر کی شناخت کرنے والے ایک سسٹم کی آزمائش کی جا رہی ہے جو بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    آسٹریلیا کے وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا ہمارے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہےانہوں نے مختلف تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو مختلف خطرات کا سامنا ہوتا ہے اس حوالے سے قوانین رواں سال ہی پارلیمان میں پیش کیے جائیں گے اور قوانین کی منظوری کے بعد 12 ماہ میں ان کا اطلاق ہوگا، ایسے بچوں پر بھی اس پابندی کا اطلاق ہوگا جن کے والدین انہیں اجازت دینے کے لیے تیار ہوں گے یا جن کے پہلے سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہوں گے، یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کے ذریعے رسائی کی روک تھام کریں، یہ والدین یا بچوں کی ذمہ داری نہیں۔

    توشہ خانہ گاڑیوں کا کیس : دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا پر فیصلہ …

    آسٹریلیا کی وزیر کمیونیکیشن Michelle Rowland نے بتایا کہ مختلف پلیٹ فارمز جیسے انسٹا گرام، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئٹر) اور یوٹیوب پر اس قانون سازی سے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مختلف ممالک میں بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے مختلف پابندیاں لگائی گئی ہیں فرانس نے 2023 میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر اس طرح کی پابندی کا عندیہ دیا تھا مگر اس کا اطلاق ایسے بچوں پر نہیں ہوگا جن کے والدین انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہے، عطاءاللہ …

  • صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کی مالیت میں اضافہ

    صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کی مالیت میں اضافہ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہوتے ہی بدھ کے روز ان کی سوشل میڈیا کمپنی ٹروتھ سوشل کی مالیت میں ایک ارب ڈالر (2کھرب ، 77ارب 83کروڑ 74لاکھ روپے) اضافہ ہوا۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیاکے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی Truth Social کی مالک ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کی مالیت میں اضافہ ہوا ہےٹرمپ میڈیا کا اسٹاک جو "DJT” کی علامت کے تحت تجارت کرتا ہے،کی مالیت میں پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 35 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی مالیت 9ارب ڈالر ہوگئی، ٹرمپ قدامت پسند سوشل میڈیا کمپنی میں غالب شیئر ہولڈر ہیں جس کی آمدنی بہت کم ہے اور وہ پیسہ کھو رہی ہے۔

    ٹروتھ سوشل کا مقصد ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں قدامت پسند آوازیں زیادہ مؤثر طریقے سے سنی جا سکیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو اکثر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کمپنی اپنے آغاز سے ہی متنازعہ رہی ہے، اور اس کی کارکردگی اور مستقبل کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں-

    ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے صدر منتخب

  • چین میں فوجی سروسز میں جدت  کیلئے اے آئی ٹول تیار

    چین میں فوجی سروسز میں جدت کیلئے اے آئی ٹول تیار

    بیجنگ: اعلیٰ چینی تحقیقی اداروں نے فوجی سروسز میں جدت لانے کےلیے اے آئی ٹول تیار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) سے منسلک اعلیٰ چینی تحقیقی اداروں نے میٹا کے عوامی طور پر دستیاب لاما ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے فوجی ایپلی کیشنز کیلئے اے آئی ماڈل تیار کیا ہے تین چینی اداروں کے 6 محققین جن میں پی ایل اے کے سرکردہ تحقیقی ادارے اکیڈمی آف ملٹری سائنس (اے ایم ایس) کے تحت دو شامل ہیں، نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح انہوں نے میٹا کے لاما کے ابتدائی ورژن کو ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیا جوChatBIT کہلاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق محققین نے Llama 2 13B لارج لینگوئج ماڈل (ایل ایل ہم) کا استعمال کیا جسے میٹا نے فروری 2023 میں جاری کیامحققین نے انٹیلی جنس کو اکٹھا کرنے اور اس پر کارروائی کرنے کے لیے فوجی توجہ مرکوز کرنے والے اے آئی ٹول کی تعمیر کے لیے اپنے پیرامیٹرز کو شامل کیا اور آپریشنل فیصلہ سازی کے لیے درست اور قابل اعتماد معلومات اے آے ماڈل کو فیڈ کیں۔

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

    چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے،محسن نقوی

    بم کی دھمکیوں کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز سے ملی بارودی گولی

  • کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں آئی ٹی ٹاور بنے گا

    کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی میں آئی ٹی ٹاور بنے گا

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی میں 17 منزلہ ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

    میڈٍیا رپورٹ کے مطابق مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ (پی پی پی)کا 46واں اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں متعدد اہم منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو ایس سی) نے سمندری پانی کو کراچی کے رہائشیوں کے لیے صاف شفاف اور پینے کے قابل بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جس کی منظوری پی پی پی پالیسی بورڈ کے 40 ویں اجلاس میں دی جا چکی ہے۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کویت کی ایک کمپنی نے پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ناصر شاہ نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ڈی ایچ اے حکام صاف پانی خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ادھر، وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کو کویتی کمپنی کے ساتھ حکومت سے حکومت انتظامات کے تحت قائم کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس منصوبے کے لیے صوبائی حکومت کی ایکویٹی کے طور پر پہلے ہی ایک ارب 70 کروڑ روپے کی منظوری دے چکے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایروناٹیکل اسٹڈی کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 218 فٹ اونچی عمارت کے لیے این او سی جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا پہلا مکمل طور پر مربوط سائنس اور ٹیکنالوجی پارک ہو گا، جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر این ای ڈی یونیورسٹی کے احاطے میں واقع ہوگا۔منصوبے کے دائرہ کار میں تین تہہ خانے اور زمین سے اوپر 17 منزلوں کے ساتھ ایک عمارت کی تعمیر شامل ہے، پارک میں دفاتر کی جگہیں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سب لیز پر دی جائیں گی، جس میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں، ایس ایم ایز، ریسرچ کمپنیاں اور اسٹارٹ اپ شامل ہیں۔انفراسٹرکچر میں آڈیٹوریم، کام کے لیے جدید جگہ، تیز رفتار رابطے، ریسرچ لیبز، ٹیک انکیوبیٹرز، کیفے وغیرہ شامل ہوں گے۔

    کراچی: سرکاری حساس ادارے کا اہلکار ظاہر کرنیوالا جعلساز گرفتار

    کراچی :نوجوان کے گلے میں پتنگ کی ڈور پھر گئی

    سانحہ چکرا گوٹھ، ایم کیو ایم لندن کے ملزمان کی درخواستِ بریت پر فیصلہ محفوظ

  • چین کا انسان بردار خلائی مشن روانہ

    چین کا انسان بردار خلائی مشن روانہ

    بیجنگ: چین کا انسان بردار خلائی مشن شینزو 19 تین خلابازوں کو لے کر تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق 3 چینی خلانورد جن میں ایک خاتون خلاباز بھی شامل ہے، بدھ کی صبح تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوگئے، اس خلائی مشن کو’’ ڈریم مشن’’ کا نام دیا گیا ہے،نئی تیانگونگ ٹیم چاند پر مستقل اسٹیشن بنانے اور وہاں خلابازوں کو رکھنے کے ہدف کے تحت اپنے تجربات کرے گی،خلائی عملے کے مشن میں چاند کی مٹی سے اینٹیں تیار کرنے کا تجربہ بھی شامل ہو گا۔

    شینزو 19 مشن نے بدھ کی صبح 4 بج کے 27 منٹ پر شمال مغربی چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے اڑان بھری چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے مطابق شینزو 19 کے عملے میں 34 سالہ وانگ ہاؤزے بھی شامل ہیں، جو چین کی واحد خاتون خلائی انجینئر ہیں، وہ عملے کے مشن میں حصہ لینے والی تیسری چینی خاتون ہیں –

    سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات جاری

    خلا میں مواد کی نقل و حمل کی زیادہ لاگت کی وجہ سے چینی سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ چاند کی مٹی کو مستقبل میں بیس (اڈے)کی تعمیر کے لیے استعمال کر سکیں گے تیانگونگ، جس کا بنیادی ماڈیول 2021 میں شروع کیا گیا تھا، تقریباً 10 سال تک استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

  • یو اےای میں قانونی اداروں کی مدد  کیلئے ”ورچوئل وکیل“ متعارف

    یو اےای میں قانونی اداروں کی مدد کیلئے ”ورچوئل وکیل“ متعارف

    دبئی : متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے جیٹکس 2024 کی تقریب کے دوران ایک انوکھا منصوبہ ”ورچوئل وکیل“ متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی:"خلیج ٹائمز” کے مطابق ”ورچوئل وکیل“ منصوبہ مصنوعی ذہانت سے بھرپور ہے یہ منصوبہ قانونی اداروں کی مدد کرے گا تاکہ وہ سادہ مقدمات کی وکالت میں ترقی کر سکیں اور عدلیہ کے شعبے کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کر سکےمنصوبے کا مقصد وقت کی بچت اور خدمات کی بہتری ہے یہ منصوبہ خودکار طریقے سے قانونی نصوص کی ایک قومی ڈیٹا بیس کا استعمال کرے گا جسے وزارت انصاف تیار کرے گی وکلاء کو اس ڈیٹا بیس کو مکمل کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور فوائد حاصل کر سکیں۔

    وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ ورچوئل وکیل کا تجرباتی آغاز 2025 میں کیا جائے گا یہ ابتدائی طور پر سادہ مقدمات میں وکلاء کی مدد کرے گا جیسے کہ انسانی جج کے ساتھ تعامل، آواز کو متن میں تبدیل کرنا اور قانونی دستاویزات فراہم کرنا۔

    250 سال قبل تانبے کی پلیٹوں پر کندہ کی گئی ڈوڈلز کی …

    وزیر انصاف عبد اللہ سلطان بن عواد النعیمی نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ عوام کی خدمت کو بھی زیادہ موثر اور آسان بنائے گااس طرح کی جدید ٹیکنالوجی سے عدالتوں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی جو کہ حکومت کے اعلیٰ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    وزیر مملکت برائے ترقی حکومت و مستقبل عہود بنت خلفان الرومی نے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کے مستقبل کی تیاری کے لیے اہم ہے اس کی بدولت حکومت کو اپنی خدمات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

    وزیر مملکت برائے مصنوعی ذہانت نے عمر سلطان العلماء کہا کہ یہ اقدام حکومت کی طرف سے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے حل کو اپنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کی بدولت قانونی شعبہ عالمی سطح پر ایک نئی شکل اختیار کرے گا۔

    بیگم نصرت بھٹو کی 13ویں برسی:صدر مملکت اور بلاول بھٹو کا خراج تحسین

  • چین 2050 میں رہ رہا ہے،خریداری پر پام پیمنٹ ٹیکنالوجی کا ا ستعمال

    چین 2050 میں رہ رہا ہے،خریداری پر پام پیمنٹ ٹیکنالوجی کا ا ستعمال

    ایک پاکستانی مواد تخلیق کار نے ایک گروسری اسٹور پر چائنا کی پام پیمنٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دوستوں کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ملک کی ٹیکنالوجی کی ترقی کو دکھایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : حالیہ برسوں میں، چین تکنیکی ترقی، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے اور ادائیگی کے نظام میں ایک رہنما کے طور پر ابھرا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ملک کے اختراعی طریقوں کو ظاہر کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر سے بھرے ہوئے ہیں، حال ہی میں، پاکستانی مواد کے تخلیق کار رانا حمزہ سیف کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو نے انٹرنیٹ صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، جس میں ادائیگی کے ایک دلچسپ طریقے کو اجاگر کیا گیا ہے جو چین کی جدید ٹیکنالوجی کی ایک مثال ہے-

    ویڈیو میں، سیف اور اس کے دوستوں کا گروپ ایک مقامی گروسری اسٹور پر جاتے ہیں کلپ میں دوستوں میں سے ایک کو ادائیگی کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے خریداری کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے گروپ میں موجود دیگر افراد حیران رہ جاتے ہیں،سیف بتاتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی ہتھیلی رجسٹرڈ ہے تو وہ چین میں کہیں بھی ہاتھ کی لہر سے ادائیگی کر سکتا ہے کامیاب لین دین کے بعد، کچھ دوست اپنے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ دوسرے ٹیکنالوجی کی اس جدت کی تعریف کرتے ہیں-

    وفاقی بیو رو کریسی میں تقر ر و تبادلے

    ویڈیو کے کیپشن میں سیف نے لکھا کہ "چین 2050 میں رہ رہا ہے-

    کلپ وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سراہا جا رہا ہے،ایک صارف نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ مستقبل ہے۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ ہم اسے آج دیکھ رہے ہیں!”

    ایک اور نے صارف نے تبصرہ کیا کہ ، "چین ٹیکنالوجی میں ہمیشہ ایک قدم آگے رہتا ہے – یہ کتنا ناقابل یقین نظام ہے!ایک صارف نے کہا کہ اس سے زندگی بہت آسان ہو جائے گی، مجھے امید ہے کہ یہ پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔”

    250 سال قبل تانبے کی پلیٹوں پر کندہ کی گئی ڈوڈلز کی …

    پام پیمنٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں جوش و خروش صرف سیف کی ویڈیو تک ہی محدود نہیں ہے اس سے قبل، آر پی جی گروپ کے چیئرمین ہرش گوئنکا نے ایکس پر اسی طرح کا ایک کلپ شیئر کیا تھا، جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ ٹیکنالوجی کس طرح چین میں زندگیوں کو بدل رہی ہے۔ اپنی ویڈیو میں، ایک خاتون بیجنگ سب وے پر پام ادائیگی کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے اپنا تجربہ بیان کر رہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں، "چین میں رہتے ہوئے، میں QR کوڈز اور یہاں تک کہ چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کیش لیس ادائیگیوں کی عادی ہوں، اور اب میں اپنے ہاتھوں سے بھی ادائیگی کر سکتی ہوں۔”

    پاکستان اور سعودی عرب کا اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا عزم

  • مریخ کی سطح پر برف کے اندر خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے،تحقیق

    مریخ کی سطح پر برف کے اندر خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے،تحقیق

    محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ مریخ کی سطح پر برف کے اندر ایسی خلائی مخلوق موجود ہو سکتی ہے، جسے خوردبین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ان نتائج پر مشتمل ’مریخ پر برف اور برف میں فوٹوسنتھیسس کی صلاحیت‘ کے عنوان سے مضمون نیچر کے جرنل ’کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرمنٹ‘ میں شائع ہوا۔

    محققین کے مطابق مریخ کے زیر زمین موجود برف میں ممکنہ طور پر مائیکروبیئل حیات موجود ہوسکتی ہے مریخ پر بڑے پیمانے پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کے برسنے کی وجہ سے اس کی سطح پر زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہےلیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ برف کی ایک موٹی پرت کسی بھی شے کو شعاعوں سے تحفظ فراہم کر سکتی ہےاس کے لیے زندگی کو ایک ایسی جگہ پر ہونا ہوگا جہاں اس کی گہرائی اس کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچائے، ساتھ ہی یہ ایسی اتھلی جگہ ہو جہاں ضیائی تالیف (فوٹوسنتھیسس) کے لیے مناسب روشنی پہنچے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    نئی تحقیق میں محققین نے مریخ پر ملنے والی دھول اور برف کی قسم کو دیکھتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا سیارے پر ایسی جگہ کا وجود ممکن ہے یا نہیں، مطالعے میں معلوم ہوا کہ اگر برف پر بہت زیادہ دھول نہیں ہو تو ایسی صورت میں 5 سے 38 سینٹی میٹر نیچے ایسا خطہ ہو سکتا ہے جہاں زندگی باقی رہ سکے، اگر برف صاف ہو تو وہ مسکن (2.15 سے 3.14 میٹر گہرا) مزید بڑا ہو سکتا ہےبرف کے اندر موجود دھول کبھی کبھار برف کو پگھلا بھی دے گی، جس سے اتنی مقدار میں مائع پانی ملے گا جو فوٹوسنتھیسس کے لیے ضروری ہو گا اور اس طرح زندگی کو زندہ رہنے میں مدد دے گا۔

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا دعویٰ نہیں کرتی کہ برف والے علاقوں میں واقعی زندگی موجود ہے لیکن وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مریخ پر زندگی کی تلاش میں یہ علاقے اہم جگہ بننے چاہیئے کیونکہ یہاں زندگی ملنے کے امکانات سب سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔