Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 12 ہزار سال پرانے  پہیوں کی شکل کے پتھر دریافت

    12 ہزار سال پرانے پہیوں کی شکل کے پتھر دریافت

    ماہرین نے ایسے گول پتھر دریافت کیے جو ممکنہ طور پر چرخے ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماہرین آثار قدیمہ نے 12 ہزار سال پرانے ایسے پتھروں کو اکٹھا کیا ہے جو ممکنہ طور پر پہیے کی اولین مثالوں میں سے ایک ہیں، پہلے مانا جاتا تھا کہ پہیے کی ایجاد 6 ہزار قبل ہوئی تھی مگر اس نئی دریافت سے عندیہ ملتا ہے کہ پہیے جیسی ٹیکنالوجیز ہماری توقعات سے بھی پہلے موجود تھیں۔

    جرنل PLOS One میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ماہرین نے ایسے گول پتھر دریافت کیے جو ممکنہ طور پر چرخے ہوسکتے ہیں، یہ پتھر شمالی اسرائیل میں کھدائی کے دوران دریافت ہوئے۔

    محققین کے خیال میں یہ پتھر ممکنہ طور پر Natufian ثقافت سے جڑی بستیوں سے تعلق رکھتے ہیں یہ تہذیب ہزاروں سال قبل فلسطین اور اردن سے تعلق رکھتی تھی اور یہ وہ عہد تھا جب انسانی زندگی کاشتکاری طرز زندگی کی جانب بڑھ رہی تھی، اس کے ہزاروں سال بعد کانسی کے عہد میں حقیقی پہیہ وجود میں آیا۔

    محققین کے مطابق اس دریافت سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ پہیے جیسی ایجاد ہمارے اندازوں سے 4 ہزار سال پہلے ہوچکی تھی، ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ پہیے کی ایجاد عراق کے قدیم خطے بین النہرین یا مشرقی یورپ میں ہوئی مگر حقیقی مقام نامعلوم ہے۔

    محققین نے بتایا کہ دریافت ہونے والے پتھروں سے گھومنے والے پہیوں کی تیاری کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ پتھریلے ٹولز درحقیقت شکل اور افعال کے مطابق اولین پہیے تھے یہ پتھر 12 ہزار سال پرانے ہیں اور 3 ڈی ماڈل کو استعمال کرکے انہوں نے ان پتھروں کا تجزیہ کیا جو کہ چونے کے پتھر سے بنے ہوئے تھے،ان کی ساخت کے باعث محققین کا ماننا ہے کہ انہیں چرخے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

  • ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت

    ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت

    سائنسدانوں نے ہمارے نظام شمسی کے قریب پراسرار سُرنگ دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : eROSITA نامی دوربین نے کائناتی سرنگ کا سراغ لگایا ہے، جو زمین کے مدار میں گھومتی رہتی ہے، یہ دوربین خلا سے آنے والے کمزور ترین ایکس ریز کو بھی پکڑ سکتی ہے،محقق مائیکل فریبرگ نے بتایا ہے کہ گیس کے حصار کے بارے میں ایروزیٹا دوربین نے اب تک کے آلات کے مقابلے میں زیادہ وضاحت سے بتایا ہے۔

    اسپیس ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی کے نزدیک ایک انٹراسٹیلر ٹنل دریافت ہوئی ہے یعنی ایسی سرنگ جس سے گزر کر دوسری دنیاؤں تک پہنچنا ممکن ہوسکتا ہے۔

    معروف جریدے ایسٹرونومی اینڈ ایسٹرو فزکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایک کائناتی سرنگ دریافت کی ہے جو فلکیات کی اصطلاح میں لوکل ہاٹ ببل کی طرح ہے، ہمارے نظامِ شمسی کے گرد گرم گیس کا ایک بڑا ہالا ہے ماہرین کے خیال میں یہ کائناتی سرنگ ہمیں اپنی کہکشاں کے دوسرے ستاروں تک پہنچانے کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔

    لوکل ہاٹ ببل باریک، گرم گیس کا ایسا علاقہ ہے جو ہمارے نظامِ شمسی کے گرد پایا جاتا ہے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ہالا ایک کروڑ 40 لاکھ سال قبل بنا ہوگا اور ایسا تب ہوا ہوگا جب بہت سے بڑے ستارے پھٹے ہوں گے اور اُن سے گیس خارج ہوئی ہوگی۔

    گیسوں کے اس بلبلے کے بارے میں سائنس دان ایک زمانے سے جانتے تھے مگر اب اس میں ایک کائناتی سرنگ کے امکان کا بھی پتا چلا ہے گیس کا یہ ہالا ہمیں ستاروں کے اُس جھرمٹ تک لے جاسکتا ہے جسے سینٹارس (Centaurus) کہا جاتا ہے۔

    طبعیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی انسان سوچ سکتا ہے وہ ممکن ہے مگر مسئلہ وسائل اور موزونیت کا ہے ہیئت کے ماہرین اس خیال کے حامل رہے ہیں کہ انسان دوسرے سیاروں کا سفر بھی کرسکتا ہے اور وہاں آباد بھی ہوسکتا ہے سوال صرف ٹیکنالوجیز کی پیشرفت کا ہے۔

  • 2024 کے بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری

    2024 کے بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری

    سائبر سکیورٹی ماہرین کی جانب سے 2024 کے مقبول ترین یا بدترین پاس ورڈز کی فہرست جاری کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی: NordPass نامی کمپنی کی جانب سے یہ فہرست جاری کی گئی ہے ، اس کے لیے کمپنی کی جانب سے عوامی طور پر دستیاب 2.5 ٹی بی ڈیٹا میں موجود لیک پاس ورڈز کی فہرست کا تجزیہ کیا گیا،اس فہرست کے مطابق 123456 وہ پاس ورڈ ہے جو سب سے زیادہ مقبول ہےعرصے سے ہر سال ہی کسی نہ کسی کمپنی کی فہرست میں یہ مقبول ترین/ بدترین پاس ورڈ کا ‘اعزاز’ اپنے نام کررہا ہے۔

    درحقیقت یہ گزشتہ 6 سال کے دوران 5 ویں بار ہے جب یہ پاس ورڈ اس کمپنی کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے، اسی طرح 123456789 دوسرے جبکہ 12345678 تیسرے نمبر پر رہا، چوتھے نمبر پر password رہا جبکہ qwerty123 کو 5 ویں نمبر پر رکھا گیا، qwerty1 اور 111111 کے حصے میں بالترتب چھٹا اور 7 واں نمبر آیا۔

    12345 کے حصے میں 8 واں نمبر آیا جبکہ secret اور 123123 بالترتیب 9 ویں اور 10 ویں نمبر پر رہے1234567890 کے حصے میں 11 واں نمبر آیا جس کے بعد 1234567 اور 000000 بالترتیب 12 ویں اور 13 ویں نمبر پر رہے، qwerty اور abc123 بالترتیب 14 ویں سے 15 ویں نمبر کے بدترین پاس ورڈز قرار پائے،password1، iloveyou، 11111111، dragon اور monkey کے حصے میں بالترتیب 16 ویں سے 20 واں نمبر آیا، ٹاپ 20 میں شامل 18 پاس ورڈز ایسے ہیں جن کو ہیک کرنے میں ایک سیکنڈ کا وقت درکار ہوتا ہے۔

  • آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں کا خدشہ،ایڈوائزری جاری

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں کا خدشہ،ایڈوائزری جاری

    اسلام آباد: آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹس کے ذریعے سائبر حملوں کے خدشے کے حوالے سے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایڈوائزری جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایڈوائزری میں کہا گیا ہے اے آئی چیٹ بوٹس کا ذاتی کاموں میں استعمال بڑھ گیا ہے، چیٹ جی پی ٹی ودیگرچیٹ بورڈز معلومات اسٹورکرتے ہیں، اےآئی چیٹ بوٹس کے ساتھ بات چیت میں اکثرحساس معلومات شامل ہوتی ہیں، حساس معلومات کارو باری حکمت عملی یا ذاتی گفتگو لیک ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ سائبرکریمنلز جدید انجینرئنگ کی جدید ترین تراکیب استعمال کررہے ہیں، سائبرکرمنلز چیٹ بوٹس کی شکل میں فشنگ کی تکنیک بھی استعمال کرتے ہیں، ایسی تکنیک سے صارفین کو دھوکےسے خفیہ معلومات افشاں کرنے پرمجبورکیا جاسکتا ہے،اے آئی چیٹ بوٹس کے سائبر خطرات سے بچنے کیلئے مضبوط فریم ورک کی ضرورت ہے۔

    ایڈوائزری میں صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس میں حساس ڈیٹا کا اندراج کرنے سے گریز کریں، اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال کے دوران چیٹ سیونگ فیچرزغیر فعال کریں،اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال کے دوران حساس معلومات پر مبنی گفتگو ہدف کریں،ایڈوائزری میں سرٹ کی کرائسز کمیونیکیشن پلانز بھی مرتب کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

  • پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر  انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    پلاسٹک کے ننھے ذرات بارشوں کے نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں،تحقیق

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات موسموں پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور ان کے باعث بارش برسنے کا نظام بدل گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل انوائرمنٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات سمندروں سے لے کر ہمارے جسموں میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور یہ بادلوں کی ‘سیڈنگ’ کا کام بھی کرتے ہوئے آسمان میں برفانی کرسٹلز بننے میں مدد فراہم کر رہے ہیں لیبارٹری تجربات میں دیکھا گیا کہ کس طرح پلاسٹک کے ننھے ذرات بادلوں کے بننے کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے نے پلاسٹک کے ذرات کی 4 عام اقسام کو ان تجربات کے لیے استعمال کیا اور مشاہدہ کیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات گرم درجہ حرارت میں بننے والے برفانی کرسٹلز میں موجود تھے یا یوں کہہ لیں کہ ان ذرات نے برف بننے کے عمل کو زیادہ آسان کردیا، یہاں تک کہ زیادہ درجہ حرارت میں بھی ایسا ممکن ہوا۔

    محققین کے مطابق برفانی کرسٹلز بارش کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور پلاسٹک کے ننھے ذرات کی مدد سے وہ زیادہ آسانی سے بننے لگے اس دریافت سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کس طرح ہمارے ماحول پر اثرانداز ہو رہے ہیں یہ ذرا ت ممکنہ طور پر بارش برسنے کے عمل پر 2 متضاد طریقوں سے اثرات مرتب کرتے ہیں، یعنی کہیں یہ بارش برسنے کی مقدار میں کمی لاتے ہیں اور کہیں بہت زیادہ بارش برسنے کا باعث بنتے ہیں۔

    مثال کے طور پر ان ذرات سے آلودہ فضا میں بادلوں میں موجود پانی متعدد چھوٹے ذرات میں پھیل جاتا ہے جس سے بارش کم برسنے لگتی ہے مگر جب یہ ننھے ذرات مل کر بڑے ہوتے ہیں تو بارش کی شدت معمول سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

  • اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ قادسیہ کا درست مقام تلاش

    ماہرین آثار قدیمہ نے عراق میں اسلامی تاریخ کی ایک اہم ترین جنگ کے درست مقام کو شناخت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ”سی این این“ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی اور عراق کی القادسیہ یونیورسٹی کے ماہرین نے امریکی جاسوس سیٹلائیٹس کی ڈی کلاسیفائی تصاویر کے ذریعے اس مقام کو شناخت کیاانہوں نے جنگ قادسیہ کے مقام کو دریافت کیا اور اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے۔

    636 یا 637 عیسوی میں ہونے والی یہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ ہے جس کے بعد جزیرہ نما عرب سے باہر مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور وہ ایران کی سرزمین کے مالک بن گئےیہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین جنگ ہے مگر اب تک اس کے درست مقام کا علم نہیں تھا۔

    تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے تاریخی مقامات کا نقشہ بنانے پر کام کر رہے ہیں اور اس دوران یہ دریافت ہوئی، انہوں نے آغاز میں کوفہ سے مکہ مکرمہ کے درمیان سفر کرنے والے عازمین کے راستے کا نقشہ تیار کیا اور اس کے لیے 1970 کی دہائی میں امریکی جاسوس سیٹلائیٹس کی کھینچی گئی تصاویر اور تاریخی مسودوں کو استعمال کیا، اس کام کے دوران انہیں احساس ہوا کہ وہ اسی طریقہ کار کے ذریعے جنگ قادسیہ کے مقام کی شناخت بھی کرسکتے ہیں۔

    ڈرہم یونیورسٹی کے ماہر ولیم ڈیڈمین نے بتایا کہ ‘مجھے لگا تھا کہ یہ کوشش کرکے اس مقام کو دریافت کرنے کا بہترین موقع ہے، سب سے پہلے انہوں نے نقشے پر تاریخی داستانوں میں بیان کیے گئے راستوں کے گرد دائرے بنائے اور پھر ان جگہوں کی سیٹلائیٹ تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا، وہ داستانوں میں بیان کیے گئے ایک قلعے اور دیوار کو دریافت کرکے دنگ رہ گئے اور شروع میں انہیں یقین ہی نہیں آیا۔

    القادسیہ کی لڑائی میں ایک چھوٹی عرب مسلم فوج نے ساسانی سلطنت کی ایک بہت بڑی فوج کو شکست دی تھی جس کا اس خطے پر غلبہ تھا، چند ناکام کوششوں کے بعد، یہ مسلمانوں کی عرب سے باہر پھیلنے کی کوششوں میںپہلی ”واقعی اہم فتح“ تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 6 میل (9.7 کلومیٹر) طویل دیوار کا زیادہ تر حصہ تباہ ہو چکا ہے یا اسے زرعی حدود میں شامل کر دیا گیا ہے، اور الذہیب میں قدیم فوجی چوکی کی جگہ پر کی گئی کھدائی دکھائی دیتی ہے۔

    یونیورسٹی آف ایکسیٹر میں اسلامک اسٹڈیز کے لیکچرر مصطفی بیگ، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، انہوں نے اس تلاش کو ”بہت اہم“ قرار دیا بیگ نے سی این این کو بتایا کہ مسلم فوج بہت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود بہادری اور شاندار حکمت عملی کے امتزاج کی بدولت غالب آئی،فیصلہ کن جنگ نے ساسانی سلطنت کے خاتمے اور میسوپوٹیمیا، فارس اور اس سے آگے مسلمانوں کی سرزمین کے پھیلنے کا راستہ بنایا۔‘

    تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ تاریخی جنگ کوفہ کے جنوب میں 19 میل دور ہوئی تھی، اس جنگ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیرقیادت مٹھی بھر مسلمانوں نے ساسانی سلطنت کی بہت بڑی فوج کو شکست دی تھی اب یہ زرعی خطہ ہے اور 6 میل طویل دیوار کا بیشتر حصہ تباہ ہوچکا ہے یا وہ دیوار زرعی زمینوں کا حصہ بن چکی ہے، جنگ کا مقام دریافت کرنے کے بعد محققین نے وہاں جاکر سروے کرنے اور تاریخی آثار کا نقشہ بنانے کی منصوبہ بندی کی مگر مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے باعث ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

  • واٹس ایپ:تصویر فیکٹ چیک فیچر  آزمائشی طور پر شروع

    واٹس ایپ:تصویر فیکٹ چیک فیچر آزمائشی طور پر شروع

    میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے تصویروں کو چیک کرنے کے فیکٹ چیک فیچر کی آزمائش شروع کردی۔

    واٹس ایپ اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق ایپلی کیشن پر بھیجی گئی تصاویر کو ویب سرچ کرنے کے فیچر کی آزمائش کو شروع کردیا گیا۔مذکورہ آزمائشی پروگرام تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، فیچر کےتحت صارفین موصول ہونے والی تصویر پر کلک کرکے اس متلعق مزید معلومات حاصل کر سکیں گے۔مذکورہ فیچر گوگل لینس کی طرح کام کرے گا جو کہ تصاویر کی فیکٹ چیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔واٹس ایپ پر موصول ہونے والی تصویر کو جیسے ہی صارفین کلک کریں گے تو اس سے ملتی جلتی تصاویر یا بھیجی گئی تصویر سے متعلق مزید معلومات گوگل کے ذریعے حاصل کی جا سکے گی۔ابھی مذکورہ فیچر کی آزمائش تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے، اس کی کامیاب آزمائش کے بعد اسے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اسے کب تک متعارف کرایا جائے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ نے کچھ عرصہ قبل تحریری میسیجز کے اہم حصوں میں گوگل سرچ لنکس دینے کی آزمائش بھی شروع کی تھی، جس کے تحت صارفین موصول ہونے والی اہم معلومات سے متعلق گوگل پر معلومات کو سرچ کرسکتے ہیں۔

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

    ٹرمپ کی کامیابی کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں‘ آغا سراج

    کراچی : پولیس افسر کے ساتھ ویڈیو بنوانے والی ٹک ٹاکر کیخلاف مقدمہ درج

  • آسٹریلیا کا  بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان

    آسٹریلیا کا بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان

    میلبرن: آسٹریلیا کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا ہے،بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا اطلاق 2025 کے آخر تک ہونے کا امکان ہے،جبکہ حزب اختلاف کی جماعت لبرل پارٹی کی جانب سے بھی اس پابندی کی حمایت کا عندیہ دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اے پی کے مطابق 7 نومبر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب دنیا میں اس طرح کی پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہےاس مقصد کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے عمر کی شناخت کرنے والے ایک سسٹم کی آزمائش کی جا رہی ہے جو بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    آسٹریلیا کے وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا ہمارے بچوں کو نقصان پہنچا رہا ہےانہوں نے مختلف تحقیقی رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو مختلف خطرات کا سامنا ہوتا ہے اس حوالے سے قوانین رواں سال ہی پارلیمان میں پیش کیے جائیں گے اور قوانین کی منظوری کے بعد 12 ماہ میں ان کا اطلاق ہوگا، ایسے بچوں پر بھی اس پابندی کا اطلاق ہوگا جن کے والدین انہیں اجازت دینے کے لیے تیار ہوں گے یا جن کے پہلے سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہوں گے، یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ دارانہ اقدامات کے ذریعے رسائی کی روک تھام کریں، یہ والدین یا بچوں کی ذمہ داری نہیں۔

    توشہ خانہ گاڑیوں کا کیس : دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی استدعا پر فیصلہ …

    آسٹریلیا کی وزیر کمیونیکیشن Michelle Rowland نے بتایا کہ مختلف پلیٹ فارمز جیسے انسٹا گرام، فیس بک، ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئٹر) اور یوٹیوب پر اس قانون سازی سے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مختلف ممالک میں بچوں کو سوشل میڈیا کے استعمال سے روکنے کے لیے مختلف پابندیاں لگائی گئی ہیں فرانس نے 2023 میں 15 سال سے کم عمر بچوں پر اس طرح کی پابندی کا عندیہ دیا تھا مگر اس کا اطلاق ایسے بچوں پر نہیں ہوگا جن کے والدین انہیں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔

    خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی وفاق کی ترجیحات میں شامل ہے، عطاءاللہ …

  • صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کی مالیت میں اضافہ

    صدر منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی کی مالیت میں اضافہ

    واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہوتے ہی بدھ کے روز ان کی سوشل میڈیا کمپنی ٹروتھ سوشل کی مالیت میں ایک ارب ڈالر (2کھرب ، 77ارب 83کروڑ 74لاکھ روپے) اضافہ ہوا۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیاکے مطابق ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی Truth Social کی مالک ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کی مالیت میں اضافہ ہوا ہےٹرمپ میڈیا کا اسٹاک جو "DJT” کی علامت کے تحت تجارت کرتا ہے،کی مالیت میں پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 35 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی مالیت 9ارب ڈالر ہوگئی، ٹرمپ قدامت پسند سوشل میڈیا کمپنی میں غالب شیئر ہولڈر ہیں جس کی آمدنی بہت کم ہے اور وہ پیسہ کھو رہی ہے۔

    ٹروتھ سوشل کا مقصد ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں قدامت پسند آوازیں زیادہ مؤثر طریقے سے سنی جا سکیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو اکثر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ کمپنی اپنے آغاز سے ہی متنازعہ رہی ہے، اور اس کی کارکردگی اور مستقبل کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں-

    ایک الیکشن ہارنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی وائیٹ ہاؤس میں واپسی

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے صدر منتخب

  • چین میں فوجی سروسز میں جدت  کیلئے اے آئی ٹول تیار

    چین میں فوجی سروسز میں جدت کیلئے اے آئی ٹول تیار

    بیجنگ: اعلیٰ چینی تحقیقی اداروں نے فوجی سروسز میں جدت لانے کےلیے اے آئی ٹول تیار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) سے منسلک اعلیٰ چینی تحقیقی اداروں نے میٹا کے عوامی طور پر دستیاب لاما ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے فوجی ایپلی کیشنز کیلئے اے آئی ماڈل تیار کیا ہے تین چینی اداروں کے 6 محققین جن میں پی ایل اے کے سرکردہ تحقیقی ادارے اکیڈمی آف ملٹری سائنس (اے ایم ایس) کے تحت دو شامل ہیں، نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح انہوں نے میٹا کے لاما کے ابتدائی ورژن کو ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیا جوChatBIT کہلاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق محققین نے Llama 2 13B لارج لینگوئج ماڈل (ایل ایل ہم) کا استعمال کیا جسے میٹا نے فروری 2023 میں جاری کیامحققین نے انٹیلی جنس کو اکٹھا کرنے اور اس پر کارروائی کرنے کے لیے فوجی توجہ مرکوز کرنے والے اے آئی ٹول کی تعمیر کے لیے اپنے پیرامیٹرز کو شامل کیا اور آپریشنل فیصلہ سازی کے لیے درست اور قابل اعتماد معلومات اے آے ماڈل کو فیڈ کیں۔

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

    چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ سے قبل قذافی سٹیڈیم کی تکمیل کا چیلنج پورا کرنا ہے،محسن نقوی

    بم کی دھمکیوں کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز سے ملی بارودی گولی