Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے پیشگوئی

    سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے پیشگوئی

    سائنسدانوں نے سال 2029 میں ایک بڑے ’شہابی پتھر‘ کے زمین کے انتہائی قریب سے گزرنے کے بارے میں پیشگوئی کی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے بڑے حجم کے سیارچے کے گزرنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2029 میں زمین کے قریب پہنچ جائے گا،اس شہابی پتھر کو ’Apophis‘ نام دیا گیا ہے جس کا مطلب ”تباہی کا خدا“ ہے ماہرین نے کہا ہے کہ اپریل 2029 میں یہ شہابی پتھر زمین کے قریب پہنچ جائے گا۔

    اس کے زمین سے براہ راست ٹکرانے کا خطرہ انتہائی کم ہے تاہم حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگر چھوٹے سیارچے یا خلائی چٹانیں Apophis سے ٹکراتی ہیں تو وہ اپنی سمت بدل کر زمین کے مدار میں داخل ہوسکتا ہے تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر چھوٹے سیارچے یا خلائی چٹانیںApophis سے ٹکرائیں تو وہ ممکنہ طور پر اس کی رفتار کو تبدیل کر سکتی ہیں اور اس کے مضمرات نمایاں ہیں۔

    ماہرین کے مطابق Apophis نامی شہابی پتھر کا قطر 340 اور 450 میٹر کے درمیان بتایا گیا ہے، جس کے زمین سے 37,000 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرنے کا امکان ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ براہ راست آنکھ سے بھی نظر آسکتا ہے پتھرتقریباً اتنا ہی چوڑا ہے جتنا کہ نیویارک میں واقع ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ اونچی ہے لیکن اس طرح کے تصادم اس کے راستے کو ری ڈائریکٹ کر سکتے ہیں۔

  • سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    لندن: سائنسدانوں نے نیا بلڈ گروپ دریافت کرلیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی ادارے این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ اور یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے MAL نامی ایک نئے بلڈ گروپ کی نشاندہی کی ہے مذکورہ بالا پیش رفت نے AnWj نامی اینٹیجن سے جُڑے 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا ہے جو پہلی بار 1972 میں دریافت ہوا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق سینئر ریسرچ سائنسدان لوئس ٹیلی کی قیادت میں ریسرچ ٹیم نے AnWj اینٹیجن سے محروم مریضوں کی شناخت کے لیے ایک جینیاتی ٹیسٹ بھی تیار کیا ہےیہ اختراع ماہرین کوMAL گروپ کے نایاب مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے قابل بنائے گی اور ہم آہنگ خون کے عطیہ دہندگان کی تلاش میں سہولت فراہم کرے گی۔

    لوئس، جنہوں نے اس پروجیکٹ کے لیے 20 سال وقف کیے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیسٹ سے مستفید ہونے والے لوگوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے مزید برآں یہ MAL گروپ تمام بلڈ گروپ سسٹم میں 47واں نیا بلڈ گروپ ہے۔

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

  • اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی خلائی ادارے ( ناسا) کا کہنا ہے کہ ایک اسٹیڈیم کے سائز جتنا بڑا سیارچہ آج (منگل) کو زمین کے قریب سے گزرے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق 2024 ON سیارچہ 290 میٹر (950 فٹ) چوڑا ہے اور زمین سے 10 لاکھ کلومیٹر قریب سے گزرے گا،خلا کا یہ پتھر آخری بار 2013 میں زمین کے قریب سے گزرا تھا اور 2035 میں دوبارہ اس کے قریب سے گزرے گا۔

    یہ سیارچہ پہلی بار ناسا کے نیئر ارتھ آبجیکٹ (این ای او) مشاہدات پروگرام کے ذریعے دیکھا گیا تھا، جو دنیا بھر میں موجود آبزر ویٹریز کا استعمال کرتے ہوئے غیر دریافت شدہ این ای اوز کا پتہ لگاتا ہے،اس کو ورچوئل ٹیلی سکوپ پروجیکٹ کے ذریعے ٹریک کیا جا رہا ہے، جس نے نو ستمبر کو ’ممکنہ طور پر خطرناک‘ سیارچے کی تصویر لی، جو تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔

  • سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

    سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

    اسٹاک ہوم: ماہرین فلکیات نےسینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والا سیارہ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق سویڈن کی لنڈ یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات نے ایک پراسرار سیارے کی نشاندہی کی ہے جس عمومی سیاروں سے ہٹ کر ایک بے ترتیب مدار ہے،اس سیارے کا دمار روایتی فلکیاتی طبیعیات کے اصولوں کو چیلنج کرتا ہے، TOI-1408c نامی یہ سیارہ زمین سے تقریباً 455 نوری سال دور ایک دوسرے شمسی نظام میں واقع ہے اور اس کی غیر متوقع حرکات کی وجہ سے محققین حیران ہیں۔

    TOI-1408c نامی یہ سیارہ رواں سال ہی ناسا کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا گیا جس کا حجم زمین سے دوگنا اور کمیت آٹھ گنا ہےزیادہ تر سیاروں کے برعکس بیضوی مداروں کی پیروی کرتے ہیں، TOI-1408c کا مدار بے ترتیبی میں بدلتا ہے جو ماہرین فلکیات کو سیاروں کی حرکیات کے موجودہ نظریات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

    ماہرین کا مفروضہ ہے کہ TOI-1408c کی غیر متوقع حرکت کسی نادیدہ آسمانی مادے کے ٹکرانے سے متاثر ہو سکتی ہے جیسے کہ کوئی دوسرا سیارہ یا نیوٹران ستارہ جو کسی دوسرے سیارے کے مدار کو غیر مستحکم کرتی ہیں۔

  • فوبوس اور ڈیموس،مریخ کے دو چھوٹے چاند

    فوبوس اور ڈیموس،مریخ کے دو چھوٹے چاند

    مریخ کے دو چھوٹے چاند ہیں، فوبوس اور ڈیموس

    جن کا نام یونانی افسانہ خوف اور گھبراہٹ کے اعداد و شمار کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کا وجود 1610 میں لگایا گیا تھا اور اسے 1877 میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ تصویر 2009 میں لی گئی تھی۔ ان دونوں پینلز میں چھوٹے چاند ڈیموس کے تفصیلی سطحی نظارے دکھائے گئے ہیں۔ یہ تصاویر 2009 میں مارس ریکونیسنس آربیٹر خلائی جہاز پر سوار HiRISE کیمرے کے ذریعے لی گئی تھیں، جو ناسا کے طویل عرصے سے چلنے والا بین سیارہ انٹرنیٹ سیٹلائٹ ہے۔ ڈیموس نظام شمسی کے سب سے چھوٹے معلوم چاندوں میں سے ایک ہے، جس کی پیمائش صرف 15 کلومیٹر ہے۔

    دونوں کو امریکی ماہر فلکیات آسف ہال نے اگست 1877 میں دریافت کیا تھا اور ان کا نام یونانی افسانوی جڑواں کرداروں فوبوس (خوف اور گھبراہٹ) اور ڈیموس (دہشت اور خوف) کے نام پر رکھا گیا ہے جو اپنے والد آریس کے ساتھ تھے ( رومن افسانوں میں مریخ ، اس لیے سیارے کا نام) جنگ میں۔زمین کے چاند کے مقابلے میں ، فوبوس اور ڈیموس چھوٹے ہیں۔ فوبوس کا قطر 22.2 کلومیٹر (13.8 میل) ہے اور اس کا حجم 1.08 × 10 ہے۔16 کلوگرام، جب کہ ڈیموس 12.6 کلومیٹر (7.8 میل) کی پیمائش کرتا ہے، جس کا حجم 1.5 × 1015 کلو فوبوس 9,377 کلومیٹر (5,827 میل) کے نیم بڑے محور اور 7.66 گھنٹے کے مداری دورانیےکے ساتھ، مریخ کے قریب گردش کرتا ہےجب کہ ڈیموس 23,460 کلومیٹر (14,580 میل) کے نیم بڑے محور کے ساتھ اور 30.35 گھنٹے کی مداری مدت کے ساتھ زیادہ دور کا چکر لگاتا ہے

    مریخ کے چاندوں کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت شروع ہو گئی تھیں جب مشتری کے چاند دریافت ہوئے تھے۔ جوناتھن سوئفٹ کے طنزیہ تصنیف گلیور ٹریولز (1726) میں حصہ 3، باب 3 (” لاپوٹا کا سفر ") میں دو چاندوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں لاپوٹا کے ماہرین فلکیات کو بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ 10 اور 21.5 گھنٹے کے وقفوں کے ساتھ 3 اور 5 مریخ کے قطر کے فاصلے پر مریخ کے دو سیٹلائٹس دریافت کیے ہیں۔ فوبوس اور ڈیموس کا اصل مداری فاصلہ 1.4 اور 3.5 مریخ کا قطر ہے، اور ان کے متعلقہ مداری دورانیے 7.66 اور 30.35 گھنٹے ہیں۔ 20 ویں صدی میں، ابتدائی سوویت مریخ اور زہرہ کے خلائی جہاز کے ایک خلائی جہاز ڈیزائنر وی جی پرمینوف نے قیاس کیا کہ سوئفٹ نے ایسے ریکارڈز کو دریافت کیا اور ان کی وضاحت کی جو مریخ نے زمین پر چھوڑے تھے۔ تاہم ، زیادہ تر ماہرین فلکیات کا نظریہ یہ ہے کہ سوئفٹ اس وقت کی ایک عام دلیل کو استعمال کر رہا تھا، کہ جیسا کہ اندرونی سیارے زہرہ اور عطارد کے پاس کوئی سیارچہ نہیں تھا، زمین میں ایک اور مشتری کے پاس چار تھے ، کہ مشابہت کے لحاظ سے مریخ کے دو ہونا ضروری ہیں۔ مزید برآں، چونکہ وہ ابھی تک دریافت نہیں ہوئے تھے، اس لیے یہ استدلال کیا گیا کہ وہ چھوٹے اور مریخ کے قریب ہونے چاہئیں۔ اس سے سوئفٹ اپنے مداری فاصلوں اور انقلاب کے ادوار کا تقریباً درست اندازہ لگا سکے گا۔ اس کے علاوہ، سوئفٹ کو اس کے دوست، ریاضی دان جان آربوتھنوٹ کے حساب سے اس کی مدد کی جا سکتی تھی ۔

    اگر مریخ کی سطح سے اس کے خط استوا کے قریب دیکھا جائے تو ایک مکمل فوبوس زمین پر ایک مکمل چاند جتنا بڑا نظر آئے گا۔ اس کا کونیی قطر 8′ (بڑھتے ہوئے) اور 12′ (اوور ہیڈ) کے درمیان ہے۔ اس کے قریبی مدار کی وجہ سے، جب مبصر مریخ کے خط استوا سے مزید دور ہوتا ہے تو یہ چھوٹا نظر آئے گا جب تک کہ یہ مکمل طور پر افق سے نیچے نہ ڈوب جائے کیونکہ مبصر قطبوں کے قریب جاتا ہے۔ اس طرح فوبوس مریخ کے قطبی برف کے ڈھکنوں سے نظر نہیں آتا۔ مریخ پر ایک مبصر کے لیے ڈیموس زیادہ روشن ستارے یا سیارے کی طرح نظر آئے گا اس کا زاویہ قطر تقریباً 2′ ہے۔ سورج کا کونیی قطر جیسا کہ مریخ سے دیکھا گیا ہے، اس کے برعکس، تقریباً 21′ ہے۔ اس طرح مریخ پر کوئی مکمل سورج گرہن نہیں ہوتا ہے کیونکہ چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپنے کے لیے بہت چھوٹے ہیں۔ دوسری طرف، فوبوس کے مکمل چاند گرہن تقریباً ہر رات ہوتے ہیں۔فوبوس اور ڈیموس کی حرکتیں زمین کے چاند سے بہت مختلف نظر آئیں گی۔ تیز فوبوس مغرب میں طلوع ہوتا ہے، مشرق میں غروب ہوتا ہے، اور صرف گیارہ گھنٹوں میں دوبارہ طلوع ہوتا ہے، جب کہ ڈیموس، صرف مطابقت پذیر مدار سے باہر ہونے کی وجہ سے ، مشرق میں توقع کے مطابق لیکن بہت آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے۔ اس کے 30 گھنٹے کے مدار کے باوجود، اسے مغرب میں طے ہونے میں 2.7 دن لگتے ہیں کیونکہ یہ مریخ کی گردش کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔

    دونوں چاند سمندری طور پر بند ہیں ، ہمیشہ مریخ کی طرف ایک ہی چہرہ پیش کرتے ہیں۔ چونکہ فوبوس مریخ کے گرد سیارے کے خود گردش کرنے سے زیادہ تیزی سے چکر لگاتا ہے، اس لیے سمندری قوتیں آہستہ آہستہ لیکن مسلسل اس کے مداری رداس کو کم کر رہی ہیں۔ مستقبل میں کسی وقت، جب یہ روشے کی حد میں آجائے گا ، فوبوس ان سمندری قوتوں سے ٹوٹ جائے گا اور یا تو مریخ سے ٹکرا جائے گا یا ایک انگوٹھی بن جائے گا۔ مریخ کی سطح پر گڑھوں کی کئی تاریں، جو خط استوا سے زیادہ پرانی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید دوسرے چھوٹے چاند بھی رہے ہوں گے جو فوبوس کی متوقع قسمت کا شکار ہوئے ہوں،

  • دنیا کی دوتہائی فعال سیٹلائٹس پر  ایلون مسک کا کنٹرول

    دنیا کی دوتہائی فعال سیٹلائٹس پر ایلون مسک کا کنٹرول

    رواں ہفتے اسٹار لنک کے 7ہزار ویں سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کے بعد ایلون مسک نے خلا میں اپنا تسلط مضبوط کر لیا ہے اور وہ اس وقت زمین کے گرد گردش کرنے والے فعال سیٹلائٹس کے تقریباً دو تہائی کو کنٹرول کرنے والے واحد شخصیت ہیں۔

    سیٹلائٹ ٹریکر ’سیلس ٹریک‘ کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس دنیا کی 62 فیصد فعال سیٹلائٹس کو کنٹرول کرتی ہے۔حال ہی میں اسپیس ایکس کے 7 ہزارویں اسٹارلنک سیٹلائٹ کی لانچنگ کے بعد فعال سیٹلائٹس کی کل تعداد 6 ہزار 370 ہوگئی ہے۔انٹرنیٹ سیٹلائٹ کانسٹیلیشن کو آپریٹ کرنے والی کمپنی اسپیس ایکس نے 2019 میں پہلی بار سیٹلائٹ لانچ کیا جس کے بعد وہ روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 3 سیٹلائٹ خلا میں بھیج رہی ہے۔سیٹلائٹ ٹریکر ’سیلس ٹریک‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، اسپیس ایکس اب دنیا کے 62 فیصد سے زیادہ آپریشنل سیٹلائٹس کو کنٹرول کرتا ہے اور یہ تعداد ان کے حریف برطانوی کمپنی ’وین ویب‘ کی سے 10 گنا زیادہ ہے۔’وین ویب‘ یوکرین پر روسی حملے کے بعد روس کے خلائی ادارے ’سویوز‘ کے ساتھ لانچنگ منسوخ ہونے کے بعد سے اپنے سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کے لیے اسپیس ایکس پر انحصار کررہی ہے۔

    دنیا بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور فون کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا اسٹارلنک کانسٹیلیشن، فی الحال 102 ممالک میں کام کرتا ہے اور 30 لاکھ سے زیادہ صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔اسپیس ایکس کا منصوبہ ہے کہ وہ مجموعی طور پر 42 ہزار سیٹلائٹس لانچ کرے اور ان کی کوریج مزید ممالک تک بڑھائی جائے تاہم تجارتی اور انٹرنیٹ کی پابندیوں کی وجہ سے افغانستان، چین، ایران، شمالی کوریا، روس اور شام کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔البتہ اسٹار لنک کے غیر قانونی آلات کی ایران سمیت دیگر علاقوں میں داخل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایلون مسک نے حال ہی میں سیٹلائٹ نیٹ ورک پر اپنے کنٹرول کو اجاگر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا ’ اسٹار لنک اب زمین کے تمام فعال سیٹلائٹس کا تقریباً دو تہائی حصہ بن چکا ہے’ ۔اسٹار لنک، ٹیسلا، اور ایکس (سابقہ ​​ٹویٹر) کے ذریعے ایلون مسک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ماضی میں ایک پوسٹ میں ایلون مسک نے دعویٰ کیا تھا کہ اسٹار لنک، ٹیسلا اور ٹوئٹر کے درمیان میرے پاس کسی بھی کمپنی سے زیادہ رئیل ٹائم عالمی اکنامک ڈیٹا ہوسکتا ہے۔تاہم اسٹار لنک کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے، برازیل میں قانون سازوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایکس پر پابندی عائد کرنے کے بعد اسٹار لنک نے ابتدائی طور پر ایپ کو اپنے صارفین کے لیے قابل رسائی بنایا تھا تاہم بعد میں حکومتی حکم کی تعمیل کی۔

  • بچپن میں زائل ہو جانے والی بینائی کو بحال کیا جاسکتا ہے،ماہرین

    بچپن میں زائل ہو جانے والی بینائی کو بحال کیا جاسکتا ہے،ماہرین

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے موروثی بیماری سے بچپن میں زائل ہو جانے والی بینائی کو بحال کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ لیبر کانجینیٹل ایموروسز نامی موروثی بیماری کے باعث کبھی کبھی بچپن میں بینائی زائل ہو جاتی ہے یہ بیماری خاصی کم پائی جاتی ہے دنیا بھر میں یہ بیماری ایک لاکھ سے بھی کم افراد کو لاحق ہوئی ہے، GUCY2D نامی نامی جین کی خرابی سے اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    امریکی کی پنسلوانیا یونیورسٹی کے ماہرین نے بچوں کو بڑوں میں قرنیے کے نیچے انجیکشن لگائے ہیں جو نئی جین تھیراپی پر مبنی ہے۔ اس سے نتائج بہت حوصلہ افزا رہے ہیں متعلقہ تحقیقی مقالے کے مصنف آرٹر سیڈیشیان کہتے ہیں کہ نئی تحقیق بہت حوصلہ افزا ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی سے محروم ہو جانے والے دوبارہ اِس دنیا کو دیکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔

    پی ٹی آئی نے عمر ایوب کا استعفیٰ منظور کر لیا

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جین تھیراپی سے عمومی حالت میں بصارت کے ضیاع کا علاج بھی وضع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس دنیا کی رونقیں دیکھنے یا دوبارہ دیکھنے کے قابل بنایا جاسکے۔

    یویو ہنی سنگھ کا اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کا انکشاف

  • چین: خلا میں بھیجے گئے راکٹ کا مبینہ ملبہ دیہات میں گر گیا

    چین: خلا میں بھیجے گئے راکٹ کا مبینہ ملبہ دیہات میں گر گیا

    بیجنگ: چین کے شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجے گئے راکٹ کا مبینہ ملبہ کچھ دیر بعد ایک دیہات میں گر گیا –

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آسمان سے راکٹ ٹوٹا ہوا ایک بڑا ٹکڑا تیزی سے نیچے آ رہا ہے،سوشل میڈیا پر وائرل ان تصاویر اور ویڈیوز میں راکٹ کے ملبے کو ایک کھیت میں گرا دیکھا جا سکتا ہے تاہم بعد میں ان تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا۔

    عینی شاہدین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ بہت ہولناک منظر تھا، خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مقامی پولیس اہلکاروں نے ملبے سے دور رہنے اور تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے بھی روک دیا،دوسری جانب چین کی جانب سے خلا میں لانچ کیے گئے راکٹ کے تباہ ہونے اور ملبے گرنے کی تصاویر اور ویڈیوز پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    چین چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے میں کامیاب

    واضح رہے کہ چین چاند کے دور دراز علاقے سے نمونے اکٹھا کر کے زمین پر لانے والا پہلا ملک بن گیا ہے رپورٹ کے مطابق چینی خلائی مشن ’چینگ ای 6 مشن کا ری انٹری کیپسول‘ اندرونی منگولیا کے خطے Siziwang Banner میں قیمتی سامان کے ساتھ لینڈ ہوا چاند سے نمونے لانے والی چین کی اس خلائی لینڈنگ کو چینی میڈیا چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا جسے چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے،شرجیل انعام میمن

  • چین  چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے میں کامیاب

    چین چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے میں کامیاب

    بیجنگ: چین کی جانب سے چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے والا پہلا ملک بن گیا-

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین چاند کے دور دراز علاقے سے نمونے اکٹھا کر کے زمین پر لانے والا پہلا ملک بن گیا ہے چینی خلائی مشن ’چینگ ای 6 مشن کا ری انٹری کیپسول‘ اندرونی منگولیا کے خطے Siziwang Banner میں قیمتی سامان کے ساتھ لینڈ ہوا، چاند سے نمونے لانے والی چین کی اس خلائی لینڈنگ کو چینی میڈیا چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا جسے چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

    میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ مذکورہ چینی خلائی مشن چینگ ای 6 کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں سے چاند اور زمین کی ابتدائی تاریخ جاننے میں مدد ملے گی چینگ ای 6 مشن کے سے ہٹ کر بھی چین کی جانب سے رواں دہائی کے دوران کئی مشنز چاند پر بھیجے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ چینگ ای مشن 3 مئی کو چاند پر روانہ ہوا تھا اور 2 جون کو چاند کے اس مقام پر اترا تھا جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتی-

  • یوٹیوب کا صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    یوٹیوب کا صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    ویڈیو شئیرنگ ایپ یوٹیوب نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹ ویڈیو اسٹریمنک پلیٹ فارم یوٹیوب آئندہ ہفتوں میں تمام چینلز کیلئے ’تھمب نیل ٹیسٹ اینڈ کمپیئر‘ فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے جو صارفین کو بڑی مدد فراہم کرے گا یوٹیوب پر مذکورہ فیچر اس طرح کام کرے گا کہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے بعد تخلیق کار کے سامنے تین تھمب نیل اپ لوڈ کرنے کا آپشن آجائے گا، جس پر تین مختلف تھمبل نیل اپ لوڈ کر سکیں گے۔

    جس سے یوٹیوب تخلیق کار کو بتائے گا کہ کس تھمب نیل نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔علاوہ ازیں یہ مکمل ڈیٹا بھی فراہم کرے گا مناسب ڈیٹا اکٹھا ہونے کے بعد آپ کے تھمب نیلز سے حتمی ٹیسٹ کے نتائج حاصل کرنے میں دو ہفتے کا وقت لگے گا۔

    ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کرسکیں،وزیراعظم

    آزمائشی مرحلے کے دوران یوٹیوب مختلف دیکھنے والوں کو مختلف تھمب نیل دِکھائے گا بعد ازاں مناسب مقدار میں ڈیٹا اکٹھا ہونے کے بعد (جس کے لیے اندازاً دو ہفتوں کا وقت درکار ہوگا) یوٹیوب اس بات کا تجزیہ کرے گا کہ کس تھمب نیل کا سب سے زیادہ واچ ٹائم شیئر ہوا، جس کے بعد تھمب نیل کے لیے تین میں سے کسی ایک مضبوط تھمب نیل کا تنیجہ قرار دیا جائے گا۔

    امیر بالاج قتل کیس،ملزم سہیل کی ضمانت منظور ،رہا کرنیکا حکام