Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • جاپان میں بغل کے پسینے سے بنی نئی ڈش حیران کن قیمت پر فروخت

    جاپان میں بغل کے پسینے سے بنی نئی ڈش حیران کن قیمت پر فروخت

    ٹوکیو: جاپان میں بغل کے پسینے کا استعمال کرتے ہوئے ایک ڈش متعارف کرائی گئی ہے”بغل کا پسینہ“، جسے روایتی جاپانی کھانے ”اونیگیری“ میں استعمال کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : چینی اخبار ”ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ“ کے مطابق جاپان میں اس ڈش کو لوگ حیران کن قیمت پر خرید رہے ہیں چاولو ں سے بنی یہ ڈش کوئی معمولی نہیں ہے بلکہ ان چاولوں کو گیند کی شکل دینے کیلئے ایسی بغلوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو پسینے سے بھر پور ہوتی ہیں، تاہم، دعویٰ کیا جارہا ہے کہ چاول کی ان گیندوں کو تیار کرنے پر معمور خواتین سخت حفظان صحت کے اصولوں کی پیروی کرتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق چاول بنانے سے قبل یہ خواتین اپنے جسم کے ان حصوں کو اچھی طرح جراثیم سے پاک کرتی ہیں،بعدازاں ان میں پسینہ آنے کے بعد ڈش تیار کرنے کیلئے اپنے ہاتھوں کو استعمال کرنے کے بجائے پسینے سے بھری ہوئی بغلوں کا استعمال کرتی ہیں، اس ڈش کو کھلم کھلا اس منفرد طریقے سے تیار کرنے کے بعد حیران کن قیمت پر فروخت بھی کیا جارہا ہے، جسے مقامی لوگ خوب پسند کر رہے ہیں-

    پیوٹن نے اگلے 6 سال کیلئے روس کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

    ایک ڈنر جس نے بغلوں کی نزاکت کو آزمایا اس نے کہا کہ ان کا ذائقہ مختلف نہیں ہے کچھ ریستوران کھلے عام اس عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، فخر کے ساتھ اپنے سٹار شیفس اور انوکھی تکنیک کو فروغ دیتے ہوئے گاہکوں کو باورچی خانے میں جانے کی اجازت دیتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکالرز نے بغلوں کی جنسی اہمیت کا مطالعہ کیا ہے، 2013 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جسم کے اس حصے کے پسینے میں ایک مخصوص فیرومون ہوتا ہے جو سونگھنے یا چاٹنے پر انسانی جذبات کو بہتر بنا سکتا ہے۔

    مبینہ طور پر ایک جاپانی شخص اپنے گھر میں موجود بغل میں چاول کی کچھ گیندیں کھانے سے ہچکچا رہا تھا، جس کی وجہ سے ان میں سے 14 گل سڑ گئیں، اور پڑوسیوں نے ناقابل برداشت بدبو کی شکایت کے لیے پولیس کو فون کیاعجیب وغریب پکوان کی ترکیب نے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھیڑ دی ہے۔

    ایک شخص نے کہا، "چاول کی یہ گیندیں چند لوگوں کی ممنوع خواہشات کو پورا کر سکتی ہیں، جب تک کہ وہ حفظان صحت کے مطابق ہوں، کوئی نقصان نہیں ہے،” ایک شخص نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ اگر شیف کو کوئی پوشیدہ بیماری ہے تو کیا ہوگا؟ میں اس کے بجائے چاول کی باقاعدہ گیندیں کھاؤں گا، ایک آن لائن مبصر نے ویبو پر لکھا-

    وفاق سے تنازع رہا تو کے پی کے لوگ 5 سال پیچھے چلے جائیں گے، …

    جاپان میں اور بھی بہت سے دلچسپ پکوان ہیں، ناٹو ایک روایتی جاپانی ڈش ہے جو خمیر شدہ سویابین سے بنی ہے اور اپنی مخصوص بو، چپچپا ساخت اور مضبوط ذائقے کے لیے مشہور ہے، رین ڈراپ کیک، عام جیلیٹن میٹھے کے برعکس، ایک ایسی تخلیق ہے جو بنیادی طور پر پانی پر مشتمل ہوتی ہے، جو کمرے کے درجہ حرارت پر 30 منٹ کے اندر اپنی شکل کھو دیتی ہے۔

    اس کے علاوہ، چند سال پہلے ٹوکیو میں لی شائنر نامی ریستوران میں رینبو پنیر کے سینڈوچز مقبول ہوئے،جب آپ سینڈوچ کو آدھے حصے میں کاٹتے ہیں تو پنیر پھیل جاتا ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں اسلاموفوبیا کے حل کیلئے تجاویز دیں،اسحاق ڈار

  • ناسا کا چاند پر ایڈوانس "ریلوے”  سسٹم بنانے کا منصوبہ

    ناسا کا چاند پر ایڈوانس "ریلوے” سسٹم بنانے کا منصوبہ

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند پر ایڈوانس "ریلوے” بنانے اور انسانوں اور سامان کو مریخ پر منتقل کرنے کے منصوبے کیلئے فنڈنگ شروع کر دی ۔

    باغی ٹی وی:عالمی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ناسا کے ہیڈ کوارٹر میں ایجنسی کے خصوصی نمائندے اور ناسا اینویٹیو ایڈوانس کانسیپٹس (این آئی اے سی) پروگرام کے ایگزیکٹو جان نیلسن نے کہا کہ ناسا ایسے منصوبوں پر کام کرے گا جو سائنس فکشن جیسے تصورات ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ جلد ہی عمل میں لائے جائیں گے لیکن یہ ممکن ہے کہ کسی دن مستقبل میں یہ حقیقت کا روپ دھار لیں ان منصوبوں میں چاند پر جدید ریلوے کا نظام، مائع پر مبنی دوربین اور انسانوں اور سامان کو مریخ تک لے جانے کے لئے ٹرانزٹ سسٹم شامل ہیں یہ ان منصوبوں میں سے ہیں جن پر ناسا کا این آئی اے سی پروگرام تحقیق جاری رکھنے کے لئے فنڈز وصول کررہا ہے۔

    جان نیلسن نے کہا کہ کل چھ منصوبے ہیں جن میں سے ہر ایک این آئی اے سی کے ابتدائی مرحلے سے گزرچکا ہے اب دوسرے مرحلے میں یہ منصوبے مزید تحقیق کے لئے اگلے دو سال تک 600,000 ڈالرز جمع کریں گے، ہمارا این اآئی اے سی عملہ کچھ نہ کچھ حیران کن اور حوصلہ افزا آئیڈیا متعارف کراتا رہتا ہے اور یہ منصوبے یقینی طور پر ناسا کو مستقبل میں ممکنات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔

  • اے آئی ٹیکنالوجی ایمرجنسی صورتحال میں بیکار ثابت ہو سکتی ہے،ماہرین

    اے آئی ٹیکنالوجی ایمرجنسی صورتحال میں بیکار ثابت ہو سکتی ہے،ماہرین

    واشنگٹن: اے آئی ٹیکنالوجی ایمرجنسی صورتحال میں بیکار ثابت ہوسکتی ہے-

    باغی ٹی وی : ایک نئے مطالعے میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو آج کے دور میں سب سے بہترین مسائل حل کرنے والا ایک آلہ سمجھا جاتا ہے ٹیکنالوجی ایمرجنسی کی صورت میں انتہائی غیرمعاون بلکہ نقصان دہ ثابت ہوگی، اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی پروگرام نے ایمرجنسی صورتحال میں سینے کے درد میں مبتلا مریضوں کے متضاد نتائج اخذ کیے ہیں، ایک تجر بے میں اے آئی نے ایک ہی مریض کے مختلف نتائج پیش کیے جو کہ مریض کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

    سرکردہ محقق اور واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر تھامس ہیسٹن نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی مستقل مزاجی سے کام نہیں کر رہا ہے بالکل اسی اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے چیٹ جی پی ٹی بعض اوقات ایک مریض کے نتائج کو کم خطرہ قرار دیتا ہے، اگلی بار درمیانی خطرہ اور کبھی کبھار زیادہ خطرہ قرار دے دیتا ہے جو کہ ایمرجنسی کی صورت میں اچھی چیز نہیں ہے۔

    نومئی مقدمات، زرتاج گل، اعظم سواتی کی ضمانت میں توسیع

    صدر مملکت ے 3 صوبوں کے گورنرز کی تقرری کی منظوری دے دی

    اسرئیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری کا معاملہ،عالمی عدالت انصاف امریکا و اسرائیل کی دھمکیوں پر برہم

  • خواتین ڈاکٹرز  سے علاج کروانے والے مریضوں کی شرح اموات  کم ہوتی ہے: تحقیق

    خواتین ڈاکٹرز سے علاج کروانے والے مریضوں کی شرح اموات کم ہوتی ہے: تحقیق

    ٹوکیو: ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپتال میں داخل خواتین کے مرنے کا امکان اس وقت کم ہوجاتا ہے جب ان کی ڈاکٹر خود بھی ایک خاتون ہوں۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے انالز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع تحقیق میں معالج کی جنس کے لحاظ سے مریضوں کی شرح اموات میں فرق پایا گیا ہے، تحقیق کیلئے ڈاکٹرز نے امریکا میں 2016 سے 2019 تک کے مریضوں کے ریکارڈز کا جائزہ لیا۔

    محققین نے جائزے کے دوران اسپتال میں داخل 7 لاکھ 70 ہزار سے زائد مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جب کہ تحقیق میں شامل مریضوں کی عمریں 65 سال یا اس سے زائد تھیں، مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کی 8.15 فیصد خواتین 30 دن کے اندر وفات پاگئیں جبکہ مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانے والی خواتین کے مرنے کی تعداد 8.38 فیصد تھی۔

    تحقیق کے دوران ان مریضوں میں سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 مریضوں کا علاج لیڈی ڈاکٹرز جب کہ 97ہزار 500 مریضوں (تقریباً 31 فیصد) کا مرد ڈاکٹرز نے کیا۔

    تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ( یو سی ایل اے) کے ڈیوڈ گیفن، اسکول آف میڈیسن میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر یوسوکیسوگاوا نے کہا کہ مرد ڈاکٹرزکے مقابلے خواتین ڈاکٹرزکے ذریعے علاج کے دوران مریضوں میں اموات اور اسپتال میں دوبارہ داخلے کی شرح 3 فیصد کم دیکھی گئی، خواتین مریض خواتین ڈاکٹروں کے ساتھ بہتر نتائج کا تجربہ حاصل کرتی ہیں کیونکہ خواتین مریض خوا تین ڈاکٹرز سے حساس طبی مسائل پر بات کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتی ہیں۔

    مطالعے کے ایک اور مصنف اور ٹوکیو یونیورسٹی میں سینئر اسسٹنٹ پروفیسر، اتسوشی میاواکی کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں گروپوں کے درمیان فرق بہت چھوٹا لگتا ہے لیکن اگر خواتین ڈاکٹرز معمول سے زیادہ دستیاب ہوں تو یہ فرق مٹ سکتا ہے اور ہر سال 5000 خواتین کی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں یہ حالیہ تحقیق اس بات کو واضح نہیں کرپائی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تاہم ماضی میں ہوئے دیگر مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جب مرد ڈاکٹرز علاج کرتے ہیں تو خواتین کو غلط فہمی اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اس مطالعہ میں 2016 سے 2019 تک اسپتال میں داخل 800,000 مرد اور خواتین کو شامل کیا گیا، اس میں پایا گیا کہ اسپتال میں داخل مردوں کے علاج اور اس کے نتائج پر ڈاکٹروں کی جنس کا کوئی خطر خواہ اثر نہیں پڑا جبکہ خواتین کے کیس میں ایسا نہیں تھا۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مرد مریضوں کے مقابلے خواتین مریض زیادہ بیماریوں کی وجہ سے مر جاتی ہیں اس کی وجہ خواتین کی نسوانی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں جنہیں مرد معالج خواتین معالج کی طرح آسانی سے نہیں سمجھ پاتے۔

    دوسری جانب محققین کا ماننا ہے کہ خواتین معالجین طب کے رہنما اصولوں پر مرد ڈاکٹرز کے مقابلے زیادہ سختی سے عمل پیرا ہوتی ہیں اور مریضوں کو سننے میں زیادہ وقت صرف کرتی ہیں، مجموعی طور پر لیڈی ڈاکٹرز مریضوں کا بروقت اور بہتر علاج کرتی ہیں، ساتھ ہی نسوانی بیماریوں کو بھی با آسانی سمجھ لیتی ہیں جس وجہ سے خواتین مریضوں میں موت کی شرح کم دیکھی جاتی ہے۔

  • اب واٹس ایپ پر  انٹرنیٹ کے بغیر بھی  فائل شیئر کی جا سکیں گی

    اب واٹس ایپ پر انٹرنیٹ کے بغیر بھی فائل شیئر کی جا سکیں گی

    میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے ایک ایسے فیچر پر کام شروع کیا ہے جس سے انٹرنیٹ کے بغیر بھی فائل شیئر کی جا سکیں گی، یہ فیچر تصاویر، ویڈیوز اور دیگر دستاویزات کو شیئر کرنے کا طریقہ بدل کر رکھ دے گا۔

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹWABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اس نئے فیچر کے ذریعے قریب موجود افراد سے فائلز شیئر کرنا بہت آسان ہو جائے گا،اگر آپ اینڈرائیڈ فونز میں نیئر بائی شیئر نامی فیچر استعمال کر چکے ہیں تو واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر ضرور پسند آئے گا۔

    یہ نیا فائل شیئرنگ فیچر اس وقت اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں دستیاب ہےاس فیچر کے بارے میں پہلی بار جنوری 2024 میں بتایا گیا تھا مگر اب مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب دیگر افراد کی جانب سے شیئر کی درخواست کو منظوری دی جائے گی،اس فیچر کے تحت صرف ان افراد سے فائلز شیئر کرنا ممکن ہوگی جو صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود ہوں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر طرح کی فائلز کو انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر شیئر کرنا ممکن ہوگا تمام شیئر فائلز کو انکرپشن کا تحفظ حاصل ہوگا تاکہ کسی تیسرے کی ان تک رسائی نہ ہوسکے یہ نیا فیچر عوامی مقامات پر کسی فرد کے ساتھ فوٹوز یا ویڈیوز شیئرنگ کے لیے کارآمد ثابت ہوگاابھی اس فیچر کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہو رہی ہے تو ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کب تک اسے تمام افراد کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

  • شہد کی مکھیوں  کے حوالے سےسائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    شہد کی مکھیوں کے حوالے سےسائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    شہد کی مکھیوں کے حوالے سےسائنسدانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ شہد کی مکھیاں پانی کے اندر ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت سائنسدانوں نے اس وقت کی جب انہوں نے حادثاتی طورپر شہد کی مکھیوں کو ڈبو دیا ، 2022 میں کینیڈا کی Guelph یونیورسٹی کے ماہرین ایک تحقیق پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیڑے مار ادویات سے زیرزمین خوابیدہ شہد کی مکھیوں کی ملکہ پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    یہ تحقیق شہد کے مکھیوں کی ایک قسم بمبل بی پر کی جا رہی تھی اور اس دوران فریج میں خرابی سے زیرزمین جگہ پانی میں ڈوب گئی پانی کے اندر شہد کی مکھیاں موجود تھیں اور سائنسدان یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ یہ غلطی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی بلکہ متعدد مکھیاں زندہ بچ گئیں، اس کے بعد انہوں نے خاص طور پر اس بارے میں تحقیق کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ زیرآب شہد کی مکھیاں بچ سکتی ہیں یا نہیں۔

    اس کے لیے 147 مکھیوں کو استعمال کیا گیا اور انہیں مٹی سے بھری شیشے کی بوتلوں میں ڈال دیا گیا، بوتلوں پر ہوا کی گزرگاہ کے لیے سوراخ کیے گئے تھے اور بوتلوں کو تاریک اور ٹھندی جگہ پر رکھ کر زیرزمین ماحول کی نقل کی گئی،17 مکھیوں کو خشک بوتلوں میں رکھا گیا جبکہ ایک گروپ مکھیوں کو کو بوتلوں میں 20 ملی لیٹر پانی میں تیرنے دیا گیا جبکہ تیسرے گروپ کی مکھیوں کو پانی میں ڈبو دیا گیا۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی کے اندر موجود 90 فیصد مکھیاں زندہ بچ گئیں، ان میں 17 ایسی مکھیاں بھی تھیں جن کو پانی کے اندر 7 دنوں تک رکھا گیا،ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مکھیاں زیرآب کیسے بچ جاتی ہیں مگر ماہرین کے خیال میں ایسا ممکنہ طور پر مکھیوں کے سانس لینے کے طریقے سے ہوتا ہے۔

  • اسرائیل معاہدے کیخلاف احتجاج کرنے پر گوگل کے درجنوں ملازمین برطرف

    اسرائیل معاہدے کیخلاف احتجاج کرنے پر گوگل کے درجنوں ملازمین برطرف

    نیویارک: گوگل نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدے کے خلاف دھرنوں میں شرکت کرنے والے 28 ملازمین کو برطرف کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق گوگل کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان 28 ملازمین نے دیگر ملازمین کے کاموں میں رکاوٹ ڈالا اور سہولیات تک رسائی سے روکا جو ہماری پالیسیوں کی واضح خلاف ورزی ہےوہ منگل کو ہونے والے ان مظاہروں کی تحقیقات جاری رکھے گا ان ملازمین نے سنی ویل میں گوگل کلاؤڈ کے چیف ایگزیکٹو تھامس کورین کے دفتر پر قبضہ کرلیا تھا۔

    اسرائیل کے خلاف دھرنوں کو منظم کرنے والے گروپ سے وابستہ گوگل کے ملازمین نے No Tech For Apartheid نے بیان میں کہا کہ ملازمتوں سے برطرفی جوابی کارروائی کی ایک واضح مثال ہے گوگل کی پالیسی اور اصول و ضوابط ملازمین کو پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، چند ایسے ملازمین کو بھی برطرف کیا گیا جو احتجاج میں شریک نہیں تھے گوگل ورکرز کو ہماری مزدوری کی شرائط و ضوابط کے بارے میں پرامن احتجاج کرنے کا حق ہے گوگل کے جن ملازمین کو برطرف کیا گیا ان میں سے کچھ نے دھرنوں میں حصہ نہیں لیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بارش کلاؤڈ سیڈنگ کا نتیجہ تھی؟

    واضح رہے کہ 2021 میں Nimbus معاہدہ کیا گیا جس کے تحت گوگل کو اسرائیل کی مختلف وزارتوں کے لیے کلاؤڈ سافٹ ویئر فراہم کرنا تھا تاہم گوگل کے ملازمین کی جانب سے نسل کشی میں ملوث اسرائیلی فوج کو اس ٹیکنالوجی کی فراہمی پر 16 اپریل کو معاہدے کے خلاف مظاہرے، احتجاج اور دھرنا نیویارک سٹی، سیئٹل اور سنی ویل، کیلیفورنیا، نیویارک میں گوگل کے دفاتر میں ہوئے جو 10 گھنٹے تک جاری رہا مظاہرین نے گوگل سے اسرائیل کے ساتھ ہوئے والے معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    3 حالتیں جب دانتوں میں برش نہیں کرنا چاہیے

    یاد رہے کہ اس سے قبل غزہ میں صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کا سہارا لیے جانے کا انکشاف ہوا تھا،اسرائیل چہرے کی شناخت کا اعلیٰ ترین سافٹ ویئر استعمال کررہا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی انسان کے جزبات اور احساسات کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

    ‏عالمی ادارہ صحت کا پاکستان پر سفری پابندیوں کا فیصلہ برقرار

    قبل ازیں 9 مارچ 2024 کو گوگل نے امریکا کے شہر نیویارک میں کمپنی کے زیر اہتمام ہونے والے اسرائیلی ٹیک ایونٹ کے دوران فلسطین کے حق میں نعرہ لگانے والے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو برطرف کر دیا تھا۔

    واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 33 ہزار 899 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں اور 76 ہزار 664 زخمی ہوچکے ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ شہید اور زخمیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔

  • واٹس ایپ  میں اے آئی  فیچر کا اضافہ

    واٹس ایپ میں اے آئی فیچر کا اضافہ

    میٹا نے اپنی ایپ ”واٹس ایپ“ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فیچر کا اضافہ کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : میٹا نے حال ہی میں واٹس ایپ صارفین کے لیے اپنے جنریٹیو اے آئی فیچر“Meta AI“ کے رول آؤٹ کا آغاز کیا ChatGPT یا Copilot جیسی تخلیقی خصوصیات کی طرح، واٹس میں بھی اب صارفین اشارے کی بنیاد پر متن یا تصاویر بنا سکتے ہیں-

    میٹا اے آئی میں صارفین سوالات پوچھ سکتے ہیں ، لطیفوں کی درخواست کر سکتے ہیں ، یا تصاویر بناسکتے ہیں جبکہ صارفین میٹا اے آئی کے ساتھ وقف شدہ چیٹ بوٹ میں یا ذاتی اور گروپ چیٹس میں بھی بات چیت کرسکتے ہیں، فی الحال، یہ فیچر محدود تعداد میں صارفین کے لیے دستیاب ہے اور صرف انگریزی زبان میں ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف سے آذربائیجان اور ترکی کے سفیر کی ملاقات

    میٹا اے آئی اب GIFs بنانے کے لیے ان تصاویر کو متحرک بھی کر سکتا ہے اس لیے اب، صرف ایک تصویر حاصل کرنے کے بجائے، صارفین میٹا اے آئی کے ذریعے تخلیق کردہ اپنی کسی بھی تصویر کو GIF میں تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ مزید تفریحی اور پرکشش واٹس ایپ گفتگو ہو سکے۔

    اس کے لئے سب سے پہلے میٹا اے آئی کھولیں، پھر چیٹ انٹرفیس کے اوپری حصے میں ظاہر ہونے والے نیلے دائرے کے آئیکن پر کلک کریں، چیٹ میں میٹا اے آئی کو طلب کریں ذاتی یا گروپ چیٹ میں، میسج فیلڈ میں اپنے پرامپٹ کے اندر @MetaAI کو ٹیگ کریں اور بھیجیں۔

    شہر اقبال کے باسیوں کو محفوظ خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی متحرک …

    تصویر کی درخواست کریں: پرامپٹ میں، اے آئی سے اپنی مطلوبہ تصویر بنانے کے لیے کہیں، امیج کو اینیمیٹ کریں: ایک بار امیج تیار ہونے کے بعد، اسی تصویر کا جواب دیں اور میٹا اے آئی سے اسے اینیمیٹ کرنے کو کہیں، اس پرامپٹ کے بعد، میٹا اے آئی تیار کردہ امیج کا GIF بنائے گا۔

    آپ خاص طور پر براہ راست میٹا اے آئی سے GIF بنانے کے لیے نہیں کہہ سکتے اس کے بجائے، آپ کو پہلے کسی تصویر کے لیے ایک پرامپٹ فراہم کرنا ہوگا اور پھر، تصویر تیار ہونے کے بعد، پرامپٹ کے ساتھ اس کا جواب دیں۔

    نواز شریف کی این اے 130 سے کامیابی،یاسمین راشد نے چیلنج کر دی

  • آسٹریلیا میں ایک پُراسرار قسم کی چیونٹی دریافت

    آسٹریلیا میں ایک پُراسرار قسم کی چیونٹی دریافت

    پرتھ: سائنس دانوں نے آسٹریلیا میں ایک پُراسرار قسم کی چیونٹی دریافت کر لی۔

    باغی ٹی وی : یورنیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ڈاکٹر مارک وونگ اور بینیلونگیا انوائرنمنٹل کنسلٹنٹ کی جین مک رائی نے اس نئی قسم کے متعلق تفصیلات جرنل زُو کیز میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں پیش کیں،جس کے مطابق شمال مشرقی آسٹریلیا کے پِلبارا خطے میں محققین نے مدھم پیلے رنگ کی پتلی اور لمبی ٹانگوں والی چیونٹی دریافت کی ہے جو تیز دھار جبڑے رکھتی ہے جبکہ زیر زمین ماحول اس کا مسکن ہےماہرین نے چیونٹی کی اس قسم کا نام ہیری پورٹر سیریز کے کردار لارڈ وولڈمورٹ پر ’لیپٹینیلا وولڈمورٹ‘ رکھا ہے۔

    محققین کو اس قسم کی دریافت آسٹریلیا کے خشک پِلبارا خطے میں زیر زمین جانوروں پر کی جانے والی تحقیق کے دوران ہوئی محققین نے موقع پر اس قسم کی صرف دو چیونٹیوں کا مشاہدہ کیا،ایل وولڈمورٹ اپنے انتہائی پتلے جسم اور لمبی اور باریک ٹنگوں اور اینٹینا کی وجہ سے چیونٹیوں کی دیگر اقسام سے بالکل مختلف ہے،محققین کو اس چیونٹی کی دریافت زمین سے 25 میٹر کی گہرائی میں ہوئی۔

    جماعت اسلامی کا لبیک یا اقصی احتجاج کا اعلان،نو منتخب امیر کریںگے خطاب

    ڈسکہ :ایک ہی روز میں 3 خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ،مقدمات درج،ملزمان فرار

    سیالکوٹ: علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال کی ری ویمپنگ 15جون تک مکمل کی جائے۔ …

  • چین نے بغیرکسی نیٹ ورک کے چلنے والااسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    چین نے بغیرکسی نیٹ ورک کے چلنے والااسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    چین نے بغیرکسی نیٹ ورک کے چلنے والااسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    چین نے موبائل فون کی دنیا میں ایک اور کارنامہ سرانجام دے دیا ہے، ZTE Axon 60 Ultra موبائل فون کے ذریعے صارفین اب ڈوئل سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کو استعمال کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں چینی کمپنی کی ایکژون کی جانب سے ZTE Axon 60 Ultra لانچ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین آن لائن آڈیو کالز اور ٹیکسٹ میسجز کر سکتے ہیں۔

    اس کے لیے چینی ٹیانٹونگ سیٹلائٹ سسٹم کو استعمال کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اب صارفین باآسانی ایک دوسرے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ اس اسمارٹ فون کی قیمت اور دستیابی کے حوالے سے فلحال خبر سامنے نہیں آئی ہے، تاہم اس فون کی خصوصیات ضرور صارفین کی توجہ سمیٹ رہی ہیں۔

    ZTE Axon 60 Ultra کی 6 اعشاریہ 78 انچ او ایل ای ڈی اسکرین ڈسپلے ہے جبکہ اس ریزولیوشن 1.5K ہے ، دوسری جانب 120 ہرٹز ری فریش ریٹ ہے۔

    ڈمنگ کی بات کی جائے تو اس میں 22160 ہرٹز پی ڈبلیو ایم ڈمنگ موجود ہے، دلچسپ بات یہ ہے اوکٹا کور اسنیپ ڈریگن 8 جین 2 ایس او سی کے ساتھ ایل پی ڈی ڈی آر 5 ایکس ریم اور یو ایف ایس 4 اسٹوریج موجود ہے۔

    جبکہ اس موبائل کی دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کے لیے کسی بھی قسم کے نیٹ ورک کی ضرورت نہیں ہوگی، اس میں موجود ڈوئل سیٹلائٹ کنیکٹویٹی صارفین کو لائیو آڈیو کالز اور دو طرفہ میسجز کی روانی کے حوالے سے سہولت فراہم کرتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ موبایل فون چین کے ٹیانٹونگ سیٹلائٹ سے جڑا ہے۔

    جبکہ رئیر کیمرہ 50 میگا پکسل مین سینسر کے ساتھ موجود ہے، جس میں او آئی ایس سپورٹ موجود ہے۔ جبکہ 50 میگاپکسل سیکنڈری سینسر بھی موجود ہے۔

    ویڈیو کال اور سیلفیز کے لیے 32میگا پکسل فرنٹ سینسر موجود ہے، دوسری جانب 5 جی کی سہولت کے ساتھ ساتھ یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ بھی ہے۔

    دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس موبائل فون میں 6 ہزار ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے، جبکہ 80 واٹ چارجنگ سپورٹ بھی موجود ہے۔