Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

    بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ”Environmental Research Letters“ میں شائع تحقیق میں آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ عالمی حدت کے معیشت پر اثرات کو اب تک بہت کم اندازہ لگایا گیا تھا اس تحقیق کے مطابق، اگر درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو عالمی جی ڈی پی فی کس میں 16 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جو پہلے کے 1.4 فیصد کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہے،یہ تحقیق اقتصادی ماڈلز میں ایک اہم خامی کی نشاند ہی کرتی ہے جو عالمی ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد ہے اور اس سے کاربن کے سابقہ معیارات پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

    پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

    تحقیق کے مطابق اگر تمام ممالک اپنے قریبی اور طویل مدتی ماحولیاتی اہداف حاصل بھی کر لیتے ہیں، تب بھی عالمی درجہ حرارت میں 2.1 ڈگری سیلسیس تک اضافہ متوقع ہے یہ خطرناک پیش گوئیاں عالمی اقتصادی استحکام اور دنیا بھر میں افراد کی دولت پر موسمیاتی تبدیلیو ں کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈی پٹ مین، جو تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں، انہوں نے ”دی گارڈین“ سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ شدت اختیار کرتا ہے تو اصل نقصان سامنے آتا ہے، یہ صرف اوسط درجہ حرارت کی بات نہیں ہے ممالک کو اپنی اقتصادی کمزوریوں کا درست اندازہ لگانے اور اخراج کو کم کرنے کے لیے، اقتصادی ماڈلز کو موسمیاتی شدت اور اس کے سپلائی چینز پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ازسر نو مرتب کرنا ہوگا۔

    عامر خان کی سابقہ دونوں اہلیہ کی ایک ساتھ عید منانے کی تصاویر وائرل

    کچھ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ عالمی حدت کے اثرات جزوی طور پر کچھ ٹھنڈے علاقوں، جیسے کہ کینیڈا، روس اور شمالی یورپ میں فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن ماہر نیل کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت کے ذریعے تمام معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا اس کا نقصان ہر ملک کو ہوگا۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماحولیاتی پالیسی کے ماہر پروفیسر فرینک جوزو، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ معیاری ماڈلز فرض کرتے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کسی علاقے میں زراعت ممکن نہیں رہے گی، تو دنیا کے کسی دوسرے حصے میں اس کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا۔

    سیف علی خان حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ماڈلز یہ تاثر دیتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی معیشت پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالیں گی، جو کہ حقیقت میں فزیکل امپیکٹ سائنس اور اقتصادی باہمی انحصار کی بہتر تفہیم کے برخلاف ہےیہ تحقیق دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اقتصادی اثرات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے ماحولیاتی اہداف پر فوری عمل کریں۔

  • متحدہ عرب امارات:شوال کا چاند دیکھنے کیلئے ڈرونز اور اے آئی کا استعمال

    متحدہ عرب امارات:شوال کا چاند دیکھنے کیلئے ڈرونز اور اے آئی کا استعمال

    دبئی : متحدہ عرب امارات میں پہلی بار کسی اسلامی مہینے کا چاند دیکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی :اےآئی کی پانچ قومی رصدگاہیں ہلال کا چاند دیکھنے میں شرکت کریں گی کیونکہ متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل شوال کا چاند دیکھنے والی کمیٹی کا اجلاس 29 مارچ کو بلائے گی۔

    یہ اجلاس ابوظہبی کے تاریخی الحسن مقام پر منعقد ہوگا، جسے اس کی قومی اور ثقافتی اہمیت اور متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں سرکار ی، قومی اور مذہبی تقریبات کے مرکز کے طور پر اس کی حیثیت کی وجہ سے منتخب کیا گیا تھا،ڈرونز جو زمین سے 300 میٹر سے زیادہ کی بلندی تک جاسکتے ہیں، الخاتم فلکیاتی آبزرویٹری سے تعینات کیے جائیں گے۔

    پنجاب : اقلیتی برادریوں کے مسائل کے حل کیلئے مینارٹی ایڈوائزری کونسل قائم

    درست فلکیاتی حسابات کی بنیاد پر ڈرونز کو چاند کے مقام کی طرف لے جایا جائے گا، اس سے ان چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی جو روایتی طریقوں سے دیکھنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور درست مشاہدے کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    وہ رصدگاہیں جو چاند دیکھنے میں حصہ لیں گی ان میں الخاتم فلکیاتی رصدگاہ، جبل حفیت آبزرویٹری، دبئی کریسنٹ آبزرویٹری، شارجہ فلکیاتی رصد گاہ اور راس الخیمہ آبزرویٹری شامل ہیں-

    یہ دوسرا موقع ہے کہ یو اے ای چاند دیکھنے کے لیے ڈرون تعینات کر رہا ہے، اس سے قبل یہ ملک رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے ڈرون استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا ملک تھا-

    وزیراعظم آئندہ ماہ بیلاروس کا دورہ کریں گے

    متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل نے چاند دیکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت دی تھی۔فتویٰ کونسل کا کہنا تھا کہ ڈرون کے استعمال سے چاند کو براہ راست دیکھنا ایک اہم قدم ہوگا اور اسے چاند کی رویت کی تصدیق کی بنیاد سمجھا جاسکتا ہے۔جس
    کے بعد آج پہلی بار رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے ڈرونز اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    بھارت عالمی سطح پر منشیات فروشی میں ملوث ہے،امریکی انٹیلیجنس رپورٹ

  • ٹک ٹاک کا  بانی چین کا امیر ترین شخص بن گیا

    ٹک ٹاک کا بانی چین کا امیر ترین شخص بن گیا

    بیجنگ: ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائیٹ ڈانس کے بانی زینگ یامنگ چین کے سب سے امیر شخص بن گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ٹک ٹاک کے بانی نے چین کے روایتی ارب پتیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے 41 سالہ زینگ یامنگ اس وقت 57.5 ارب ڈالر کی دولت کے مالک ہیں، جس کے ساتھ وہ ایشیا کے تیسرے اور دنیا کے 24 ویں امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔

    بلومبرگ کے مطابق صرف رواں سال میں ان کی دولت میں 13.6 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے انہوں نے نونگفُو اسپرنگ کے مالک زونگ شانسان اور ٹین سینٹ کے شریک بانی پونی ما ہواٹینگ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سلمان خان نےاپنی زندگی کو لاحق خطرات اور دھمکیوں پر خاموشی توڑدی

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹک ٹاک جیسے مقبول پلیٹ فارم کے بانی ہونے کے باوجود زینگ یامنگ خود لو پروفائل زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں چین کے صوبے فوجیان میں پیدا ہونے والے زینگ کے والدین سرکاری ملازم تھے، اور انہوں نے نآنکی یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔

    زینگ یامنگ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک اسٹارٹ اپ Kuxun سے کیا، جہاں وہ جلد ہی ٹیم لیڈر بن گئے بعد میں، انہوں نے مائیکرو سافٹ میں بھی کام کیا لیکن اپنی کمپنی بنانے کے لیے ملازمت چھوڑ دی 2012 میں انہوں نے بائیٹ ڈانس کی بنیاد رکھی، جو آج ٹک ٹاک کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہے۔

    اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    زینگ یامنگ کے مطابق وہ شروع میں ٹک ٹاک کا استعمال نہیں کرتے تھے کیونکہ انہیں یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کے لیے لگتا تھا، لیکن بعد میں، کمپنی کے ملازمین کے لیے ویڈیوز بنانا اور لائکس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے خود بھی اس ایپ کا استعمال شروع کیا۔

    بائیٹ ڈانس اور ٹک ٹاک کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اور زینگ یامنگ کا شمار دنیا کے سب سے بااثر ٹیکنالوجی انٹرپر ینیورز میں ہوتا ہے۔

    افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، ترجمان دفترخارجہ

  • زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر عجیب ساخت کامردہ ستارہ دریافت

    زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر عجیب ساخت کامردہ ستارہ دریافت

    کائنات کے راز آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آرہے ہیں ،حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کائنات کے ایک دور دراز حصے میں ایک ایسا مردہ ستارہ پایا گیا ہے جس کی سطح پر کانٹے نما اجسام ابھرے ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق یہ ستارہ زمین سے تقریباً 6,500 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے یہ مردہ ستارہ حیرت انگیز طور پر گرم گندھک کے لمبے اجسام میں لپٹا ہوا ہے فلکیات کا مطالعہ کرنے والوں نے تقریباً 900 سال قبل اس ستارے کے سُپرنووا میں تبدیل ہونے کی اطلاع دی،یہ بات کسی کو نہیں معلوم نہیں کہ سُپرنووا دھماکے نے اس مردہ ستارے کے گرد یہ اجسام کیسے بنائے۔

    ہارورڈ اینڈ سمتھسونین سینٹر فار ایسٹرو فزکس کے ماہر فلکیات ٹم کننگھم نے ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں اپنی نئی دریافت سے متعلق بتایا یہ سُپرنووا کی انتہائی عجیب باقیات کا مشاہدہ پہیلی کا ایک ٹکڑا ہے۔

    جب پائلٹ اپنا پاسپورٹ لے جانا بھول گیا، مسافروں سمیت پرواز واپس لانی پڑی

    رپورٹ کے مطابق چینی اور جاپانی ماہرین فلکیات کی جانب سے پہلی بار اس سپرنووا کو 1181 میں آسمان میں ایک نئے ستارے کے طور پر مشاہدہ کیا گیا تھا لیکن جدید فلکیاتی ماہرین کو سال 2013 تک مذکورہ ستارے کی باقیات نہیں ملیں، جسے اب Pa 30 نیبولا کہا جاتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل رجسٹرار کے تبادلے

    جب انہوں نے اس مردہ ستارے کی باقیات کو تلاش کیا تو یہ انہیں عجیب حالت میں ملا جو کہ سُپرنووا کی ایک قسم میں دکھائی دیا جسے ٹائپ 1 اے کہا جاتا ہےاس قسم کے سپرنووا میں ایک سفید بونا ستارہ شامل ہوتا ہے جو دھماکے کے عمل میں خود کو تباہ کر دیتا ہےلیکن اس پی اے 30 کے معاملے میں ستارے کا کچھ حصہ محفوظ رہا-

    متبادل راستہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈمپرز اور ٹینکر شہر سے گزرتے ہیں،مرتضیٰ وہاب

  • حکومت کی عدم توجہی کے باعث آئی ٹی انڈسٹری بحرانوں کا شکار

    حکومت کی عدم توجہی کے باعث آئی ٹی انڈسٹری بحرانوں کا شکار

    پاکستان آئی ٹی انڈسٹری عین مسائل کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ،دوسری جانب حکومت بہتری کے دعوے کر رہی ہے۔

    نجی ٹی وی ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً ساڑھے تین ہزار سے زائد آئی ٹی کمپنیاں بڑے، درمیانے اور چھوٹے سکیل کے بزنس ماڈیولز کے تحت پاکستان میں آئی ٹی سروسز کی فراہمی ، سوفٹ وئیرز کی تیاری، فروخت اور اپ گریڈنگ کا کام کر رہی ہیں۔بظاہر یہ اعداد و شمار پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کی قابل اعتماد ترقی کا اشارہ دیتے ہیں ، وہ انڈسٹری جس کے بارے میں حکمران یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری پچیس ارب ڈالر کمانے کی اہلیت رکھتی ہے لیکن آئی ٹی انڈسٹری کولاحق بحران پر نظر ڈالی جائے تو اس شعبے کا نمایاں ترین مسئلہ سپلائی سائیڈ کا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کی خدمات کی ڈیمانڈ اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ ہم اسے پورا ہی نہیں کر پا رہے، پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کی ضرورت ہے لیکن تعلیمی اداروں سے صرف 25 ہزار لوگ ہی نکل رہے ہیں۔انسانی حقوق، جمہوریت اور دنیا بھر میں سیاسی آزادی جیسے موضوعات پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس کی 2023 کی انٹرنیٹ کی آزادی پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ آزاد نہیں۔فریڈم ہاؤس نے اپنی سالانہ رپورٹ کے ذریعے دنیا کے 70 ممالک میں انٹرنیٹ کی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انٹرنیٹ تک رسائی میں مشکلات، سینسرشپ اور صارفین کے حقوق کے استحصال کی بنیاد پر ممالک کو 100 میں سے سکور دیا جاتا ہے۔

    2023 کی فریڈم ہاؤس کی رپورٹ کے تحت پاکستان کو 100 میں سے 26 نمبر دیے گئے ہیں۔ بھارت میں انٹرنیٹ جُزوی طور پر آزاد ہے جبکہ کینیڈا جیسے ملک کو 100 میں سے 88 نمبر دیے گئے ہیں اور اُس کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں انٹرنیٹ آزاد ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کا پرائیویٹ سیکٹر اپنے طور پر بہتر نتائج لانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سرکاری شعبہ عدم توجہ اور کسی حد تک عدم تحفظ کا شکار ہے۔جس کی سب سے بڑی مثال سی ای او نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا اپنا بیان ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق آئی ٹی کی برآمدات مالی سال 24-2023 ءمیں 24 فیصد اضافے کے ساتھ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 2.59 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق آئی ٹی سیکٹرنے گزشتہ سال جون کے مہینے میں ریکارڈ 30 کروڑ ڈالر کی برآمدات کی تھیں جو 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھیں۔ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک بالخصوص سعودی عرب میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی خدمات کے حصول میں اضافہ ہے۔

    اس کی بڑی وجہ عالمی سیاسی و معاشی حالات اور پاکستانی حکومتوں کی پالیسیاں ہیں جو آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے کام کرنے کے ماحول اور مالیاتی معاملات کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔دوسری طرف وزیراعظم کے پروگرام اُڑان پاکستان کا آغاز ہو چکا ہے جس میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 2047 تک 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا پلان شامل ہے۔ لیکن جب موجودہ حکومت کے تحت آئی ٹی کے شعبے کے ذمہ داران کی طرف دیکھا جائے تو شاید ابھی وہاں پر وہ سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی جس کی ضرورت ہے۔

    حکومت کے رجحان سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی اداروں میں بیٹھے ہوئے ذمہ داران اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ آئی ٹی پروڈکٹس کو بڑھاوا دینے کی بجائے آئی ٹی ماہرین تیار کیے جائیں۔صرف ماہرین تیار کرنے سے بڑے پیمانے پر وہ فاہدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا جو مقامی آئی ٹی انڈسٹری کی بین الاقوامی معیار کی پراڈکٹس تیار کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کُل سات ادارے ہیں جن میں شامل تین اداروں کے ابھی تک بورڈز بھی مکمل نہیں۔ان اداروں میں سب سے اہم ادارہ پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ کو بورڈ مکمل نہیں۔ اسی طرح یونیورسل سروس فنڈز اور نیشنل ٹیکنالوجی فنڈز یا اگنائیٹ کا بھی ابھی تک بورڈ نامکمل ہے۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تمام گیارہ ذیلی اداروں کے بھی بورڈز ابھی تک نامکمل ہیں۔

    مقامی سطح پر آئی ٹی ٹیکنالوجی کے استعمال اور حکومتی اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن کی طرف مکمل توجہ نہیں دی جا سکی۔ وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر میں پیپر لیس ماحول کے فروغ کے لیے ای آفس سسٹم متعارف کرایا ہے تاہم تازہ ترین حقائق کے مطابق 40 وفاقی اداروں میں سے صرف 3 اداروں نے اس نظام کو مکمل طور پر اپنایا ہے جبکہ پانچ وزارتوں میں اس پراجیکٹ پر ابھی کام نہیں شروع ہو سکا۔اسی طرح فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس وصولی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کی کوششیں کی ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ریونیو آٹو میشن پرائیویٹ لمیٹڈ ( پرال) کے تعاون سے سافٹ وئیر حل فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    ترقی پذیر ممالک سے ہٹ کر ہمارے ہاں آئی ٹی کے شعبے میں حکومتی مدد ویسی نہیں جیسی ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں آر اینڈ ڈی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے آئی ٹی کی وزارت بالکل خاموش ہے۔معاہدوں سے نہ صرف پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں اورا سٹارٹ ایپس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ اس سے مشترکہ منصوبوں، تربیتی پروگراموں اور جدید ٹیکنالوجیز کے لیے انوویشن سینٹرز، سینٹرز آف ایکسی لینس اور یونیورسٹی برانچوں کے ذریعے تحقیق اور جدت کو بڑھانے کے علاوہ فائبر آپٹک نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

    اس حوالے سے مستقبل میں دونوں ممالک کے مابین ای گورننس، اسمارٹ انفراسٹرکچر، ای ہیلتھ، ای ایجوکیشن اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسا کہ آرٹیفشل انٹیلی جنس، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ای گیمنگ اور بلاک چین میں بھی تعاون کو فروغ ملے گا۔ آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایکسپورٹرز کو خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس میں موجود سرمایہ رکھنے کی حد 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کے فیصلے اور روپے کی قدر میں استحکام نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات تقریبا دوگنا ہو چکی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سال کےاعدادو شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبے کی ترقی کی شرح میں تسلسل نہیں۔ اس کی بڑی وجہ عالمی سیاسی و معاشی حالات اور پاکستانی حکومتوں کی پالیسیاں ہیں جو آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کے کام کرنے کے ماحول اور مالیاتی معاملات کو براہ راست متاثر کرتی ہیں۔

    اگر پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو درپیش بنیادی مسائل حل ہو جائیں تو مختصر عرصے میں آئی ٹی ایکسپورٹس کو سالانہ 15 سے 20 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔اس حوالے سے حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی بلاتعطل فراہمی اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیٹ کی فراہمی میں جس تعطل اور سست روی کا سامنا کرنا پڑا وہ مایوس کن ہے۔

    نوجوان نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر خود ہی آپریشن کر ڈالا

    میچ نہیں دیکھا کہ کہیں بیٹے کو نظر ہی نہ لگ جائے ، والدہ کرکٹر حسن نواز

    بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    بغیر اجازت احتجاج کرنے پر عورت مارچ کی قیادت کیخلاف مقدمہ درج

    لاہور قلندرز کا یو نیوورسٹی فین کلب فرینڈز آف قلندرز کا آغاز

  • پاکستان نے اپنی چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دی

    پاکستان نے اپنی چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دی

    پاکستان نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنی چیٹ جی پی ٹی متعارف کروا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ”میڈ ان پاکستان“ جی پی ٹی کا بیس ماڈل تیار کرلیا گیا، جسے ”ذہانت اے آئی“ کے نام سے لانچ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں اس کی رونمائی کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں آئی ٹی ماہرین سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد نے شرکت کی۔اس منصوبے کی بانی اور آئی ٹی ایکسپرٹ مہوش سلیمان علی کا کہنا ہے کہ ”ذہانت اے آئی“ کو مختلف مراحل سے گزارنے کے بعد کامیابی سے لانچ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سینٹرز میں طویل محنت کے بعد یہ خواب حقیقت میں بدلا۔

    مہوش سلیمان نے کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے دنیا کا مقابلہ کرنا ہے، اس لیے ہمیں دن رات محنت کرنا پڑی۔ یہ چیٹ جی پی ٹی مختلف زبانوں میں دستیاب ہوگی اور پاکستانی اپنے ڈیٹا سرور کے ذریعے اسے استعمال کر سکیں گے۔تقریب میں بڑی تعداد میں آئی ٹی ماہرین اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے، جنہوں نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

    ڈیرہ اسماعیل خان: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 10 دہشتگرد ہلاک، کیپٹن شہید

    کوہلی، روہت، بمراہ کیلئے بُری خبر،بھارتی بورڈ نےصاف انکار کر دیا

    ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، سی ڈی اے کے 4 افسران گرفتار

  • کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن دریافت

    کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن دریافت

    ماہرین فلکیات نے کائنات کی سب سے دور موجود کہکشاں میں آکسیجن اور بھاری دھاتوں جیسے عناصر دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق یہ کہکشاں زمین سے 13.4 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ کائنات کے ابتدائی دور میں بنی تھی بگ بینگ کے نتیجے میں کائنات 13.8 ارب سال قبل وجود میں آئی تھی۔

    یہ غیر معمولی طور پر بڑی اور روشن کہکشاں، جسے ”JADES-GS-z14-0“ کا نام دیا گیا ہے، سب سے پہلے جنوری 2024 میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دریافت کی گئی تھی یہ دوربین انفراریڈ روشنی میں مشاہدہ کرتی ہے، جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی، اور کائنات کی قدیم ترین کہکشاؤں کی کھوج میں مدد دیتی ہے۔

    حماس کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ

    یہ روشنی، جو کہکشاں سے نکل کر زمین تک پہنچی، 13.4 ارب سال کا سفر طے کر چکی ہے، یعنی ماہرین 300 ملین سال پرانی کائنات کو دیکھ رہے ہیں بعد ازاں، چلی کے آٹاکاما ریجن میں موجود ALMA“ (Atacama Large Millimeter/submillimeter Array)“ نامی رصد گاہ نے اس کہکشاں کا مزید مشاہدہ کیا اور حیران کن طور پر وہاں آکسیجن اور بھاری دھاتوں کی موجودگی کا سراغ لگایا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کہکشائیں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی تھیں۔

    لیڈن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات سینڈر شوؤس نے کہا، ’یہ ایسا ہے جیسے وہاں کسی نوجوان کو پایا جائے جہاں صرف نوزائیدہ بچے ہونے چاہیے تھے،یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ ابتدائی کہکشائیں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی اور پروان چڑھیں۔

    کچے میں 45 ڈاکو ہلاک اور67 کو گرفتار کیا گیا ، مجتبیٰ شجاع الرحمان

    JADES-GS-z14-0 کی ساخت اور اس میں بھاری دھاتوں کی مقدار نے ماہرین کو ششدر کر دیا ہےعام طور پر، کہکشائیں ہائیڈروجن اور ہیلیئم جیسی ہلکی گیسوں سے بنتی ہیں، جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ ستارے بھاری عناصر پیدا کرتے ہیں لیکن اس کہکشاں میں توقع سے 10 گنا زیادہ بھاری عناصر پائے گئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہاں کئی نسلوں کے بڑے ستارے پہلے ہی پیدا ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔

    اٹلی کی اسکولا نورمالے سپیریوری کے ماہر فلکیات ڈاکٹر اسٹیفانو کارنیانی کہتے ہیں کہ ’یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں ابتدائی کہکشائیں بہت تیزی سے اپنا ماس اکٹھا کر لیتی ہیں، جو موجودہ ماڈلز کے برعکس ہے۔

    اوکاڑہ: غیر معیاری ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    یہ کہکشاں اپنی بڑی جسامت اور حیرت انگیز روشنی کی وجہ سے بھی ماہرین کے لیے دلچسپی کا باعث بنی ہے شوؤس کے مطابق، جیمز ویب نے تقریباً 700 دور دراز کہکشاؤں کا جائزہ لیا، لیکن یہ کہکشاں سب سے زیادہ دور ہونے کے باوجود تیسری سب سے روشن نکلی۔

    عام طور پر، ماہرین کا ماننا تھا کہ قدیم کہکشائیں زیادہ چھوٹی اور مدھم ہوں گی، کیونکہ اس وقت کائنات بھی چھوٹی تھی مگر JADES-GS-z14-0 نے اس نظریے کو چیلنج کر دیا ہے شوؤس نے کہا کہ یہ ابتدائی کہکشائیں آج کی معروف کہکشاؤں سے بہت مختلف ہیں یہ زیادہ کمپیکٹ، گیس سے بھرپور اور بے ترتیب ہیں اس دور میں ستارے ایک محدود جگہ میں بہت تیزی سے تشکیل پا رہے تھے، جس سے کہکشاؤں میں زیادہ شدت دیکھی جا سکتی ہے۔‘

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، تھانہ آئی نائن حملے میں ملوث 2 خطرناک دہشتگرد گرفتار

    یہ دریافت اس بات کا بھی اشارہ دیتی ہے کہ ابتدائی کہکشاؤں میں ستارے زیادہ بڑے اور زیادہ مقدار میں پیدا ہوئے ہوں گے، جو ان کی غیر معمولی روشنی کی وضاحت کرتا ہے۔

    شوؤس نے اس کا موازنہ شمعوں سے کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے پاس ایک بڑی لو والی شمع ہو سکتی ہے (جو بڑے ستاروں کی طرح زیادہ روشن ہوتی ہے) یا ایک چھوٹی، دیرپا جلنے والی شمع (جو عام ستاروں کی مانند ہوتی ہے)، ماہرین اس کہکشاں کا مزید مطالعہ کرنا چا ہتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ منفرد ہے، یا اگر مزید ایسی کہکشائیں بھی موجود ہیں جو جلدی تشکیل پا کر روشن ہو چکی تھیں۔

    یوکرین کا روسی نیوکلئیر بمبار طیاروں کے بیس پر حملہ

    یورپی ماہر فلکیات گیرگو پاپنگ نے کہا یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی کہکشائیں بگ بینگ کے بعد توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بنی تھیں یہ ALMA رصدگاہ کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو کائنات کے ابتدائی حالات کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔‘

    کارنیانی نے کہا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور ALMA کی مشترکہ تحقیقات کائناتی سحر انگیزی کے ابتدائی رازوں سے پردہ اٹھا سکتی ہیں، اور یہ بتا سکتی ہیں کہ ابتدائی ستارے اور کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں، یہ دریافت کائنات کے جنم کے بعد ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

    موجودہ حالات میں قومی اتفاقِ رائے کی اشد ضرورت ہے، طارق فضل چوہدری

  • 9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    9ماہ سے خلا میں پھنسے خلابازوں کی زمین پر واپسی

    جون 2024 میں 8 روزہ مشن پر انٹرنیشل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں جانے والے 2 امریکی خلا باز آخرکار 9 ماہ بعد زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دونوں خلا باز بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ کی اولین انسان بردار پرواز کے ذریعے آئی ایس ایس پہنچے تھے مگر پھر وہی پھنس گئے کیونکہ اسٹار لائنر انہیں واپس لانے کے قابل نہیں رہا Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کی واپسی میں ائیر لائنر کے تھر سٹرز رکاوٹ بنے جن کے باعث اسٹار لائنر کیپسول کو ڈوکنگ کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔

    اس کے بعد ناسا کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں کی واپسی اسپیس ایکس کے ڈراگون اسپیس کرافٹ سے ہوگی، اسپیس ایکس کا اسپیس کرافٹ 9 ماہ بعد اب دونوں کو واپس لا رہا ہےان دونوں کی واپسی کے لیے اسپیس ایکس کریو 9 مشن میں شامل 2 افراد کو نکال دیا گیا تھا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

    ناسا کی جانب سے ان کریو مشنز کے ذریعے آئی ایس ایس میں موجود عملے کو تبدیل کیا جاتا ہے یہ مشن ستمبر 2024 میں لوگوں کو لے کر آئی ایس ایس پہنچا تھا اور اب 18 مارچ کو زمین پر 9 ماہ سے خلا میں پھنسے خلا بازوں کو واپس لے کر لوٹ رہا ہے۔

    ناسا کی جانب سے پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا کہ کریو 9 مشن کے عملے کی واپسی فروری میں ہوگی مگر اسپیس ایکس کا ڈراگون مشن ایک ماہ تاخیر سے روزانہ ہوا۔

    کریو 10 مشن کے تحت 4 افراد کو 14 مارچ کو آئی ایس ایس کے لیے روانہ کیا گیا تھا اور اس کا کیپسول اسپیس اسٹیشن سے 29 گھنٹے بعد جڑ گیا تھا۔

    ہیپاٹائٹس سی کا بہت جلد ملک سے مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔وزیراعظم

    اب Butch Wilmore اور سنیتا ولیمز کے ساتھ آئی ایس ایس میں موجود ناسا اور روس کے 2 خلا باز بھی زمین پر واپس لوٹ رہے ہیں، طویل عرصے تک خلا میں پھنسے رہنے والے جوڑے نے اس عرصے مٰں وہاں سائنسی تجربات کیے جبکہ آئی ایس ایس کی مر مت میں بھی حصہ لیا،سنیتا ولیمز نے خلا مٰں چہل قدمی بھی کی۔

  • وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے آسان طریقے

    وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کے آسان طریقے

    عصر حاضر میں انٹرنیٹ زندگی کی تقریباً ضرورت بن چکا ہے، موجودہ عہد میں اس کے لیے وائی فائی سگنلز پر انحصار کیا جاتا ہے،مگر اکثر وائی فائی انٹرنیٹ کی رفتار اتنی کم ہوتی ہے کہ ٹھنڈے مزاج کا فرد بھی چڑچڑا ہوجاتا ہے۔

    اگر آپکو وائی فائی کی رفتار کم محسوس ہوتی ہے تو ایسے متعدد طریقے ہیں جس سے آپ انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر کرسکتے ہیں۔

    راؤٹرز فرش پر مت رکھیں
    دیوار، فرش اور دھاتی اشیا کے قریب راؤٹرز رکھنے سے وائرلیس سگنلز متاثر ہوتے ہیں تو جس حد تک ممکن ہو اس طرح کی رکاوٹوں سے بچیں۔

    راؤٹر کا انٹینا بدل دیں
    راؤٹر کے انٹینا عموماً ہمہ جہتی ہوتے ہیں یعنی ہر سمت سگنل بھیجتے ہیں، تو اگر آپ نے گھر کے باہری حصے کے قریب راؤٹر کو رکھا ہے تو 50 فیصد سگنل تو باہری دنیا کو چلے جاتے ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ آج کل بیشتر راؤٹرز میں ریموو ایبل انٹینا ہوتے ہیں اور omnidirectional (ہمہ جہتی) انٹینا کو ہائی گین انٹینا سے بدل دیں، تاکہ وائرلیس سگنل اسی جانب جائیں جہاں آپ چاہتے ہیں۔

    مداخلت کم کریں
    سب سے عام وائرلیس ٹیکنالوجی 802.11 (وائرلیس جی) 2.4 گیگا ہرٹز فریکوئنسی پر کام کرتی ہے، متعدد وائرلیس مصنوعات جیسے مائیکرو ویو اوون کی فریکوئنسی بھی یہی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈیوائس اور راؤٹر کے درمیان مداخلت ہوتی ہے،اس سے بچنے کے لیے اگر آپ ڈوئل بینڈ راؤٹر استعمال کررہے ہیں تو اسے 2.4 سے 5 گیگا ہرٹز پر سوئچ کردیں۔5 گیگا ہرٹز سے نہ صرف انٹرنیٹ اسپیڈ بہتر ہوگی بلکہ دیگر وائرلیس نیٹ ورکس اور ڈیوائسز سے سگنل میں مداخلت بھی کم ہوجائے گی، کیونکہ اس فریکوئنسی کو زیادہ عام استعمال نہیں کیا جاتا۔

    راؤٹر کیلئے درست مقام
    کسی عمارت کے مرکزی حصے میں راؤٹر کی موجودگی ہر جگہ انٹرنیٹ کوریج کے لیے اہم ہوتی ہے، مثال کے طور پر 2 منزلہ عمارت میں راؤٹر پہلی منزل پر ہو تو اسے کسی الماری یا شیلف کے اوپر رکھ دیں تاکہ دوسری منزل پر ڈیوائسز کو بہتر سگنلز مل سکیں۔

    چینل بدل دیں
    وائرلیس نیٹ ورکس کے سگنلز انٹرنیٹ اسپیڈ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، مگر جدید راؤٹرز میں مختلف چینلز پر سوئچ کرنا ممکن ہوتا ہے،بیشتر راؤٹرز آپ کے لیے مخصوص چینل منتخب کرتے ہیں تاہم اگر پڑوس کا وائرلیس نیٹ ورک بھی وہی چینل استعمال کررہا ہوں تو سگنل متاثر ہوسکتے ہیں۔ایک اچھا راؤٹر خودکار طور پر ان حالات میں چینل بدلنے کی کوشش کرتا ہے مگر پرانے یا سستے راؤٹر پہلے سے متعین چینل تک محدود رہتے ہیں،تو یہ محسوس ہو کہ آٹو سیٹنگ فائدہ مند نہیں تو راؤٹر کے ایڈمنسٹریٹر انٹرفیس میں جاکر خود چینل کو بدل دیں۔

    غیرضروری ڈیوائسز کو خارج کریں
    اگر آپ کا نیٹ ورک اوپن ہے یا پاس ورڈ کمزور ہے تو ہوسکتا ہے کہ ایک یا 2 افراد آپ کے نیٹ ورک کو بلااجازت استعمال کررہے ہوں،اگر یہ افراد آپ کے وائی فائی پر 4K ویڈیوز یا گیمز کھیل رہے ہوں تو آپ کا انٹرنیٹ متاثر ہوتا ہے۔راؤٹر کے ایڈمن انٹرفیس سے یہ جاننا ممکن ہے کہ کونسی ڈیوائسز زیادہ ڈیٹا استعمال کررہی ہیں جو ہوسکتا ہے کہ آپ کے گھر میں ہی کوئی فرد ہو۔

    مضبوط پاس ورڈ

    راؤٹر فرم وئیر کو اپ ڈیٹ کریں، راؤٹر بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اکثر مفت اپ ڈیٹس فراہم کی جاتی ہیں جس سے راؤٹر کی کارکردگی بڑھ جاتی ہے،راؤٹر کی فرم وئیر اپ ڈیٹس کے لیے راؤٹر بنانے والی کمپنی کی ویب سائٹ پر جائیں۔

    راؤٹر اپ ڈیٹ کریں
    اگر آپ پرانے راؤٹر کو استعمال کررہے ہیں تو بہترین کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی، اس کا آسان حل یہی ہے کہ نئے جدید راؤٹرز کو استعمال کریں۔

    وائی فائی ایکسٹینڈر
    اگر کوئی طریقہ کام نہیں کررہا یا راؤٹر سیٹنگز بدلنا بہت مشکل لگتا ہے اور پیسے موجود ہیں تو وائی فائی ایکسٹینڈر خرید سکتے ہیں جس سے وائرلیس سگنل کو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

    راؤٹر ری اسٹارٹ کرلیں
    اگر کسی مسئلے کا سامنا ہے تو راؤٹر کو ری اسٹارٹ کرنا بھی انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے پر راؤٹر کم مداخلت والے چینل کا انتخاب کرے گا، مگر ایسا کبھی کبھار کرنا چاہیے۔

    سونا مہنگا ،قیمتیں پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

  • چاند پر سے سورج گرہن کی مسحور کردینے والی تصویر

    چاند پر سے سورج گرہن کی مسحور کردینے والی تصویر

    امریکی نجی کمپنی فائر فلائی ایرو اسپیس کے بلیو گھوسٹ لونر لینڈر نے چاند پر سے سورج گرہن کی مسحور کردینے والی تصویر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کی ہے-

    باغی ٹی وی : 2 مارچ کو چاند پر اترنے والے اسپیس کرافٹ نے 14 مارچ کو سورج، زمین اور چاند کی ایک قطار میں اکٹھے ہونے کے موقع پر یہ تصویر کھینچی، کمپنی کی جانب سے اس تصویر کو جاری کیا گیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خلا میں سے سورج گرہن کا نظارہ کس طرح کا ہوتا ہے،لینڈر نے زمین کی جانب سے سورج کو بلاک کرنے اور اس کے بعد کے منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہمارے بلیو گھوسٹ لینڈر کو چاند پر کام کرنے کے دوران اس منفرد مکمل سورج گرہن کی عکسبندی کرنے کا منفرد موقع ملا، یہ پہلی بار ہے جب کسی کمرشل کمپنی کا لینڈر چاند پر فعال ہے اور اس نے گرہن کا منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

    بیان میں مزید بتایا گیا کہ یہ تصاویر لینڈر کے ایکس انٹینا کے ذریعے ہم تک پہنچی تھیں، یہ ڈیوائس ڈیٹا اور تصاویر کو اسپیس کرافٹ بھیجنے کا کام کرتی ہےاس ڈیوائس نے اس وقت بھی کام کیا جب گھنٹوں طویل سورج گرہن کے باعث چاند پر مکمل تاریکی سے درجہ حرارت منفی 100 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم ہوگیا تھا، جبکہ سورج کی روشنی نہ ہونے سے توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔