Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سائنسدانوں نے  مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    مریخ کو اکثر سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے،مریخ ہمارے نظام شمسی کا ایسا سیارہ ہے جس پر کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے کیونکہ یہ زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور وہاں تک روبوٹیک مشنز کی رسائی بھی زہرہ کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مدار میں موجود مشنز اور اس کی سطح پر کام کرنے والے لینڈرز کے سائنسی ڈیٹا کو باہم ملا کر مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ بظاہر حل کرلیا ہےان کے مطابق آئرن منرلز کی وجہ سے ہمارا پڑوسی سیارہ سرخ نظر آتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ اربوں برسوں کے دوران مریخ کی چٹانوں میں موجود آئرن سطح پر موجود پانی یا فضا میں موجود پانی اور آکسیجن سے ملا اور آئرن آکسائیڈ کی شکل اختیار کرگیا اس طرح کا عمل زمین پر بھی ہوتا ہے جس سے لوہے پر زنگ لگتا ہے اور اربوں برسوں کے دوران مریخ پر بننے والا آئرن آکسائیڈ ذرات میں تقسیم ہوکر گرد کی شکل اختیار کرگیا اور پورے سیارے پر تیز ہواؤں کے نتیجے میں پھیل گیا۔

    ہائیکورٹ اور آئینی بنچز کے ججز کی سلیکشن کیلئے طریقہ کار طے کرنے سے متعلق کمیٹی تشکیل

    ماضی میں بھی مریخ پر موجود آئرن آکسائیڈ پرتحقیقی کام کیا گیا مگر وہ سب اسپیس کرافٹ کے مشاہدات پر مبنی تھا جس میں پانی کے شواہد دریافت نہیں ہوئے اس نئی تحقیق میں متعدد مشنز کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا گیا اور مریخ پر موجود گرد کی نقل تیار کی گئی جس سے عندیہ ملا کہ ٹھنڈے پانیوں میں موجود ایک منرل سے مریخ کی رنگت سرخ ہوئی۔

    اسرائیل اور فلسطینی فلم سازوں کی مشترکہ فلم نے آسکرایوارڈ جیت لیا

    محققین نے بتایا کہ مریخ سرخ سیارہ ہے اور اب ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ آخر مریخ کی رنگت سرخ کیوں ہوئی، سائنسد ا ن عرصے سے حیران تھے کہ آخر مریخ کی گرد میں آئرن آکسائیڈ کی مقدار کتنی ہےاگرچہ مریخ بھر میں یہ گرد موجود ہے مگر اس پر تحقیق بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں تک انسانوں کی رسائی ابھی تک نہیں ہوسکی، تحقیق میں آئرن آکسائیڈ کی ایک مختلف قسم کی نشاندہی کی گئی جس میں پانی موجود تھا اور یہ قسم ٹھنڈے پانیوں میں تیزی سے بنتی ہے اور مریخ پر اس کی موجودگی کی ممکنہ وجہ یہی ہے کہ زمانہ قدیم میں سطح پر پانی موجود ہوگا-

    عیدا لفطر کب منائی جائے گی؟

  • نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی آئیں گے

    معروف کمپنی نوکیا کے موبائل سگنلز اب چاند پر بھی پہنچیں گے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خلائی تحقیقات کا ادارہ ناسا آج بروز جمعرات ایتھینا نامی خلائی جہاز لانچ کرنے جارہا ہے یہ چاند پر پہلا سیل فون نیٹ ورک بھیجے گا یہ اہم مشن انٹوئٹو مشینز (Intuitive Machines) اور نوکیا کے درمیان ایک ٹیم کی کوشش ہے، اور یہ کے آئی ایم- ٹو مشن کا حصہ ہے نوکیا کا لونر سرفیس کمیونیکیشن سسٹم چاند کی سطح پر مواصلاتی نیٹ ورک بنانے کے لیے زمین کی طرح سیل فون ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا،یہ نیٹ ورک واضح ویڈیو کالز، کمانڈ اینڈ کنٹرول کمیونیکیشن، چاند پر لینڈر اور وہیکلز کے درمیان اہم ڈیٹا شیئر کرنے کی اجازت دے گا۔

    لڑکی کی قبر کھودنے والا کالے جادو کا ماہرشخص گرفتار

    مذکورہ نیٹ ورک خلا کے سخت حالات بشمول انتہائی گرم اور سرد درجہ حرارت، اور تابکاری کی اعلیٰ سطح سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے،مذکورہ مشن میں دو خصوصی خلائی گاڑیاں شامل کی گئی ہیں جو چاند کی سطح پر سفر کر سکتی ہیں جن میں ایک ہاپنگ رو بوٹ اور ایک روور شامل ہے یہ خلائی گاڑیاں گاڑیاں چاند پر نیٹ ورک سے جڑنے کے لیے نوکیا کے خصوصی آلات استعمال کریں گی۔

    امریکا:ائیر پورٹ پر دو طیارے حادثے سے بال بال بچ گئے

    چاند پر موبائل نیٹ ورک بنانا خلائی مواصلات میں ایک بڑا قدم ہےاس سے مستقبل کے چاند کے مشن کو ممکن بنانے میں مدد ملے گی، جس میں ناسا کا انسانوں کی 2028 تک چاند تک رسائی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

  • کبھی مریخ پر بھی  ریتلے ساحلوں والا ایک وسیع سمندر  تھا،ماہرین

    کبھی مریخ پر بھی ریتلے ساحلوں والا ایک وسیع سمندر تھا،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی مریخ پر بھی زمین کی طرح خوبصورت ساحل سمندر تھے-

    باغی ٹی وی : سرخ سیارے کی سنسان وادیوں اور مٹی سے ڈھکی ہوئی سطح کو دیکھ کر شاید کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ یہاں کبھی نیلے پانیوں سے بھرا سمندر لہراتا ہوگا۔ لیکن حالیہ سائنسی تحقیق نے اس نظریے کو مزید تقویت دی ہے کہ ماضی میں مریخ پر پانی موجود تھا، بلکہ ممکن ہے کہ وہاں ریتلے ساحلوں والا ایک وسیع سمندر بھی موجود رہا ہو۔

    ناسا اور دیگر خلائی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے بھیجے گئے روورز اور سیٹلائٹس نے مریخ کی سطح پر ایسے نشانات دریافت کیے ہیں جو لاکھوں سال پہلے سمندر کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں مریخ کی سطح پر پانی کے کٹاؤ کے نشانات، ساحلی کناروں جیسی ساختیں، اور بعض معدنیات کی دریافت نے ثابت کیا ہے کہ یہاں کبھی پانی کا وسیع ذخیرہ موجود تھا۔

    اوکاڑہ: چینی کا سٹاک کم ظاہر کرنے پر کریانہ دکانداروں کوجرمانے

    اب ”پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“ میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں مریخ کے ’یوٹوپیا پلانیشیا‘ نامی علاقے میں دفن شدہ ساحلوں کے آثار دریافت کیے گئے ہیں۔

    ژورونگ روور نے زمین کے اندر جھانکنے والے ریڈار کی مدد سے مریخ کی سطح کے نیچے چھپے ہوئے پرت در پرت نشانات کو دیکھاان نشانات کی بناوٹ اور زاویہ حیرت انگیز طور پر زمین پر پائے جانے والے ساحلوں سے مشابہ ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں کبھی پانی کی لہریں کنارے سے ٹکرا کر واپس جاتی تھیں اور ساحل آہستہ آہستہ سمندر کی طرف بڑھتا رہا۔

    سیالکوٹ:عوامی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح، صوبائی محتسب پنجاب متحرک ہے، کیپٹن (ر) عطاء محمد خان

    ماہرین کے مطابق تقریباً 3.5 ارب سال پہلے مریخ پر ایک بہت بڑا سمندر موجود تھا جو ممکنہ طور پر شمالی نصف کرے میں پھیلا ہوا تھا۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ سمندر زمین کے بحرِ اوقیانوس کے برابر حجم رکھتا تھا۔ اس کی گہرائی مختلف مقامات پر کئی سو میٹر تک ہو سکتی تھی، جبکہ ساحلی علاقوں میں ریتیلے کنارے بھی موجود رہے ہوں گے، بالکل ویسے ہی جیسے زمین کے ساحلوں پر نظر آتے ہیں۔

    پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر ارضیات ڈاکٹر بینجمن کارڈیناس کے مطابق، مریخ کے اس ساحل نے کم از کم 1.3 کلومیٹر تک سمندر میں توسیع کی، یہ ایک سادہ مگر حیرت انگیز دریافت ہے، کیونکہ ساحل کی موجودگی کا مطلب ہے کہ وہاں کبھی سمندر کی لہریں، جوار بھاٹا، اور پانی میں بہہ کر آنے والی تلچھٹ موجود تھی، یہ تمام عوامل کسی سمندری ماحول کی واضح نشانیاں ہیں۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج عدالت پیش، آئندہ سماعت پر سرکاری گواہ طلب

    اگر مریخ پر اتنا وسیع سمندر موجود تھا، تو وہ کہاں چلا گیا؟ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مریخ کے کمزور مقناطیسی میدان کی وجہ سے اس کا کرۂ ہو ائی آہستہ آہستہ خلا میں تحلیل ہو گیاجس کے نتیجے میں پانی بھی بخارات بن کر خلا میں اڑ گیا یا پھر برف کی صورت میں سطح کے نیچے قید ہو گیا۔

    یہ سوال سب سے زیادہ دلچسپی کا حامل ہے، جہاں پانی ہوتا ہے، وہاں زندگی کے آثار بھی ممکن ہوتے ہیں، اگر مریخ پر واقعی کبھی سمندر موجود تھا، تو امکان ہے کہ اس میں ابتدائی زندگی بھی رہی ہو، یہی وجہ ہے کہ مریخ پر بھیجے گئے روورز خاص طور پر ایسے علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں جہاں پانی موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں، تاکہ وہاں زندگی کے ممکنہ آثار تلاش کیے جا سکیں۔

    وینا ملک اپنی والدہ سے 10 سال چھوٹی ہیں؟گوگل پر درج معلومات کی حقیقت کیا

    آنے والے سالوں میں مزید مشنز مریخ کی سطح اور اس کے زیرِ زمین پانی کی کھوج کے لیے بھیجے جائیں گے سائنسدانوں کا خواب ہے کہ ایک دن ہم مریخ پر اتریں، وہاں کے ماضی کے دریاؤں اور سمندروں کے راز جانیں۔

    مریخ کا ماضی آج بھی ایک معمہ ہے، لیکن حالیہ تحقیقات نے اس نظریے کو مضبوط کیا ہے کہ یہ سیارہ کبھی اتنا ویران نہ تھا جتنا آج نظر آتا ہے، شاید کسی دور میں اس کے ساحلوں پر لہریں اچھلتی تھیں، ہوائیں ریتلے کناروں کو چھوتی تھیں، اور کسی نہ کسی شکل میں زندگی یہاں سانس لے رہی تھی مریخ کے اس کھوئے ہوئے سمندر کی کہانی ہماری کائناتی سمجھ میں ایک نیا باب جوڑ رہی ہے، اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں انسان وہاں جا کر خود ان آثار کو کھوجے جو وقت کی گرد میں چھپ چکے ہیں۔

    سندھ ہائیکورٹ، سانحۂ بلدیہ فیکٹری کے مفرور ملزم کی گرفتاری کا حکم

  • آسٹریلیا کا براعظم ایشیا سے ٹکرانے والا ہے؟

    آسٹریلیا کا براعظم ایشیا سے ٹکرانے والا ہے؟

    ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ دنیا کا سب سے تیزی سے حرکت کرنے والا براعظم، آسٹریلیا، غیر متوقع رفتار سے شمال کی طرف ایشیا کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرینِ ارضیات کے مطابق، آسٹریلیا ہر سال تقریباً 2.8 انچ (7 سینٹی میٹر) شمال کی طرف سرک رہا ہے، جو انسانی ناخن کی بڑھنے کی رفتار کے برابر ہے،اگرچہ یہ رفتار معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن لاکھوں سال میں یہ تبدیلی زمین کے جغرافیہ، آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے،اگرضیاتی ماہر پروفیسر ژینگ شیانگ لی نے 2009 میں خبردار کیا تھا کہ ’چاہے ہمیں پسند ہو یا نہ ہو، آسٹریلیا کا براعظم ایشیا سے ٹکرانے والا ہے‘ یہ عمل زمین کی پلیٹ ٹیکٹونکس کا حصہ ہے، جس میں براعظم آپس میں جُڑتے اور الگ ہوتے رہتے ہیں۔

    تقریباً 80 ملین سال قبل، آسٹریلیا انٹارکٹیکا سے الگ ہوا تھاگزشتہ 50 ملین سالوں سے یہ مسلسل شمال کی طرف سرک رہا ہےسائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انڈو-آسٹریلین پلیٹ آخرکار ایشیا سے ٹکرا جائے گی، جو زلزلے، آتش فشاں سرگرمیوں اور دیگر جغرافیائی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہےاس ٹکراؤ کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں گی، کیونکہ آسٹریلیا کے منفرد جانور (جیسے کینگرو، وومبیٹ اور پلیٹیپس) ایشیائی ماحول سے متاثر ہوں گے۔

    اسٹیڈیم کا نام قومی مجرم کے نام پر رکھنا کسی صورت درست اقدام نہیں،امیر مقام

    یہ تبدیلی مستقبل تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اثر انداز ہو رہی ہے2016 میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ آسٹریلیا کی مسلسل حرکت کے باعث اس کے جی پی ایس کوآرڈینیٹس میں 1.5 میٹرکی تبدیلی آ چکی ہے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے آسٹریلیا نے اپنے سرکاری جی پی ایس کوآرڈینیٹس کو 1.8 میٹر تک اپ ڈیٹ کیا،جیسا کہ آسٹریلیا اپنی حرکت جاری رکھے گا، نیویگیشن سسٹمز، انفراسٹرکچر، اور سیٹلائٹ میپنگ ٹیکنالوجیز میں بھی وقتاً فوقتاً رد و بدل کی ضرورت ہوگی۔ یہ معاملہ خودکار گاڑیوں، ایوی ایشن، اور پریسِژن ایگریکلچر (Precision Agriculture) کے لیے چیلنج پیدا کر سکتا ہے، جہاں معمولی غلطیاں بھی بڑے نقصانات کا باعث بن سکتی ہیں۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آسٹریلیا کا یہ جغرافیائی سفر بھارت اور پاکستان کے لیے کسی خطرے کا باعث بن سکتا ہے؟ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصادم لاکھوں سالوں میں ہوگا، اور فوری طور پر جنوبی ایشیا کو کوئی سنگین خطرہ لاحق نہیں ہے۔ تاہم، انڈو-آسٹریلین پلیٹ میں یہ تبدیلی زلزلوں اور دیگر ارضیاتی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جو خطے میں ہلکی یا شدید نوعیت کی زلزلہ خیزی کا باعث بن سکتی ہیں۔

    ایلون مسک کی نئی پالیسی،امریکی سرکاری اداروں میں تشویش کی لہر

    آسٹریلیا کی مسلسل شمالی حرکت نہ صرف جغرافیائی نقشہ بدل سکتی ہے بلکہ ماحول، آب و ہوا، اور حیاتیاتی نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ اگرچہ بھارت اور پاکستان کو فوری خطرہ نہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کی پلیٹوں کی حرکت ہمیشہ متحرک رہتی ہے، اور اس کا اثر طویل المدتی بنیادوں پر ضرور پڑے گا،لہذا، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ زمین کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے، جہاں آسٹریلیا اور ایشیا کا جغرافیہ ممکنہ طور پر یکسر تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • چیمپئنز ٹرافی:گوگل نے منی کپ گیم لانچ کر دیا

    کرکٹ کے شائقین اب گوگل پر بھی “چیمپئنز ٹرافی” کو تلاش کر سکیں گے ،گوگل نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیمپئنز ٹرافی 2025 کے موقع پر اسمارٹ فون براؤزر گیم منی کپ لانچ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اسمارٹ فون صارفین کے فون پر ویب براؤزر کے نیچے دائیں کونے میں گھومتی ہوئی کرکٹ بال کا آئیکون نظر آتا ہے جسے دبانے سے گیم منی کپ کھل جائے گاگیم “منی کپ” میں شائقین جس ملک کو پسند کرتے ہیں اس ملک کا انتخاب کر کے گیم کھیل سکتے ہیں، اور اس ملک کی پوزیشن کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    اس گیم میں ایک بطخ کو باؤلر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو صارفین کو خطرناک باؤلنگ کراتی ہےجس میں تیز گیند، اسپن بال سمیت دیگر شامل ہیں،شائقین بلے کو اٹھائیں گے اور بطخ کا سامنا کریں گے جس میں صارف چوکے اور چھکے مار کر اسکور ریکارڈ بنا سکتا ہے کھلاڑی کے بولڈ ہونے کی صورت میں بطخ کھلاڑی کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک زبردست قہقہہ لگاتی ہے۔

    غیر ملکیوں کو اغواء کرنے والے تین اغواء کار گرفتار

    کھلاڑی کی طرف سے چوکے، چھکے اور رنز میں اضافے کو ٹیم کے اسکور میں شامل کیا جاتا ہے اور یوں ٹیم کے پوائنٹس میں اضافہ ہوتا ہے گیم میں اس وقت بھارت نمبر ون پوزیشن پر موجود ہے جبکہ پاکستان کی پوزیشن دوسری ہے۔

    لاہور جم خانہ کلب کے سالانہ انتخابات: ڈاکٹر علی رزاق نے تاریخ رقم کر دی

  • روزے اور  الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    سائنسدانوں نے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے (Intermittent Fasting) اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحقیق کے مطابق روزانہ مخصوص اوقات میں کھانے کی عادت نہ صرف یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ الزائمر کی علامات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے،روزہ رکھنے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے یہ نہ صرف دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ، بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے انسولین کی سطح متوازن رکھتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے، جس سے وزن میں کمی ممکن ہوتی ہے نیند، ہارمونی نظام اور مجموعی دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

    رمضان کے روزے، جن میں مسلمان سال بھر میں ایک مہینے تک روزانہ 14 سے 16 گھنٹے بغیر کھانے پینے کے رہتے ہیں، صرف روحانی عبادت نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں جبکہ جدید تحقیق اب یہ ثابت کر رہی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا دماغی صحت، نیند کے معیار اور جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین تال) کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق، روزانہ 10 گھنٹے کی مخصوص مدت میں کھانے سے نہ صرف علمی صلاحیتیں (Cognitive Abilities) بہتر ہو سکتی ہیں بلکہ دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر کو کم کیا جا سکتا ہے، جو الزائمر کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صبح 8 بجے ناشتہ کرتا ہے، تو شام 6 بجے تک اسے کھانے سے رک جانا چاہیے۔

    تحقیق میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے ان کی یادداشت اور نیند کے انداز میں بہتری آئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غذا نہ صرف ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) سے بچا سکتی ہے بلکہ اس کی علامات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال (Circadian Rhythm) یعنی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے انہیں نیند میں دشواری ہوتی ہے اور رات کے وقت ان کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

    سرکیڈین تال جسم کے 24 گھنٹے کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں نیند، جسمانی درجہ حرارت، میٹابولزم اور ہارمونی نظام شامل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ الزائمر کے مریض اکثر رات کے غیر متوقع اوقات میں جاگ جاتے ہیں اور الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے زخمی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الزائمر کے کئی مریضوں کو رہائشی دیکھ بھال کی ضرورت پیش آتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی نیورو سائنس دان، ڈاکٹر پاؤلا ڈیسپلاٹس (Paula Desplats)، جو اس تحقیق کی سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ ہم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال کی خرابی نیوروڈیجنریشن (دماغی خلیوں کی تباہی) کا نتیجہ ہے، لیکن اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خرابی خود الزائمر کے آغاز کا ایک سبب بھی ہو سکتی ہے۔’

    تحقیق میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہوں کو شامل کیا گیا، جنہیں الزائمر جیسی علامات لاحق تھیں، جیسے یادداشت کی کمزوری، رات کے وقت بے چینی اور دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر۔ ان چوہوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو دن بھر کھانے کی آزادی دی گئی،دوسرے گروپ کو روزانہ صرف 6 گھنٹوں کے اندر کھانے کی اجازت تھی، جبکہ باقی 18 گھنٹے وہ روزہ رکھتے۔

    وہ چوہے جو مخصوص کھانے کے اوقات پر عمل پیرا رہے، ان میں الزائمر سے جُڑے درجنوں جینز میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان کے علمی امتحانات کے نتائج بہتر ہوئے، نیند کے مسائل کم ہوئے اور ان کے سرکیڈین تال میں بہتری آئی۔

    مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے نہ صرف نئے امائلائیڈ پروٹین کے بننے کی رفتار کم ہو گئی بلکہ پہلے سے موجود امائلائیڈ تختیاں بھی کم ہونے لگیں، جس کا مطلب ہے کہ دماغ انہیں خود صاف کرنے لگا تھا جس چیز کو سائنس آج دریافت کر رہی ہے یا انکشاف کر رہی ہے، وہ حقیقت میں اسلام میں چودہ سو سال پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی۔

  • مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت

    مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت

    سائنسدانوں نے نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:Astrophysical جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق درحقیقت اس سیارے کے مقابلے میں مشتری بونا سیارہ محسوس ہوتا ہے اور زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بہت بڑا سیارہ ہمارے سورج سے چھوٹے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے سائنسدانوں نے اس سیارے کو زمین سے 244 نوری برسوں کے فا صلے پر دریافت کیا اور اسے Gaia-4b کا نام دیا، جس کے ساتھ ایک چھوٹا سیارچہ Gaia-5b بھی موجود ہے جو 134 نوری برسوں کے فاصلے پر موجود ہے۔

    یورپین اسپیس ایجنسی کے Gaia اسپیس کرافٹ نے اس سیارے کو دریافت کرنے میں مدد فراہم کی، اس اسپیس کرافٹ کا ایندھن حال ہی میں ختم ہوگیا تھا اور اس کی مدد سے سائنس دانوں کو اس عظیم الجثہ سیارے کا اشارہ ملا، جس کے بعد دیگر سائنسی آلات کی مدد سے اس کی تصدیق کی گئی، اگرچہ Gaia اسپیس کرافٹ کے سائنسی مشاہدے کا سلسلہ 15 جنوری 2025 کو ختم ہوگیا تھا مگر اس کے ڈیٹا میں کافی کچھ چھپا ہوا ہے اور ان تمام تفصیلات کو بتدریج سامنے لایا جائے گا۔

    موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

    یورپین اسپیس ایجنسی سے تعلق رکھنے والے محقق میتھیو اسٹیڈنگ نے بتایا کہ سیارے کی دریافت پرجوش کر دینے والی ہے، درحقیقت ہمارا تو ماننا ہے کہ یہ مستقبل میں Gaia اسپیس کرافٹ کے ڈیٹا سے سامنے آنے والے رازوں کا محض آغاز ہےاب تک سائنسدان مجموعی طور پر کائنات میں 5800 سیاروں کو دریافت کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں ایسے ہیں جن کے بارے میں چھان بین کی جا رہی ہے جس کے بعد باضابطہ طور پر انہیں سیاروں کے طور پر قبول کیا جائے گا۔

    کلائمیٹ چینج ایک بڑا چیلنج ہے، صو بو ں کو ان کا شئیر دینا چاہیے، علی امین گنڈا پور

    ایک تخمینے کے مطابق کائنات میں اربوں کھربوں کہکشائیں موجود ہیں تو سیاروں کی تعداد ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ ہوگی، سائنس دانوں نے Gaia-4b کو سپر مشتری قرار دیا ہے جو سرد گیس سے بنا ہے اور اپنے ستارے کے گرد چکر زمینی 570 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔

    سائنسدانوں کے خیال میں اس سیارے کا حجم اپنے ستارے کے 64 فیصد رقبے کے برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کسی چھوٹے ستارے کے مدار میں گھومنے والے چند بڑے سیاروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    امریکا سے وطن واپس پہنچنے والے بھارتیوں کے تہلکہ خیز انکشافات

  • چین کا چاند پر پانی کی تلاش کیلئے  روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان

    چین کا چاند پر پانی کی تلاش کیلئے روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان

    بیجنگ: چین نے 2026 میں چاند کے جنوبی قطب پر ایک روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جو وہاں پانی کی تلاش کرے گا۔

    باغی ٹی وی : چینی خبر رساں ادارے ”ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ“ کے مطابق چین اگلے سال اپنے Chang’e-7 مشن کے حصے کے طور پر قطب قمری پر پانی کی تلاش کے لیے ایک سمارٹ روبوٹک "فلائنگ ڈیٹیکٹر” تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے – جو پانچ سالوں میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کے ملک کے ہدف میں ایک قدم ہے۔

    چینی خلائی ماہرین نے پیر کو سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اڑنے والے روبوٹ کے منصوبوں کا انکشاف کیاچینی خلائی ماہرین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ یہ مشن مستقبل میں چاند پر ایک تحقیقاتی اسٹیشن کے قیام کے لیے بنیادی کام انجام دے گا فلائنگ روبوٹ ”چانگ ای-7“ مشن کا حصہ ہوگا، جس میں ایک آربیٹر، ایک لینڈر، ایک قمری روور اور ایک فلائنگ روبوٹک ڈیٹیکٹر شامل ہوگا، یہ مشن چاند کے ان دائمی سائے والے گڑھوں میں پانی کی موجودگی اور تقسیم کی تصدیق کرے گا، جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی –

    بل گیٹس نے اپنی گرل فرینڈ سے تعلقات کے بارے خاموشی توڑ دی

    مشن کے نائب چیف ڈیزائنر تانگ یوہوا کے مطابق، چانگ ای-7 مشن کا مقصد چین کی قمری تحقیقاتی صلاحیتوں کو جانچنا ہے کہ آیا وہ چاند کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتی ہے اگر چاند پر پانی کی برف کی شکل میں کامیابی سے نشاندہی ہو گئی تو اس سے زمین سے پانی لانے کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی اس کے نتیجے میں، چاند پر انسانی بیس کے قیام اور مریخ یا دیگر خلائی مشنز کے لیے مزید تحقیق میں آسانی ہوگی۔

    تانگ یوہوا کے مطابق، یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر ایک ”انتہائی ذہین روبوٹ“ ہوگا، جو چاند کی سطح پر مختلف ڈھلانوں پر بار بار اترنے اور واپس اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی انسان اونچائی سے چھلانگ لگانے کے بعد اپنے گھٹنوں کو موڑتا ہے۔ یہ روبوٹ لیگ ٹریکٹری پلاننگ اور جوائنٹ ڈریون موومنٹ کے ذریعے چاند کی سطح پر نقل و حرکت کرے گا۔

    خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کا پولیو ٹیم پر ایک بار پھر حملہ

    چین کے قمری تحقیقاتی پروگرام کے چیف ڈیزائنر وو وی رین نے وضاحت کی کہ چانگ ای-7 مشن کو منفی 100 ڈگری سیلسیس سے بھی کم درجہ حرارت اور چاند کی پیچیدہ سطح جیسے سخت چیلنجز کا سامنا ہوگا اس مشن کے لیے تیار کیا گیا ”موبائل ہاپر“ روشنی والے علاقوں سے اندھیرے گڑھوں تک چھلانگ لگا کر وہاں کی تفصیلی جانچ کرے گا۔

    رپورٹس کے مطابق، یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر ایک ہی جست میں درجنوں کلومیٹر تک سفر کر سکتا ہے اس کا ملٹی لیگڈ ڈیزائن اسے چاند کی ناہموار سطح پر مؤثر طریقے سے چلنے میں مدد دے گا، جس سے چانگ ای-7 چاند کے ان حصوں تک پہنچ سکے گا جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی اور جہاں ممکنہ طور پر برف موجود ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کا چین سے پولیس کے لیے جدید ٹیکنالوجی و آلات لینے کا فیصلہ

    اس کا راکٹ پاورڈ سسٹم اسے چاند کے بغیر ہوا والے ماحول میں کام کرنے کے قابل بنائے گا اس کے جسم میں چار فیول ٹینکس اور ایک چھوٹے تھرسٹرز کا دائرہ موجود ہوگا، جو اسے مختلف مقامات پر اترنے اور اڑنے کی صلاحیت فراہم کرے گا مشن کے دوران یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر کم از کم تین بار پاورڈ لیپس کرے گا، اس کے بعد طویل مدتی قمری تحقیق کے لیے سولر پاور پر منتقل ہو جائے گا۔

    پانی کی تلاش کے علاوہ، چانگ ای-7 مشن چاند پر طویل مدتی انسانی قیام کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز اور حالات کا بھی جائزہ لے گاچین 2028 میں چانگ ای-8 مشن لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چانگ ای-7 کے ساتھ مل کر ایک خودکار قمری تحقیقاتی نیٹ ورک قائم کرے گا، جس سے 2030 تک انسان بردار قمری مشن کی راہ ہموار ہوگی۔

    عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

  • واٹس ایپ میں نیا اسرائیلی وائرس پھیلنے کا انکشاف

    واٹس ایپ میں نیا اسرائیلی وائرس پھیلنے کا انکشاف

    واٹس ایپ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پیراگون سلوشنز نامی ایک اسرائیلی کمپنی نے واٹس ایپ استعمال کرنے والے تقریباً 100 صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے فون ہیک کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ مالکان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہیکرز نے گریفائٹ نامی ایک طاقتور ٹول کا استعمال کیا جو صارف کے کسی بھی چیز پر کلک کیے بغیر ڈیوائسز میں داخل ہو سکتا ہے۔

    واٹس ایپ نے دعویٰ کیا کہ صحافیوں اور کارکنوں سمیت تقریباً 90 افراد کے فونز کو ممکنہ طور پر ہیک کیا گیااگرچہ واٹس ایپ نے یہ واضح کہ متاثر ہونے والے افراد کا تعلق کہاں سے ہے، حکام نے صرف اتنا بتایا کہ اسرائیل کمپنی کا ہدف سول سوسائٹی اور میڈیا کے ارکا ن تھے، واٹس ایپ نے ذمہ دار کمپنی پیراگون کے خلاف بھی ایک انتباہی خط بھیج کر اور انہیں جوابدہ ٹھہرانے کے لیے قانونی آپشنز کی تلاش میں کارروائی کی۔

    میرپورماتھیلو: رونتی کچے میں پولیس آپریشن، جوابی کارروائی میں ڈاکوؤں کا حملہ ناکام

    پیراگون سلوشنز، ایک کمپنی جس کا دفتر ورجینیا، امریکہ میں ہے، گریفائٹ نامی ایک طاقتور جاسوسی ٹول بنانے کے لیے مقبول ہے یہ ٹول پیگاسس نامی ایک اور معروف جاسوسی سافٹ ویئر سے ملتا جلتا ہے ایک بار جب گریفائٹ کسی ڈیوائس پر انسٹال ہو جاتا ہے، تو اسے کنٹرول کرنے والا ہر چیز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جن میں واٹس ایپ اور سگنل جیسی نجی ایپس کے ذریعے بھیجے گئے پیغاما ت بھی شامل ہیں۔

    واٹس ایپ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی متاثرہ صارفین کی مدد کرنے اور مستقبل میں اسی طرح کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    کراچی،شادی ودیگر تقریبات کے دوران ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد

    خبررساں ایجنسی کے مطابق اس معاملے پر پیراگون نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

  • واٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    واٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کا اعلان

    میٹا نے واٹس ایپ میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا، جس کے بعد صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو اکاؤنٹ سینٹر میں ایڈ کرسکیں گے۔

    میٹا کا اکاؤنٹس سینٹر ایک ہب کی طرح کام کرتا ہے جہاں میٹا کے کوئسٹ اکاؤنٹس کے ساتھ فیس بک اور انسٹاگرام کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔اکاؤنٹس سینٹر میں فیس بک اور انسٹاگرام کے بعد واٹس ایپ کے اضافے سے صارفین کو یہ سہولت دستیاب ہوگی کہ وہ اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس کو بطور اسٹوریز فیس بک اور انسٹا گرام پر بھی کراس پوسٹ کرسکیں۔اس طرح صارفین کو اپنا واٹس ایپ اسٹیٹس الگ سے فیس بک یا انسٹا گرام ایپ اوپن کرکے پوسٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ سنگل سائن آن فیچر بھی شامل کیا جارہا ہے جس کے بعد صارفین ایک اکاؤنٹ سے ہی میٹا کی متعدد ایپس پر لاگ اِن ہوسکیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق صارفین کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے اکاؤنٹس سینٹر سے لنک ہوسکیں، بائی ڈیفالٹ یہ آپشن ڈس ایبل ہوگا۔میٹا کی جانب سے یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ واٹس ایپ صارفین کے پیغامات اور کالز کو پہلے کی طرح اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل رہے گا اور اکاؤنٹس سینٹر میں شامل ہونے کے باوجود ان تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ میٹا اکاؤنٹس سینٹر 2020 میں اس خیال سے متعارف کرایا گیا تھا کہ صارفین کمپنی کی تمام ایپس کو ایک ہی جگہ سے کنیکٹ کرسکیں، اور اب تک اکاؤنٹ سینٹر سے صرف فیس بک، انسٹاگرام اور میٹا کوئیسٹ اکاؤنٹس کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔

    عبدالعلیم خان کی کھاریاں اسلام آباد موٹروے کو 6 لین کرنے کی ہدایت

    عرب امارات سے تجارت میں اضافہ کے خواہشمند ہیں، گورنرسندھ

    کراچی: بدترین ٹریفک جام، شہری پریشان

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    پسند کی شادی ،شوہر نے بیوی کو قتل کردیا