Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دنیا کی بلند ترین چوٹی  کی بلندی   میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی کی بلندی میں مسلسل اضافہ

    دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع چین کی جیو سائنسز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی بڑھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، بلکہ کوہ ہمالیہ کے اس حصے میں چوٹیاں مسلسل اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں8849 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں اردگرد موجود دریاؤں میں آنے والے کٹاؤ کی وجہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہزاروں برسوں سے ایسے جغرافیائی عمل سے گزر رہی ہے جس کے باعث اس کی بلندی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تحقیق کے لیے ماہرین نے کمپیوٹر ماڈلز تیار کیے گئے تھے جن کے ذریعے کوہ ہمالیہ میں بہنے والے دریاؤں کے ارتقا کی جانچ پڑتال کی گئی۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 89 ہزار سال قبل دریائے ارون Kosi دریائی سسٹم کا حصہ بن گیا اور وہ مشرق کی بجائے شمال کی جانب بہنے لگا دریا کے بہنے کے روٹ میں تبدیلی سے ایورسٹ کے قریب دریا میں کٹاؤ بڑھ گیا اور یہ زیادہ بھرنے لگااس وقت زیادہ مقدار میں اضافی پانی دریائے ارون میں بہنے لگا جس کے نتیجے میں تلچھٹ بڑھ گئی جبکہ تہہ میں موجود چٹانیں تیزی سے کٹاؤ کا شکار ہونے لگی اور وادی کی تہہ میں تبدیلیاں آئیں۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے زمین کی بیرونی پرت کا وزن گھٹ گیا اور اردگرد کی زمین اوپر کی جانب بڑھنے لگی اس کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں ہر سال 0.16 ملی میٹر سے 0.53 ملی میٹر کا اضافہ ہوا، یہاں تک کے اس کے اردگرد موجود چوٹیوں کی بلندی بھی بڑھی، چوٹیوں کے بلند ہونے کا یہ عمل ہمیشہ جاری نہیں رہے گا، بلکہ یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دریائی نظام کا توازن دوبارہ تبدیل نہیں ہو جاتا۔

  • خلائی جہازتکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں کو لئے بغیر زمین پر واپس

    خلائی جہازتکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں کو لئے بغیر زمین پر واپس

    بوئنگ کا اسٹار لائنر خلائی جہاز جو تکنیکی خرابی کے باعث امریکی خلابازوں بوچ ولمور اور سنیتا ولیم کے بغیر زمین پر واپس آگیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس کا ’کریو ڈریگن‘ (Crew Dragon) نامی خلائی جہاز گزشتہ 4 ماہ سے پھنسے ہوئے خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو ریسکیو کرنےبین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گیا ہے کامیاب ڈاکنگ خلابازوں کو زمین پر واپس لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

    امریکی خبررساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے خلا بازوں سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو بحفاظت گھر لانے کے لیے اسپیس ایکس کے کریو ڈریگن کا انتخاب کیا کریو ڈریگن اتوار کو شام ساڑھے پانچ بجے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچا، ناسا کے سائنسدان نک ہیگ اور روس کے الیگزینڈر گوربونوف نے اسپیس ایکس پر خلا کا سفر کیا وہ خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کے لیے دو اضافی نشستیں لے کر آئے، جو آئندہ برس زمین پر واپسی کے سفر میں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔

    حکومت کی مزید کئی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام 7 بج کر 4 منٹ پر خلائی جہاز کا دروازہ کھلا، اور خلاباز نک ہیگ اور الیگزینڈر گوربونوف نے خلائی اسٹیشن میں قدم رکھا استقبالیہ تقریب میں ساتھی خلاباز سنیتا ولیمز، بوچ ولمور اور عملے کے باقی افراد نے ان کا ویلکم کیا۔

    خلانورد نک ہیگ اور الیگزینڈر گوربونوف ہفتے کے روز فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے خلا میں روانہ ہوئے مدار میں ان کا سفر آسانی سے گزرا، لیکن اسپیس ایکس نے بعد میں خلائی جہاز سے الگ ہونے کے بعد فیلکن 9 راکٹ کے اوپری مرحلے میں ایک خرابی کی اطلاع دی تھی، ہیگ، ولیمز، ولمور اور گوربونوف مل کر اسپیس ایکس کی کریو 9 ٹیم کو مکمل کریں گے یہ گروپ فروری سے پہلے گھر واپس آنے سے قبل خلائی اسٹیشن پر تقریباً پانچ ماہ گزارے گا۔

    لبنان میں اسرائیلی بمباری سے مزید 105 افراد شہید ،درجنوں زخمی

  • 80 ہزار سال کے بعد ” دم دار ستارے ”  کی واپسی

    80 ہزار سال کے بعد ” دم دار ستارے ” کی واپسی

    کراچی: 80 ہزار سال کے بعد ” دم دار ستارے ” کی واپسی ہوئی ہے جو کہ اگلے دو ہفتوں کیلئے زمین سے کھلی آنکھ سے دکھائی بھی دے گا۔

    باغی ٹی وی: سپارکو کی جانب سے جاری کر دہ اعلامیے میں کہا گیاہے کہ دم دارستارہ سوچن شان اٹلس ‘جنوری 2023 میں چین کی سوچن شان آبزرویٹری نے دریافت کیا تھا، دمدارستارہ نظام شمسی کے مضافات سے چکرلگاتا ہوا 80 ہزار سال بعد دوبارہ واپس آیاہے، دم دارستارہ اگلے دوہفتوں کیلئے کرہ ارض پررہنے والوں کوکھلی آنکھ سے مشاہدے کاموقع فراہم کرےگا-

    اعلامیے میں کہا گیا کہ آج کل مشرق کی سمت افق سے معمولی اونچائی پرسورج نکلنے سے ایک گھنٹہ پہلے دکھائی دےگا،12 اکتوبرکے بعددم دارستارہ مغرب کی سمت سورج غروب ہونے کے چند منٹوں بعد دکھائی دے گا، نایاب موقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اورقدرت کے اس حسین نظارے کو زندگی بھریاد رکھئے۔

  • سائبیریا میں برف میں منجمد ہزاروں سال پرانا  گینڈا  صحیح حالت میں دریافت

    سائبیریا میں برف میں منجمد ہزاروں سال پرانا گینڈا صحیح حالت میں دریافت

    سائنسدانوں نے روس کے علاقے سائبیریا سے برف میں منجمد ہزاروں سال پرانے گینڈے کو دریافت کیا ہے جس کا جسم اب بھی صحیح حالت میں ہے،یہ گینڈوں کی ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اب معدوم ہوچکی ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل Doklady Earth Sciences میں شائع تحقیق کے مطابق موت کے وقت اس گینڈے کی عمر 4 سال تھی اور صحیح حالت میں منجمد ہونے کے باعث سائنسدانوں کو اس نسل کے گینڈوں کے بارے میں زیادہ جاننے کا موقع ملے گا، جو گینڈا سائبیریا کے برفانی خطے سے دستیاب ہوا وہ 32 ہزار سال پہلے منجمد ہوا تھا۔

    وولی رینو نامی نسل کے یہ گینڈے مشرقی سائبیریا میں 30 ہزار سال سے زائد عرصے قبل موجود تھے اور یہ اپنے عہد کے چند بڑے جانداروں میں سے ایک تھے،موجودہ عہد کے گینڈوں کی طرح وولی رینو کے سر پر بھی 2 سینگ ہوتے تھے مگر وہ بہت بڑے اور بلیڈ کی طرح تیز دھار ہوتے تھے،مرنے کے بعد یہ گینڈا برف میں منجمد ہوگیا اور اسے روسی سائنسدانوں نے اگست 2020 میں دریائے Tirekhtyakh کے کسی کنارے پر دریافت کیا تھا۔

    تحقیق میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ اس منجمد گینڈے کو کہاں دریافت کیا گیا مگر سائبیریا کے اس خطے میں اس طرح کے منجمد جانداروں کے ملنے کا امکان کافی زیادہ ہے جب اس جانور کو دریافت کیا گیا تو سائنسدانوں نے اس کی کھال اور دیگر حصوں کے نمونے اکٹھے کیے تھے، جس کے لیے برف کو عارضی طور پر پگھلایا گیا۔

    گینڈے کے جسم کا دایاں حصہ برف میں اچھی طرح محفوظ تھا مگر اس کے بائیں حصے کو نقصان پہنچا ہے اور سائنسدانوں کے خیال میں اس جگہ کا گوشت درندوں نے کھایا جبکہ اس کی آنتیں بھی غائب ہیں۔

  • زمین کو ملا نیا چاند!

    زمین کو ملا نیا چاند!

    ہم سب آسمان میں ایک چاند دیکھنے کے عادی ہیں لیکن اب زمین کو ایک ننھا سا مہمان چاند ملا ہے جو اگلے دو ماہ تک ہمارے اصل چاند کا ساتھی بن کر رہے گا۔ اس نئے چاند کا نام 2024 PT5 ہے اور یہ ایک ڈبل ڈیکر بس کے برابر ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ نظام شمسی میں خلائی چٹانوں کے ایک گروپ سے آیا ہے اور زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے اس کے مدار میں آگیا ہے۔ یہ سیارچہ 29 ستمبر کو سورج کے مدار میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ زمین کو کوئی عارضی چاند ملا ہو۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آچکے ہیں لیکن یہ بہت کم ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ 2055 میں دوبارہ زمین کے مدار میں آ سکتا ہے۔

    اس نئے چاند کی دریافت نے سائنسدانوں میں بہت دلچسپی پیدا کی ہے۔ وہ اس کا مشاہدہ کر کے نظام شمسی کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کریں گے۔

  • خواتین میں چھاتی کے کینسر کی بڑی وجہ دریافت

    خواتین میں چھاتی کے کینسر کی بڑی وجہ دریافت

    چھاتی کا کینسر خواتین میں سب سے زیادہ عام کینسر کی قسم ہے اور اب اس کا خطرہ بڑھانے والی ایک بڑی وجہ کا انکشاف ہوا ہے –

    باغی ٹی وی : فرنٹیئرز ان ٹوکسیکولوجی جرنل میں شائع ایک نئی تحقیق میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ ممکنہ طور پر چھاتی کے کینسر کا باعث بننے والے 189 کیمیکلز یا کارسنوجنز زیادہ تر فوڈ کانٹیک مٹیریل( ایف سی ایم) میں پائے جاتے ہیں جن کا استعمال فوڈ پیکیجنگ میں ہوتا ہے۔

    فوڈ کانٹیک مٹیریل( ایف سی ایم) وہ مادے اور اشیا ہوتے ہیں جو فوڈ کی پیداواری پروسیسنگ، پیکیجنگ، اسٹوریج اور استعمال کے دوران براہ راست یا بالواسطہ رابطے میں آتے ہیں،محققین نے کھانے کی پیکیجنگ میں پائے جانے والے 40 کیمیکلز کو خطرناک قرار دیا ہے اور ان میں ممکنہ سرطان پیدا کرنے والی خصوصیات پائی گئی ہیں،اس کے علاوہ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ لوگ سرطان کی وجہ بننے والے 76 کیمیکلز کو اپنی خوراک کے ساتھ جسم میں شامل کررہے ہیں،40 سال سے کم عمر کی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس سے زائد عمر کی خواتین بھی اس مرض میں مبتلا ہیں اور لاکھوں خواتین اپنی جانوں کی بازی بھی ہار بیٹھی ہیں۔

  • کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے کا تجربہ کامیاب

    بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے کنول کے پتوں سے توانائی پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی سائنسدانوں نے توانائی پیدا کرنے والا ایک ایسا جنریٹر بنایا ہے جو بجلی پیدا کرنے کے لیے پودوں کو استعمال کرتا ہے،ٹیم نے کہا کہ اس کا لیف ٹرانسپائریشن جنریٹر، جس کا انھوں نے کنول کے پتوں سے مظاہرہ کیا، چھوٹے الیکٹرانک آلات کو طاقت دینے کے قابل ہے اور اسے پلانٹ سے چلنے والے بجلی کے نیٹ ورکس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ٹیم نے جریدے نیچر واٹر میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں لکھا کہ یہ مطالعہ نہ صرف پتوں کے بے مثال ہائیڈروولٹک اثر کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ سبز توانائی کی ٹیکنالوجیز کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نیا تناظر بھی فراہم کرتا ہے۔

    ہائیڈرو والٹک توانائی کے حصول کے لیے ٹھوس سطح پر پانی کی حرکت پر انحصار کیا جاتا ہے، مگر اس کے لیے مسلسل پانی کی سپلائی کی ضرورت ہوتی ہےمگر تحقیق میں بتایاگیا کہ پودوں کے پتوں سے قدرتی طور پر خارج ہونے والے بخارات میں بہت زیادہ توانائی چھپی ہوتی ہے مگر اب تک اس پر زیادہ کام نہیں کیا گیا،اس عمل میں پودے کی جڑوں سے اوپری سرے تک پانی حرکت کرتا ہے اور پتوں یا پھولوں سے بخارات کی شکل میں خارج ہو جاتا ہے۔

    پاکستان میں زیر استعمال موبائل لبنان واقع کی طرح پھٹ سکتے؟قائمہ کمیٹی

    اسی عمل کو دیکھتے ہوئے چینی سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ ڈیوائس تیار کی ہے جو اس عمل سے بجلی بنانے میں کامیاب رہی۔
    ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر پتوں کے ذریعے بجلی کا حصول ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر ممکن ہوسکتا ہے، یہ ماحول دوست توانائی ہوگی جس کے لیے زیادہ خرچہ بھی نہیں کرنا پڑے گا،جنریٹر جیسی پروٹوٹائپ ڈیوائس کو کسی بھی جگہ جیسے فارم میں استعمال کیا جاسکے گا اور زیادہ بڑے اسٹرکچر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں کے مطابق پودے مسلسل اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ پانی خارج کرتے ہیں تو اس جنریٹر کے ذریعے دن بھر بجلی کی تیاری ممکن ہوسکے گی، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں دن بھر سورج کی روشنی موجود ہوتی ہے ابھی ایک پتے سے حاصل ہونے والی بجلی بہت کم ہے مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ متعدد پودوں اور پتوں کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جاسکتا ہے جس سے زیادہ بجلی کا حصول ممکن ہو جاتا ہےسائنسدانوں کی تیار کردہ ڈیوائس کی ابتدائی آزمائش جاری ہے اور وہ مختلف طریقوں کو جانچ کر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

  • ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    ہزار سال پرانے بیج سے بائبل کے درخت کی پیدائش

    سائنسدانوں نے ایک ہزار سال سے زائد قدیم بیج زندہ کر دیا ہے جو اب ایک درخت میں تبدیل ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی: یہ بیج 1980 کی دہائی میں یہودا صحرا میں ایک کھدائی کے دوران ملا تھا اور اس کا تخمینہ 993 عیسوی سے 1202 عیسوی کے درمیان کا ہے ،اس نایاب درخت کی اونچائی 10 فٹ ہے اسے بڑھنے میں 14 سال لگےاور اسے ”شبا“ کا نام دیا گیا ہے جو بائبل کی ایک مشہور ملکہ کے نام پر ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بیج بائبل میں ذکر کردہ درختوں کی ایک نسل سے تعلق رکھتا ہے جو آج کے اسرائیل، فلسطین اور اردن میں پائے جاتے تھے یہ درخت ”تسوری“ (یعنی بالسم) کا ماخذ ہو سکتا ہے جو بائبل میں ذکر کردہ ایک ریزن ہے جسے طبی خواص کے لیے جانا جاتا ہے ”شبا“ کی خوشبو نہیں ہے مگر اس کے پتوں میں ایسی کیمیائی خصوصیات پائی گئی ہیں جو سوزش اور کینسر کے خلاف مؤثر ہو سکتی ہیں۔

    سائنسدانوں نے درخت کے پتوں کا کیمیائی تجزیہ کیا جس سے یہ معلوم ہوا کہ اس میں موجود مرکبات اینٹی آکسیڈنٹ اور جلد کو ہموار کرنے کی خاصیات رکھتے ہیں شبا درخت کی پرجاتی کے بارے میں سائنسدانوں کو مکمل طور پر یقین نہیں ہے کیونکہ اس نے اب تک پھول یا تولیدی مواد نہیں دیا ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر موجودہ دور میں کوئی Commiphora کی قسم موجود ہے تو وہ بھی دریافت کی جا سکتی ہےلیہ درخت بائبل میں ذکر کردہ دوسری اہم مرکبات جیسے کہ میری اور فرانکی سینس سے بھی منسلک ہے جو حضرت عیسیٰ کے دور سے جڑی ہوئی ہیں۔

    یہ بیج بحیرہ مردار-جورڈن رفٹ ویلی کے اندر واقع ایک غار میں دریافت کیا گیا تھا، یہ علاقہ سوڈانی اور سوڈانو-زمبیزیائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 14.5% نباتات کی میزبانی کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ماحولیاتی زون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ Commiphora کی نسل، جس سے ممکنہ طور پر بیج تعلق رکھتا ہے، افریقہ سے ہجرت کر کے خطے کی منفرد آب و ہوا کے مطابق ہو سکتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”شبا“ کی تحقیق سے ہمیں بائبل کے قدیم معالجے کے راز جاننے کا موقع ملے گا اور ممکنہ طور پر دیگر قدیم درختوں کو زندہ کرنے کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

  • مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے سائنس دانوں نے مریخ پر مکڑیوں جیسی عجیب و غریب شکلیں دریافت کی ہیں-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کوئی حقیقی مکڑیاں نہیں بلکہ کچھ ارضیاتی خصوصیات ہیں مریخ کے شمالی نصف کرہ میں پائی گئی ہیں، ناسا کے روورز اور دیگر سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ان زمینی اشکال کا پتا لگایامکڑی نما یہ شکلیں سیارے کی سطح پر کھدی ہوئی نظر آتی ہیں اور ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے میں پھیلی ہوئی ہیں،ان اشکال کا قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل مکڑیاں نہیں بلکہ وقت کے ساتھ بننے والی دراڑیں اور شکلیں ہیں۔

    سائنسدانوں کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی وجہ کیا ہے، لیکن حال ہی میں کچھ نظریات سامنے آئے ہیں،فی الحال سب سے مشہور نظریہ یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ آئس کے ماحول کے ساتھ تعامل پر پیدا ہونے والے ردعمل کے باعث یہ ابھری ہوئی خصوصیات پیدا ہوئیں،سائنس دانوں نے زمین پر سیارہ مریخ کو دوبارہ بنا کر اس نظریے کو جانچا انہوں نے پیچیدہ مشینری کے ساتھ مریخ کے درجہ حرارت اور ماحول کا دباؤ بنانے کے لیے مل کر کام کیا۔

  • ایلون مسک کا مریخ پر بغیر عملے کے اسٹار شپ مشن بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان

    ایلون مسک کا مریخ پر بغیر عملے کے اسٹار شپ مشن بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان

    اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے دو سالوں کے اندر مریخ پر تقریباً پانچ بغیر عملے کے اسٹار شپ مشن بھیجنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا،اس سے قبل ایلون مسک نے اشارہ دیاتھا کہ مریخ پر پہلا سٹار شپ مشن دو سالوں میں شروع ہو جائے گا جس سے مریخ پر منتقلی کے امکان روشن ہوں گےپہلے عملے کے مشن کی ٹائم لائن بغیر عملے کے پروازوں کی کامیابی پر منحصر ہے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اگر بغیر عملے کے مشن بحفاظت اترتے ہیں تو عملے کے مشن چار سالوں میں شروع ہو سکتے ہیں،چیلنجوں کی صورت میں عملے کے مشن کو مزید دو سال کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا۔

    قبل ازیں ایلون مسک نے کہا تھا کہ مریخ پر آباد ہونے کا خواب انسان ایک زمانے سے دیکھتا آیا ہے مریخ پر بستیاں بسانے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں مگر کبھی یہ بھی سوچا گیا ہے کہ مریخ پر پیدا ہونے والے بچے کیسے ہوں گےمریخ پر کششِ ثقل کچھ اور ہوں گے، مریخ کا ماحول بہت مختلف ہوگا ایسے میں سوچا جاسکتا ہے کہ بچے بھی نارمل نہیں ہوں گے اُن کی جلد کا رنگ بہت مختلف ہوگا، ہڈیوں میں بُھربُھرا پن نمایاں ہوگا اُن کا پورا جسم انتہائی کمزور ہوگا پسلیاں بھی دکھائی دیتی ہوں گی۔

    اسنوکر چیمپئن شپ :پاکستان کے اسجد اقبال کی بھارتی کھلاڑی کو شکست، فائنل میں …

    ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اگر انسان نے فطری علوم و فنون میں پیش رفت کا سفر اِسی طور جاری رکھا تو 20 سال میں مریخ پر انسان دکھائی دے رہے ہوں گے،وہاں بھی بچے بھی ہوں گے تاہم اُن کی جلد کا رنگ سبز ہوگا۔ یہ بچے بہت لاغر ہوں گے۔ بینائی بھی کمزور ہوگی۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ اسپیس ایکس، سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مالک ایلون مسک مریخ پر انسانوں کو بسانے کا پروگرام رکھتے ہیں تاہم ساتھ ہی ساتھ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مریخ کا ماحول انسانوں کے لیے بالکل ناموزوں ہوگا اور وہاں پیدا ہونے والے عجیب و غریب ہوں گے۔

    ایلون مسک کا ارادہ چند ہی برس میں مریخ پر بستی بسانے کا ہے اس حوالے سے ماہرین اُنہیں اپنی رپورٹس میں خبردار کرتے رہے ہیں ایلون مسک کا کہنا ہے کہ پانچ سال میں ہم انسان بردار مشن مریخ بھیجنے کے قابل ہوجائیں گے۔

    سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر