Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    پانی بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے،نئی تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ پینے کے پانی میں موجود نمک بھی ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔

    فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں موجود سوڈیم خاموشی سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن رہا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ پانی میں نمک کی زیادہ مقدار اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو ساحلی علاقوں یا سمندر کے قریب رہائش پذیر ہیں۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسے ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو بڑی تعداد میں افراد کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لوگ پہلے ہی ضرورت سے زیادہ نمک اپنی خوراک کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جبکہ پینے کے پانی میں شامل اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا نتائج سے پتا چلا کہ جو افراد زیادہ نمک یا کھارے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق نمکین پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، یہ رجحان خاص طور پر ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں پایا گیا، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے اور اس میں اکثر نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے بظاہر بلڈ پریشر میں یہ اضافہ معمولی محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی دل، گردوں اور دیگر اعضا پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

    لاہور پولیس ،بسنت سے قبل 1078 مقدمات درج کر کے 1015افراد گرفتار

    دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں کھارے یا نمکین پانی کا استعمال عام ہے ماہرین کے مطابق صاف اور کم نمک والا پانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع کیے گئے ہیں، جنہوں نے پینے کے پانی کے معیار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • قیامت  صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری  ماہرین نے خبردار کر دیا

    قیامت صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے،جوہری ماہرین نے خبردار کر دیا

    جوہری ماہرین نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ انسانیت اب قیامت سے صرف چند لمحوں کی دوری پر ہے۔

    غیر منافع بخش ادارے Bulletin of the Atomic Scientists کے مطابق سال 2026 کے لیے ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے محض 85 سیکنڈ پہلے پر سیٹ کر دیا گیا ہے، جو عالمی تباہی کی انتہائی خطرناک سطح کو ظاہر کرتا ہے ادارے کے سائنس اینڈ سیکیورٹی بورڈ (SASB) کا کہنا ہے کہ جوہری جنگ، اسلحے کی نئی دوڑ اور خلا میں عسکری منصوبے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لے آئے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہوتی جا رہی ہے،دنیا تیزی سے تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے-

    ماہرین کے مطابق مزید تباہ کن جوہری ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور عالمی طاقتیں ایک بار پھر خطرناک مقابلے میں الجھ چکی ہیں SASB کے ایک رکن نے خصوصی طور پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلا میں ہتھیار رکھنے کا یہ تصور دنیا کو خلائی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے اس منصوبے کے نتیجے میں روس اور چین کی جانب سے سخت ردِعمل متوقع ہے، جس سے عالمی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

    منتخب وزیراعظم کو صرف اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا،سہیل آفریدی

    جوہری ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر روس اور امریکا کے درمیان اسلحہ سازی سے متعلق معاہدے ختم ہو گئے تو دونوں ممالک کھل کر جوہری ہتھیار جمع کرنا شروع کر دیں گے، جو پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اگر عالمی رہنماؤں نے فوری اور سنجیدہ فیصلے نہ کیے تو ڈومز ڈے کلاک کی سوئیاں آدھی رات پر پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکے گا اور پھر قیامت محض ایک استعارہ نہیں رہے گی۔

    ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری

    ڈومز ڈے کیا ہے؟

    ڈومز ڈے (قیامت) کلاک ایک علامتی گھڑی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانیت خود ساختہ تباہی یعنی دنیا کے خاتمے کے کتنے قریب ہے اس گھڑی میں آدھی رات دنیا کے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے اور وقت کو آدھی رات کے قریب یا دور کر کے عالمی خطرات کی شدت ظاہر کی جاتی ہے،اس گھڑی کو آگے یا پیچھے کرنے کا فیصلہ ماہرین کرتے ہیں جو ایٹمی جنگ کے خطرات، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر بڑے عالمی بحرانوں کا جائزہ لیتے ہیں،ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکنڈ کی سوئی کو آدھی رات کے قریب یا دور کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ سال ڈومز ڈے کلاک کو آدھی رات سے صرف 89 سیکنڈ پہلے پر مقرر کیا گیا تھا جو اس وقت تک کا سب سے خطرناک مقام تھا،اگر یہ گھڑی آدھی رات پر پہنچ جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی تباہ کن ایٹمی حملہ یا شدید قدرتی آفت رونما ہو چکی ہے جو انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے،یہ گھڑی سنہ 1947 میں متعارف ہونے کے بعد اب تک آدھی رات کے سب سے قریب پہنچ چکی ہے۔ ہر سال اس کی ترتیب بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس کی جانب سے دی جاتی ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ انسانیت خود تباہی کے کتنے قریب ہے۔

    سنہ1947 میں بلٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس نے ایک رسالے کی حیثیت اختیار کی جس کے پہلے سرورق پر فنکار مارٹل لینگسڈورف کی تیار کردہ گھڑی شائع کی گئی۔ یہی تصویر بعد میں ڈومز ڈے کلاک کے نام سے مشہور ہوئی ابتدا میں یہ گھڑی صرف ایٹمی جنگ کے خطرے کو جانچنے کے لیے بنائی گئی تھی تاہم بعد کے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی جیسے عوامل کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا سنہ1953 میں ہائیڈروجن بم کی تیاری کے بعد گھڑی کو 2 منٹ تا آدھی رات کر دیا گیا جبکہ سنہ 1984 میں سرد جنگ کے دوران یہ 3 منٹ پر آ گئی۔

    سنہ1991 میں سرد جنگ کے خاتمے اور امریکا و روس کے درمیان اسٹارٹ معاہدے کے بعد گھڑی کو پیچھے ہٹا کر 17 منٹ تا آدھی رات کر دیا گیا جو اب تک کا سب سے محفوظ وقت تھاسنہ2020 میں گھڑی کو 100 سیکنڈ تا آدھی رات مقرر کیا گیا اور اس کے بعد سے یہ مسلسل آدھی رات کے قریب آتی جا رہی ہے۔

    ڈومز ڈے کلاک کیسے کام کرتی ہے؟

    ہر سال سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے اراکین 2 بنیادی سوالات پر غور کرتے ہیں کہ کیا اس سال انسانیت پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے یا زیادہ خطرے میں اور کیا موجودہ صورتحال 79 سالہ تاریخ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے یا کم؟ان سوالات کے جوابات کی بنیاد پر آئندہ سال کے لیے ڈومز ڈے کلاک کا وقت طے کیا جاتا ہے۔

    ڈومز ڈے کلاک دراصل کوئی اصل گھڑی نہیں بلکہ ایک علامت ہے جسے ماہر سائنسدان یہ سمجھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ دنیا کتنے بڑے خطرات کے قریب ہے اس گھڑی میں آدھی رات دنیا کی مکمل تباہی کی علامت سمجھی جاتی ہے جیسے ایٹمی جنگ، شدید موسمیاتی تباہی یا کوئی ایسا واقعہ جو انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہو۔

    جب دنیا میں خطرات بڑھتے ہیں مثلاً جنگوں کا خدشہ، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ یا موسمیاتی تبدیلی تو ماہرین اس گھڑی کی سوئی کو آدھی رات کے قریب کر دیتے ہیں اور اگر حالات بہتر ہوں، عالمی تعاون بڑھے اور امن قائم ہو تو گھڑی کو آدھی رات سے دور کر دیا جاتا ہےسادہ لفظوں میں ڈومز ڈے کلاک ایک انتباہ ہے یہ ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ خبردار کرنے کے لیے بنائی گئی ہے تاکہ دنیا کے رہنما اور عوام یہ سمجھ سکیں کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو ہم خود اپنی بقا کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اس کو اگر مزید سادہ الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو کچھ ایسا ہے کہ ڈومز ڈے کلاک اصل میں ایک گرافک تصویر (تصویراتی گھڑی) ہے یعنی ایک ایسی گھڑی جو کاغذ، ویب سائٹ اور میڈیا میں دکھائی جاتی ہے یہ دیوار پر لٹکنے والی یا وقت بتانے والی گھڑی نہیں ہوتی اس میں عام گھڑی کی طرح ڈائل اور سوئیاں بنی ہوتی ہیں مگر اس کا مقصد وقت بتانا نہیں بلکہ خطرے کی سطح سمجھانا ہوتا ہے۔

    ہر سال سائنسدان باقاعدہ اعلان کرتے ہیں کہ گھڑی اب آدھی رات سے کتنے سیکنڈ دور ہے مثلاً 90 سیکنڈ یا 85 سیکنڈ۔ پھر اسی حساب سے اس گھڑی کی تصویر میں سوئی کو آگے یا پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ میڈیا، اخبار اور نیوز چینلز اسی اپڈیٹ شدہ تصویر کو دکھاتے ہیں،یوں سمجھ لیں جیسے اسکول میں ٹریفک لائٹ کی تصویر دکھا کر بتایا جاتا ہے کہ سبز محفوظ ہے، پیلا خطرہ قریب ہے اور سرخ رکنے کا اشارہ ہےبالکل اسی طرح ڈومز ڈے کلاک ایک سمبول (علامت) ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا خطرے کے کتنے قریب پہنچ چکی ہے۔

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف

    جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہونے کا انکشاف

    48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہوگئے-

    سائبر سیکیورٹی ریسرچر جیریمیا فاؤلر کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے ایک بڑے انکشاف میں تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز پر مشتمل ڈیٹا سامنے آنے کی اطلاع ملی ہے، جبکہ مجموعی طور پر لیک ہونے والے لاگ اِن کریڈنشلز کی تعداد 149 ملین کے قریب بتائی جارہی ہےیہ ڈیٹا بیس نہ تو پاس ورڈ سے محفوظ تھا اور نہ ہی انکرپٹڈ، جس میں تقریباً 96 جی بی خام کریڈنشل ڈیٹا موجود تھا، یہ معلومات کسی نئی جی میل یا دیگر سروسز پر ہونے والی براہ را ست ہیکنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ماضی کے مختلف ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میل ویئر کے ذریعے اکٹھا کی گئی تفصیلات پر مشتمل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق انفوسٹیلر میلویئر ذاتی ڈیوائسز کو متاثر کر کے صارفین کے یوزرنیم، پاس ورڈز اور دیگر حساس معلومات ریکارڈ کر لیتا ہے اس لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں جی میل کے ساتھ ساتھ یاہو، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، فیس بک اور آؤٹ لک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل تھیں، جبکہ سرکاری اداروں، اسٹریمنگ سروسز اور بینکنگ لاگ اِنز سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق ڈیٹا بیس کو ہٹانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد اسے آف لائن کیا گیا۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا سائبر مجرموں کے لیے انتہائی قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ اسے کریڈنشل اسٹیفنگ حملوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں ایک ہی لاگ اِن تفصیلا ت کو مختلف پلیٹ فارمز پر آزمایا جاتا ہے، ڈیٹا بیس کے مسلسل بڑھنے کے آثار ظاہر کرتے ہیں کہ متعلقہ میلویئر اب بھی سرگرم ہو سکتا ہے۔

    ادھر گوگل نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اس کے مطابق یہ ڈیٹا وقت کے ساتھ جمع کیے گئے انفوسٹیلر لاگز پر مشتمل ہے، گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس خودکار نظام موجود ہیں جو متاثرہ کریڈنشلز کی نشاندہی کر کے متعلقہ اکاؤنٹس کو لاک کرتے اور پاس ورڈ ری سیٹ کرواتے ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں، مختلف سروسز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنے سے گریز کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور پاس ورڈ مینیجر یا پاس کیز استعمال کر کے اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنائیں-

  • یو ایس ایف اور جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے

    یو ایس ایف اور جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے

    اسلام آباد: وزارتِ آئی ٹی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ٹیلی کام کمپنی جاز کے درمیان براڈ بینڈ سروسز کے متعدد منصوبوں پر معاہدے طے پا گئے۔

    معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی،تقریب کے دوران یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر چوہدری مدثر نوید اور جاز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر عامر ابراہیم نے براڈ بینڈ سروسز سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا کہ آج کی تقریب میں ایک ارب 16 کروڑ روپے کی لاگت سے 9 اضلاع میں براڈ بینڈ سروسز کے چار منصوبوں کا باضابطہ اجرا کیا جا رہا ہے، ان منصوبوں کے تحت بہاولنگر، اٹک، سرگودھا، خوشاب، فیصل آباد اور شیخوپورہ کے اضلاع میں براڈ بینڈ سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ چنیوٹ اور ایبٹ آباد میں ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ اور وائس کمیونیکیشن سروسز کے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق ان منصوبوں کے نتیجے میں 203 دیہاتوں اور گاؤں کے 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئے گی، جس سے تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری آئے گی براڈ بینڈ سروسز کے یہ تمام منصوبے 6 سے 18 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر لیے جائیں گے۔

    شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ملک میں کنیکٹیویٹی کے مسائل کے حل کے لیے اسپیکٹرم میں اضافے اور فائیو جی سروسز کے آغاز کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے یو ایس ایف کے تحت اربوں روپے کی لاگت سے براڈ بینڈ اور آپٹیکل فائبر کیبل کے نئے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں، صر ف گزشتہ 6 ماہ کے دوران یو ایس ایف کے تحت 20 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جو ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

  • شعبان 1447 ہجری کا نیا چاند 21 جنوری کو نظر آنے کا امکان

    شعبان 1447 ہجری کا نیا چاند 21 جنوری کو نظر آنے کا امکان

    
ترجمان سپارکو نے بتایا ہے کہ شعبان 1447 ہجری کا نیا چاند 19 جنوری کو رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا۔ تاہم 19 جنوری کی شام چاند نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    ترجمان نے امکان ظاہر کیا کہ یکم شعبان متوقع طور پر 21 جنوری 2026 کو ہوگا، تاہم حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کرے گی۔
    ‎سپارکو کا کہنا ہے کہ عوام عبادات اور دیگر دینی تقریبات کے حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کا انتظار کریں۔

  • ‎واٹس ایپ صارفین خبردار، اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرات میں اضافہ

    ‎واٹس ایپ صارفین خبردار، اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرات میں اضافہ

    واٹس ایپ صارفین کے لیے ہائی جیکنگ کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے تحت نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اس حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
    ‎ایڈوائزری میں 2026 میں واٹس ایپ ہائی جیک مہم سے خبردار کرتے ہوئے صارفین کو سائبر خطرات کے خلاف چوکس رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہیکرز او ٹی پی فراڈ کے ذریعے واٹس ایپ اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    ‎ایڈوائزری کے مطابق اکاؤنٹ ہائی جیک ہونے کی صورت میں صارفین کا ذاتی ڈیٹا چرایا جا سکتا ہے اور ہیکرز کو کنٹیکٹ لسٹ، میڈیا فائلز، چیٹ ہسٹری اور ذاتی پیغامات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جسے پیسے منگوانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ایڈوائزری میں ہدایت کی گئی ہے کہ 6 ہندسوں کا ایس ایم ایس ویری فکیشن کوڈ، ٹو اسٹیپ ویری فکیشن پن اور وائس کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونے والا کوئی بھی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کیا جائے۔

  • 15 جنوری کو پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان

    15 جنوری کو پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان

    میرین انٹرنیٹ کیبل پر مرمتی کام کےشیڈول کی وجہ سے پاکستان بھر کے انٹرنیٹ صارفین کو 15 جنوری کو سست رفتار انٹرنیٹ اور ممکنہ سروس میں تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-

    انٹرنیٹ سروس فراہم کنندہ کمپنی نیا ٹیل کے مطابق یہ مرمتی کارروائی دوپہر تقریباً 2:00 بجے شروع ہوگی اور اس میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگ سکتے ہیں، جس کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے-

    نیا ٹیل کی جانب سے صارفین کو بھیجے گئے ای میل میں کہا گیا ہے کہ یہ مرمت ایک بین الاقوامی سب میرین کیبل پر کی جا رہی ہے اور ناگزیر ہےاگرچہ کمپنی نے کیبل کی درست جگہ یا خرابی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، صارفین کو ممکنہ طور پر انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔سب میرین کیبلز پاکستان کے بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور ان میں کسی بھی قسم کی خرابی براؤزنگ، اسٹریمنگ، آن لائن کام اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کو متاثر کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ تعطل دیکھنے میں آیا تھا یکم جنوری 2026 کو ملک بھر میں صارفین نے شدید انٹرنیٹ سست روی اور بندش کی شکایت کی تھی، جو ایک اپ اسٹریم انٹرنیٹ فراہم کنندہ میں خرابی کی وجہ سے دو دن سے زائد جاری رہی، پاکستان عالمی انٹرنیٹ رسائی کے لیے محدود تعداد میں سب میرین کیبلز پر انحصار کرتا ہے۔

    مرمتی کام اگرچہ ضروری ہیں، لیکن ان کے اثرات صارفین پر نمایاں پڑتے ہیں مرمت کے دوران ڈیٹا متبادل راستوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، تا ہم اس دوران انٹرنیٹ کی رفتار سست ہو سکتی ہے نیا ٹیل اور دیگر سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مرمت کے دوران اپنی اہم آن لائن سرگرمیوں کی پیشگی منصوبہ بندی کر لیں تاکہ ممکنہ تعطل سے متاثر نہ ہوں۔

  • اسپیس ایکس کو خلا میں مزید سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت مل گئی

    اسپیس ایکس کو خلا میں مزید سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت مل گئی

    نیویارک: ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو اپنے انٹرنیٹ نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے لیے خلا میں مزید اسٹار لنک سیٹلائٹس لانچ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے وفاقی مواصلاتی کمیشن (ایف سی سی) نے اسپیس ایکس کے جنریشن 2 سیٹلائٹس میں اپ گریڈز کی بھی منظوری دی ہے جس کے بعد کمپنی دنیا کے مزید حصوں میں اپنی براڈبینڈ اور موبائل سروسز فراہم کر سکے گی۔

    امریکی ادارے کے مطابق اس منظوری کے تحت اسپیس ایکس کو 7500 مزید جنریشن 2 اسٹار لنک سیٹلائٹس بنانے، لانچ کرنے اور آپریٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہےاس توسیع سے اسپیس ایکس عالمی سطح پر تیز رفتار انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

    واضح رہے کہ موجودہ فعال سیٹلائٹس میں دو تہائی اسٹار لنک کے ہیں۔ اور زمین کے نچلے مدار میں 9 ہزار سے زائد اسٹار لنک سیٹلائٹس کا نیٹ ورک موجود ہے۔